The Sun is classified as a dwarf star.
Al-Risala, November 1996, pp. 23–26
By Maulana Wahiduddin Khan
آسمان کے بیشتر ستارے سورج سے بہت زیادہ بڑے ہیں۔ معلوم کیا گیا ہے کہ ان کی جسامت (Volumes) سورج کے مقابلہ میں ایک ملین سے لے کر دس ملین گنا تک زیادہ ہے۔ رات کے وقت ستاروں کا خوب صورت منظر اب دہلی جیسے شہروں میں گویا معدوم ہو گیا ہے۔ دہلی میں فضائی کثافت اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ وہاں اب نہ سانس لینے کے لیے
خالص پرندوں کی طرح فضا میں اڑسکتا ہے۔
اس انسان کے دونوں کے درمیان حد فاصل ہے جو دنیا انسان کی موجودہ موجودہ ترقی یافتہ ترین صورت ہے اور حیوانات کی سطح۔ اگر اس حد فاصل کو توڑ کر کوئی دوسری کیفیت پیدا ہو جائے تو وہ کیفیت اس انسان کی نہیں ہوگی بلکہ کسی اور کہیں اور شے کی ہوگی۔
حضرت الوان صاحب کی اس بات پر معلوم ہوا کہ ولایت اور فضیلت کا یہ سفر جو ۱۲ میل کے طویل اور مشقت برداشت کرنے والے راستے پر طے ہوتا ہے یہ بیان ہے کہ انسان کے مکان سے فضا اور ولایت تک پہنچنے کے سفر کا اور کیا کچھ اس میں چھپا ہوا ہے
حضرت خانصاحب نے اس بارے میں ایک بڑا خوبصورت انداز بیان اختیار کیا ہے جو بہت موثر ہے ۔
حضرت خانصاحب فرماتے ہیں کہ انسان ایک بند دروازے کی طرح ہے، دروازہ اندر سے بند ہے۔ کوفت، آرگنائزیشن، پریشانی، اور طرح طرح کے خیالات ان کو کھولنے کے لیے باہر سے دستک دے رہے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اندر سے دروازہ کھلتا ہی نہیں، اندر سے کوئی جواب ہی نہیں ہے، اندر سے تالا لگا ہوا ہے کلید باہر ہے۔ اب چابی پیچھے کی طرف ہے، کوئی اندر سے چابی گھمائے تو دروازہ کھلتا ہے۔ مذہب پرگفتگو جاری رہی۔
حضرت صاحب نے فرمایا کہ حقیقت انسان ایک بند دروازہ کی طرح ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر چیزیں انسان کو باہر سے مہیا ہوتی ہیں۔ باہر سے ہی معلومات اور خیالات داخل ہوتے ہیں، اب یہ ہے کہ اس کا اندر کیا ہے ؟ یہ انسان کے اپنے اوپر منحصر ہے کہ وہ اس دروازے کو کس طرح کھولتا ہے، اس سے کیا کام لے سکتا ہے۔ انسان میں یہ صلاحیت سب سے زیادہ قیمتی ہے کہ وہ حقیقت کے خلاف، ضرورت کے خلاف اور جذبات کے خلاف جا کر حقیقت کو پانے کی کوشش کے ذریعہ اپنے اندر کے دروازے کھولتا ہے، اور تو اور، فضا اور جذبات اور ضرورت کے خلاف اور جذبات اور جذبات کے خلاف تو یہ سب سے بڑا شعوری عمل ہے، یعنی فضا کے خلاف ضرورت کے خلاف، جذبات اور جذبات سے بیزار ہو جانا، یہ بڑے فدومندانہ رویے ہیں۔
آخر میں آپ نے اس سلسلے میں ایک کتاب کا تذکرہ کیا۔
جدید اسلامک فلاسفی کے مصنف ہیں ڈاکٹر کے۔ برکس، انہوں نے اپنی کتاب ”انسان اور مذہب“ میں اس خیال کو جاری رکھا ہے کہ آپ کی یہ تمام حرکات دودھ اور شہد اور خیالات میں پیوست اور ان کا جاری رہنا کبھی کبھی اور دوسری ہو جائے گا۔
حضرت کے اس دورے میں، یہ واقعہ بڑا دلچسپ اور یادگار رہا ہے کہ ۱۹۸۴ء کے بعد کے ۱۹ سال میں اس سے لوگوں کے دلوں میں جو ایک نیا ولولہ اور جوش پیدا ہو گیا تھا، یہاں پر تھیم کے ایک فاصلے کے کریمبوڈ
کی بابت گفتگو کی۔ بظاہر یہ سمجھ میں آیا کہ اس کا سبب عمومی اختلاط ہے۔ سردھنہ کی آبادی ٦٠ ہزار اس میں تقریباً نصف ہندو اور نصف مسلمان ہیں۔ یہاں کے کاروبار کی نوعیت ایسی ہے کہ بار بار دونوں فرقہ کے لوگ ایک دوسرے سے ملتے رہتے ہیں۔ اس طرح تقریباً سب لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں، یہی سماجی اور کاروباری میل ملاپ اس فرق کا اصل
میں نے کہا کہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اختلاط مانع فساد ہے۔ اگر صرف اتنا ہو جائے کہ دونوں فرقوں کا اختلاط بڑھ جائے تو فساد کے اسباب اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ ۱۹۸۷ میں میرٹھ میں بہت بڑا فساد ہوا۔ اس کے بعد سردھنہ میں کسی نے شرارت کی اور مسجد میں خنزیر کا گوشت ڈال دیا۔ اس طرح کے کچھ واقعات کیے گئے تاکہ سردھنہ میں بھی فساد برپا ہو جائے ۔ مگر یہاں کے لوگ ٹھنڈے مزاج کے ہیں۔ وہ اشتعال نہیں ہوئے۔ اس کے بعد ہندو اور مسلمانوں کے بڑے لوگ اکٹھا ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ جو ہو چکا وہ ہو چکا، اب اس کو آگے بڑھنے نہیں دینا ہے۔ چنانچہ یہ چنگاری آغاز ہی میں بجھ گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ میرٹھ میں سخت نقصان ہوا۔ مگر سردھنہ میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ یہاں کے مسلمان آج ترقی کر رہے ہیں بزنس اور تعلیم دونوں میدانوں میں وہ آگے بڑھ رہے ہیں۔
ایک صاحب نے بتایا کہ ۱۹۸۷ میں میرٹھ فساد کے موقع پر سردھنہ کے تین مسلمانوں کو قریب کے گاؤں کساولی میں مار ڈالا گیا جب کہ وہاں باغ کی رکھوالی کر رہے تھے۔ مگر سردھنہ کے مسلمان اس پر مشتعل نہیں ہوئے۔ اس طرح ایک طرف مجرمین کو قانونی سزا ملی اور دوسری طرف سردھنہ فساد کی مصیبت سے بچ گیا۔
۱۲ اپریل کی صبح کو شیخ محمد حنیف ملتانی (۵۱ سال) کی رہائش گاہ پر ایک اجتماع ہوا۔ غیر رسمی انداز میں دیر تک لوگوں سے گفتگو ہوتی رہی۔ سردھنہ میں ہندو اور مسلمان دونوں زیادہ تر بزنس کے میدان میں ہیں۔ تاہم ایک صاحب کے الفاظ میں "مسلمان تو زیادہ ترمز دوری کرتے ہیں، ہندو بزنس میں ہم سے بہت آگے ہیں"۔ میں نے سبب پوچھا تو ایک صاحب نے کہا: میں تو سمجھتا ہوں کہ اس کا سبب صرف علم کی کمی ہے ۔
ایک صاحب سے اس پر گفتگو ہوئی کہ کافر کون ہے۔ میں نے کہا کہ کافر کسی نسلی گروہ کا نام نہیں۔ یہ ایک انفرادی رویہ ہے۔ کافر کے معنی منکر کے ہیں۔ اس سے مراد وہ انسان ہے جو اتمام حجت کے باوجود حق کا انکار کرتا رہے یہاں تک کہ انکار ہی کی حالت میں اُس کا خاتمہ
قرآن (البقرۃ (۱۶۱) میں ہے کہ بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور وہ کافر ہی مر گئے تو وہی وہ لوگ ہیں کہ ان پر اللہ کی لعنت ہے (ان الذین کفروا وماتوا وهم كفار اولئك عليهم لعنة الله الخ)
اس سے معلوم ہوا کہ کافر یا منکر وہ شخص ہے جو موت کے آخری وقت تک کا فرنہ رہے۔ چوں کہ کوئی انسان کسی کے بارہ میں یہ جان نہیں سکتا کہ اس کا خاتمہ آخر کار کس چیز پر ہوا ہے، یہ وہ چیز ہے جو صرف خدا کو معلوم ہے۔ اس لیے، ہمیں یہ حق نہیں کہ پیشگی طور پر ہم کسی کو کافر قرار دے ہمیں دوسروں کو صرف غیر مسلم کہنا ہے۔ یا انسان یا برادران قوم جیسے الفاظ سے انہیں خطاب اور اس معاملہ کو خدا کے حوالے کر دینا ہے کہ آخری طور پر اس کی موت کس حال میں ہوئی۔ کافر وہ ہے جو خدا کے نزدیک کا فرار پائے نہ کہ انسانوں کے نزدیک۔
سردھنہ کا تعارف سب سے پہلے مجھے انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے شمارہ ۲۳ جنوری ۱۹۸۸ کے ذریعہ ہوا۔ اس میں مسرٹ شوچی بنسل (Shuchi Bansal) کے قلم سے ایک با تصویر مضمون شائع ہوا تھا۔ اس کا عنوان تھا سر دھنہ، بیگم کا من :