Al-Risala · December 1996

صبر کی اہمیت

Al-Risala, December 1996, pp. 19–20

By Maulana Wahiduddin Khan

صبر دین کا خلاصہ ہے۔ صبر ہر قسم کی نیکیوں کی بنیاد ہے۔ صبر دنیا میں کامیابی کا زینہ ہے اور آخرت میں وہ جنت کی کنجی ہے۔ قرآن میں صبر کے بارہ میں ایک ایسی آیت ہے جو کسی بھی دوسرے عمل کے بارہ میں نہیں۔ فرمایا کہ بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا ( انما يوفى الصابرون اجرهم بغير حساب )

ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ما اعطى احد عطاء خيراً واوسع من الصبر۔ یعنی صبر سے بہتر اور صبر سے بڑا کوئی عطیہ انسان کو نہیں دیا گیا۔ العسقلانی نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صبر تمام اعلیٰ اخلاقیات کا جامع ہے ( الصبر جامع لمكارم الاخلاق )

احادیث و آثار میں کثرت سے صبر کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے اپنی زندگی کا خیر صبر ہی کے ذریعہ حاصل کیا ہے : وجدنا خيرعيشنا بالصبر (فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۱۱ / ۳۰۹ - ۳۱۱) ابن جوزی نے لکھا ہے کہ عاقبة الصبر الجميل جميلة (صيد الخاطر ۳۹۹) یعنی صبر جمیل کا انجام بھی جمیل ہے۔ ابن منظور نے لکھا ہے کہ (اصل الصبر الحبس ، والصبر نقيض الجزع ۔ یعنی صبر کی اصل حبس ہے ، صبر جزع کا الٹا ہے (لسان العرب ۴/ ۴۲۸) راغب الاصفہانی نے لکھا ہے کہ الصبر الامساك، والصبر حبس النفس على ما يقتضيه العقل والشرع ۔ یعنی صبر کی حقیقت امساک صبر یہ ہے کہ آدمی عقل اور شریعت کے تقاضے کے مطابق اپنے آپ کو روکے (المفردات في غريب القرآن ۲۷۳ )

صبر کی اتنی زیادہ اہمیت کیوں ہے ۔ اس کی وجہ موجودہ دنیا کی صورت حال ہے۔ دار الامتحان ہے۔ اسی امتحان یا آزمائش کی مصلحت کی بنا پر یہاں ہر شخص کو پوری آزادی دی گئی یہ انسانی آزادی خود خدا کے منصوبہ کے تحت ہے ، اس لیے کوئی بھی اس کو بدلنے پر قادر نہیں۔

اس دنیا میں انسان آزاد ہے کہ وہ خدا کو مانے یا اس کا انکار کر دے۔ وہ خدا کے پیغمبر کا اعتراف کرے یا اس کو گالی دے اور اسے پتھر مارے ۔ وہ اپنی زندگی کے معاملات میں نیکی کا طریقہ اختیار کرے یا ظالم اور نا انصاف اور غلط کار بن جائے ۔

اسی آزمائشی آزادی نے موجودہ دنیا میں صبر کو اتنا زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اعلیٰ انسانی اوصاف کے ساتھ زندگی گزارے جس کو ربانی زندگی کہا مگر اس ربانی زندگی کو اختیار کرنے میں بار بار رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔ اس معیار انسانیت پر وہی شخص قائم رہ سکتا ہے کہ جو مخالفانہ ماحول کے باوجود اس پر قائم رہنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ صبر آدمی کے اندر یہی صلاحیت پیدا کرتا ہے ۔ آدمی کے اوپر خواہشوں کا غلبہ ہوتا ہے، اس وقت وہ صبر کر کے اپنے آپ کو خواہشات کا شکار ہونے سے بچاتا ہے ۔ لوگ اس کو ستاتے ہیں اور اس کے خلاف اشتعال انگیزی کرتے ہیں ۔ اس وقت وہ صبر کرتا ہے تاکہ اس کی حالت روحانی بھنگ نہ ہونے پائے ۔ لوگ اس کے خلاف دشمنانہ کار روائی کرتے ہیں، اس وقت وہ صبر کے ذریعہ اپنے کو تھامتا ہے تاکہ وہ ان کے مقابلہ میں جلد بازی کا کوئی اقدام نہ کرے بلکہ ٹھنڈے ذہن سے سوچ سمجھ کر منصوبہ بند انداز میں ان کا مؤثر جواب دے ۔ صبر بظاہر کسی انسان کے مقابلہ میں ہوتا ہے ، اس لیے آدمی فوراََ صبر کرنے کو اپنے لیے عزت کا سوال بنا لیتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے صبر کیا تو یہ دوسرے شخص کے مقابلہ میں ہار ماننا یا اپنے آپ کو بے عزت کرنا ہو گا۔ یہی خاص نفسیات ہے جس کی بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی صبر کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ صبر کا تعلق انسان سے نہیں ہے بلکہ خدا سے ہے۔ آدمی جب صبر کرتا ہے تو گویا کہ وہ کہتا ہے کہ میں خدا کے فیصلہ پر راضی ہوں۔ یہ خود خدا ہے جس نے دنیا کا نظام اس طرح بنایا کہ وہاں صبر کے بغیر کوئی کام نہ ہو سکے ۔ اس لیے اس دنیا میں صبر کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ آدمی نظام قدرت کے ساتھ تعاون کر رہا ہے ۔ وہ قدرت کے نقشہ کو بدلے بغیر اس کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ بنا رہا ہے۔ صبر خدا کی حاکمیت کے مقابلہ میں اپنی محکومی کا اقرار ہے صبر ایک عبادت ہے بلکہ سب سے بڑی عبادت ۔

Printed page