Al-Risala · November 1996

میرٹھ کا سفر

Al-Risala, November 1996, pp. 4–23

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۱ اپریل ۱۹۹۶ء کو دہلی سے میرٹھ (سردھنہ) کا سفر ہوا۔ یہ سفر بذریعہ کار تین گھنٹہ میں میرے ساتھ مولانا محمد عرفان قاسمی اور حکیم محمد کلیم صاحب شریک سفر تھے ۔ دہلی کی سڑکوں پر چلتے ہوئے جگہ جگہ دکھائی دیا کہ صفائی کا کوئی اہتمام نہیں۔ مجھے یاد آیا کہ یکم مارچ ۱۹۹۶ء کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے تمام متعلق محکموں کے نام حکم جاری کیا تھا کہ وہ دہلی میں صفائی کا اعلیٰ اہتمام کریں اور اس کو خوب صورت شہر بنائیں۔ (ملاحظہ ہو اقتباس ذیل) مگر دہلی آج بھی مجھے ویسی ہی نظر آئی جیسی وہ عدالت عالیہ کے اس حکم سے پہلے تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام اور سرکاری عملہ دونوں میں قانون کی تعمیل کا جذبہ موجود نہیں، پھر حکم جاری کرنے سے کیا فائدہ ۔

عدالت عالیہ نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ گھروں گھروں میں پلاسٹک کی تھیلیاں فراہم کی جائیں۔ لوگ ان تھیلیوں میں اپنے گھر کا کوڑا ڈال کر اسے سڑک پر رکھ دیں اور صبح کو صفائی کر مچاری اسے اس طرح سڑکوں پر کوڑا پھیلنا بند ہو جائے گا۔ میں جس کالونی میں رہتا ہوں اس کی سوسائٹی نے ایک سال پہلے اپنی کالونی کے لیے یہی فیصلہ کیا تھا۔ چنانچہ گھر والے اپنا کوڑا

سٹک کی تھیلیوں میں بند کر کے سڑک پر رکھنے لگے۔ مگر جلد ہی یہ سلسلہ بند کر دیا گیا۔ دی پلاسٹک اکٹھا کرنے والے لڑکے یہ کرتے تھے کہ وہ کوڑا سڑک پر الٹ دیتے اور تھیلی لے کر بھاگ جاتے۔

کچھ عرصہ سے ہندوستان میں ایک چیز کی بڑی دھوم ہے۔ اس کو جوڈیشیل ایکٹوزم کہا جاتا اخباروں میں ہر روز اس کے بارہ میں کچھ نہ کچھ چھپتا رہتا ہے۔ اس کے دفاع میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اے ایم احمدی نے دہلی میں ایک تفصیلی لیکچر دیا۔ یہ لیکچر دوستوں میں جوڈیشیل ایکٹوزم (Judicial Activism) کے عنوان سے ٹائیمز آف انڈیا، ۲۷ - ۲۸ فروری ۱۹۹۶ میں چھپ چکا ہے۔

اس طویل تحریر میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جوڈیشیل ایکٹوزم یا عدالت کا جارحانہ رول (aggressive role) دستوری طور پر درست ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ مسئلہ قانونی نہیں ہے بلکہ عملی ہے۔ بہتر سماج یا بہتر سماج کی تشکیل میں قانون کا رول بہت جزئی ہے۔ سب سے زیادہ چیز اہمیت رکھتی ہے وہ یہ کہ عوام کے اندر احساس ذمہ داری ہو اور انتظامی عملہ دل سے اصلاحی احکام کے نفاذ کے لیے آمادہ ہو۔ اس لیے پہلا کام اصلاح افراد کا ہے نہ کہ اصلاح

موجودہ زمانہ میں جگہ جگہ اسلام کے نام پر انقلابی تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔ عام طور پر اسلامی بیداری (صحوة اسلامیہ) کہا جاتا ہے۔ یہ تحریکیں اسلام کی سیاسی تفسیر سے متاثر ہیں اور ہر جگہ "اسلامی قانون نافذ کرو" کے مطالبہ کا ہنگامہ جاری کیے ہوئے ہیں۔ مگر عملی اعتبار سے وہ اسی طرح بے سود ہے جس طرح ہندوستان کا موجودہ جوڈیشیل ایکٹوزم۔

ہندوستان میں عدالتی فیصلوں کے نفاذ کے لیے اس کے موافق حالات موجود نہیں ہیں۔ اس لیے فیصلوں کے باوجود عملاً ان کا نفاذ نہیں ہوتا۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں کسی بھی مسلم ملک میں وہ موافق سماجی فضا موجود نہیں ہے جو اسلامی قانون کے نفاذ کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے بالفرض اگر کسی ملک میں نام نہاد اسلام پسندوں کا قبضہ ہو جائے اور وہ حکومتی اداروں کے ذریعہ اسلامی قانون کا نفاذ شروع کر دیں تو وہاں اسلام کا قانون تو نافذ نہیں ہو گا،

البتہ اسلام لوگوں کی نظر میں مضحکہ ضرور بن جائے گا۔

کچھ دیر کے بعد ہماری گاڑی دہلی سے نکل کر یوپی کی سڑکوں پر دوڑنے لگی۔ اسی کے ساتھ ہم لوگ ایک اور ذہنی سفر میں مشغول ہو گئے۔ پورے راستے میں سوال و جواب کی صورت میں مختلف موضوعات پر ہماری گفتگو جاری رہی۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے موجودہ زمانہ میں انسان کو ایسی خود کار سواریاں دے دی ہیں کہ آدمی سفر بھی کرے اور عین اسی وقت وہ اپنا دوسرا کام بھی جاری رکھے ۔

مولانا محمد عرفان قاسمی نے کہا کہ آج کل سفر بہت آرام دہ ہو گیا ہے۔ کوئی پریشانی نہیں ہوتی چنانچہ سفر میں کبھی کبھی طبیعت چاہتی ہے کہ قصر کرنے کے بجائے مکمل نماز پڑھی جائے تاکہ شک اد اکیا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملہ میں گنجائش بھی ہے۔ کیوں کہ امام شافعی کے نزدیک قصر ایک رخصت ہے، اور مکمل نماز پڑھنا افضل ہے۔ پھر سفر میں پوری نماز پڑھنا کیسا ہے۔ میں نے کہا کہ حدیث میں اس کی بابت آیا ہے کہ تلک صدقة تصدق الله بها عليكم فاقبلوا صدقته (یہ اللہ کی طرف سے ایک صدقہ ہے، پھر تم اللہ کے صدقہ کو قبول اس سے معلوم ہوا کہ اس معاملہ میں جو تقابل ہے وہ رخصت اور افضل کے درمیان نہیں ہے بلکہ رخصت اور صدقہ کے درمیان ہے۔ یعنی آپ اگر رخصت پر عمل نہ کریں تو آپ افضل کو نہیں لیں گے بلکہ خدا کے ایک عطیہ کو لینے سے انکار کریں گے۔ اور خدا کے عطیہ کو نہ لینا نعوذ باللہ خدا کی ناقدری ہے نہ کہ کوئی افضل عمل۔

پھر میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے بیشتر اقدامات تباہ کن ثابت ہوئے۔ کا سبب غلط تقابل کی یہی فکری غلطی تھی۔ مثلاً پچھلے دو سو سال میں مسلمانوں نے ساری دنیا میں جہاد کے نام پر بار بار ٹکراؤ کیا۔ لیکن ہر بار صرف تباہی اور بربادی ان کے حصہ میں آئی۔ کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے جہاد کا تقابل فرار سے کیا۔ وہ سمجھے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ فرار کو چھوڑ کر جہاد کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ حالاں کہ ایسے تمام مواقع پر اصل تقابل جہاد اور اعداد میں تھا۔ یعنی ٹکراؤ نہ کر کے ان کے لیے پر امن تعمیر کے میدان میں سرگرم ہونے کا موقع تھا۔ غیر ضروری طور پر وہ ٹکراؤ اور محاذ آرائی میں الجھ گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پر امن تعمیر کے نہایت

یمنی مواقع استعمال ہونے سے رہ گئے ۔

ایک سوال یہ تھا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں میں عبادت گزاری بڑھ رہی ہے۔ اخلاقیات میں تنزل ہو رہا ہے۔ میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ ایک دین داری وہ ہے جو معرفت کی سطح پر ہو۔ دوسری دین داری وہ ہے جو عادت کی سطح پر ہو۔ آج کل کے لوگ زیادہ تر عادت کے تحت عبادت گزار بن گئے ہیں۔ لیکن اخلاق میں تبدیلی عارفانہ عبادت گزاری سے پیدا ہوتی ہے: اس کو آپ شعوری عبادت گزاری بھی کہہ سکتے ہیں۔ عادت کے تحت جو عبادت گزاری کی جائے اس سے ایک قسم کی نفسیاتی تسکین تو مل سکتی ہے مگر اس میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ آدمی کے اندر اخلاقی انقلاب پیدا کر سکے۔

ایک سوال یہ تھا کہ تنقید اور تنقیص میں کیا فرق ہے۔ میں نے کہا کہ تنقید وہ ہے جو متعلق شخص کے اعلان کردہ یا ثابت شدہ موقف پر ہو۔ اور تنقیص وہ ہے جس کا خود آدمی نے اعلان یا اقرار نہ کیا اس مفہوم میں تنقید پوری طرح جائز ہے، اور تنقیص مکمل طور پر ناجائز۔ مثلاً الرسالہ میں صبر و اعراض کی پالیسی پر زور دیا جاتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص صبر و اعراض کا نام لے کر الرسالہ پر تنقید کرے تو یہ اپنے طریقہ کے اعتبار سے ایک جائز تنقید ہوگی۔ لیکن اگر کوئی شخص الرسالہ کی طرف یہ بات منسوب کرے کہ " الرسالہ بزدلی سکھاتا ہے" اور پھر اس پر تنقید کرے تو یہ تنقید نہیں بلکہ تنقیص ہوگی۔ کیوں کہ ہم نے کبھی ایسا نہیں کہا کہ مسلمان بزدلی کی روش اختیار کر لیں۔ کی گھڑی ہوئی بات ہے نہ کہ ہمارا اپنا اعلان کردہ موقف۔

انھوں نے دوبارہ کہا کہ غیبت کی تعریف حدیث کی کتابوں میں یہ آئی ہے کہ پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کی جائے۔ یہی تعریف خود تنقید پر بھی صادق آتی ہے، کیوں کہ تنقید میں بھی پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کی جاتی ہے، حالاں کہ غیبت حرام ہے اور تنقید کو جائز ہونا چاہیے ۔ پھر دونوں کے درمیان حد فاصل کیا ہے۔

میں نے کہا کہ محض غیر موجودگی کی بنا پر کوئی تنقید غیبت نہیں بن جاتی۔ ہمارے مدارس میں اپنے امام کے سوا دوسرے اماموں کے مسلک پر تنقید کی جاتی ہے۔ حالاں کہ زیر تنقید امام وہاں موجود نہیں ہوتا۔ مگر کوئی بھی اس کو غیبت نہیں قرار دیتا۔ حقیقت یہ ہے کہ غیبت کا تعلق اس

برائی سے ہے جو آدمی کا اپنا اعلان کردہ مسلک نہ ہو۔ جب کہ تنقید کا تعلق اس مسلک سے ہے، ہے جس کا آدمی نے پہلے ہی علی الاعلان اقرار کر رکھا ہے۔ پھر اس کو غیبت کیسے کہا جائے گا۔ جو لوگ تنقید کو برا مانتے ہیں وہ اس لیے نہیں کہ ہمارے مسلک کا ذکر کیوں کیا۔ بلکہ ان کی ناراضگی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہمارے مسلک پر تنقید کیوں کی۔ اگر ان کے مسلک کا صرف تذکرہ کیا جائے تو وہ خوش ہوں گے۔ البتہ جب اس پر تنقید کی جاتی ہے تو وہ ناخوش ہوجاتے ہیں۔ گویا ان کی ناخوشی تذکرہ مسلک پر نہیں ہے بلکہ تنقید مسلک پر ہے۔ جب کہ غیبت وہ ہے جس میں خود تذکرہ ہی آدمی کے لیے ناخوشی کا باعث بن جائے۔

"جو لوگ پیغام حق سننے سے پہلے مر گئے ان کا انجام کیا ہوگا"۔ اس سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ یہ غیب کی باتیں ہیں، اور ہم غیب کے بارہ میں رائے قائم کرنے کے میں نے کہا کہ پچھلے زمانہ میں لوگوں نے اس طرح کے سوالات پر بہت زیادہ بحثیں کیں مگر یہ تمام تر فلسفہ کے زیر اثر تھا کہ اسلام کے زیر اثر۔ یہی وہ باتیں ہیں جن کے بارہ میں قرآن میں ہے کہ تم کو علم قلیل (الاسراء، ۸۵) دیا گیا ہے، اس لیے تم ان پر بحث نہ کرو۔ مگر قدیم فلسفہ موقف چوں کہ یہ تھا کہ انسان علم کلی تک پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے اس کے زیر اثر لوگ اس طرح کے سوالات میں تعمق کرنے لگے۔

مگر موجودہ زمانہ کا غالب علم سائنس ہے۔ اور سائنس نے اس قسم کے تمام سوالات کا آخری جواب دے دیا ہے۔ سائنس نے بتایا کہ انسان اپنی محدودیت کی بنا پر علم کلی تک پہنچ ہی نہیں اس لیے اس کو اجمالی علم پر قناعت کرنا چاہیے۔ اس تحقیق کے بعد اب قرآن کا موقف ہی خود علمی اعتبار سے بھی واحد صحیح موقف بن گیا ہے (تفصیل کے لیے: مذہب اور سائنس) جب بھی بذریعہ روڈ میں کسی سفر پر جاتا ہوں تو ایک منظر ضرور دکھائی دیتا ہے۔ کے کنارے الٹی ہوئی گاڑیاں ہیں۔ اس سفر میں بھی ایک ٹرک الٹا ہوا نظر آیا۔ یہ منظر خود درائی کے اندر تھا۔

اس طرح کے روڈ ایکسیڈنٹ پہلے زمانہ میں نہیں ہوا کرتے تھے۔ یہ صرف جدید مشینی دور کی خصوصیت ہے۔ تیز رفتار سواریوں کا دور اس قسم کے حادثات سے تقریباً خالی تھا۔

دنیا میں تیز رفتار سفر کا زمانہ آیا تو ساری دنیا کی سڑکوں پر ایکسیڈنٹ ہونے لگے۔ ہر چیز کے کچھ ایڈوانٹیج ہیں اور کچھ ڈس ایڈوانٹیج۔ موجودہ دنیا میں معیاری زندگی کی تعمیر ممکن نہیں۔ سواریوں کو گزرنے کے لیے سڑک کا طریقہ بہت قدیم زمانے سے پایا جاتا ہے۔ مثلاً مور یہ سلطنت جس کا زمانہ چوتھی صدی قبل مسیح ہے، اس کے حکمرانوں نے ایسی سڑکیں بنائی تھیں جن کے ذریعہ وہ اپنی پوری سلطنت میں سفر کر سکیں۔ واضح ہو کہ ان کی سلطنت ایک طرف دریائے سندھ سے دریائے برہم پتر تک اور دوسری طرف ہمالیہ پہاڑ کے کناروں سے لے کر وندھیا چل تک پھیلی تاہم جدید طرز کی پختہ (hard-surfaced) سڑکیں اس وقت بنائی گئیں جب کہ صنعتی انقلاب آیا اور مشینی سواریاں انسانوں کو لے کر دوڑنے لگیں۔

انڈیا میں سڑکوں (یا ریل کی پٹریوں) کا معیار ابھی ترقی یافتہ ملکوں کے معیار سے بہت کم ہے۔ مغربی ملکوں میں گاؤں اور قصبات میں جو سڑکیں میں نے دیکھی ہیں ویسی سڑکیں یہاں دہلی اور بمبئی میں بھی ابھی تک پائی نہیں جاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا میں نہ ریل زیادہ تیز چلائی جاسکتی ہے اور نہ کار۔

راستہ میں ہمیں میرٹھ سے گزرنا تھا۔ یہاں پہنچ کر ہم لوگ کچھ دیر کے لیے ٹھہرے۔ اور میرٹھ کے کچھ افراد سے ملاقاتیں کیں۔

میرٹھ کے محمد یا مین صاحب کونسلر (24610 Tel) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے بارہ میں کچھ مسلمان بدظن ہیں اور وہ آپ کو بھاجپا کا آدمی سمجھتے ہیں۔ مثلاً آپ لکھنؤ کے ایک بھاجپائی مسلمان کی دعوت پر لکھنؤ گئے اور وہاں ان کے زیر انتظام گنگا پرشاد میموریل ہال میں تقریر کی۔ یہ 16 اپریل 1995 کی بات ہے۔ محمد یا مین صاحب نے گفتگو کے دوران بتایا کہ اتفاق سے اس وقت وہ لکھنؤ میں تھے اور وہ گنگا پرشاد میموریل ہال کے مذکورہ پروگرام میں شریک ہوئے۔ میں نے کہا کہ پھر تو فیصلہ بہت آسان ہے، آپ بتائیے کہ وہاں میں نے اپنی تقریر میں کیا کہا۔ کہا کہ شروع سے آخر تک سب آپ نے قرآن و حدیث کی باتیں کہیں ۔ انھوں نے یہ بھی اقرار کیا کہ وہاں اسٹیج پر نہ بھاچا کا بینر تھا اور نہ اس کا اور کوئی نشان موجود تھا۔ میں نے کہا کہ پھر یہ تو خوش ہونے کی بات ہے کہ وہاں کے اسٹیج سے لوگوں کے سامنے قرآن و حدیث کی بات پیش کی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں مشرکوں کے بلانے پر ان کے یہاں گئے مدینہ میں آپ یہود کے بلانے پر ان کے پاس گئے۔ یہی ہمیشہ علماء کا طریقہ رہا ہے۔ اسلام ایک دعوت اور جہاں اور جس اسٹیج پر بھی اسلام کی بات کہنے کا موقع ملے گا وہاں اس کو پیش کیا جائے گا۔ یہ ایک قابل قدر بات ہے نہ کہ قابل اعتراض بات۔

محمد یا مین صاحب نے میلہ نوچندی میگزین (1993) کی ایک کاپی دی۔ اس میں میرٹھ کے بارہ میں کئی مضامین تھے۔ مگر سب کے سب ادبی زبان میں تھے۔ کوئی بات بھی محمد اندازی میں نہ تھی۔ اس لیے میں ان سے زیادہ فائدہ حاصل نہ کر سکا۔

یہ صرف ایک میگزین کی بات نہیں، یہی اردو زبان کا عام مزاج ہے۔ بدقسمتی سے اردو زبان کا مزاج اقبال جیسے شاعروں اور ابوالکلام آزاد جیسے ادیبوں نے بنایا ہے۔ یہ لوگ لفظی اور حقیقت نگاری کا فرق نہیں سمجھتے تھے، چنانچہ انھوں نے حقیقت کو بھی لفظی گل کاری کے انداز میں بیان یہی روایت اردو زبان میں عام طور پر قائم ہو گئی۔ ایک جدید تعلیم یافتہ شخص نے کہا: الرساله پہلا پرچہ ہے جو اردو زبان میں سائنٹفک اسلوب کو رواج دے رہا ہے۔

اردو کا مسئلہ غلط رول ماڈل کا مسئلہ ہے۔ انگریزی زبان میں نیوٹن سے پہلے شاعروں اور یوں کورول ماڈل کی حیثیت حاصل تھی۔ اس کے بعد جب سائنس کا غلبہ ہوا تو سائنس داں رول اس طرح انگریزی زبان ادبی اسلوب کے دور سے نکل کر سائنسی اسلوب کے میں داخل ہوئی۔ اردو میں اس قسم کا انقلابی عمل پیش نہیں آیا۔ کچھ شاعر اور ادیب جو ایک ردو میں رول ماڈل کی حیثیت اختیار کر گئے تھے، سائنسی انقلاب جیسا کوئی واقعہ پیش نہ آنے ن پر، آج بھی وہی اشخاص لوگوں کا رول ماڈل بنے ہوئے ہیں۔ اس صورت حال کو لے بغیر اردو کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔

تقریبا تین گھنٹہ سفر کرنے کے بعد ہم لوگ سر دھنہ پہنچے جو کہ ضلع میرٹھ کا ایک قصبہ ہے۔ ب سے پہلے ہماری گاڑی تحصیل والی مسجد پر رکی۔ یہاں عصر کی نماز تیار تھی۔ چنانچہ یہاں عصر کی نماز وت کے ساتھ پڑھی گئی۔ یہ ایک چھوٹی مسجد ہے جو قصبہ کے بیرونی حصہ میں واقع ہے۔ پایا گیا کہ سر دھنہ میں ۳۶ مسجدیں ہیں۔

کسی نئی بستی میں داخل ہونے کا یہی اسلامی طریقہ ہے۔ اگر وقت ہو گیا ہو تو پہلے مسجد میں داخل مقامی مسلمانوں کے ساتھ با جماعت نماز ادا کی جائے۔ اور اگر نماز کا وقت نہیں ہے تو دو رکعت ٹ پڑھ کر اپنے لیے اور بستی والوں کے لیے دعا کریں، اس کے بعد بستی کے اندر جائیں۔ نماز عصر سے فراغت کے بعد ہم لوگ روانہ ہو کر جناب تسلیم احمد خان ایڈووکیٹ کی رہائش گاہ ، جہاں مجھے قیام کرنا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ہماری پہلی ملاقات 1991 میں ہوئی تھی۔ ، بار بار وہ مجھے سر دھنہ آنے کی دعوت دے رہے تھے۔ پانچ سال بعد اب اس کی تکمیل ہوئی۔ یہاں کئی لوگ جمع ہو گئے۔ دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ آج انسان پریشانی میں ہے۔ اس کا سبب کیا ہے۔ میں خاموش تھا۔ حاضرین میں سے ایک صاحب کہا : اس لیے کہ وہ پڑوسی کو سُکھی دیکھنا نہیں چاہتا۔

تسلیم احمد صاحب کے اندر ایک عجیب صفت ہے۔ وہ جو کچھ دیکھتے ہیں یا سنتے ہیں وہ مستقل طور پر یاد ہو جاتا ہے۔ سر دھنہ کے ہزاروں آدمیوں کے نام ان کو مع ولدیت کے

اس قسم کے حافظہ کو انگریزی میں فوٹو گرافک میموری کہا جاتا ہے۔ ایک صاحب سے یہ بار بات ہو رہی تھی۔ گفتگو کے دوران مولانا آزاد کا ذکر ہوا۔ میں نے کہا کہ ان کو فوٹو گرافک میموری حاصل تھی۔ انھوں نے میری تصحیح کرتے ہوئے کہا : فوٹو جینک میموری۔ انھوں نے انگلش لٹریچر سے فرسٹ کلاس ایم اے کیا تھا۔ وہ سمجھے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہی صحیح ہے میں خاموش چند دن کے بعد انھوں نے ٹیلی فون پر بتایا کہ تصویری حافظہ کے لیے فوٹو جینک کا لفظ اس کے لیے فوٹو گرافک میموری ہی ہے، جیسا کہ آپ نے کہا تھا۔

انگریزی داں طبقہ میں اس طرح کا اعتراف عام ہے۔ لیکن عربی داں طبقہ میں یہ اعتراف اتنا کم ہے کہ کم از کم میں نے ابھی تک اس کا تجربہ نہیں کیا۔

تسلیم احمد خان ایڈووکیٹ کی یاد داشت ایسی ہے کہ ملاقات ہوتے ہی انھوں نے کمپیوٹر کی طرح ہر بات تاریخ وار بتانا شروع کر دیا — ۱۹۸۷ سے میں مسلسل الرسالہ کا قاری ہوں آپ سے میری پہلی ملاقات ۵ مئی ۱۹۹۱ کو دہلی میں ہوئی تھی۔ دوسری ملاقات پونہ میں ۳ اکتوبر ۱۹۹۲ تیسری ملاقات ۱۴ اکتوبر ۱۹۹۹ کو دہلی میں ہوئی۔ اس ملاقات میں آپ نے سردھنہ کے لیے ۱۱ نومبر ۱۹۹۹ کی تاریخ مقرر کر دی تھی ۔ مگر چند دن بعد آپ کا خط آگیا کہ آپ اس تاریخ پ کو نہ آسکیں گے۔

انھوں نے اور بھی کئی باتیں یاد دلائیں۔ مثلاً انھوں نے کہا کہ پونہ کی مجلس میں آپ سے سوال کیا گیا تھا کہ لاتور کے علاقہ میں جو زلزلہ آیا ہے، کیا وہ عذاب الہی ہے۔ اس کے جواب میں آپ نے کہا کہ وہ عذاب نہیں ہے بلکہ تنبیہہ ہے۔ شرعی اصطلاح میں عذاب آنے کے لیے اہل حق کی ہجرت شرط ہے۔ مشترک آبادی میں کبھی عذاب متأصل نہیں آتا۔

مغرب کی نماز قریب کی مسجد میں پڑھی گئی۔ اس کا نام مسجد کره نوابان ہے۔ بوڑھے امام صا نے یہ آیت تلاوت کی : والسماء بنيناها بأيد وانا لموسعون (الذاريات (۴۷) اس آیت میں پھیلتی ہوئی کائنات کی فلکیاتی حقیقت کی طرف متوجہ کیا گیا ہے (تذکیر القرآن ۳۰/۲-۶۲۹) تاہم اس میں ایک بالواسطہ اشارہ اس طرف بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو توسیع پسند ہے نہ کہ جمود۔ مگر اس توسیع سے مراد سیاسی یا جغرافی توسیع نہیں، ہے بلکہ فکری توسیع

یعنی غورو فکر کے ذریعہ آدمی اپنے ذہن کو مسلسل وسیع کرتا رہے۔ اس پر کبھی ٹھہراؤ کی وہ حالت نہ آئے جس کو فکری جمود کہا جاتا ہے۔

جناب تسلیم احمد ایڈووکیٹ کے مکان پر دیر تک نشست رہی۔ اس میں مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔

مسجد کرہ نوابان کے امام مولانا بدر الاسلام قاسمی نے بتایا کہ نہر سوئز کو قومی ملکیت میں لینے کے بعد وہاں جو لڑائی ہوئی، اس وقت وہ دار العلوم دیو بند میں موجود تھے۔ اس زمانہ میں مصری حکومت نے عربی زبان کے دو استاد دیو بند بھیجے تھے۔ ان میں سے ایک شیخ عبد المنعم النمر تھے۔ تو ان کے چہرہ پر داڑھی نہیں تھی۔ دیو بند کی فضا میں انھوں نے داڑھی رکھ لی۔ دو سال کی مدت پوری کرنے کے بعد جب وہ واپس جانے لگے تو دہلی ہوائی اڈہ پر پہنچ کر انھوں نے اپنی داڑھی اور اس کا بال اپنے ہاتھ میں لے کر کہا : خذوا لحیتکم يا اهل الهند (اے ہندوستان والو، یہ اپنی داڑھی لو)

امام صاحب قاری محمد طیب صاحب کے شاگرد ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ قاری طیب صاحب نے ایک بار کہا کہ مولانا محمد قاسم نانوتوی کے پاس ایک شخص آیا اور سوال کیا کہ حضرت ، یزید کیسا تھا۔ مولانا نانوتوی نے ایک لمحہ سوچا اور اس کے بعد کہا : شاعر بہت اچھا تھا۔ میں نے کہا کہ یہ جواب کا وہی طریقہ ہے جس کو انگریزی میں ٹالنے والا جواب (evasive reply) کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ سوال کرنے والا کوئی ایسا سوال کر دیتا ہے جس کا براہ راست جواب دینا کسی وجہ سے مناسب نہیں ہوتا۔ ایسے موقع کے لیے جواب کا یہ طریقہ بہت موزوں اور مفید ہے۔

ایک اور صاحب نے بتایا کہ ایک بار الکشن کے زمانہ میں کانگریس والوں کو معلوم ہوا کہ فلاں حلقہ انتخاب میں تبلیغ والے بہت ہیں۔ اور اگر مولانا یوسف صاحب (سابق امیر تبلیغ) کہہ دیں تو تمام تبلیغی لوگ کانگریس کو ووٹ دے دیں گے۔ اب سوال یہ تھا کہ وہ کون شخص ہو جو مولانا یوسف صاحب سے یہ بات کہے کسی کانگریسی نے بتایا کہ اس کے لیے سب سے زیادہ موزوں آدمی مولانا حسین احمد مدنی ہیں۔ چنانچہ طے ہوا کہ کچھ لوگ مولانا حسین احمد مدنی کے پاس جائیں اور ان سے

درخواست کریں کہ وہ مولانا یوسف سے یہ بات کہہ دیں۔

یہ خبر تبلیغی مرکز میں پہنچ گئی۔ یہاں مشورہ ہوا کہ کیا کرنا چاہیے۔ ایک صاحب نے مشورہ دیا کہ مولانا یوسف صاحب تبلیغی سفر پر باہر چلے جائیں تاکہ مولانا حسین احمد مدنی صاحب سے ان کی ملاقات ہی نہ ہو سکے۔ مولانا یوسف صاحب نے کہا کہ اس کے بجائے کیوں نہ ہم لوگ مل کر دعا کریں کہ اللہ ہمیں اس آزمائش سے بچا لے ۔ اس کے مطابق لوگ دعا میں مشغول ہو گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کانگریس کا وفد جب دیوبند جاکر مولانا حسین احمد مدنی سے ملا اور مذکورہ درخواست کی تو انھوں نے وفد کو یہ جواب دے دیا : بھائی، مولوی یوسف ایک کام میں لگے ہوئے ہیں، ہم کیوں ان کے کام میں خلل ڈالیں۔

دعا مخصوص اوقات میں کچھ یاد کیے ہوئے الفاظ کی تکرار نہیں، دعا ایک عمل اور ایک طریق دعا بجائے خود ایک تدبیر ہے۔ آدمی جب کسی معاملہ میں دعا کرتا ہے تو اس طرح وہ اپنے اس یقین کو پختہ کرتا ہے کہ اس دنیا کا اصل مالک خدا ہے۔ یہاں جو کچھ ہوگا اسی کے اذن سے اس کے اذن کے بغیر یہاں کچھ ہونے والا نہیں۔ دعا ایک پکار ہے جو اس لیے ہوتی ہے کہ بندہ کے عجز کی تلافی کے لیے اس کا خدا اس کی حمایت پر آجائے۔

اسی کے ساتھ یہ کہ آدمی جب اپنے کسی معاملہ میں دعا کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ایک نیا انسان بناتا ہے۔ وہ اپنی نفسیات کو مثبت سمت میں متحرک کرتا ہے۔ وہ اپنی سوچ کو خارج رخی سوچ بنانے کے بجائے اس کو داخل رخی سوچ بناتا ہے۔ اس طرح دعا آدمی کی اندرونی قوتوں کو جگا کر اس کو پہلے سے زیادہ طاقت ور انسان بنا دیتی ہے۔ زیادہ عمر کے ایک صاحب نے بتایا کہ میں اپنی ماں کا ایک ہی لڑکا تھا۔ وہ میرے لیے دعا کیا کرتی تھیں کہ یا اللہ، تو میرے بیٹے کو دولت دینا تو پہلے اس کے استعمال کا سلیقہ دینا۔ کہا کہ یہ پہلے زمانہ کی ماؤں کا طریقہ تھا۔ آج کے ماں باپ کا حال یہ ہے کہ وہ اتنا ہی جانتے ہیں کہ ان کا بیٹا خوب دولت کمائے۔ اس کے سوا کسی اور چیز کے بارہ میں نہ انھیں کوئی خبر ہے اور نہ

ایک صاحب نے بعض اردو اخبارات کے حوالہ سے عالمی سیاست پر ایک تیز وتند

میں نے کہا کہ محض ارد اخبارات پڑھ کر عالمی سیاست کے بارہ میں اس طرح کی رائے قائم کرنا درست نہیں، کیوں کہ اردو اخبارات نہایت ناقص ہیں۔ محدود و اقتصادی ذرائع کی بنا پر وہ زیادہ لائق افراد کو اپنے ادارہ کے لیے حاصل نہیں کر پاتے۔ تمام اردو اخبارات میں تیسرے درجہ کے کارکن بھرے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام اردو اخبارات ناقص خبر رسانی کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ اس کی ایک دل چسپ مثال یہ ہے کہ ابھی چند دن پہلے دہلی کے سب سے بڑے اردو اخبار کے شمارہ ۴ اپریل میں ایک ہوائی جہاز کی تصویر چھپی۔ اس کے نیچے لکھا ہوا تھا کہ برطانیہ میں بنائے گئے اس جہاز کی پرواز سات سال بعد شروع ہوگی۔ میں حیران ہوا کہ جب جہاز بن کر تیار ہو چکا ہے تو آخر وہ اتنی زیادہ دیر کے بعد کیوں اپنی پرواز شروع کرے گا۔ اس کے بعد یہی خبر جب ٹائمس آف انڈیا میں دیکھی تو اصل حقیقت معلوم ہوئی ۔ اگلے صفحہ پر دونوں اخباروں کی تصویر مع کیپشن نقل کی جا رہی ہے۔

ایک مجلس میں مدارس کے طرز تعلیم کے بارہ میں گفتگو ہو رہی تھی۔ میں نے کہا کہ مفسر طنطاوی جوهری (۱۳۵۸ - ۱۲۸۷ھ) نے لکھا ہے کہ قرآن میں فقہی نوعیت کے مسائل کے بارہ میں صرف ۱۵۰ آیتیں ہیں۔ جب کہ کائنات میں غور وفکر کے بارہ میں ۷۵۰ آیتیں ہیں۔ لحاظ سے دینی تعلیم کے مدارس میں علوم کائنات کا غلبہ ہونا چاہیے ۔ مگر موجودہ مدارس میں علوم کائنات سرے سے پڑھائے ہی نہیں جاتے ۔ جب کہ فقہی مسائل کا یہ حال ہے کہ وہی پورے تعلیمی نظام پر غالب آ گئے ہیں۔ حتی کہ اس میں قرآن و حدیث کو بھی فقہ کے تابع کر دیا

ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ آج کل لوگوں کا حال یہ ہے کہ ایک شخص پیسہ کما کر شاندار گھر بنائے تو وہ اس کے اوپر لکھ دیتا ہے کہ ھذا من فضل ربی۔ مگر یہ قرآنی آیت کا ادھورا استعمال ہے۔ اگر کوئی لکھے تو اس کو پوری آیت لکھنا چاہیے۔ یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا آپ کو اللہ تعالیٰ نے جو غیر معمولی اقتدار عطا فرمایا تھا، اس پر آپ نے کہا کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے جانچے کہ میں شکر کرتا ہوں یا میں ناشکری کرتا ہوں (النمل (۴۰) اس سے معلوم ہوا کہ دنیوی نعمت حقیقتاً فضل کے لیے نہیں ہوتی بلکہ وہ ابتلاء (آزمائش)

ایئر بس اے 3XX جدید قسم کا طیارہ جس کی پرواز مات سال کے اندر شروع ہو سکے گی۔

لیے ہوتی تھی۔ دنیوی نعمت کو پا کر آدمی کے اندر ناز کی کیفیت پیدا ہونا چاہیے بلکہ اس کے اندر مسئولیت کا احساس مزید اضافہ کے ساتھ جاگنا چاہیے۔

قرآن کی اس آیت سے مزید معلوم ہوتا ہے کہ دولت کا جو معاملہ ہے وہی اقتدار کا معاملہ بھی ہے۔ اقتدار بھی بطور نوازش نہیں ملتا بلکہ بطور ابتلاء ملتا ہے۔ اگر آج آپ کے پاس دولت ہے، اور کل دوسرا آدمی دولت مند ہو جائے تو آپ اس کو غاصب قرار دے کر اس کے خلاف چیخ پکار نہیں کرتے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ میرے پاس بھی دولت خدا کی طرف سے آئی ہے اور اس کے پاس بھی دولت خدا ہی کی طرف سے آئی ہے۔ ٹھیک یہی معاملہ اقتدار کا بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی اقتدار یا زمینی خلافت کسی قوم کا ابدی حق نہیں، جس طرح دولت کسی گروہ کا ابدی حق نہیں۔ اللہ تعالیٰ مصلحت امتحان کے تحت خلافت ارضی کبھی ایک قوم کو دیتا ہے اور کبھی دوسری قوم کو۔ سیاسی اقتدار بھی بہت سے امتحانی پرچوں میں سے ایک پرچہ جس طرح دوسرے پرچے باری باری سب کو دیے جاتے ہیں، اسی طرح سیاسی پرچہ بھی ایک کے بعد دوسرے کو ملتا ہے، اور اسی طرح قیامت تک چلتا رہے گا۔

یہ تبدیلی کسی صلیبی یا صہیونی سازش کے تحت نہیں ہوتی بلکہ براہ راست خدائی قانون کے تحت ہوتی ہے (آل عمران (۲۶) اس بنا پر انسان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اس کو قبول کرے۔ اس کا تقاضا ہے کہ خلافت ارضی جب ایک قوم سے دوسری قوم کی طرف منتقل ہو تو محروم گروہ ایسا نہ کرے کہ اس کو سازش اور غصب کا معاملہ قرار دے کر اس کے خلاف ہنگامہ آرائی شروع کر دے۔ ایسا کرنا محرومی پر ہلاکت کے اضافے کے ہم معنی ہوگا۔ اس کے بجائے محروم گروہ کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اس کو خدا کا فیصلہ مان کر اس پر راضی ہو جائے۔ اس معاملہ میں خدائی فیصلہ کو مان لینا محروم قوم کے لیے عبادت کے ہم معنی ہوگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے اندر حقیقت پسندی پیدا ہوگی۔ اس کے اندر مثبت فکر جاگے گا۔ کمزوریوں کو دور کرنے میں لگ جائے گا۔ اس کے افراد سیاست کے سوا دوسرے خالی میدانوں میں سرگرم عمل ہو جائیں گے۔ اس کی یہ روش عین ممکن ہے کہ خدا کی رحمت کو دوبارہ متوجہ کرے اور دوبارہ اس کے حق میں سیاسی اقتدار کا فیصلہ کر دیا جائے۔

سردھنہ کے سید برہان الدین صاحب (ایم اے معاشیات) کی عمر اب 65 سال ہو چکی ہے انھوں نے پاکستان سمیت بہت سے ملکوں کا سفر کیا ہے۔ انھوں نے اپنے مشاہدات بتاتے ہوئے کہا: مسلمانوں کو نہ یہود سے خطرہ ہے، نہ عیسائیوں سے اور نہ ہندوؤں سے۔ کو خطرہ صرف اپنی ذات سے ہے۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا گلا کاٹنے کے لیے تیار رہ یہی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

مجلس میں کئی لوگ موجود تھے۔ میں نے سوال کیا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی خامہ کمزوری کیا ہے جس نے انھیں دوسری قوموں سے پیچھے کر دیا۔ مولانا محمد رضوان قاسمی نے کہا میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ اس کا سبب شعور کی کمی ہے "یہ دور مقابلہ کا دور ہے۔ مگر مسلمان اپنی بے شعوری کی وجہ سے اس راز کو سمجھ نہ سکے۔ وہ بس دوسروں کی شکایت کرنے میں اپنا وقت ضائع کرتے رہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ میں زیادہ تر غیر مسلموں کی باتیں ہوتی ہیں۔ میں نے کہا کہ بات آپ تجربہ کے تحت نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ کسی سے سن کر کہہ رہے ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ اپنے پاس سے کوئی رسالہ نکال لیلیے۔ یہ بات خود ان کے گھر پر ہو رہی تھی۔ چنانچہ وہ گھر کے اندر سے اس کی ورق گردانی کی تو اس میں غیر مسلموں کے دو حوالے تھے۔ مثلاً صفحہ 8 پر پر وفیسر مارگولیتھ کا وہ حوالہ جس میں انھوں نے اصحابِ رسول کو ہیروز کی قوم کہا ہے۔ میں نے کہا کہ الرسالہ میں غیر مسلموں کے حوالے غیر مسلموں کے خیالات کی تبلیغ کے لیے نہیں ہوتے، اور اسلام کی صداقت بیان کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ عربی زبان کا ایک مثل ہے کہ فضیلت وہ ہے جس کی گواہی دشمن دیں (الفضل ما شهدت به الاعداء)

میں نے کہا کہ اس اعتبار سے غیر مسلموں کا حوالہ تو ایک خوبی کی بات ہے، اور ماضی سے لے کر حال تک کے تمام علماء اسلام اس قسم کے حوالے دیتے رہے ہیں۔ پھر یہ تو خوشی کی بات ہے، نہ یہ کہ اس پر اعتراض کیا جائے۔

سردھنہ میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً ۳۰ ہزار ہے۔ مگر ان کا اپنا کوئی قابلِ ذکر تعلیمی ادارہ

جب کہ جینیوں کی تعداد صرف چار ہزار ہے۔ اس کے باوجود وہ تعمیری و تعلیمی میدان میں بہت آگے ہیں، یہاں ان کے تین تعلیمی ادارے چل ے ہیں۔ لڑکیوں کا انٹر کالج، لڑکوں کا انٹر کالج، اور جونیئر ہائی اسکول۔ اس کے علاوہ جین ہاسپٹل ہے جس میں آیہیشن وغیرہ کا معقول ان حضرات کی باقاعدہ ایک سوسائٹی ”جین ملن سوسائٹی“ کے نام سے ہے جس کے تحت یہ تمام تعمیری کام انجام دیے جاتے ہیں۔ یہی حال عیسائی حضرات کا ہے وہ بھی تعلیمی میدان میں بہت آگے ہیں۔ ان کا تعلیمی معیار بھی کافی اونچا ہے۔

جین فرقہ اور عیسائی فرقہ کے خلاف ملک میں کوئی تعصب کی فضا نہیں۔ جبکہ مسلمان شکایت کرتے ہیں کہ ان کے خلاف بڑے پیمانہ پر تعصب پایا جاتا ہے۔ اس کی کم از کم ایک وجہ یہ ہے کہ جین اور عیسائی جہاں ہیں وہاں وہ لوگوں کے لیے نفع بخش بن کر رہ رہتے ہیں۔ مسلمانوں میں عام طور پر یہ مزاج نہیں پایا جاتا۔ دونوں کے معاملہ میں فرق کا اصل سبب یہی ہے۔ میرٹھ کے ایک گاؤں کا قصہ مجھے معلوم ہے۔ یہاں ایک خاندان ہے، اس کا مزاج یہ ہے : نہ کسی سے کچھ لو اور نہ کسی کو کچھ دو۔ بس اپنے کام سے کام رکھو۔ ان لوگوں نے اپنی زمینوں میں محنت کر کے کافی پیسہ کمایا۔ مزید زمینیں خریدیں۔ نیا مکان بنایا۔ بستی میں ان کی حیثیت سب سے زیادہ گاؤں کے ماحول میں وہ شہر کی طرح رہنے لگے۔

اس کے نتیجہ میں گاؤں والوں میں حسد کا جذبہ پیدا ہوا۔ اگر چہ وہ کسی کو تکلیف نہیں دیتے تھے مگر دوسرے انھیں تکلیف دینے کے درپے ہو گئے۔ پہلے یہ کیا کہ ان کے ٹیوب ویل سے موٹر نکال لے گئے۔ ان کا ٹریکٹر غائب کر دیا۔ اس طرح کی حرکتوں سے ان کا کچھ نہیں بگڑا تو اب یہ کیا کہ خود اپنے اندر کے ایک بوڑھے کو قتل کر کے مذکورہ خاندان کے تمام لوگوں کو فوجداری کیس میں پھنسا دیا۔ حتیٰ کہ اس خاندان کے ایک ہونہار نوجوان کو قتل کر ڈالا۔ یہ بلاشبہ کمینہ پن ہے۔ مگر اس طرح کے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی کو اپنی تعمیر کے ساتھ ایک اور تدبیر پر کرنا چاہیے کہ وہ شرپسندوں کے شر سے کس طرح بچے ۔ وہ تدبیر یہ ہے کہ آدمی جہاں رہے وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بن کر رہے۔ دوسروں کو فائدہ پہنچا کر وہ انھیں اپنا احسان مند بنائے رہے۔ لوگوں کے شر سے بچنے کا یہ سب سے زیادہ آسان اور مؤثر طریقہ ہے۔

ایک صاحب نے بتایا کہ اس معاملہ میں دونوں فریق کے درمیان جو جھگڑے ہوئے اس میں دونوں کا ملا کر تقریباً ۲۰ لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ہندوستان کی کوئی بستی یا کوئی شہر نہیں جہاں مسلمانوں کے درمیان اس قسم کے نزاعات نہ پائے جاتے ہوں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر بے شمار جماعتیں ، ادارے اور تنظیمیں قائم ہیں۔ مگر ان میں سے کوئی ایک بھی نہیں جو مسلمانوں کے ان باہمی جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش کر رہی ہو۔ کیسی عجیب بات ہے کہ اسلام کے نام پر ہر جگہ دھوم مچی ہوئی ہے، مگر اسلام کے لیے کسی گہرے اور دور رس کام کا کہیں وجود نہیں۔

مولانا محمد رضوان قاسمی یہاں ایک تعلیمی ادارہ چلا رہے ہیں۔ انھوں نے ایک کا غذ دیا۔ پر سر دھڑ کے ایک صاحب کا تاثر حسب ذیل الفاظ میں لکھا ہوا تھا :

" الرسالہ پڑھنے کے بعد تمثیل احمد خان نے کہا کہ مولانا صاحب یہ کام تنہا نہیں کرتے بلکہ ایک ٹیم ہے جن کو مولانا نے مختلف میگزین اور کتابیں پڑھنے پر مامور کیا ہے۔ کسی کا کام اردو اخبار کسی کا کام عربی چیزیں پڑھنا۔ اور کسی کا کام انگریزی ڈائجسٹ وغیرہ پڑھنا۔ لوگ حسب ہدایت واقعات کی تعیین کر کے مولانا کو پیش کر دیتے ہیں۔ مولانا ان واقعات کو مذہب پر منطبق کر کے الرسالہ کے لیے مضامین تیار کر دیتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ کام تنہا ایک آدمی نہیں کر سکتا۔ البتہ کمپیوٹر کر سکتا ہے۔ ان کو بتایا گیا کہ مسلسل چالیس سالہ مطالعہ کے بعد مولانا نے الرسالہ نکالنا شروع کیا ہے۔ تاہم وہ مطمئن نہیں ہوئے انھوں نے کہا کہ الرسالہ میں اس قدر معیاری کتابوں کے حوالے ہوتے ہیں کہ ان کو یاد رکھنا اور ترتیب دینا ایک آدمی کا کام ہی نہیں"۔ ایک اور صاحب تھے ۔ انھوں نے کہہ دیا کہ الرسالہ تو سب کا سب سرقہ ہوتا ہے۔ آدمی اتنی باتیں نہیں لکھ سکتا۔ اس لیے یقین ہے کہ وہ ادھر ادھر سے سرقہ کر کے ان کو مرتب کر دیتا ہے میں نے کہا کہ الرسالہ دعا کی طاقت سے نکل رہا ہے مگر لوگ دعا کی طاقت کو عام طور پر لوگ صرف رسمی دعاؤں سے واقف ہیں۔ یا وہ کسی بزرگ کے دعائیہ جلسہ میں شریک ہو کر آمین کہنے کو دعا سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ دعا اس سے بلند تر ایک شے ہے۔ در اصل خدا کی یافت ہے۔ دعا معرفت حق کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔ دعا انسان کا حقیقتِ اعلیٰ کے ساتھ

دعا گویا خزانہ قدرت تک ایک انسان کی رسائی ہے۔ دعا جب اپنے کمال پر پہنچتی ہے تو انسان کا سینہ تجلیاتِ الہی کا ہبط بن جاتا ہے۔ یہ دعا جب وجود میں آتی ہے تو کسی انسان کے لیے وہ لمحہ آجاتا ہے جس کی بابت حضرت مسیح نے فرمایا : مانگو تو پاؤ گے ، دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا۔

ایک صاحب نے اپنا قصہ بتایا کہ سڑک پر میں ایک سواری کی زد میں آکر گر پڑا اور بیہوش اٹھا تو میں اسپتال میں تھا۔ معلوم ہوا کہ کچھ ہندوؤں نے مجھ کو زخمی حالت میں دیکھا تو فوراً اپنی گاڑی میں لٹاکر انھوں نے مجھے اسپتال پہنچایا اور میری ہر طرح مدد کی۔ یہ قصہ بتاکر انھوں نے کہا : انسانیت ابھی زندہ ہے۔ شر پسندوں میں کچھ خیر پسند بھی موجود ہیں۔

میں نے کہا کہ بہت سے مسلمانوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں۔ جب ان واقعات کو بیان کرتے ہیں تو ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔ مطلب بظاہر یہ ہوتا ہے کہ بروں کی بھیڑ میں کچھ اچھے افراد بھی ہیں۔ مگر یہ صحیح بات نہیں۔ عادات کی بنا پر ہم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ غیر مسلم سب ہمارے دشمن ہو گئے ہیں۔ اگر کوئی دشمن نہیں ہے تو وہ استثناء ہے۔

صحیح بات یہ ہے کہ ہر آدمی فطرت کے اعتبار سے خیر پسند ہے۔ ہر ایک کے اندر انسانیت فسادات کا سبب دشمنی نہیں۔ فسادات کا سبب وقتی اشتعال ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ کچھ جذباتی قسم کے لوگ اپنی کسی نادانی سے ایک بھیڑ کے نفس امارہ کو جگا دیتے ہیں۔ بھڑک کر فساد پر اتر آتے ہیں۔ اگر ہم اپنے جذباتی لوگوں میں صبر و تحمل کی صفت پیدا کر دیں تو اس ملک سے ہمیشہ کے لیے فسادات کا خاتمہ ہو جائے ۔ اور ہر آدمی خیر پسند دکھائی دینے لگے۔ ایک نوجوان نے کہا کہ مجھے کوئی نصیحت کیجئے۔ میں نے اس کی ڈائری میں حسب ذیل نصیحت لکھ دی : زندگی کا راستہ ہموار راستہ نہیں۔ یہاں اونچ نیچ دونوں ہی آتے ہیں۔ کامیاب وہ ہے جو اتار چڑھاؤ کو دیکھ کر ہمت نہ ہارے، جو ہر حال میں یکساں عزم کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ۔

۱۱ اپریل کو عشاء کی نماز سردھنہ کی جامع مسجد میں پڑھی۔ یہاں نماز کے بعد تقریر کا پروگرام

تھا، نماز کے بعد بیشتر لوگ ٹھہر گئے۔ میں نے اپنی تقریر میں نماز کے مختلف پہلوؤں کی خاص طور پر بتایا کہ نماز کی اصل اسپرٹ کیا ہے اور ملت کی تعمیر میں اس کا رول کیا ہے۔

تقریر کے بعد دیر تک مصافحہ ہوا۔ میں سمجھتا تھا کہ مصافحہ کے بعد لوگ چلے جائیں گے۔ مگر کافی لوگ اس کے بعد دوبارہ بیٹھ گئے۔ چنانچہ سوال و جواب کی صورت میں دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ اسی دوران کئی اخبار کے رپورٹر آگئے۔ ان میں ہندی اخبار کے رپورٹر بھی تھے اور اردو کے رپورٹر بھی۔ آخر میں ان کے سوالات کا جواب دیا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ زندگی کا ایک سادہ اصول یہ ہے کہ جتنی محنت اتنی یہ اصول اتنا عام ہے کہ اس کا تعلق زندگی کے تمام شعبوں سے ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ سب سے بڑی اخلاقی صفت اپنے خلاف سوچنا اور یہی وہ چیز ہے جو موجودہ زمانہ کے مسلم دانشوروں میں سرے سے موجود نہیں۔ ۱۱ اپریل ۱۹۹۶ کی شام کو یہاں میں نے جو تقریر کی تھی، اس کی رپورٹ اس علاقہ کے اخبارو میں بھی چھپی۔ اس وقت کچھ اخباروں کے نمائندے بھی موجود تھے جنھوں نے تقریر کے آخر میں چوں کہ ۲۷ اپریل کو اور پھر ۳، ۷ مئی ۱۹۹۶ کو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے الیکشن ہونے والے ہیں، اس لیے الیکشن کی بابت بھی سوالات کیے گئے۔ اگلے صفحہ پر ہندی روزنامہ امر اجالا (۱۲ اپریل ۱۹۹۶) کی شائع شدہ رپورٹ نقل کی جا رہی ہے۔ ایک مجلس تھی ۔ میں زیادہ تر لوگوں کی باتیں سن رہا تھا۔ ہر ایک سے سوال کر کے اس کے اپنے میدان کے تجربات پوچھ رہا تھا۔ اس درمیان میں محمد حنیف صاحب نے سوال کیا کہ الرساله آپ اکیلے ہی لکھتے ہیں، یا اور بھی کچھ لکھنے والے لوگ ہیں، میں نے جواب دیا کہ میں اکیلا ہی لکھتا مگر اس کی تیاری میں بہت لوگ شامل ہیں۔ حتی کہ آپ لوگ بھی اس میں شریک ہیں۔ کیوں کہ جیسا کہ آپ نے دیکھا، میں ہر ایک سے اس کے دائرہ کی معلومات لیتا رہتا ہوں۔ اس طرح میرے پاس بہت سے لوگوں کے تجربات اکٹھا ہو جاتے ہیں اور میں ان کے ذریعہ الرسالہ کو مرتب کرتا رہتا یہی وجہ ہے کہ الرسالہ اگر چہ ایک شخص کے قلم سے لکھا جاتا ہے مگر اس میں تنوع اتنا زیادہ

ہوتا ہے کہ وہ ۲۰ سال سے نکل رہا ہے ۔ مگر آج تک لوگوں کی دل چسپی اس سے ختم نہیں ہوئی۔ اس کا نیا پن مسلسل باقی ہے۔

رات ہوئی تو سرد ہفتہ کے آسمان پر ستارے جگمگاتے ہوئے دکھائی دینے لگے کسی شخصیت کی بڑائی بنانا ہو تو کہا جاتا ہے کہ وہ ایسا تھا جیسے ستاروں کے درمیان سورج۔ مگر یہ صرف ایک ادبی اسلوب ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ سورج خود بھی ایک ستارہ ہے۔ مزید یہ کہ فلکیاتی تقسیم میں سورج نسبتاً ایک چھوٹا ستارہ سمجھا جاتا ہے :

Printed page