Al-Risala · December 1996

یہ انسان

Al-Risala, December 1996, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

علامہ شامی نے لکھا ہے کہ کوئی شخص سیادت نہیں کر سکتا جب تک ایسا نہ ہو کہ اس کے کچھ محبین ہوں جو اس کی مدح کریں اور کچھ حاسدین ہوں جو اس کی مذمت کریں (لا يَسُودُ سَیّد بِدُونِ فُدُو یَمَدَحُ وَحَسود یُتَدَحُ)

اصل یہ ہے کہ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ اس دنیا میں جو واقعہ ہوتا ہے اس میں امتحان مصلحت لازمی طور پر شامل رہتی ہے۔ یہی معاملہ کسی صاحب سیادت شخص کا ابھرنا ہے۔ انسان جب اللہ کی توفیق سے سیادت و قیادت کے میدان میں ابھرتا ہے تو وہ پورے معاشرے کے لیے امتحان کا ایک پرچہ بن جاتا ہے۔

اب جو لوگ طالب حق ہیں، جن کے اندر سچائی کو پانے کی خواہش موجود ہے۔ کو سب سے بڑا درجہ دیے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ اپنی ذات سے بھی زیادہ۔ وہ پیشگی طور پر نفسیات پیچیدگیوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ وہ ابھرنے والے قائد کو اپنے دل کی آواز سمجھ کر قبول کرے۔ ایسے لوگوں کے درمیان وہ محبوب کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ وہ دل سے اس کا اعتراف وہ اس کو دعائیں دیتے ہیں۔ وہ اپنے بہترین الفاظ اور بہترین جذبات اس کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔

اس کے برعکس معاملہ ان لوگوں کا ہوتا ہے جو اپنی ذاتی بڑائی میں جی رہے ہوں ۔ حق کے طالب نہ ہوں بلکہ اپنی خواہش نفس کے طالب ہوں۔ ایسے لوگ جب کسی کو ابھرتے ہوا دیکھتے ہیں تو وہ فوراً حسد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ اس شخص کے قد کا بڑھنا گویا میرے قد کا چھوٹا ہونا ہے۔ یہ لوگ حسد کی آگ میں بھڑک اٹھتے ہیں۔ دائرہ سے باہر ابھرنے والے شخص کی مذمت پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔ وہ اس کے خلاف جھوٹے الزام لگاتے ہیں۔ وہ اس کو نیچا دکھانے کے لیے ہر وہ پست حرکت کرنے پر ٹل جاتے۔ ہیں جو ان کے بس میں ہو ۔ ہر صاحب سیادت آدمی ایک امتحان ہے۔ اس امتحان میں ایک قسم کے لوگ کامیاب ہوتے ہیں اور دوسری قسم کے لوگ ناکام۔

Printed page