Al-Risala · December 1996

Fear of failure in examinations.

Al-Risala, December 1996, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

لڑکے کے باپ جی گوپی ناتھ نے بتایا کہ ہریش حسب معمول اپنے اسکول سے واپس آیا۔ نے اپنی ماں سے کہا کہ اس کی ٹیچر اس سے ملنا چاہتی ہے۔ اس کے مطابق لیلا اسکول چلی گئی۔ کے بعد ہریش نے کچن میں داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا اور اپنے آپ کو آگ لگائی۔ آواز سن کر پڑوسی دوڑ پڑے۔ مگر جب کچن کا دروازہ توڑ کر لڑکے کو نکالا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ جل کر مر چکا ہے۔ لڑکے کی ماں لیلا جب اسکول پہنچی تو وہاں اس کو نتیجہ کا پرچہ (marks card) دیا گیا۔ اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ کیوں کہ اس کے لڑکے نے ۷۰۰ میں ۴۷۹ نمبر حاصل کیے تھے مگر جب وہ گھر پہنچی تو اس کی خوشیاں غم میں تبدیل ہو گئیں۔ کیوں کہ اس نے دیکھا کہ اس کا لڑکا خود کشی کر کے اپنی جان دے چکا ہے (ٹائمز آف انڈیا ۲۲ جولائی ۱۹۹۶)

ہریش بابو اگر چند گھنٹے اور انتظار کر لیتا تو اس کو معلوم ہو جاتا کہ اس کا اندیشہ بالکل بے بنیاد امتحان میں وہ اچھے نمبر لا کر پاس ہو چکا تھا، مگر وہ فرضی اندیشے میں مبتلا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے خوف کے تحت اپنی جان دے دی۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حالات کا غلط اندازہ کر کے آدمی اندیشوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ حالاں کہ مستقبل بتاتا ہے کہ وہ اندیشے سرے سے پیش آنے والے ہی نہ تھے ۔ جو چیز آج نہ مل رہی ہو اس کو انتظار کے خانہ میں ڈال دیجیے۔ بجائے اس کے کہ اس کو نہ ملنے والی چیز سمجھ کر آپ مایوسی اور بے ہمتی کا شکار ہو جائیں

Printed page