Al-Risala · October 1996

I want to be defender of faith not the faith.

Al-Risala, October 1996, pp. 39–45

By Maulana Wahiduddin Khan

آٹھ سال پہلے ایک انگریزی کتاب چھپی۔ اس میں خدا کے وجود پر شبہ ظاہر کیا گیا تھا: Hugh Monte Fiore, The Probability of God. اس کتاب پر بی بی سی نے ایک مباحثہ کا انتظام کیا تھا۔ اس کا ویڈیو دیکھنے کا موقع ملا۔ اس میں ہر مذہب کے لوگ تھے۔ انھوں نے مختلف باتیں کہیں۔ ایک ہندو پروفیسر نے کہا کہ خدا محبت اور ایک شخص نے سوال کیا کہ خالق کو کس نے پیدا کیا (who created the Creator) ایک صاحب نے کہا کہ خدا نے انسان کو پیدا کیا یا انسان نے خدا کو پیدا کیا : Man created God or God created man? احمد دیدات صاحب بھی حاضرین میں موجود تھے۔ خاتون کھڑی کرنے سوال کیا کہ اسلام کا جنگ کی تعلیم ہے۔ احمد دیدات صاحب نے کہا کہ ہاں اسلام میں دفاع کے لئے جنگ کی اجازت ہے اور میں آپ کو قابل احترام سمجھتا ہوں (I take my hat off to you) کہ دوسری عالمی جنگ میں

جب ہٹلر نے آپ کے ملک پر حملہ کیا تو آپ نے مسیح کی تعلیم کے مطابق ایسا نہیں کیا کہ ایک گال پر مارے اس کو دوسرا گال بھی پیش کر دو بلکہ آپ نے اسلام کی تعلیم کے مطابق اس کی جارحیت کا دفاع کیا۔ اس مباحثہ کا ویڈیو ٹیپ اسلامک پروپینگیشن سنٹر انٹرنیشنل میں موجود تھا۔ اس کو میں نے وہی آ کر

یورپ میں اور برطانیہ میں فلاحی ریاست (ویلفیر اسٹیٹ) کا بہت چرچا ہے۔ مگر اس کا تجربہ زیادہ اچھا ثابت نہیں ہوا۔ پورے یورپ میں سویڈن کو سب سے زیادہ کامیاب فلاحی ریاست سمجھا جاتا ہے۔ وہاں بچہ ابھی پیٹ میں ہوتا ہے کہ اس کا الاونس (maternity allowance) جاری ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد پیدائش سے لے کر موت تک ہر قسم کی ضرورتوں کی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے۔ مگر اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ خود کشی کی شرح سب سے زیادہ سویڈن میں پائی جاتی ہے۔

اس دنیا میں انسان کی اصل ضرورت راحت نہیں ہے بلکہ چیلنج ہے۔ راحت زندہ انسان کو مردہ بناتی ہے اور چیلنج مردہ انسان کو زندہ کر دیتا ہے۔

۱۳ اگست کی شام کو برسٹل میں پروگرام تھا۔ ساڑھے تین بجے برمنگھم سے روانگی ہوئی۔ دونوں شہروں کے درمیان بہت عمدہ چوڑی سڑک ہے جس کو یہاں کی زبان میں موٹر وے کہا جاتا سڑک کے دونوں طرف نہایت سرسبز ہٹلا ظہر دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ درمیان میں ایک جگہ ویلکم بریک (Welcome break) کے نام سے سڑک کے کنارے بہت کشادہ جگہ تھی۔ والے یہاں کار پارک کر کے ٹھہرتے ہیں۔ یہاں باتھ روم ، ٹیلیفون، ریسٹوران اور سروس وغیرہ کی سہولتیں مہیا کی گئی ہیں۔ ہر چیز اعلیٰ معیار پر نظر آئی۔

دو گھنٹہ سفر کر کے، ہم لوگ برسٹل میں داخل ہوئے۔ یہ شہر بہت خوبصورت دکھائی دیا۔ جناب امداد علی احمد صاحب کے مکان پر کچھ دیر کے لئے ٹھہرے ۔ یہاں کچھ لوگ موجود تھے جن سے گفتگو برسٹل میں تقریباً چھ ہزار مسلمان ہیں۔ اور چار مسجدیں ہیں۔ مغرب کی نماز یہاں کی جامع مسجد میں پڑھی۔ یہ مسجد ایک گھر جا کو خرید کر بنائی گئی ہے اور نہایت خوبصورت ہے۔ نماز کے بعد خطاب ہوا۔

میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرب میں جو انقلاب لائے، اس میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں کو ملا کر کل ۱۰۲۰ لوگ ہلاک ہوئے۔ یہ تعداد اتنی کم ہے کہ اس انقلاب کو غیر خونی انقلاب (bloodless revolution) کہا جا سکتا ہے۔ اس لئے غیر خونی انقلاب بھی رسول اللہ کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان جگہ جگہ اسلام کے نام پر خونیں انقلاب لانے کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ مگر اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا وقت تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ حضرت عمر ایک بار بائبل کا ایک حصہ لائے اور اس کو پڑھنے لگے۔ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ پھر کیا مسلمانوں کے لئے بائبل کو پڑھنا میں نے کہا کہ یہ وقتی بات تھی۔ جس زمانہ میں قرآن اتر رہا تھا، اس زمانہ میں حدیث کو بھی لکھنے سے منع کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ قرآن کے ساتھ کوئی دوسرا کلام خلط ملط نہ ہونے پائے۔ قرآن مدون ہو گیا تو بعد کو علماء نے بڑے پیمانہ پر بائبل کا مطالعہ کیا اور اس کے بارے میں مثلاً ابن تیمیہ کی کتاب الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح۔ آپین میں مسلمانوں نے بائبل پر اتنی مہارت پیدا کی کہ عیسائی لوگ مسلم علماء کے یہاں بائبل کا درس لینے کے لئے آتے برطانیہ کے زمانہ قیام میں میں نے یہاں کی مختلف مسجدوں میں نماز پڑھی۔ ہر جگہ میں نے دیکھا کہ لاؤڈ اسپیکر کے بغیر مسجد کے اندر اذان دی جاتی ہے۔ موذن مسجد کی چھت پر بھی اس کے لئے کھڑا نہیں ہوتا۔ موذن کی آواز صرف مسجد کے اندرونی حصہ میں سنائی دیتی ہے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ باہر کے ملکوں میں مسلمان کس طرح وہاں کے نظام سے موافقت کر کے رہتے ہیں۔

لندن کے اردو اخبار جنگ (۱۳ اگست ۱۹۹۴) میں صفحہ اول کے نیچے یہ خبر تھی کہ نسل پرست غنڈوں نے جرمنی میں ایک مسجد کو آگ لگا کر شہید کر دیا ہے۔ آگ جرمنی کے جنوب میں واقع منگن ہر مین لگائی گئی جس سے وہاں کی مسلم آبادی میں سخت تشویش پھیل گئی ہے۔ جرمنی میں نسل پرستوں کے حملوں میں گزشتہ دو سال میں تشویشناک اضافہ ہو گیا ہے۔ سٹ گارڈ پولیس نے ناپاک مسجد میں آگ لگانے کا واقعہ ایک نواحی قصبہ میں ایک اسلامی ثقافتی مرکز میں آتش زدی

کے ایک روز بعد ہوا۔ بتایا گیا کہ دونوں واقعات میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ البتہ بھاری مالی نقصان ہوا ہے۔ آگ رات کے وقت لگائی گئی جب کہ دونوں ادارے بند تھے۔ گزشتہ چھ ماہ کے کے دوران ترکوں کے کار و باری اداروں اور ثقافتی مراکز پر ۸ حملے ہوئے ہیں جن میں چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ جرمنی میں ترکوں کی آبادی ۸ لاکھ ہے جن میں ایک چوتھائی کرد ہیں۔ اس طرح کے واقعات یورپ میں ہوتے رہتے ہیں۔ مگر یہاں ان کے خلاف کسی احتجاجی مہم کا کوئی وجود نہیں۔ صفحہ آخر کی ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ بنگلہ دیش کی متنازعہ تسلیمہ نسرین اس وقت سویڈن میں ہے۔ اس نے یہاں ایک محفوظ جگہ رہائش اختیار کی ہے۔ خبر کے مطابق، تسلیمہ نسرین جب سویڈن پہنچی تو سویڈن کی خاتون وزیر خارجہ مارگر یتھانے ایئر پورٹ پر اس کا استقبال کیا۔ تسلیمہ نسرین ایک گم نام اور غیر اہم خاتون تھی۔ مسلمانوں نے اس کے خلاف شور و غل کر کے اس کو انٹرنیشنل اہمیت دیدی۔

مسٹر نذر ملک پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ۲۱ اگست کی ایک ملاقات میں انہوں نے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ انڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ بہت زیادتی ہوتی ہے۔ ان کو گورنمنٹ سروس نہیں دی جاتی۔ میں نے کہا کہ یہ بعض انفرادی واقعات کا جنرلائزیشن ہے۔ اور اس طرح کے انفرادی واقعات ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ۱۹۴۷ میں جب ملک تقسیم ہوا اس وقت کثیر تعداد میں مسلمان گورنمنٹ سروس میں موجود تھے۔ مگر اس وقت یہ ہوا کہ بڑی تعداد میں ملازمین اور تعلیم یافتہ اصحاب انڈیا چھوڑ کر پاکستان چلے گئے۔ اس کمی کو پاکستانی علاقہ سے آنے والے ہندوؤں نے پر کیا۔ اس طرح اچانک بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا۔ اور اس طرح کا خلا جب ایک بار پیدا ہو جائے تو دوبارہ اس کے پر ہونے میں بہت زیادہ وقت لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ کیوں کہ پاکستان میں بھی ہم ٹھیک اسی صورتحال کا تجربہ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں لوگ کہتے ہیں کہ اردو اسپیکنگ مہاجرین سروسوں میں بھرے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ پاکستان سے ہندو ملازمین جب انڈیا چلے گئے تو ان جگہوں کو انڈیا سے آنے والے مسلم مہاجرین نے پر کیا۔ اس طرح سابقہ توازن ٹوٹ گیا۔

۱۴ اگست کو برمنگھم کی جامع مسجد میں سیرت النبی کا جلسہ تھا۔ ظہر کی نماز اس مسجد میں پڑھی۔

کے بعد سیرت کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس تقریر کے لئے میں نے اس آیت کو موضوع بنایا: عسٰی ان يبعثك ربك مقاماً محمودا۔ اس جلسہ میں برمنگھم کے لارڈ مئیر بھی آئے تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں اسلام کے بارہ میں اچھے خیالات کا اظہار کیا۔

شام کو نماز عصر کے بعد جناب شمشاد محمد خاں صاحب کی رہائش گاہ پر ایک اجتماع ہوا۔ اس میں تعلیم یافتہ عورت اور مرد جمع ہوئے۔ اس میں ایک مفصل تقریر کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ جدید علمی اور تاریخی حقائق نے دوسرے مذاہب کی صداقت کو مشتبہ کر دیا ہے۔ مگر یہ حقائق اسلام کی صداقت کو رہی اسٹیبلش کر رہے ہیں۔ اس نے موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کے لئے نئے زیادہ طاقت ور مواقع پیدا کر دئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کو استعمال کیا جائے ۔ بعد دیر تک سوال و جواب کا پروگرام رہا۔

ایک سوال یہ تھا کہ قرآن میں اصحاب رسول کے بارہ میں ہے کہ فالف بين قلوبكم واصبحتم بنعمته اخوانا مگر حضرت علی اور حضرت معاویہ کی جنگ اس کی تردید کرتی ہے۔ پس نے کہا کہ آپ استثناء (exception) کے ذریعہ عموم (rule) کو کاٹ رہے ہیں اور یہ طریقہ سراسر غیر علمی ہے۔ اس دنیا کے قوانین میں سے ایک قانون یہ ہے کہ یہاں ہر عموم میں استثناء موجود جو بیان (اسٹیٹمنٹ) دیا جاتا ہے وہ ہمیشہ عموم کے پیش نظر دیا جاتا ہے۔ معهود ذہنی ہے کہ اس میں استثناء بھی پایا جائے گا۔ اس لئے نہ اس کا ذکر کیا جاتا ہے اور نہ اس سے عموم کی تردید ہوتی ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ دوسری مذہبی کتابیں محرّف ہیں اور قرآن غیر محرّف۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کی تفسیر میں بے شمار اختلافات موجود ہیں۔ کیا یہ اختلافات اس کی تردید نہیں ہیں کہ قرآن بھی اب محفوظ کتاب نہیں رہا۔ میں نے کہا کہ آپ متن اور تفسیر میں خلط بحث کر رہے ہیں۔ دوسری مذہبی کتابوں کا معاملہ یہ ہے کہ اصل متن میں تحریفات ہو گئی ہیں۔ قرآن کا معاملہ یہ ہے کہ اس کا متن مکمل طور پر محفوظ ہے۔ البتہ تفسیر و تشریح میں لوگوں نے اپنے خیالات شامل کر دئے ہیں۔ مگر اس سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ کیوں کہ متن محفوظ رہنے کی وجہ سے، ہمارے پاس وہ کسوٹی موجود ہے جس کے ذریعہ تفسیر و تشریح کے اختلافات کو جانچ کر ان کی

صحت معلوم کی جاسکے۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اگست ۱۹۹۴ میں برطانیہ کا دورہ کیا۔ کولندن کے ٹاؤن ہال میں ان کی تقریر تھی، ٹاؤن ہال میں برطانیہ میں مقیم پاکستانی مسلمان بڑی تعداد میں جمع تھے۔ نواز شریف صاحب جب ٹاؤن ہال میں داخل ہوئے تو ہال نعروں سے گونج اٹھا : ایٹم بم کس نے دیا ، نواز شریف نے انڈیا کو کس نے ڈرایا ، نواز شریف نے پاکستان کا ہر آدمی پاکستان کی شناخت اسلام بتاتا ہے، مگر اس قسم کے نعرے سراسر اسلام کی ضد اگر واقعہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہوتا اور نواز شریف حقیقی معنوں میں اس کے اسلامی حکمران رہے ہوتے تو ٹاؤن ہال کے نعرے یہ ہوتے :

پاکستان کو اسلامی معاشرہ کس نے بنایا ، نواز شریف نے انڈیا سے پر امن تعلقات کس نے قائم کئے ، نواز شریف نے مذکورہ نعرے بلاشبہ قومی جاہلیت کے نعرے ہیں نہ کہ اسلامی اصول پسندی کے نعرے۔ پرستی نفرت کلچر پیدا کرتی ہے، اور خدا پرستی اس کے برعکس رحمت کلچر۔

۱۵ اگست کو واپسی کا دن تھا۔ جناب شمشاد محمد خاں صاحب کے ساتھ برمنگھم سے لندن کے لئے روانہ ہوا۔ دو گھنٹے کے سفر کے بعد ہیتھرو ایئر پورٹ پہنچا۔ جناب شمشاد صاحب میرا ٹکٹ لے کر کھڑکی پر گئے تاکہ بورڈنگ کارڈ شو کرائیں، مگر وہاں ایک عجیب قصہ پیش آیا۔ کلرک نے کہا کہ اس کے اندر واپسی کی سلپ موجود ہی نہیں۔ کسی غلطی سے وہ دہلی ایئرپورٹ پر کھوئی گئی تھی۔ کوئی پریشانی کی بات نہیں ، یہ لوگ بہت ہیلپ فل ہوتے ہیں۔ شمشاد صاحب نے کہا اور فوراً وہ اس کاؤنٹر پر گئے جو ٹکٹ کے مسائل کے لئے مخصوص تھا۔ وہاں ایک معمر خاتون کھڑکی کے پیچھے بیٹھی ہوئی اس نے میرا ٹکٹ لیا اور کچھ کہے بغیر فوراً کمپیوٹر پر اپنی انگلیاں چلانے لگی۔ اس طرح وہ دیر تک اس کو جانچتی رہی۔ آخر اس کو یقین ہو گیا کہ یہ ایک جینون کیس ہے۔ اس کے بعد اس نے مزید کارروائی کر کے نئی سلپ ہمیں دیدی۔ اس کی بنیاد پر ہم کو بورڈنگ کارڈ مل گیا۔ میرے ساتھی نے کہا کہ یہی حادثہ اگر کسی مسلم ملک کے ایئر پورٹ پر پیش آتا تو شاید وہ ٹکٹ پھینک دیتا اور کہتا کہ جاؤ ہم کو پریشان

ابھی وقت کافی تھا ، ہم لوگ ایئرپورٹ کے ہوٹل میں چلے گئے۔ جس میز پر بیٹھ کر ہم نے چائے پی وہاں ہوٹل کے مینجمنٹ کی طرف سے ایک تختی لگی ہوئی تھی۔ اس پر لکھا ہوا تھا کہ اگر آپ یہاں کوئی چیز خریدیں اور اس کے بعد آپ اس سے مطمئن نہ ہوں تو ہم آپ کی رقم آپ کو لوٹادینگے: We'll refund your money if you're not happy with anything you buy. And ہوٹل میں ایک ہندوستانی نوجوان ملازم تھا۔ وہ میز کرسی وغیرہ درست کر رہا تھا۔ بتایا کہ وہ یہاں دس سال سے ہے۔ اس کی تنخواہ ہندوستانی معیار سے تقریباً ۲۵ ہزار روپیہ ماہانہ اس طرح کا ایک معمولی ورکر ۲۵ ہزار روپیہ مہینہ انڈیا میں حاصل نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے وطن سے بھاگ بھاگ کر یہاں چلے آرہے ہیں۔ جن لوگوں کے خلاف ہندوستانیوں نے آزادی کی لڑائی لڑی تھی، انہیں کی غلامی میں دوبارہ وہ خود اپنے آپ کو دے رہے ہیں۔ سے اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی میں سیاست سے زیادہ اہمیت اقتصادیات کی ہے۔ جناب شمشاد صاحب سے رخصت ہو کر ایئرپورٹ کے اندر داخل ہوا۔ یہاں اسکرین پر مختلف ہوائی جہازوں کے اوقات بتائے جارہے تھے۔ ہانگ کانگ کی پرواز بالکل تیار تھی۔ اس کے نام کے آگے روشن حروف میں بار بار آرہا تھا کہ آخری کال (last call) میں نے سوچا کہ انسانوں کے لئے بھی اسی طرح " آخری کال" آتی ہے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو آخری کال کی اس آواز کو

لندن سے برٹش ایئرویز کی فلائٹ ۱۴۵ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں برٹش ایئرویز کا انفلائٹ میگزین ہائی لائف (high life) کا شمارہ اگست ۱۹۹۴ پڑھا۔ اس کے ایک مضمون میں مشہور کھلاڑی لن فورڈ کرسٹی (Linford Christie) کے حالات بتائے گئے تھے۔ ایک صفحہ پر مذکورہ کھلاڑی کی ہنستی ہوئی تصویر تھی۔ اسی کے ساتھ اس کی ایک اور تصویر تھی جس میں وہ بھاری وزن اٹھائے ہوئے تھا اور اس کے چہرہ پر مشقت کی سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔ اس کے نیچے یہ جملہ لکھا ہوا تھا کہ فاتحانہ مسکراہٹ سخت تربیت کے بعد حاصل ہوتی ہے :

Printed page