Al-Risala · February 1996

حدیث کا مطالعہ

Al-Risala, February 1996, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

عن اسماء بنت ابی بکر قالت ۔ قدمت علیّ امی و هي مشرکة في عهد قريش۔

قلتُ یا رسول الله انّ امی قدمت علیّ و هي راغبة افأصلها ۔ قال نعم صلیها (متفق علیہ) اسما بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری (رضاعی) ماں میرے پاس مدینہ آئیں ۔ وہ شرک پر تھیں اور وہ قریش کی حلیف تھیں۔ میں نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول ! ماں میرے پاس آئی ہے اور وہ مجھ سے کچھ چاہتی ہے۔ کیا میں انھیں صلہ رحمی کے طور پر کچھ دوں۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں ، ان کو دو۔

یہ حدیث بظاہر والدین کے ساتھ حسن سلوک کے بارہ میں ہے، خواہ وہ مشرک اور کافر ہی کیوں نہ ہو۔ حدیث کی کتابوں میں وہ اسی طرح کے باب کے تحت لکھی ہوئی ملے گی۔ مگر کسی حدیث کو سمجھنے کے لیے صرف اس کے "ترجمہ باب" کو دیکھنا کافی نہیں ۔ اسی کے ساتھ حدیث کے متن پر گہرائی کے ساتھ غور کرنا چاہیے ۔ اس کے بعد ہی آدمی کے اوپر اس کے پورے معنی کھل سکتے ہیں۔ اس حدیث سے حقوق والدین کے مسئلہ کے علاوہ مزید یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ اس زمانہ کا واقعہ ہے جب کہ قریش اور مسلمانوں کے درمیان خاتمہ جنگ کا معاہدہ ہو گیا تھا۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ مکہ کے مشرکین مدینہ آنے لگے اور مدینہ کے مسلمان مکہ جانے لگے۔ عقل عام یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ اس آمد و رفت میں صرف "صلہ رحمی" کا مسئلہ سامنے نہیں آیا ۔ بلکہ اسی کے ساتھ یہ ہوا کہ شرک اور توحید پر گفتگوہونے لگی۔ آبائی مذہب اور پیغمبرانہ مذہب کا تقابل کیا جانے لگا۔ توہم پرستانہ مذہب اور الہامی مذہب کا فرق لوگوں پر واضح ہونے لگا۔

اس طرح یہ ہوا کہ صلح حدیبیہ کی تدبیر نے جنگی ماحول کو دعوتی ماحول میں تبدیل کر دیا۔ مکہ اور مدینہ میں جہاں اس سے پہلے تلواروں کی جھنکار سنائی دیتی تھی، وہ دعوت حق کی آوازوں سے گونجنے لگے، اور جب ایسا ہو جائے تو اسلام کی فتح اتنی ہی یقینی ہو جاتی ہے جتنا کہ تاریکیوں کی دنیا میں سورج کے طلوع ہونے سے سورج کا فتح یاب ہونا۔

Printed page