Al-Risala · January 1996

اجتہاد مطلق، اجتہاد مقید

Al-Risala, January 1996, pp. 3–7

By Maulana Wahiduddin Khan

اجتہاد کیا ہے؟ لغت میں اجتہاد کے معنی ہیں انتہائی کوشش کرنا۔ اصول فقہ کی اصطلاح میں اس سے مراد وہ ممکنہ سعی و کوشش ہے جو کسی معاملہ میں شریعت کا حکم جاننے کے لیے صرف کی جائے (استفراغ الوسع في معرفة الحكم الشرعي في أمر معين)

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ قدیم ائمہ مجتہدین نے جو علمی میراث چھوڑی ہے وہ ہمیشہ کے لیے کافی ہے، اب کسی کو اجتہاد کرنے کی ضرورت نہیں۔ مگر محقق علماء نے ہمیشہ اس کے برعکس موقف اختیار کیا ہے۔ حتیٰ کہ خود وہ ائمہ بھی جن کے بعد اجتہاد کا دروازہ بند سمجھا

جاتا رہے ۔ اس بات پر شدت سے زور دیتے رہے ہیں کہ علماءء کو کسی ایک کا مقلد بن کر نہیں رہنا چاہیے ۔ بلکہ نئے حالات اور نئے تقاضوں کا حل براہ راست قرآن و سنت کی روشنی میں تلاش کرنا چاہیے ۔ اسی کا نام اجتہاد ہے ۔ علامہ شاطبی نے اپنی کتاب الموافقات ( جلد چہارم ) میں اجتہاد کی بحث کے تحت لکھا ہے کہ اجتہاد کی ضرورت قیامت تک باقی رہے گی ۔ کیوں کہ انسان قیامت تک اس بات کا مکلف ہے کہ شریعت پر چلے ۔ لیکن شریعت ہمیں کلی اصول فراہم کرتی ہے ۔ وہ جزئی تفصیلات سے بہت کم بحث کرتی جب کہ زندگی کے حالات اور تقاضے وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل بدلتے رہتے ہیں ۔ اصول شریعت محدود ہیں اور بدلتے ہوئے حالات اور تقاضوں کی کوئی حد نہیں ، تو شریعت پر عمل کیسے ممکن ہوگا۔ ظاہر ہے یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب اجتہاد کا در وازہ کھلا ہے تاکہ شرعی اصولوں کی مزید توسیع یا از سر نو تشریح کر کے مختلف حالات اور تقاضوں کی نسبت سے ہم اپنا موقف متعین کر سکیں ۔

خالص فنی اعتبار سے اجتہاد کی بہت سی قسمیں کی جاتی ہیں ۔ تاہم بڑی تقسیم میں اس کی دو قسمیں ایک اجتہاد مطلق ، دوسرے اجتہاد مقید ۔

اجتہاد مطلق اور اجتہاد مقید کی جو تعریفیں اصول فقہ کی کتابوں میں درج ہیں ، اگر ہم ان کا خلاصہ آج کے انسان کی قابل فہم زبان میں بیان کرنا چاہیں تو وہ یہ ہو گا کہ اجتہاد مطلق کا تعلق ایسے مسئلے سے ہے جو اپنی نوعیت میں بالکل نیا ہو ۔ جس کے لیے سابق میں کوئی نظیر موجود نہ ہو جس پر قیاس کرتے ہوئے شریعت کا حکم متعین کیا جا سکے ۔ ایسی حالت میں مجتہد کا کام یہ ہے کہ وہ روح اسلام کو رہنما بنا کر یہ فیصلہ کرے کہ پیش نظر مسئلہ میں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے ۔ اس کے برعکس اجتہاد مقید کا تعلق ایسے مسئلے سے ہے جو بالکل نیا نہ ہو ، بلکہ اس کی کوئی نظیر سابق میں پائی جاتی ہو ۔ ایسی حالت میں مجتہد کا کام یہ ہے کہ وہ سابقہ عملی نظیر کو سامنے رکھتے ہوئے پیش آمدہ صورت حال پر شریعت کے حکم کا انطباق کرے ۔ گویا اجتہاد مطلق میں اصل رہنما روح اسلام ہوتی ہے اور اجتہاد مقید میں اصل رہنما کوئی عملی نظیر ۔

اجتہاد مطلق کی ایک مثال حکومت وقت کے خلاف خروج کی حرمت کا مسئلہ ہے جس کے بارے میں واقعہ کربلا سے پہلے کوئی مماثل واقعہ تاریخ اسلام میں نہیں ملتا ۔ چنانچہ علما نے قائم شدہ

حکومت ، خواہ وہ ظالم ہو ، کے خلاف خروج کی حرمت کا جو متفقہ فتویٰ دیا اسے اجتہاد مطلق کی تاریخی مثال قرار دیا جا سکتا ہے۔ جس میں محض روحِ اسلام کو رہنما بنا کر ایک عملی موقف متعین کیا گیا۔ علامہ ابن کثیر نے حسین اور یزید کے معاملہ پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یزید اگر چہ ایک فاسق امام تھا۔ لیکن امام اگر فاسق ہو تو محض فسق کی بنا پر اس کو معزول نہیں کیا جائے گا، بلکہ علماء کے صحیح قولی کے مطابق ، اس کے خلاف خروج (بغاوت) کرنا جائز نہیں ہوگا۔ کیوں کہ اس کے نتیجہ میں فساد اور بد امنی اور خوں ریزی اور لوٹ مار اور عورتوں کی آبرو ریزی جیسے سنگین واقعات پیش آتے ہیں جن میں سے ہر ایک کی برائی اور رنگینی امام کے فسق و فجور سے کئی گنا زیادہ ہے :

والامام إذا فسق لا يُعزل بمجرد فسقه على اصح قول العلماء ـ بل ولا يجوز الخروج عليه لما في ذلك من اثارة الفتنة ووقع الهرج وسفك الدماء الحرام ونهب الاموال وفعل الفواحش مع النساء وغيرهن وغير ذلك مما كل واحدة فيها من الفساد اضعاف فسقه كما جرى مما تقدم إلى يومنا هذا (ابن کثیر، البدایہ والنہایہ ۲۳/۸-۲۲۳) حدیث میں ایک طرف امام جائر کے سامنے حق بات کہنے کو افضل جہاد کہا گیا ہے اور ایسے مجاہد کو اگر امام قتل کر دے تو وہ افضل الشہداء قرار پائے گا۔ ایسی حالت میں فاسق امام کے خلاف خروج کی حرمت کا فتویٰ بظاہر مذکورہ حدیث سے متعارض معلوم ہوتا ہے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ دراصل یہاں علماء نے اسلام کی دائمی اسپرٹ کو ملحوظ رکھ کر اجتہاد کیا۔ وہ یہ کہ اجتماعی معاملات میں اصل فیصلہ کن چیز یہ ہے کہ کسی اقدام کے نتیجہ میں منفعت اور مضرت کا تناسب کیا ہوگا۔ اگر ایک عمل کا نقصان اس کے فائدہ سے زیادہ ہو تو فی نفسہ جائز ہوتے ہوئے بھی وہ عمل نا جائز ہو جائے گا۔ یہ اصول انفرادی معاملات میں بھی ملحوظ رکھا گیا ہے مثلاً شراب اور جوا کی حرمت کا ایک سبب یہ بیان کیا گیا کہ ان کا نقصان ان کے فائدہ سے بڑا ہے (البقرہ ۲۱۹) تاہم اجتماعی امور میں یہ اصول زیادہ شدت کے ساتھ ملحوظ رکھا جائے گا۔ اسی بات کو اصول فقہ کی زبان میں ترک المصلحة للمفسدة کہا گیا ہے۔

اجتہاد مقید کی وضاحت کے لیے استعانت بالکفار یا غیر مسلموں کے ساتھ موالات (تعاون) کا مسئلہ بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ تحریک آزادی کو مؤثر بنانے کے لیے اس صدی کے اوائل میں جب

ہمارے علماءءء نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی تاکہ ہند اور مسلمان دونوں فرقے متحد ہو کر انگریزوں کے خلاف لڑ سکیں، اس وقت ایک طبقہ نے علما کے اس موقف پر سخت تنقید کی۔ حتی کہ اس بنیاد پر کفر کے فتوے بھی صادر کیے گئے ۔ ان صاحبان کی نظر اس آیت پر تھی جس میں اہل اسلام کو غیر مسلموں کے ساتھ دوستی اور تعاون سے منع کیا گیا ہے۔ علماء بلا شبہ اس قرآنی حکم سے بے خبر نہیں تھے لیکن ان کے سامنے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کی ایک ایسی عملی نظیر موجود تھی جس کی روشنی میں اجتہاد کرتے ہوئے انھوں نے پیش قدمی کر کے غیر مسلموں کے ساتھ تعاون کیا۔

جس وقت مکہ والوں نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تو آپ حکم خداوندی سے ہجرت کی تیاری میں لگ گئے۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ سیرت کی تمام مستند کتابوں میں یہ ملتا ہے کہ آپ نے صحرائی راستوں کے ایک ماہر سے ربط قائم کیا تاکہ اس کی رہنمائی میں آپ ایسے خفیہ اور مختصر راستے سے مدینہ کا سفر کریں کہ مکہ والے آپ تک نہ پہنچ سکیں۔ صحرائی راستوں کا یہ ماہر مشرک تھا جس کا نام عبداللہ بن اُریقط بتایا جاتا ہے۔ یہ استعانت بالکافر کی ایک قطعی مثال ہے۔

اس عملی نظیر پر قیاس کرتے ہوئے ہمارے علما نے غیر مسلموں کے ساتھ تعاون کا جو فیصلہ کیا وہ بلاشبہ ایک درست فیصلہ تھا۔ جہاں تک قرآن کی مذکورہ آیت کا معاملہ ہے تو اس کا تعلق در اصل ان غیر مسلموں سے ہے جو نہ صرف اسلام کے دشمن ہوں بلکہ بالفعل وہ اس کے خلاف بر سر جنگ ہو گئے ایسے لوگوں سے دوستی اور تعاون غداری کے ہم معنی ہے جس کی حرمت میں کوئی اختلاف نہیں۔ اجتہاد کی شرطیں اجتہاد نام ہے ۔ شرعی مآخذ کی روشنی میں غیر منصوص مسائل کا استنباط کرنے کا ظاہر ہے کہ یہ ایک بے حد نازک کام ہے۔ مگر وہ جتنا نازک ہے اتنا ہی زیادہ وہ ضروری ہے۔ لیے علماء اصول نے لکھا ہے کہ کسی وقت اگر ایک ہی مجتہدانہ صلاحیت رکھنے والا آدمی پایا جائے تو اس پر اجتہاد کرنا فرض عین ہو جائے گا۔ اور اگر اجتہاد کی مطلوبہ صلاحیت کے حامل کئی افراد ہوں تو اس وقت اجتہاد فرض کفایہ ہوگا۔ یعنی اگر ان میں سے ایک شخص نے اجتہاد کر کے شرعی حکم بتا دیا تو بقیہ کے اوپر سے یہ فرض ساقط ہو جائے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ شرائط اجتہاد کیا ہیں۔ کوئی شخص کب اس قابل بنتا ہے کہ وہ بوقت

ضرورت اجتہاد کرے۔ اس سلسلے میں علماء نے متعدد شرطیں مقرر کی ہیں۔ مثلاً عربی زبان سے بخوبی طور پر واقف ہونا۔ قرآن و حدیث کا گہرا علم ہونا۔ ماضی کے علماء اور مجتہدین کی آراء سے واقف ہونا۔ اصول فقہ اور اصول استنباط سے پوری طرح آگاہ ہونا۔ مقاصد شریعت سے کامل واقفیت رکھنا۔ ان تمام علمی قابلیتوں کے ساتھ لازمی طور پر اس کا متقی ہونا۔ یہ شرطیں سب کی سب نہایت درست ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ کیسے معلوم ہو کہ فلاں شخص ان اوصاف اجتہاد کا مالک بن چکا ہے، اس لیے اس کو حق ہے کہ وہ اجتہاد کرے۔ اس کا فیصلہ کوئی بھی خارجی شخص نہیں کر سکتا۔ خاص طور پر تقویٰ ایک انتہائی داخلی کیفیت ہے۔ اس کا علم خدا کے سوا کسی کو بھی نہیں ہو سکتا۔ پھر کون شخص طے کرے گا کہ فلاں آدمی اس کا اہل ہو چکا ہے کہ وہ اجتہاد کرے۔ معاملے میں شرائط اجتہاد تو بیان کی جاسکتی ہیں، مگر یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی شخص خاص کے بارہ میں کہا جائے کہ تمہارے اندر تمام شرائط جمع ہو چکی ہیں، اس لیے اب تم کو حق ہے تم اجتہاد کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتہاد اس قسم کے دوسرے کاموں کی طرح، ذاتی داعیہ کے تحت کیا جانے والا ایک عمل ہے، وہ کوئی تقرری کا معاملہ نہیں۔ دور اول کے ائمہ فقہ جن کو مجتہد کامل کا درجہ دیا جاتا ہے انھوں نے ذاتی داعیہ ہی کے تحت اجتہاد کاعمل کیا تھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ دوسروں کی عطا کردہ سند کی بنیاد پر کوئی شخص اجتہاد کی مسند پر بیٹھا ہو۔

اس میں بلاشبہ یہ اندیشہ ہے کہ کچھ لوگ نااہلی کے باوجود اجتہاد کریں گے، مگر ایسے لوگوں کا چیک کسی بھی قاعدہ اور ضابطہ کے ذریعہ ممکن نہیں۔ ایسے نااہل مجتہدین ہر دور میں پیدا ہوتے رہے اور آئندہ بھی وہ پیدا ہوتے رہیں گے۔ ان کے خلاف چیک خدا کا یہ قانون ہے کہ اس دنیا میں صرف حق کو فروغ حاصل ہوتا ہے، اور باطل اپنی موت آپ مرکز ختم ہو جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ غیر ضروری طور پر مصنوعی پابندیاں وضع کرنے کے بجائے خدا کی ابدی سنت پر اعتماد یہی ممکن ہے اور یہی مطلوب بھی۔

Printed page