In the land of Begum Samru
Al-Risala, November 1996, pp. 27–30
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۲ اپریل کو جمعہ سے پہلے ہم لوگ سردھنہ کا مشہور سینٹ میری چرچ (St. Mary's Church) دیکھنے کے لیے نکلے۔ یہ سفر جناب علاؤالدین صاحب کی گاڑی میں طے ہوا۔ اس چرچ کا ذکر پہلی بار میں نے مذکورہ اخبار میں پڑھا تھا۔ یہ ایک وسیع حصار بند علاقہ ہے جو گویا سردھنہ کے اندر ایک عظیم تر سر د ھنہ ہے۔ تقریباً ۶۵ ایکڑ رقبہ میں پھیلی ہوئی یہ وسیع دنیا ایک خاتون نے بنوائی تھی جو عام طور پر بیگم سمرو کے نام سے مشہور ہیں۔ عظیم چرچ کے گیٹ کے اوپر حسب ذیل فارسی قطعہ لکھا ہوا ہے :
با مددِ حندا فضلِ مسیحا بسال، ہجده صد عشرين واثنا بدل زیب النساء، عمدہ اراکین بنا فرمود عالی شان کلیسا چرچ کے ایک کتابچے سے معلوم ہوا کہ بیگم سمرو کا اصل نام فرزانہ تھا۔ ان کے باپ کا نام لطیف علی خان تھا۔ وہ میرٹھ ضلع کے ایک گاؤں کوٹانہ میں ۵۳اء میں پیدا ہوئیں۔ ان کی عمر چھ سال تھی کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ذریعہ معاش کی تلاش میں ان کی ماں انھیں لے کر ان کی باقاعدہ تعلیم نہ ہوسکی۔ چنانچہ انھوں نے رقص و سرود کا پیشہ اختیار کر لیا۔ جب ان کی عمر پندرہ سال تھی، ایک فرانسیسی افسر (Walter Reinhardt) نے ان کو ایک رقص پارٹی میں دیکھا۔ وہ اس کو پسند آ گئیں اور اس نے ان سے نکاح کر لیا۔ بیگم کا نکاح مسٹر سمرو سے خالص اسلامی روایات کے مطابق ہوا۔
مذکورہ فرانسیسی افسر کا اصل نام والٹرین ہارٹ تھا۔ مگر وہ سیاہ فام تھا، اس بنا پر اس کے یورپی ساتھی اس کو سومبرے (Le Sombre) کہنے لگے جس کے معنی تاریک کے ہیں۔ لفظ بول چال میں بگڑ کر سُمرو (Sumru) بن گیا۔ اس طرح یہ فرانسیسی افسر سُمرو کہا جانے لگا۔ اس کا نکاح مذکورہ خاتون سے ہوا تو وہ بھی بیگم سمرو کے نام سے مشہور ہو گئیں۔ مذکورہ فرانسیسی ابتدا ؤ راجہ جواہر سنگھ (بھرت پور) کی فوج میں افسر تھا۔
کے آخر میں دہلی کی برائے نام سلطنت پر شاہ عالم ثانی تخت نشین تھا۔ اس زمانہ میں دہلی میں بغاوت ہو گئی ۔ شاہ عالم کو دہلی سے بھاگنا پڑا۔ اس بغاوت کا سردار زبہ نہ خان تھا ۔ شاہ عالم نے بغاوت کو فرو کرنے کے لیے والٹرین ہارٹ کی خدمات حاصل کیں۔ وہ ایک فوجی ماہر تھا، وہ بغاوت کو فرو کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔ اس کے بعد شاہ عالم ثانی نے والٹرین ہارٹ کو مظفر نگر سے علی گڑھ تک کا علاقہ جاگیر میں دے دیا۔
۱۷۷۸ء میں والٹرین ہارٹ کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت بیگم سمرو اس کے نکاح میں آ چکی مگر ابھی تک انھوں نے عیسائیت قبول کرنے کا اعلان نہیں کیا تھا۔ شاہ عالم ثانی نے بیگم سمرو کو وارث کے طور پر مان لیا۔ اس طرح بیگم سمرو مذکورہ ریاست کی حاکم بن گئیں جس کی راجدھانی سردھنہ تھی۔ والٹرین ہارٹ کے انتقال کے تین سال بعد، مئی ۱۷۸۱ء کو بیگم سمرو نے مذہب تبدیل کرکے باقاعدہ عیسائی مذہب اختیار کر لیا۔
اس زمانہ میں بیگم سمرو کی فوج میں ایک یورپی افسر جارج ٹامس (George Thomas) تھا۔ اس کو بیگم سے دل چسپی ہو گئی۔ وہ بیگم سے نکاح کرنا چاہتا تھا۔ مگر بیگم نے انکار کیا۔ اس کے بجاے انھوں نے ایک اور فرانسیسی فوجی افسر لاویسیا (Le Vaisseau) سے نکاح کر لیا۔ اس کے بعد بیگم سمرو کے مصیبت کے دن شروع ہوتے ہیں۔ بیگم سمرو کے سوتیلے لڑکے ظفر یاب خان نے جارج ٹامس کو ساتھ لے کر بغاوت کر دی۔ بیگم کو سردھنہ چھوڑ کر بھاگ جانا اس سلسلہ میں بہت لمبی کہانی ہے جس کے ذکر کا یہاں موقع نہیں۔
۶۵ ایکڑ کے رقبہ میں یہاں جو مسیحی دنیا ہے اور جس میں چرچ وغیرہ شامل ہیں وہ سب انھیں بیگم سمرو کی بنوائی ہوئی ہیں۔ بیگم نے اسپتال کے نام سے ایک رقم چھوڑی تھی چنانچہ ان کے بعد یہاں ایک اسپتال بنایا گیا جو اب تک قائم ہے۔ یہ اسپتال ۱۸۰۱ء میں تیار ہوا تھا۔ اس مسیحی احاطہ کے اندر چرچ کے بعد جو سب سے بڑی اور شاندار عمارت ہے وہ بیگم سمرو کا محل ہے۔ اب وہ ایک انٹر کالج کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ بیگم سمرو کی قدیم رہائش گاہ میں ایک پرائمری اسکول قائم ہے۔ اس کی ایک جھلک اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں۔ بیگم سمرو کا تعلق اپنے پہلے فرانسیسی شوہر والٹرین ہارٹ سے ۱۷۶۵ء میں ہوا تھا۔
مگر کتاب میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ بیگم سمرو اپنے فرانسیسی شوہروں سے بات کس زبان میں کرتی تھی۔ آیا اس کے شوہروں نے اردو یا فارسی سیکھ لی تھی یا خود بیگم نے فرانسیسی زبان میں بقدر ضرورت واقفیت حاصل کرلی تھی۔ بیرونی شخصیتوں سے تو وہ ترجمان کے ذریعہ بات مگر اپنے شوہر سے بات کرنے کے لیے تو ضروری ہے کہ دونوں براہ راست گفتگو مگر اس سوال کا جواب مذکورہ کتاب میں موجود نہیں۔
چرچ کے گیٹ پر لکھا ہوا تھا: (St. Mary's Church) یہ بلند و بالا چرچ بیگم سمرو نے اٹلی کے معماروں کے ذریعہ بنوایا تھا۔ ہم لوگ اندر داخل ہو کر دیکھنے لگے۔ اس وقت چرچ کے اندر سروس (مسیحی عبادت) ہورہی تھی۔ مگر اس میں اتنے کم آدمی تھے کہ وسیع چرچ کے اندروہ ہمیں دکھائی نہیں دیے۔ مقامی مسیحی گائیڈ جو ہمارے ساتھ تھا، اس نے بھی کچھ نہیں بتایا۔ بعض ساتھی آپس میں بولنے لگے۔ ان کی آواز گونج کی وجہ سے زور زور سنائی دینے لگی، تاہم میں حسب عادت بالکل خاموش تھا اور کچھ بھی بولے بغیر چپ چاپ ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔ آواز سن کر ایک بھاری بھرکم خاتون اندر سے نکلی۔ اس نے غصے کے انداز میں کہنا شروع کیا کہ یہاں سروس ہو رہی ہے اور یہ پتہ نہیں کون لوگ ہیں جو اس طرح یہاں آکر زور زور سے بول رہے ہیں۔ میں دوبارہ حسب عادت کچھ بھی جواب دیے بغیر باہر آگیا۔ اتنے میں گائڈ اندر
اس نے کہا کہ چلئے، آپ کو اندر بلا رہے ہیں۔ مگر میں نے دوبارہ اندر جانے سے قطعی انکار کر دیا۔ اس کے بعد بڑے پادری کو خبر ہوئی۔ وہ اپنا کام چھوڑ کر خود آ گیا اور معذرت کر کے ہم لوگوں کو دوبارہ اندر لے گیا ۔ وہ اگرچہ ایک خاص پروگرام میں مصروف تھا۔ لیکن پروگرام چھوڑ کر وہ آخر وقت تک ہمارے ساتھ رہا۔ اور وسیع احاطہ کے مختلف شعبے ہمیں دکھائے اور ہر ایک کا تعارف کرایا۔
وسیع پھیلے ہوئے چرچ کے اندر ایک خاص کمرہ ہے جو سال میں صرف دو بار مخصوص تاریخوں پر کھولا جاتا ہے۔ اس کو دیکھنے اور برکت لینے کے لیے لاکھوں عیسائی یہاں جمع ہوتے ہیں۔ نے اس کمرہ کو خصوصی طور پر آج ہمارے لیے کھلوا دیا۔ چرچ میں داخلہ کے وقت جو نا خوش گوار واقعہ پیش آیا تھا یہ غالباً اسی کا ایک خوش گوار نتیجہ تھا۔
اس کمرہ میں کچھ عیسیٰ تبرکات رکھے ہوئے ہیں۔ اور سامنے دیوار پر قد آدم مسیح کا اسٹیچو صلیب پر لڑکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس کا نقشہ اس طرح ہے کہ موت کے بعد سر ایک طرف لڑکا ہوا ہاتھ اور پاؤں میں کیل گاڑنے کا خونی نشان ہے۔ سینہ پر بھالا مارنے کی وجہ سے خون بہہ غرض یہ کامل طور پر ایک بے بس انسان کی تصویر تھی۔
میں نے سوچا کہ یہ بھی کیسی عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں ربے بس خدا کو ماننے والے ساری دنیا میں حرکت و عمل کا طوفان بن گئے۔ مگر وہ طاقت ور خدا کو ماننے والے اپنی بے عملی کے نتیجہ میں ساری دنیا میں سب سے زیادہ پچھڑی ہوئی قوم بنے ہوئے ہیں۔ اس مصلوب مجسمہ کے اوپر لکھا ہوا تھا انرزی (INRI)۔ میں نے پادری صاحب سے پوچھا کہ اس کا فل فارم کیا ہے۔ انھوں نے حسب ذیل الفاظ لکھ کر دیے :