Keep in mind that Jesus was a Jew.
Al-Risala, October 1996, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
اس قسم کی بے شمار غیر موافق باتیں ہیں، اس کے باوجود مسلمان یہاں کے ماحول سے موافق کر کے رہتے ہیں۔ یہی موافقت زندگی کا راز ہے، خواہ کوئی مسلم ملک ہو یا غیر مسلم ملک۔ ایک صاحب سے پرنس چارلس کے اس خطبہ کا ذکر ہوا جو انھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں دیا تھا، اور جس میں اسلام کی خوبیوں کا اعتراف کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہ خطبہ یہاں کے فارن آفس نے تیار کیا تھا۔ اور اس کے پیچھے سیاسی مقصد تھا۔ کیوں کہ اس کے بعد ہی پرنس چارلس مڈل ایسٹ کے دورہ پر جانے والے تھے۔ چنانچہ عین اندازہ کے مطابق، وہاں ان کا زبردست استقبال
انھوں نے کہا کہ البتہ اس سے زیادہ بڑی بات وہ تھی جو پرنس چارلس نے ایک انٹرویو میں برطانیہ کا بادشاہ روایتی طور پر (عیسیٰ) مذہب کا ڈفینڈر سمجھا جاتا ہے۔ مگر چارلس نے کہا کہ اس ملک میں کئی مذاہب ہیں، اس لئے میں ہر مذہب کا ڈفینڈر بننا پسند کروں گا نہ کہ کسی خاص