جماعتِ صحابه
Al-Risala, December 1996, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
صحیح مسلم (کتاب الجھاد والسیر) میں یہ روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب نے حضرت عبداللہ بن عباس ٹا سے بیان کیا کہ جب بدر کا دن تھا۔ اور دونوں گروہ ایک میدان میں آمنے سامنے جمع تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی طرف دیکھا تو وہ ایک ہزار مسلح افراد اور دوسری طرف آپ کے اصحاب صرف ۳۱۳ تھے اور ان کے پاس ہتھیار بھی
اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اپنے رب کو پکارنا شروع کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اس کو پورا فرما۔ اگر تو اہل اسلام کی اس جماعت کو ہلاک کر دے تو اس کے بعد زمین میں تیری عبادت نہیں کی جائے گی :
اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكُ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ (صحیح مسلم بشرح النووی ۸۴/۱۲) (بعدها) في الارض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بلا مبالغہ درست تھے۔ آپ کے یہ اصحاب جن کو حالات نے میدان بدر میں اکٹھا کیا تھا، وہ خیار انسانیت تھے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ خياركم في الجاهلية خياركم في الاسلام (تمہارے جو افراد جاہلیت میں بہتر تھے وہی اسلام میں بھی بہتر ہوں گے)
حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرب میں جو لوگ اکٹھے ہوئے تھے، وہ پوری بشری تاریخ کے بہترین لوگ تھے، وہ لمبے تاریخی عمل کے دوران بن کر تیار ہوئے اور پھر انہیں یہ موقع ملا کہ وہ خاتم الرسل کا ساتھ دے کر وہ انقلاب برپا کریں جو ہزاروں سال سے اللہ تعالیٰ کو مطلوب تھا۔ مگر اب تک وہ وقوع میں نہیں آیا تھا۔
یہ وہ قیمتی گروہ تھا جو تمام اعلیٰ انسانی اوصاف کا کامل نمونہ تھا۔ وہ ایک طرف خیار انسانیت تھا اور دوسری طرف خیارِ اسلام۔