We all are children of one Father.
Al-Risala, November 1996, pp. 31–50
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ ان لوگوں کے اندر آپ نے جو اخلاق دیکھا اس کا راز کیا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ اس کا راز صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے ۔ مشنری اسپرٹ ۔ چرچ کے بڑے پادری (Fr. John Monteiro) کی طرف سے انگریزی میں ۸۰ صفحہ کا ایک کتابچہ ہمیں دیا گیا جس میں اس مسیحی سنٹر کے بارہ میں تاریخی تفصیلات درج تھیں ۔ ۸۰ صفحہ کے کتابچہ میں بہت سی تفصیلات ہیں۔ مگر اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بیگم فرزانہ جب ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوئی تھی تو اس نے کیوں مسیحیت قبول کر لیا ۔ کتابچہ سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ فادر گر گیگوری (Fr Gregory) ایک پرجوش مشنری (zealous missionary) وہ اٹلی میں ۲۲ نومبر ۱۷۳۴ ء کو پیدا ہوئے ۔ اس کے بعد وہ آگرہ آئے ۔ یہاں غالباً انھوں نے ہندستانی زبان سیکھی۔ اس کے بعد وہ سر دھنہ منتقل ہوئے ۔ ۷ مئی ۱۷۸۱ء کو انھوں نے بیگم فرزانہ کو مسیحیت میں داخل کیا۔ ان کا نیا نام یوحانہ سمرو (Yohanna Sumru) رکھا گیا۔ فادر گر گیگوری کا انتقال دہلی میں ۲۹ مئی ۱۸۰۳ء کو ہوا۔ دہلی میں رہتک روڈ پر اب بھی ان کی قبر موجود ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے علما ء میں سے کسی نے بیگم سمرو سے رابطہ قائم وہ ہندستانی زبان کے علاوہ فارسی زبان اچھی جانتی تھی۔ اس بنا ء پر علما ء اس سے بہت اچھی طرح گفتگو کر سکتے تھے۔ مگر غالباً کسی عالم کو اس طرف توجہ نہیں ہوئی۔ مسیحی پادری کو یک طرفہ طور پر یہ موقع مل گیا کہ وہ خاتون پر کوشش کرے اور اس کو بیگم فرزانہ سے بیگم یوحانہ بنا دے۔
مذکورہ کتاب میں یہ درج ہے کہ اس میں شک نہیں کہ اس سفید پوش اطالوی راہب کو بیگم کی تبدیلی مذہب کے لیے بہت کچھ کرنا پڑا ہوگا۔ اس نے بیگم کو اور اس کے سوتیلے لڑکے (ظفر یاب خان) کو آگرہ کے قدیم اکبر چرچ میں ۱۷۸۱ء میں بپتسمہ دیا۔ بارہ سال بعد اسی نے بیگم کا نکاح ایک فرانسیسی افسر سے کیا :
Undoubtedly this Italian Carmelite must have had a lot to do with the begum's conversion. He baptised her in the old Akbar Church of Agra along with Sumru's son in 1781. 12 years later he blessed her marriage with the Frenchman, Le Vaisseau. (p. 64) یہ مغل حکمران شاہ عالم ثانی کا زمانہ تھا جس نے دہلی سلطنت پر ۱۷۵۹ء سے لے کر ۱۸۰۶ء تک خود بیگم سمرو کی جاگیر یا ریاست اسی سلطنت دہلی کے ماتحت تھی۔ اس اعتبار سے مسلم علماء کے لیے اس معاملے میں دخل دینے میں بظاہر کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ مگر عجیب بات ہے کہ تبدیلی مذہب کا اتنا بڑا واقعہ ہوا جس کا تعلق سردھنہ سے لے کر آگرہ تک سے تھا، اور جس کی تکمیل میں کئی سال لگے۔ لیکن اس مدت میں کوئی ایسا عالم سامنے نہیں آیا جو بیگم سمرو سے ملاقات کر کے اس کو اسلام کی اہمیت بتائے۔ بیگم سمرو صرف اردو اور فارسی زبان جانتی تھی مگر فرینچ اور انگریزی کے علماء سے تو اس کا ربط قائم ہوا، لیکن اردو اور فارسی کے علماء سے اس کا ربط قائم نہ ہوسکا۔
یہ وہ وقت ہے جب کہ دہلی میں شاہ عبدالعزیز صاحب (۱۸۲۳-۱۷۶۲) موجود تھے انھوں نے ۱۸۰۶ء میں فتویٰ دیا کہ ہندوستان دارالحرب ہو چکا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہ علماء حرب" کے معاملے میں تو ضرورت سے زیادہ باخبر تھے، مگر "دعوت" کے معاملے میں وہ کسی باخبری کا ثبوت نہ دے سکے۔ ورنہ شاید آج سردھنہ کی تاریخ دوسری ہوتی۔
عین اسی زمانہ کا ایک اور ملتا جلتا قصہ ہے۔ ایک فرانسیسی ماہر حرب بوائے (Benoit de Boigne) ہندوستان آیا تھا۔ وہ ۱۷۵۱ء میں چھیبری (Chambery) میں پیدا ہوا۔ ۱۸۳۰ء میں اس کی وفات ہوئی۔ ہندوستان میں وہ گوالیار کے راجہ مادھوجی سندھیا کی فوج میں افسر مقرر ہوا۔ جہاں وہ ۱۷۸۴ء سے ۱۷۹۶ء تک رہا۔
بوائے نے شاہ عالم دوم کے ایک ایرانی افسر کی لڑکی سے شادی کی۔ اس سے ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام علی بخش تھا۔ علی گڑھ میں موجودہ مسلم یونیورسٹی جس زمین پر قائم ہے وہ پہلے اسی فرانسیسی مہم باز (French Adventurer) کی ملکیت تھی۔ ۱۸ سال ہندوستان میں رہ کر ۱۸۱۲ میں جب وہ فرانس واپس چلا گیا تو اس کے بعد یہ زمین کچھ اور لوگوں کو ملی۔ یہاں تک کہ۔
سر وہ مسلم یونیورسٹی کے حصہ میں آتی۔
بیگم سمرو کی زندگی اس دور کے ہندوستان کو بتاتی ہے جو یہاں اٹھارویں صدی اور انیسویں صدی میں پایا جاتا تھا۔ اس وقت کسی سلطنت کے تین اہم شعبے ہوتے تھے ۔ انتظام حکومت اور فوج ۔ ان میں بھی فوج کا درجہ سب سے اونچا تھا۔ کیوں کہ اقوام متحدہ سے پہلے دنیا میں کوئی بین اقوامی قانون نہیں تھا اور اس قسم کے معاملات کو طے کرنے والی واحد طاقت صرف فوج تھی ۔
اُس زمانہ میں حوصلہ آزما افراد کے لیے سب سے بڑی چیز فوجی سردار یا فوجی جنرل بنتا چنانچہ اکثر راجہ اور مہاراجہ کے یہاں یورپ کے لوگ بڑے بڑے فوجی عہدوں پر فائز ہوا کرتے تھے۔ اسی طرح افغانی سردار یہاں اگر مسلم بادشاہ ہوں اور ہندو راجاؤں، دونوں کے یہاں اعلیٰ فوجی عہدہ حاصل کرتے تھے۔ گویا کہ آج جس طرح مغربی ملکوں کے نکل نکل ماہرین ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اسی طرح پچھلے زمانہ میں یورپ کے فوجی ماہرین یہاں کی فوجوں کا عہدے حاصل کیے ہوئے تھے۔ آج کے ماہرین ہوائی جہازوں پر سفر کر کے آتے ہیں، اُس زمانہ کے ماہرین پانی کے جہازوں پر سفر کر کے یہاں پہنچتے تھے۔
سردھنہ کے عظیم چرچ کے اندر بہت سے اسٹیچو ہیں۔ وہ سب سنگ مرمر کے بنائے ہوئے ان کو اٹلی کے فنکاروں نے بنایا ہے۔ ایک سیاح کے الفاظ میں، وہ تعجب خیز حد تک خوب صورت (breathtakingly beautiful) ہیں۔ بیگم سمرو کا ایک مجسمہ ہے جس میں وہ چہرے پر لمبا گھونگھٹ نکالے ہوئے ہے۔ اور ہاتھ میں سانپ لیے ہوئے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عام انسانوں کے لیے وہ ایک شریمیلی خاتون تھیں۔ لیکن مجرموں کو سزا دینے کے لیے وہ سانپ بن جاتی تھیں۔ یہ اسٹیچو پورا ایک ہی پتھر کا ہے۔ اس کو اتنی مہارت سے بنایا گیا ہے کہ وہ بالکل اصلی معلوم ہوتا ہے۔
ایک بڑی عمارت کے سامنے لکھا ہوا تھا سینٹ جان کی سیمنری (St. John's Seminary) اس کے اندر کچھ نوجوان پڑھتے ہوئے نظر آئے۔ سیمنری اس عیسائی مدرسہ کو کہا جاتا ہے جہاں مذہبی تعلیم کا انتظام ہو۔ اس کا خالص مقصد یہ ہوتا ہے کہ تعلیم و تربیت کے ذریعہ قادر اور
عہدے دار تیار کیے جائیں جو چرچ کے نظام کو سنبھال سکیں۔
سردھنہ کا یہ مسیحی مرکز (کیتھولک مشن) تقریباً ۵۷ ایکڑ رقبہ میں قائم ہے۔ کتا بچہ میں بتا یا گیا تھا کہ بیگم سمرو کے انتقال کے بعد ان کی اسٹیٹ حکومت برطانیہ نے اپنے قبضہ میں لے لی۔ مذکورہ ۶۵ ایکڑ کا علاقہ بیگم کی ذاتی ملکیت تھا، چنانچہ وہ محفوظ رہا۔ اس کے بعد وہ مختلف مراحل سے گزرا۔ یہاں تک کہ ۱۸۹۰ء میں آگرہ کے آرچ بشپ نے اس کو ۲۵ ہزار روپے میں خرید لیا۔
سردھنہ کے اس مسیحی مشن کا آرکیٹکٹ ایک اطالوی میجر ایتھونی (Major Anthony Reghelini وہ یہاں کئی سال تک مقیم رہا۔ اس کا رہائشی مکان اب بھی یہاں موجود ہے جو ایتھونی کی کوٹھی کے نام سے مشہور ہے۔ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد، اب یہ عمارت بچوں کے اسکول کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ کیتھولک مشن کی طرف سے مجھ کو جو تعارفی کتاب دی گئی اس کا نام تھا : Sardhana: its Begum, its Shrine, its Basilica ۸۰ صفحہ کی اس کتاب کو پڑھنے کے بعد مجھ کو سب سے زیادہ جس بات پر حیرت ہوئی یہ کہ اس مشن کی تاریخ دو سو سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس مدت میں اس کے ساتھ طرح طرح کے نشیب و فراز پیش آئے۔ ملک کے سیاسی حالات میں بھی انقلابی تبدیلیاں ہوئیں ۔ آگرہ سے لے کر اٹلی اور فرانس تک کے مختلف لوگ اس سے وابستہ رہے ۔ حتی کہ خود بیگم سمرو کو خود کشی کا اقدام کرنا پڑا، اگر چہ وہ بچ گئی۔
طرح طرح کے اونچ نیچے پیش آنے کے باوجود ادارہ نہ ٹوٹا اور نہ تقسیم ہوا۔ اور نہ اپنے مقصد کے اعتبار سے اس میں کوئی خلل واقع ہوا۔ وہ بدستور ترقی کے راستہ پر چلا جا رہا ہے۔ یہی ساری دنیا کے ہزاروں مسیحی اداروں کا حال ہے۔ میں نے خود کئی ایسے ادارے دیکھے ہیں جو سیکڑوں سال سے پرسکون طور پر چلے جا رہے ہیں۔ جب کہ مسلم دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ادارہ ہو جو اس طرح تسلسل کے ساتھ چلا جا رہا ہو۔
یہ فرق روایات کی وجہ سے ہے۔ مسیحی قوموں میں روایات کا انتہائی احترام پایا جاتا ہے کسی روایت کو توڑنے والے ہمیشہ بڑے لوگ ہوتے ہیں۔ مگر مسیحی لوگوں کی اطاعت کیشی کی
یہ حال ہے کہ ان کا کوئی بڑا آدمی کبھی کسی روایت کو نہیں توڑتا۔ وہ اپنے آپ کو روایت کے تابع رکھتا ہے، نہ کہ روایت کو اپنا تابع بنانے لگے۔ اور تاریخ کا تجربہ ہے کہ زندگی کا نظام ہمیشہ روایات کے تحت چلتا ہے۔ جس سماج میں روایات توڑ دی جائیں وہاں کوئی قانون یا کوئی حکومتی اقتدار اس کا بدل نہیں بن سکتا۔
پیغمبرِ اسلامؐ کے لائے ہوئے انقلاب میں اس حقیقت کا مکمل شعور پایا جاتا ہے (ملاحظہ ہو احیاءِ اسلام، صفحہ ۶۰ - ۶۳) مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں کو اس کا مطلق شعور نہ تھا۔ چنانچہ ہر مسلم لیڈر جوش جہاد میں روایتوں کو توڑتا رہا۔ مثال کے طور پر اورنگ زیب عالم گیر نے انتہائی بے دردی کے ساتھ اپنے زمانہ کی تمام قیمتی روایات کو توڑ ڈالا۔ اس وقت سے آج تک مسلمان ایک ایسی قوم بنے ہوئے ہیں جن کے درمیان کوئی روایت ہی نہ ہو۔ جب کہ روایت کی اہمیت کا یہ حال ہے کہ اس کو توڑنا آسان ہے۔ لیکن دوبارہ روایت قائم کرنا ہو تو اس کے لیے ایک پوری تاریخ کا عمل درکار ہوتا ہے : It requires a lot of history to make a little tradition. میں نے معلوم کیا کہ سر دھنہ میں کیا ان لوگوں کی کوشش سے کچھ مسلمانوں نے عیسائیت قبول کیا ہے ۔ مجھے بتایا گیا کہ یہاں صرف ایک خاندان ہے جس کے چھ افراد عیسائی ہو گئے تھے۔ ان کے سوا کسی اور مسلمان نے اپنا مذہب تبدیل نہیں کیا۔
یہی صورت حال ساری دنیا میں ہے۔ دوسرے مذاہب کے لوگ بہت بڑے بڑے پیمانہ پر اپنا تبلیغی عمل جاری کیے ہوئے ہیں۔ مگر بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی مسلمان اپنا مذہب تبدیل کرلے ۔ دوسری طرف دیگر مذاہب کے لوگ ساری دنیا میں ہر روز بڑی تعداد میں اسلام قبول کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ اسلام دین محفوظ ہونے کی وجہ سے فطرت انسانی کے عین مطابق ہے۔ جب کہ دوسرے مذاہب نے تحریف کی بنا پر فطرت سے اپنی مطابقت کھودی ہے ۔
سر دھنہ میں، میرے خیال سے زیادہ بڑی کمی تعلیم کی ہے۔ یہاں مسلمانوں کا کوئی قابل ذکر اسکول یا مدرسہ نہیں۔ تاہم مولانا محمد رضوان قاسمی تعلیم کے میدان میں سرگرمی دکھا رہے ہیں۔
انھوں نے اپنی کوششوں سے ایک تعلیمی ادارہ کھولا ہے۔ اور اس کو اعلیٰ معیار پر لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ ان شاء اللہ یہ ادارہ ترقی کرے گا۔ اور وہ سرحد کے مسلمانوں کی اس کمی کو پورا کرنے کا باعث بنے گا۔
میں نے مشورہ دیا کہ آپ لوگ سرحد ھنہ میں ایک لائبریری بنائیں ۔ لائبریری صرف کتابوں کا ایک کمرہ نہیں ، وہ دراصل لوگوں کو باشعور بنانے کی ایک خاموش تحریک ہے۔ اور اس کو ہر بستی اور ہر مقام پر ہونا چاہیے۔
مسلمانوں کے عروج کے زمانہ میں لائبریریوں کا عام رواج تھا۔ برطانیہ کا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں کی قائم کی ہوئی لائبریریوں میں بسا اوقات ایک لاکھ سے بھی زیادہ کتابیں ہوتی تھیں۔ یورپ کی نشأہ ثانیہ جن کتابوں کے ذریعہ ظہور میں آئی ، اس کا بڑا حصہ مسلم کتب خانوں میں جمع شدہ عربی کتابوں سے حاصل ہوا تھا جن کو لے کر یورپی زبان میں ان کا ترجمہ کیا گیا (۱۵/ ۴۶۶)
برطانیہ کا کے مقالہ نگار نے مزید لکھا ہے کہ مسلمانوں میں تعلیم اور کتب خانوں کا یہ بڑھا ہوا ذوق پیغمبرِ اسلام کی تعلیمات کا نتیجہ تھا۔ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے پیروؤں سے کہا کہ تم علم حاصل کرو، خواہ اس کے لیے تمہیں چین جانا پڑے۔ مورخین بناتے ہیں کہ پیغمبرِ اسلام نے کچھ قیدیوں کے لیے یہ اصول مقرر کیا کہ ان میں کا جو شخص مخصوص تعداد میں بچوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھادے تو وہ رہا کردیا جائے گا (۴۵/۱۵)
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی پس ماندگی کا کوئی ایک سبب بتانا ہو تو یقیناً وہ یہی تعلیمی
چرچ سے واپسی کے بعد کچھ دیر جناب عمران الزمان صاحب کے مکان پر ٹھہرے۔ نے چائے کے ساتھ ایک پورا دستر خوان بچھا دیا تھا جس پر کھانے کی مختلف چیزیں موجود تھیں۔ میں نے کہا کہ بھائی، میں ان مولویوں میں سے نہیں ہوں جو اپنے سفر ناموں میں لکھتے ہیں کہ پر تکلف کھانے کا انتظام تھا ، ڈٹ کر کھایا‘‘ میرا اصول اس کے برعکس یہ ہے: کم کھانا، اور سادہ زندگی گزارنا۔
باہر خوانچہ والا آواز لگا رہا تھا: چیکو میٹھے، چیکو میٹھے۔ میں نے کہا کہ چیکو میٹھے ہی ہوتے پھر وہ بار بار میٹھا کیوں کہہ رہا ہے۔ یہ دراصل اس کے جوش تجارت کی بنا پر ہے۔ چف چیکو کہہ کر اطمینان نہیں ہوا۔ اس لیے اس نے اس میں مزید الفاظ کا اضافہ کر دیا۔ یہ گویا عمل اور اس کا تعلق ہر چیز سے ہے۔ لوگوں کے اندر حقیقی تڑپ ہو تو دین میں بھی اس کی مزید کے مظاہر دکھائی دینے لگیں گے۔
الرسالہ کے ایک قاری سے میں نے پوچھا کہ آپ کو اس سے کتنا اتفاق ہے۔ نے کہا کہ 90 فی صد۔ میں نے پوچھا کہ بقیہ لانی صد کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ ہمیشہ صبر و اعراض تلقین کرتے ہیں، اور اس سے مجھے اتفاق نہیں۔
میں نے کہا کہ صبر و اعراض تو خالص قرآنی تعلیم ہے، پھر کیا آپ کو قرآن سے اتفاق نہیں۔ یوں نے کہا کہ قرآن سے کس مسلمان کو اختلاف ہو سکتا ہے۔ مجھے قرآن کے نظریہ صبر سے نہیں بلکہ الرسالہ کے نظریہ صبر سے اختلاف ہے۔ میں نے کہا کہ دونوں کا فرق مثال کے مگر وہ کوئی فرق نہ بتا سکے۔
اصل یہ ہے کہ اس قسم کے مسلمان اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر صبر و اعراض کی بات قبول نہیں کر پاتے۔ ان کو ٹکراؤ والاعمل تو معلوم ہے مگر انھیں صبر والا عمل معلوم نہیں۔ راؤ کو عمل سمجھتے ہیں اور صبر کو بے عملی۔ اب چونکہ ان کے اندر قرآن سے اختلاف کی جرات میں، اس لیے کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں قرآن والے صبر سے نہیں بلکہ الرسالہ والے صبر سے اس معاملہ میں ان کی غیر سنجیدگی کا ثبوت یہ ہے کہ ان سے جب دونوں کا فرق پوچھا جائے تو وہ فرق بتانے سے عاجز ثابت ہوتے ہیں۔
دوسری بات میں نے یہ کہی کہ صبر کوئی الرسالہ کی بات نہیں، وہ فطرت کا قانون ہے۔ سر اس دنیا میں جینے کی قیمت ہے۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں ہے کہ صبر کرنا ہے یا نہیں۔ - اصل سوال یہ ہے کہ آپ کو یہاں جینا ہے یا نہیں جینا ہے۔ اگر صبر نہیں تو زندگی بھی نہیں۔ اس لیے یہ نہ کہئے کہ ہمیں صبر نہیں کرنا ہے، بلکہ یہ کہئے کہ ہمیں جینا نہیں ہے ، ہم کو تو صرف
مولانا محمد عرفان قاسمی نے اپنا ایک تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ ”چند سال پیشتر آپ کے فکری غلطی نامی کتاب چھپی تھی۔ وہ میری نظر سے گزری۔ پڑھنے سے پہلے میرا خیال تھا کہ مصنف نے آپ کے تمام لٹریچر کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ کے مشترک بنیادی فکری نشان دہی کی۔ پھر اس بنیادی فکر کو قرآن و حدیث کے ذریعہ رد کرنے کی کوشش کی ہوگی۔ پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ مصنف خود تبصرہ وتنقید کے اصول سے ناواقف ہیں۔ میں تبصرہ وتنقید کا جو انداز انھوں نے اختیار کیا ہے، اس کی غلطی اسی سے ثابت ہے کہ اگر اس کو تبصرہ کا معیار مان لیا جائے تو حدیث کی تمام کتابوں پر بھی بعینہ یہی تبصرہ صادق آئے گا جو انھوں نے فکر و وحید پر چسپاں کیا ہے۔ مثلاً انھوں نے تعارض کی مثال دی ہے۔ جب کہ حدیث کے اندر بھی بظاہر اسی قسم کے تعارض موجود ہیں۔ حالاں کہ یہ بات لغویت کی حد تک غلط ہے کہ حدیث میں تعارض کا دعویٰ کیا جائے۔ تبصرہ نگار نے ایک اور بڑی غلطی یہ کی ہے کہ ایک جزوی اور وقتی حالات سے متاثر کیفیت کو قاعدہ کلیہ مان کر نتیجہ اخذ کیا ہے۔ قرآن میں ہے کہ ــــــــ اور جب وہ ہماری آیتوں میں سے کسی چیز کی خبر پاتے تو وہ اس کو مذاق بنا لیتا ہے (و اذا علم من آیاتنا شيئا اتخذها هزوا) الجاثیہ ۹ یہاں یہ سوال ہے کہ قرآن تو مکمل طور پر ایک برحق کتاب ہے۔ پھر کوئی شخص قرآن میں کس طرح ایسی شئی (چیز) پالیتا ہے جس کا وہ مذاق اڑا سکے۔ جواب یہ ہے کہ قابل استہزار شے کتاب میں نہیں ہوتی بلکہ غیر سنجیدہ آدمی کے اپنے دماغ میں ہوتی ہے۔ کسی بھی بات کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے سنجیدگی ضروری ہے۔ آدمی کے اندر سنجیدگی نہ ہو تو وہ خدا کی کتاب میں بھی الٹی بات نکال کر اس کا مذاق اڑانے لگے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہدایت یابی کے لیے تقویٰ کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔
مولانا محمد عرفان قاسمی پابندی کے ساتھ الرسالہ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا: ”صحیح اسلامی تحریک وہ ہے جو دین کی بے آمیز دعوت پر اٹھائی اور الرسالہ کو میں اسی معیار پر پاتا ہوں۔ میرا احساس ہے کہ الرسالہ جو حقیقت پسندی جو گہری نظر پیدا کرنا چاہتا ہے، آج اسی کی ضرورت ہے۔ اگر آدمی کے اندر یہ صفات پیدا ہو
سا دنیا میں وہ آخرت کی کمائی کرنے والا نہیں بن سکتا۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ الرسالہ پھر ہی عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر ہے اور الرسالہ بلاشبہ عصر حاضر میں اسلامی تجدید کا کام انجام دے رہا ہے"۔
سردھنہ میں نوابوں کا ایک خاندان ہے۔ ہندوستان میں جب انگریزوں کے خلاف بغاوت ہوئی تو انھوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا۔ انگریزوں نے اپنی حکومت کے استحکام کے بعد انھیں ان نوازشوں کا فائدہ اب تک انھیں مل رہا ہے۔
میں نے کہا کہ ہمارے رہ نما دو سو سال سے بتا رہے ہیں کہ انگریز ایک مسلم دشمن اور اسلام دشمن قوم ہے۔ اور اس کے ثبوت میں بتاتے ہیں کہ اس نے ہزاروں مسلمانوں کو سولی پر مگر تعرف الاشیاء باضدادھا کے اصول پر سوچنا چاہیے کہ پھر کیا وجہ ہے کہ وہی انگریز سردھنہ میں (نیز دوسرے علاقوں میں) مسلمانوں کے ساتھ نوازش کا معاملہ کر رہے ہیں۔ اس پر غور کرنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اصل معاملہ مسلم دشمنی کا نہیں ہے۔ یہاں سے دشمنی کا ہے جو مفاد کے راستہ میں حائل ہو۔ دوسرے تمام لوگوں کی طرح، انگریز اپنے دشمن کا دشمن اور اپنے دوست کا دوست ہے۔ جس مسلمان کو اس نے اپنا مخالف پایا اس کو اس نے اپنے عتاب کا نشانہ بنایا اور جس مسلمان نے اس سے موافقت کی اس پر اس نے نوازشیں کیں۔
دہلی واپس آنے کے بعد ۱۳ اپریل ۱۹۹۶ کو میں نے سردھنہ کے نواب صاحب جان کا قصہ مسٹر اللہ صاحب (بنگلور) کو بتایا۔ انھوں نے کہا کہ ایسا ہی واقعہ ہماری ریاست کرناٹک میں ہمارے یہاں بڑے بڑے کافی کے باغات ہیں۔ ان کے مالک پہلے انگریز تھے۔ جب وہ اپنے ملک واپس جانے لگے تو انھوں نے بالقصد اپنے باغات مسلمانوں کو دیے ۔ وہ زیادہ قیمت دینے کے لیے تیار تھے، مگر انھوں نے کم قیمت پر اسے مسلمانوں کے ہاتھ بیچ دیا۔
اس کا سبب بھی یہی ہے کہ جنوب کے مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف اس شدت کا باغیانہ سلوک نہیں کیا جو شمال کے مسلمانوں نے کیا۔ اس لیے انھوں نے جنوب
کے مسلمانوں کو نوازا اور شمال کے مسلمانوں کو انھوں نے سزائیں دیں۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں جو قومیں مسلمانوں کے اوپر غالب آئیں یا آج غالب ہیں ، ان سب کے بارہ میں ہمارا لکھنے اور بولنے والا طبقہ سوال سے یہ کہہ رہا ہے کہ وہ اسلام دشمن لوگ ہیں اور سازش کے تحت انھوں نے غلبہ حاصل کیا ہے مگر یہ تصور لغویت کی حد تک غلط ہے۔
خدا کی اس دنیا میں کوئی گروہ محض دشمنی اور سازش کے ذریعہ سے کسی کے اوپر غلبہ حاصل نہیں کر سکتا۔ غلبہ کے لیے خدا کا قانون واضح ہے۔ اور وہ قانون یہ ہے کہ جس گروہ میں انسانی اوصاف زیادہ ہوں گے وہی گروہ یہاں غلبہ اور اقتدار حاصل کرے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ غالب قوموں کے اندر انسانی اوصاف مسلم قوموں سے زیادہ تھے ، اسی لیے وہ ان کے اوپر غالب آئے۔ اس کا ایک سادہ ثبوت یہ ہے کہ جن ملکوں کو مسلم قائدین اپنے اعلان کے مطابق ، دشمنِ اسلام قرار دیے ہوئے ہیں، خود ان کے بیٹے اور پوتے پہلی فرصت میں بھاگ کر انھیں ملکوں میں جاتے ہیں تاکہ وہاں شتل ہوسکیں۔
سر دھنہ میں مجھے ایک مسلمان کے گھر میں دعا کے لیے لے جایا گیا۔ صاحبِ خانہ حال میں چالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ اب گھر میں ان کی بیوہ اور تین چھوٹے بچے ہیں۔ نے اپنے بعد جائیداد اور مکان وغیرہ چھوڑا ہے۔ اب کچھ لوگ ظالمانہ طور پر ان جائیدادوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے بیوہ کے اوپر فرضی مقدمات قائم کیے ہیں اور طرح طرح سے ان کو پریشان کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ بیوہ کے وکیل صاحب گھر آکر یہ کہنے لگے ہیں کہ تم دوسرا وکیل کر لو۔ کیوں کہ وہ لوگ میری جان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔
مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے ہر روز ہند و ظلم پر لکھتے اور بولتے ہیں۔ اگر مسلم آبادیوں کا جائزہ لیا جائے تو بر عکس طور پر معلوم ہوگا کہ ہندو کا ظلم مسلمان پر اگر ایک فیصد کے درجہ میں ہے تو مسلمان کا ظلم مسلمان پر 99 فی صد کے درجہ میں ہے۔ سر دھنہ کے مختلف حصوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ یہاں مجھے دوسرے قصبوں کے مقابلہ میں زیادہ صفائی نظر آئی۔ صفائی کا وہ معیار جو یورپ کے قصبات میں پایا جاتا ہے، اس۔
اگرچہ سردھنہ ابھی بہت دور ہے۔ تاہم ہندوستان کے دوسرے قصبات کے مقابلہ میں ضرور وہ زیادہ صاف ستھرا دکھائی دیتا ہے۔ خاص طور پر شمالی ہند کے قصبات کے مقابلہ میں۔ ایک مجلس میں مختلف سوالات ہوئے۔ ان کا تعلق اسلام سے بھی تھا اور مسلمانوں سے چند سوال و جواب یہاں نقل کیے جاتے ہیں۔
جناب نبیل الرحمٰن صاحب پرنسپل انٹر کالج کی ایک تحریر مجھے دستی طور پر ملی۔ موصوف نے لکھا تھا :
" عرض یہ ہے کہ میں نے آپ کے مضامین اخبار وارسالہ وغیرہ میں پڑھے لیکن ان سے پوری طرح متفق نہیں تھا۔ ۱۱ اپریل ۱۹۹۶ کو سردھنہ تشریف لائے۔ عشاریہ بعد اور جمعہ بعد دونوں تقریر آپ کی سنی الحمدللہ بہت پسند آئیں سب خدشات دور ہو گئے۔
میری صاحبزادی میڈیکل لائن اختیار کرنا چاہتی تھی میں اس بارے میں مذبذب تھا۔ کسی محقق عالم دین کی جو دور جدید کے تقاضوں سے بھی واقف ہو، تلاش ہو، تلاش میں تھا یہ اوصاف آپ کی شخصیت میں نظر آئے ۔ آپ نے بچی کے متعلق تعلیم جاری رکھنے کا مشورہ دیا اور اسی کے ساتھ ساتھ دعا کی بھی تاکید کی کہ بچی کے بارے میں دعا کرتے رہو۔ اس سے طبیعت میں جو ایک قسم کی کھٹک تھی وہ دور ہوگئی۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے "
ایک سوال یہ تھا کہ غیرمسلموں کے یہاں کھانا پینا مسلمان کے لیے جائز ہے یا نہیں میں نے کہا کہ کھانے پینے کے معاملہ میں جو فرق ہے وہ مسلم دستر خوان اور غیرمسلم دستر خوان کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ خود کھانے اور پینے کے اعتبار سے ہے۔ یعنی جس چیز کو کھانا یا پینا جائز ہے وہ ہر جگہ جائز ہے۔ اور جس چیز کو کھانا یا پینا حرام ہے وہ ہر جگہ حرام ہے۔ ایک سوال یہ تھا کہ اصول فقہ کی کتابوں میں یہ قاعدہ بتایا جاتا ہے کہ عدد ہمیشہ خاص معنی پر دلالت کرتا ہے۔ اور خاص لفظ کے معنی میں کمی یا زیادتی نہیں کی جاسکتی۔ پھر احادیث میں عدد کی تعیین کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے جو ارشادات ہیں، مثلاً تین سانس میں پانی پینا، تو آیا اس سے تعیین مراد لیا جائے گا یا تیسیر۔
میں نے کہا کہ چیزیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک کیمیاتی نوعیت کی ، اور دوسرے کیفیاتی نوعیت
کمیاتی نوعیت کی چیزوں میں عدد کا ذکر ہو تو وہ متعین صورت میں مراد ہوگا، جیسے کعبہ کا سات بار طواف ۔ لیکن کیفیاتی نوعیت کی چیزوں میں عدد کا لفظ محض تفہیم کے لیے ہوتا ہے مثلاً " ایمان کے ستر شعبے ہیں " کا مطلب متعین مفہوم میں ستر نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب سادہ طور پر کثرت سے ہے۔ کیوں کہ ایمانی کیفیات کے اظہار کی گنتی نہیں کی جاسکتی۔ جہاں تک تین سانس میں پانی پینے کی بات ہے وہ تیسیر کے لیے ہے نہ کہ تحدید
ایک فاضل دیوبند نے یہ سوال کیا کہ حدیث میں تجدید دین کے بارے میں روایتیں آئی ہیں کہ ہر سو سال کے بعد ایک مجدد آئے گا وہ تجدید دین کرے گا، تو اس حساب سے اب تک ۱۴۰۰ مجدد ہونا چاہیے ۔ حالاں کہ مجددوں کی فہرست کے اندر اتنے نام نہیں ہیں۔ کہ تجدید دین سے مراد، جزء دین کی تجدید ہے یا کل دین کی۔ اگر کل دین کی تجدید مراد ہے۔ کوئی مجدد اب تک نظر نہیں آیا جس نے کل دین کی تجدید کی ہو۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اسلام ایک دعوتی مذہب ہے لیکن تاریخ اسلام میں کوئی ایسا شخص نہیں گزرا جس نے دعوت کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔
میں نے کہا کہ حدیث میں " سو سال " کا لفظ اعتباری ہے۔ اس کی مدت کم بھی ہو سکتی ہے اور زیادہ بھی۔ دوسری بات یہ کہ جزئی تجدید کی ضرورت حالات کی تبدیلی کے تحت پیش کیوں کہ حالات ہمیشہ بار بار بدلتے رہتے ہیں۔ جہاں تک کلی تجدید کا تعلق ہے وہ دور کی تبدیلی پر آتی ہے۔ کلی تجدید کی ضرورت پہلی بار صرف موجودہ زمانہ میں پیش آئی ہے آج کا زمانہ ہر اعتبار سے ایک بدلا ہوا زمانہ ہے ، اس لیے وہ کلی تجدید دین کا تقاضا کرتا ہے۔ میں کلی تجدید کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
ایک سوال یہ تھا کہ کبر میں اور جرات مندی میں کیا فرق ہے۔ میں نے کہا کہ کبر کے پیچھے ذات کی برتری کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے اور جرات مندی کے پیچھے حق کی برتری کا جذبہ۔ ایک سوال یہ تھا کہ تواضع اور احساس کمتری میں کیا فرق ہے۔ میں نے کہا کہ تواضع کی کیفیت خدا کو بلند و برتر ماننے سے ابھرتی ہے۔ اور کمتری کا احساس انسان کو بلند و برتر سمجھنے سے۔
ایک سوال یہ تھا کہ مصلحت پسندی اور مداہنت میں کیا فرق ہے۔ میں نے کہا کہ مصلحت کسی اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے اختیار کی جاتی ہے۔ اور مداہنت ہمیشہ ذاتی کمزوری کا نتیجہ ہوتی ہے۔
کون آدمی دینی مصلحت پر ہے اور کون آدمی ذاتی مداہنت پر، اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ جو آدمی دینی مصلحت کی بنا پر ایک طریقہ اختیار کرے، اس کی زندگی میں تضاد نہیں اس کے برعکس جو آدمی ذاتی مداہنت کی روش پر ہو، اس کی زندگی میں لازماً تضاد پیدا ہو جائے گا۔
مثلاً آپ ایک دولت مند ملک میں ہیں۔ وہاں آپ کو بہت بڑی تنخواہ مل رہی ہے اور آپ دفتر کے نظام میں حد درجہ موافقت کر کے رہتے ہیں۔ اب اگر آپ کی موافقت اصول کی بنا پر ہو تو اپنے گھر کے اندر بھی آپ اس نظام کی تعریف کریں گے جس طرح آپ دفتر میں کرتے ہیں۔ اگر آپ با اصول نہ ہوں تو آپ کا حال یہ ہوگا کہ دفتر کے اندر نظام کے حق میں اچھے الفاظ بولیں گے گھر کے اندر اس کے حق میں برے الفاظ۔ آپ ایک ڈبل اسٹینڈرڈ انسان بن کر رہ جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ مصلحت دینی ایک با اخلاص عمل ہے، اور مداہنت سرتاسر ایک منافقانہ ایک عمل سے انسان کی شخصیت بلند ہوتی ہے، جب کہ دوسرا عمل آدمی کی شخصیت کو کثیف بنا کر رکھ دیتا ہے۔
۱۲ اپریل کو جمعہ تھا۔ سردھنہ کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ کافی بڑی مسجد ہے، اندر سے باہر تک نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ میں نے سوچا کہ موجودہ مسلمانوں سے جو سب سے بڑی چیز اٹھ گئی ہے وہ شکر خداوندی کا جذبہ ہے۔ چنانچہ ایک مسجد کے ساتھ کسی وجہ سے کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آ جائے تو ہر زبان اور ہر قلم اس کے پر جوش تذکرہ میں مصروف ہو جاتا ہے۔ مگر اسی ملک میں لاکھوں مسجدیں شاندار طور پر آباد ہیں اور اس کے تذکرہ میں کوئی رطب اللسان نہیں۔
جمعہ کے بعد میری تقریب کا اعلان ہوا۔ بیشتر لوگ ٹھہر گئے۔ میں نے اپنی تقریر میں علم کی اہمیت بیان کی۔ میں نے کہا کہ قرآن میں پہلی آیت (اقراء ربک) کا اترنا بتاتا ہے کہ علم سفر اسلام کا
اس سلسلے میں تاریخی مثالیں دیتے ہوئے بتایا تھا کہ علم سے مراد سند اور سرٹیفکیٹ والا علم نہیں ہے۔ بلکہ وہ علم ہے جو آدمی کو باشعور بنائے۔ جو مومن کو صاحب فراست انسان جو عصر میں یسر دیکھنے کی نظر پیدا کرے۔ جس کا یہ نتیجہ ہو کہ آدمی پہاڑوں کو دیکھ کر اس سے تقویٰ اور خشیت کی غذا لینے لگے۔
سفر کے آخر میں مولانا محمد عرفان قاسمی (استاذ حدیث) نے اپنا تاثر تحریری صورت میں لکھ کر دیا۔ یہ انھیں کے اپنے الفاظ میں حسب ذیل ہے :
”اسلامی تاریخ میں بے شمار دُعاۃ و مبلغین پیدا ہوئے ہیں، لیکن صاحب الرسالہ اپنی نوعیت کے پہلے داعی ہیں جنھوں نے اسلام کے دعوتی پہلو کو نمایاں کیا ہے، موصوف نے دین کے اساسی اصول کو مرکز توجہ بنایا ہے، حق تعالیٰ نے آنجناب کو عصر حاضر میں تجدید دین و وجہ اسلام کے لیے مبعوث فرمایا۔ تقریباً ڈیڑھ ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں جہاں دین کے اندر غیر دین کی آمیزش ہوگئی تھی، وہیں احیار اسلام کے لیے موافق اسباب بھی جمع ہو گئے تھے، حضرت مولانا نے نہ صرف دین کو بے آمیز بنایا بلکہ موافق اسباب کی نشان دہی کے ساتھ ساتھ، اس کو بھر پور استعمال کی کوشش کی، تاکہ فکر اسلامی کو دنیا کے اندر غالب فکر کا مقام عطا ہو سکے، سچ تو یہ ہے کہ دعوت دین کی تحریک کو جس پیغمبرانہ طریقہ پر چلایا ، یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ علماء امتی کا انبیاء بنی اسرائیل کے آنجناب واحد حقیقی مصداق ہیں“ ۱۲ اپریل ۱۹۹۶ کو جمعہ کی نماز اور تقریر کے بعد ایک صاحب کے مکان پر چائے کی نشست یہاں دوبارہ مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔
آج کے اخبار میں ”ضلع میرٹھ“ کا خبرنامہ چھپا ہوا تھا۔ اس میں قتل یا حادثاتی موت کے آٹھ واقعات درج تھے ۔ کسی دیہات میں گھریلو جھگڑوں میں ایک آدمی نے دوسرے کو مار ڈالا۔ کہیں سڑک پر دو سوار یوں کی ٹکر میں کوئی شخص ہلاک ہو گیا۔ (قومی آواز ۱۲ اپریل ۱۹۹۶) میں نے کہا کہ دیکھیئے، میں دو دن سے میرٹھ کے علاقہ میں ہوں۔ مگر ایسی کوئی بات میرے دیکھنے یا سننے میں نہیں آئی۔ گویا کہ چار ملیں آبادی کے ضلع میں یہ محض استثنائی واقعات ہیں نہ کہ عمومی لیکن اگر میں میرٹھ سے دور ہوتا اور صرف اخبار ہی میرے لیے میرٹھ ضلع کو جاننے کا ذریعہ
دتا تو یہی استثنائی واقعات میرے لیے کل واقعات بن جاتے ۔ میں انھیں سے میرٹھ ضلع کی تصویر بناتا ۔ پھر میں سمجھ لیتا کہ میرٹھ تو صرف قتل اور موت کا ایک علاقہ ہے ۔ میں نے کہا کہ ہندو اور مسلمان اس ملک میں ہزار سال سے امن اور محبت کے ساتھ رہتے سو سال پہلے جب یہاں اخبار کا دور آیا اسی وقت سے دونوں فرقوں کے درمیان نفرتیں پیدا اس کی وجہ یہ ہے کہ اخبارات دونوں فرقوں کو ایک دوسرے کی مصنوعی تصویر دکھانے پچھلے زمانہ میں باہمی اختلاط ایک دوسرے کو جاننے کا ذریعہ تھا ، اب اخبارات ایک دوسرے کو جاننے کا ذریعہ بن گئے ہیں ۔
مثال کے طور پر سردھنہ میں دونوں فرقے باہم مل کر رہتے ہیں ۔ مگر یہ بات اخبار میں نہیں چھپے گی ۔ البتہ کبھی کسی ہندو اور کسی مسلمان میں لڑائی ہو جائے تو وہ فوراً اخبار میں چھپ جاتا ہے ۔ اس قسم کی منفی رپورٹنگ دونوں طرف ہو رہی ہے ۔ ہندی اخبار اس قسم کی ادھوری رپورٹنگ کے ذریعہ ہندوؤں کا ذہن بگاڑ رہے ہیں ۔ اسی طرح اردو اخبار اسی قسم کی ناقص رپورٹنگ کے ذریعہ مسلمانوں کا ذہن بگاڑ رہے ہیں ۔ یہی غیر فطری ذہن کبھی کسی اتفاقی سبب سے بھڑک اٹھتا ہے تو وہ فرقہ وارانہ فساد کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔
یہاں سے فارغ ہو کر دہلی کے لیے روانگی ہوئی ۔ سردھنہ سے گزر کر ہماری گاڑی میرٹھ کے بازار میں داخل ہوئی ۔ میں نے دیکھا کہ ہندو اور مسلمان دونوں سرگرم طور پر مختلف تجارتوں میں مشغول ہیں ۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے مسلمان اس نظریہ کو رد کر رہے ہیں کہ انڈیا ان کے لیے ایک پرابلم کنٹری ہے ۔ اسی طرح ہندو اس پروپیگنڈے سے باہر نکل آئے ہیں کہ مسلمان ان کے لیے ایک غیر مطلوب فرقہ ہیں ۔ اب دونوں از سر نو ایک دوسرے کو قبول کر رہے ہیں ۔ سمجھ چکے ہیں کہ انڈیا ان کے لیے مواقع سے بھرا ہوا ایک ملک ہے ۔ ایک عرصہ تک وہ نااہل لیڈروں اور بے بصیرت دانش وروں کے بہکاوے میں رہے ۔ اب وہ اس فریب سے باہر آگئے ہیں ۔
اسی طرح ہندو جو بعض پروپیگنڈوں سے متاثر ہو کر مسلمانوں کو بابر کی سنتان کے روپ میں دیکھنے لگا تھا ، اب وہ ان کو فرزندان وطن کے روپ میں دیکھ رہا ہے ۔ وہ ان کو ہندوستان کی
متحدہ قومیت کا ایک اٹوٹ حصہ سمجھ رہا ہے۔ وہ ان کو اپنے بھائی کے روپ میں دیکھ رہا ہے نہ کہ رقیب اور حریف کے روپ میں۔ یہ صورتِ حال جو آج ہر جگہ دکھائی دے رہی ہے وہ بلاشبہ ایک صحت مند سماج کی علامت ہے ، اور وہ یقینی طور پر ملک کے لیے ایک نئے اور بہتر مستقبل کی آمد خبر دے رہی ہے۔
ضلع میرٹھ گنگا اور جمنا کے درمیان واقع ہے۔ اس کی زمین نہایت زرخیز ہے۔ قسم کی ترقی کے وافر مواقع موجود ہیں۔ مگر میرٹھ کو، خاص طور پر یہاں کے مسلمانوں کو جتنی ترقی کرنا چاہیے تھا، اتنی ترقی وہ نہ کر سکے۔ اس کا سبب غالباً یہاں کے لوگوں کا وہ مزاج ہے جو ۵۷۔ کی بغاوّت میں شرکت کے نتیجہ میں فطری طور پر بنا۔
میرٹھ سے آگے ایک نہر ہے جس کے اوپر پل بنا ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ گنگا نہر ہے۔ ۱۹۸۰ء کے فساد میں پچاس سے زیادہ مردوں اور عورتوں کو گولی مار کر اس نہر میں ڈال دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کی ضروری تفصیل الرساله نومبر ۱۹۸۸ء، صفحہ ۳۰- ۳۵ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ جب گنگا نہر کے بہتے ہوئے پانی پر میری نگاہ پڑی تو میں نے سوچا کہ کیا یہ پانی نو سال پہلے ہونے والے واقعے کی تفصیل بتائے گا۔ پھر میرے ذہن میں آیا کہ وہ پانی اب یہاں کہاں ہے۔ وہ تو بہہ کر سمندر میں جا چکا۔ پھر خیال آیا کہ وہ پانی اب سمندر میں بھی نہیں ہوگا ۔ وہ بھاپ بن کر فضا میں چلا گیا ہوگا اور پھر بادل بن کر کہاں کہاں برسا ہوگا، اب کسی کو بھی یہ معلوم نہیں۔ مگر خدا کے علم میں یہ ساری باتیں اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ موجود ہیں۔ قدرت میں ہے کہ وہ حکم دے اور تمام چیز ہی دوبارہ اکٹھا ہو کر پورے واقعے کو ٹھیک اسی طرح سنا دیں جس طرح وہ ۲۳ مئی ، ۱۹۸۰ء کو پیش آیا تھا۔ اس دن کون ظالم ثابت ہوگا اور کون مظلوم قرار دیا جائے گا، اس کا علم خدا کے سوا کسی اور کو نہیں۔
راستہ میں ہم مودی نگر سے گزرے۔ یہاں ایک شوگر مل ہے۔ اس کے پاس دور تک سڑک کے کنارے گنّا لانے والوں کی لمبی لائن لگی ہوئی تھی ، کسان اپنا اپنا گنا ٹریکٹر پر لاد کر یہاں لائے تھے اور اب اپنی باری کے انتظار میں کھڑے تھے۔
سب سے پہلے یہ منظر میں نے مشرقی یوپی میں شاہ گنج کی پل میں دیکھا تھا۔
کسان اپنا گنا بیل گاڑیوں پر لاد کر لاتا تھا۔ اس کے بعد کرایہ کے ٹرک کے اوپر لدے ہوئے گنے سڑکوں پر دکھائی دینے لگے۔ اب کسان اپنا گنا اپنے ٹریکٹر پر لاد کر لاتا ہے۔ یہ ملک میں کسان کی ترقی کا ایک علامتی واقعہ ہے۔ بیل گاڑی کے بعد کسان کرایہ کے ٹرک استعمال کرتے تھے، اب انھوں نے خود اپنے ٹریکٹر خرید لیے ہیں جو پیداوار حاصل کرنے کا کام بھی کرتا ہے اور فصل کو لاد کر بازار بھی پہنچاتا ہے۔
مودی نگر پہلے میرٹھ ضلع کا ایک حصہ تھا۔ اب وہ انتظامی اعتبار سے غازی آباد میں شامل کر دیا گیا ہے۔ یہاں ۷ اپریل کو ایک بھیانک حادثہ ہوا۔ یوپی روڈویز کی ایک بس جو دہلی سے رڑکی جا رہی تھی، وہ مودی نگر پہنچی تو اس کے اندر ایک بم پھٹا۔ تقریبا ڈیڑھ درجن آدمی بہت سے زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں گیارہ مہینہ کا ایک بچہ بھی شامل تھا۔ بم بس کے اگلے حصہ میں ڈرائیور کی سیٹ کے نیچے رکھا گیا تھا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ باہر کی دکانوں کے شیشے ہندوستان ٹائمز (۲۹ اپریل) کے مطابق، کشمیر کے ایک عسکری گروہ اسلامی رکت المومنین نے اس بم دھماکہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تباہ شدہ بس کی تصویر نیچے
موجودہ زمانہ میں ناراض عناصر اس قسم کی وحشیانہ کارروائیاں ساری دنیا میں کر رہے البتہ مسلمانوں کو یہ خوش قسمتی حاصل ہے کہ ان کا کوئی آدمی جب ایسا فعل کرتا ہے تو اس کا عمل جہاد قرار پاتا ہے۔ اور وہ خود مجاہد کا لقب پا کر اپنی قوم کے درمیان ہیرو بن جاتا ہے۔ راستہ میں ایک جگہ ریلوے کراسنگ تھی، کوئی ٹرین آ رہی تھی، اس لیے دونوں طرف کے گیٹ بند کر دیے گئے تھے۔ ہماری گاڑی کھڑی ہوگئی۔ میں نے اتر کر دیکھا تو دونوں طرف سڑک کے اوپر دور تک گاڑیاں کھڑی ہوئی تھیں۔
میں نے سوچا کہ اگر کوئی کہے کہ صرف ایک ٹرین کو گزارنے کے لیے اتنی زیادہ گاڑیاں روک دی گئیں ۔ ٹریفک کا یہ اصول بالکل غیر منصفانہ ہے تو یہ جملہ قواعد کے لحاظ سے درست مگر حقیقت کے اعتبار سے غلط ہو گا۔ کیوں کہ یہ کم تعداد اور زیادہ تعداد کا مسئلہ نہیں ، یہ ترجیح اور تنظیم کا مسئلہ ہے۔ اور جہاں اس طرح کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے وہاں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کون کم ہے اور کون زیادہ۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر معاملہ کو دیکھنے کا ایک صحیح رخ ہوتا ہے، اور دوسرا غلط رخ ۔ فرق کی اس حکمت کو جاننا بے حد ضروری ہے۔ ورنہ آدمی کسی معاملہ میں ایک فیصلہ کرے گا۔ اپنی جگہ پر وہ سمجھے گا کہ میں درست ہوں۔ حالاں کہ وہ سراسر غلطی پر ہوگا۔ اور اس کی سادہ سی وجہ یہ ہوگی کہ وہ معاملہ کو غلط رخ سے دیکھ رہا ہوگا۔
مثلاً آج کل دنیا بھر کے مسلم علماء اور دانشور یہ کہہ رہے ہیں کہ تمام غیر مسلم قومیں اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت پر متحد ہو گئی ہیں۔ یہود و ہنود اور صہیونی طاقتیں اور صلیبی طاقتیں سب کی سب چاہتی ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کو مٹادیں ۔
یہ نظریہ سراسر بے بنیاد ہے۔ پھر ایک بے بنیاد بات پر مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے کیوں اس طرح متفق ہو گئے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایک واقعہ کو وہ غلط رخ سے دیکھ یہ بجائے خود واقعہ ہے کہ مسلمانوں کو دنیا بھر میں غیر موافق حالات کا تجربہ پیش آ رہا ہے۔ مگر اس معاملہ کا تعلق قانون فطرت سے ہے نہ کہ انسانوں کی مخالفانہ کارروائیوں سے۔ اصل یہ ہے کہ دنیا کا نظام اس کے بنانے والے نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں انسانوں
کے درمیان مقابلہ ہو۔ یہاں ترقی کا عمل مقابلہ اور مسابقت کے ذریعہ جاری رہتا ہے، جو کبھی کبھی عداوت تک پہنچ جاتا ہے (بعضکم لبعض عدو) ہمارے علماء اور دانشوروں کی غلطی یہ ہے کہ جس واقعہ کو انھیں قانونِ فطرت کے رخ سے دیکھنا چاہیے تھا اس کو وہ انسانی سازش اور انسانی عداوت کے رخ سے دیکھ رہے ہیں۔ اگر وہ معاملہ کو قانونِ فطرت کے رخ سے دیکھتے تو موجودہ صورت حال کو ایک چیلنج سمجھ کر اس کے حل کی تدبیر ڈھونڈتے۔ مگر جب انھوں نے اس کو انسانی سازش کی نظر سے دیکھا تو ان کی سمجھ میں اس کے سوا کچھ نہ آیا کہ مفروضہ دشمنوں کی سازش اور عداوت کا انکشاف کریں اور سمجھیں کہ ہم ایک کام کر رہے ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ دورِ اول کے مسلمانوں کو ہم سے بھی زیادہ سازش اور مخالفت کا سامنا مگر وہ تمام سازشوں اور مخالفتوں کو عبور کر کے آگے بڑھ گئے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ شعوری اور کرداری طاقت کا ہے۔ وہ لوگ شعور اور کردار میں طاقت ور تھے اس لیے کوئی سازش انھیں نقصان نہ پہنچا سکی۔ موجودہ مسلمان شعور اور کردار کے اعتبار سے بے جان ہو چکے ہیں اس لیے وہ با آسانی ہر سازش کا شکار ہو جاتے ہیں۔
جب میں دہلی واپس آرہا تھا تو میں نے سوچا کہ سردھنہ کے سفر سے مجھ سے کچھ کو کیا ملا۔ محسوس ہوا کہ سردھنہ کے دو روزہ قیام کے دوران میں نے وہاں جو کچھ دیکھا اور سنا وہ میرے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ بظاہر اس غیر اہم مقام پر بہت سی ایسی باتیں میرے علم میں آئیں جو اس سفر سے پہلے مجھے معلوم نہ تھیں۔
اس واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ آدمی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ اپنے معلوم“ ہی کو وہ سب کچھ سمجھ لے۔ عین ممکن ہے کہ یہاں اور بھی بہت سے باتیں ہوں جو آدمی کے لیے ابھی تک لامعلوم ہوں، حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے اسی دنیا میں وہ پوری طرح موجود ہوں۔ یہ بات انسان کے لیے بھی ہے اور دوسری چیزوں کے لیے بھی۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے سلسلہ میں ہمیشہ حسن ظن کی تاکید کی گئی ہے۔ حسن ظن آدمی کو اس سے بچاتا ہے کہ وہ کسی کے بارہ میں ایسی رائے قائم کرلے جو بطور واقعہ درست نہ ہو (الحجرات ۶) یہی معاملہ دوسری چیزوں کا ہے۔ آدمی سفر میں نئے نئے مقامات دیکھتا ہے اور
نئی نئی باتیں سیکھتا ہے۔ اسی لیے سیاحت کو قرآن میں مومن کی ایک صفت بتایا گیا ہے۔ امام رازی نے سائحون اور سیاحت کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے : السائحون في الارض لطلب العلم - السياحة هي الذهاب في المدن للعظة والاعتبار ۔ اگر آدمی کے اندر تو ثم (الحجر ۷۵) کی صفت موجود ہو تو ہر سفر اس کے لیے ایک عظیم درس عبرت بن جائے گا ۔
۱۲ اپریل ۱۹۹۶ کی شام کو مغرب کے وقت میں دہلی واپس آگیا۔ زندگی پوری کی پوری اسی قسم کا ایک وسیع تر سفر ہے۔ آدمی اپنی قیام گاہ سے نکل کر کہیں جاتا ہے اور دوبارہ اپنی قیام گاہ پر واپس آجاتا ہے۔ یہ سفر اسی طرح جاری رہے گا ، یہاں تک کہ انسان اپنی آخری منزل، آخرت تک پہنچ جائے۔
جب میں دہلی پہنچا تو کل کے دن مکان کے جس گیٹ سے نکل کر میں گاڑی میں بیٹھا تھا، آج گاڑی سے نکل کر دوبارہ اسی گیٹ کے اندر داخل ہوگیا۔ اس وقت مجھے یہ دعا یاد آئی، رب ادخلني مدخل صدق واخرجنی مخرج صدق واجعل لی من لدنک سلطانا نصیر (بی اسراء) کچھ سیاسی ذوق رکھنے والوں نے لفظی مشابہت کی بنا پر یہاں سلطان کو سیاسی اقتدار کے معنی میں لے لیا ہے۔ یہ اس کی معنویت کو غارت کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں سلطان سے مراد نصرتِ لدنی یا نصرتِ الہی ہے ، جیسا کہ دوسرے مقام پر حضرت موسیٰ کے لیے فرمایا سنشد عضدك باخيك ونجعل لكما سلطانا فلا يصلون اليكما (القصص (۳۵) یہ مدد کی وہ قسم ہے جو خصوصی طور پر داعی حق کو ملتی ہے اور ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہے۔ اس دعا کا تعلق مدخل اور مخرج دونوں سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدایا ، نکلنے میں بھی تو میری مدد فرما اور داخل ہونے میں بھی تو میری مدد فرما۔ ہر وقت اور ہر لمحہ کے لیے تو میرا طاقت ور مددگار بن جانا۔