Al-Risala · December 1996

روایات عائشہ ۲۲۱۰ ، روایات ابو ہریرہ ۵۳۷۴

Al-Risala, December 1996, pp. 24–26

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت ابو ہریرہ کا کام اصلاً احادیث رسول کو یاد رکھنا اور ان کو امت تک منتقل کرنا تھا۔ اس کام کے لیے جو خاص صلاحیت درکار تھی وہ حافظہ ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ اس معاملہ میں خود شناس تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ انھیں اسلام کی تاریخ میں کیا کردار ادا کرنا ہے اور اس کے لیے ان کو کون سی صلاحیت درکار ہے۔ چنانچہ وہ بتاتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول ، میں آپ کی باتیں سنتا ہوں مگر ان میں سے بہت سی باتیں بھول جاتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے لیے دعا کرو۔ حضرت ابو ہریرہ نے دعا کی اور کہا : (اللهم انی اسالك علماً لاينسی (اے اللہ! میں تجھ سے نہ بھولنے والا علم مانگتا ہوں) حضرت ابو ہریرہ نے جب یہ دعا کی تو رسول اللہ نے اس پر آمین کہی یعنی اے اللہ ! تو ابو ہریرہ کی اس دعا کو قبول فرما ۔ یہ دعا قبول ہوئی ۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کوئی سنی ہوئی بات کبھی فراموش نہیں کی (دفما نسيت شيئاً بعد فتح الباری ۶۰/۱ - ۲۵۹)

ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اس کے بعد میں نے آپ کی جو بات بھی سنی وہ مجھے پوری طرح یاد ہو گئی (فوالذي بعثه بالحق مانسيت بعد ذلك ) شيئاً سمعته منه) صفحہ ۲۶۰ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اللہ کی مدد سے حضرت ابو ہریرہ کو وہ چیز حاصل ہو گئی جس کو آج کل کی زبان میں تصویری حافظہ (photographic memory) کہا جاتا ہے۔ اس طرح ان کے لیے ممکن ہو گیا کہ رسول اللہ کی ہر سنی ہوئی بات انھیں یاد رہے اور آپ کی وفات کے بعد کے تقریباً نصف صدی تک لوگوں کو علم نبوت پہنچاتے رہیں۔ دورِ پریلیس سے پہلے حدیث کی حفاظت اور اشاعت کی یہی واحد ممکن صورت تھی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو ہریرہ کو خصوصی طور پر اس مقصد کے لیے استعمال فرمایا۔

حضرت عائشہ بنت ابی بکر الصدیق ہجرت سے ۹ سال پہلے مکہ میں پیدا ہوئیں۔

کے مطابق رسول اللہؐ سے ان کا نکاح ہوا تو ان کی عمر اس وقت تقریباً چھ سال تھی۔ سال کی عمر تک وہ رسول اللہؐ کی صحبت میں رہیں۔ یہاں تک کہ رسول اللہؐ کی وفات ہوگئی۔ بتاتے ہیں کہ حضرت عائشہ پیدائشی طور پر نہایت زیرک تھیں۔ وہ بلاشبہ ان استثنائی شخصیتوں سے تھیں جن کو تخلیقی ذہن (creative mind) کہا جاتا ہے۔ ان کی یہی اعلیٰ صلاحیت وہ اصل سبب تھا جس کی بنا پر وہ زوجیت رسولؐ کے لیے چنی گئیں۔

اس نکاح کا اصل مقصد ایک ذہین خاتون کو اس کا موقع دینا تھا کہ وہ رسولؐ کے ساتھ رہ کر علم نبوت کو بھر پور طور پر اخذ کرے اور آپ کے بعد اسے لمبے عرصہ تک لوگوں تک پہنچاتی اس مقصد کے اعتبار سے بلاشبہ کم عمری کا نکاح ہی کارآمد ہوسکتا تھا۔ نفسیاتی تحقیق کے مطابق ۱۰ سال تک کی عمر کا زمانہ کسی مرد یا عورت کے لیے تشکیلی زمانہ (formative period) ہوتا ہے۔ اس عمر میں آدمی جیسا بن جاتا ہے وہ ہمیشہ ہی ویسا رہتا چنانچہ حکمت ربانی سے اسی اہم مرحلہ عمر میں حضرت عائشہ کو پیغمبر اسلام سے وابستہ کر دیا گیا۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر حضرت عائشہ کے لیے معروف معنوں میں صرف ازدواجی گھر نہ تھا بلکہ فن تعلیم کی اصطلاح میں وہ ان کے لیے ایک مدرسہ تیاری (preparatory school) تھا۔ یہاں اٹھارہ سال کی عمر تک رہ کر وہ تعلیم و تربیت کے ذریعہ تیار کی گئیں تاکہ اس کے بعد وہ کردار ادا کرنا ان کے لیے ممکن ہو جائے جو تقدیر الہی کے مطابق انہیں تاریخ میں ادا کرنا تھا۔

حضرت عائشہ کی لیاقت کے بارے میں لوگوں نے بہت اعلیٰ رائے دی ہیں۔ عطا بن ابی رباح نے کہا : کانت عائشۃ افقه الناس واعلم الناس (عائشہ سب سے زیادہ فقیہہ اور سب سے بڑی عالم تھیں) حضرت موسیٰ الاشعری کہتے ہیں کہ اصحاب محمد کے سامنے جب بھی کوئی مشکل مسئلہ آتا تو وہ عائشہ سے پوچھتے اور ان کے پاس وہ اس کا علم پا لیتے (البدایہ والنہایہ ۱۶/۸) الحافظ، ابو عبد اللہ شمس الدین الذہبی (م ۷۴۸ ھ) نے لکھا ہے کہ عائشہ فقہاء صحابہ میں سب سے عظیم تھیں (کانت اکبر فقہاء الصحابة) تذکرة الحفاظ ۲۷/۱ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری ازواج کو بھی اس بات کا احساس تھا کہ وہ ان سے

زیادہ ذہین اور اخاذ ہیں۔ حضرت سودہؓ نے اس حقیقت کا اعتراف اس طرح کیا کہ انھوں نے اپنی باری حضرت عائشہ کو دے دی تھی۔ اس کا مقصد یہی تھا کہ وہ زیادہ دیر تک رسول اللہ کی صحبت میں رہیں اور زیادہ سے زیادہ اخذ اور استفادہ کر سکیں اور پھر امت کے لیے زیادہ مفید ثابت ہوسکیں۔ گویا حضرت سودہؓ بالواسطہ طور پر اس تاریخی کردار میں شریک ہوگئیں جو حضرت عائشہ کو براہ راست طور پر ادا کرنا تھا۔

حضرت ابو ہریرہؓ سے بھی اگر چہ کچھ استنباطات کی روایت کی گئی ہے۔ تقی الدین سبکی نے " فتاوی ابی ھریرۃ" کے نام سے ان کا ایک مجموعہ بھی تیار کیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ منصوبہ خداوندی کے اعتبار سے حضرت ابو ہریرہ کی اصل حیثیت ناقل کی ہے۔ اسی لیے ان کو غیر معمولی حافظہ دیا گیا تاکہ وہ نقل حدیث کا کام کامل انداز میں انجام دے سکیں۔

اس کے مقابلے میں حضرت عائشہ کا رو یتخلیقی یا اجتہادی تھا۔ انھیں صرف اقوال رسول کو نقل کرنا نہیں تھا بلکہ آپ کے قول کو سن کر اور آپ کے عمل کو دیکھ کر اس سے مزید مسائل کو مستنبط اسی لیے حضرت عائشہ کے یہاں نقل حدیث سے زیادہ استنباط کی مثالیں پائی جاتی

خلاصہ یہ کہ حضرت عائشہ کو اسلام کی تاریخ میں جو اہم کردار ادا کرنا تھا، اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ کم عمری میں پیغمبر خدا کی رفیقۂ حیات بن جائیں۔ اس طرح ایک طرف یہ ممکن ہوگیا کہ ان کی تشکیلی عمر کا ایک اہم حصہ پیغمبر کے ساتھ گزرے۔ دوسری طرف اسی بنا پر وہ اس ضروری انتظام کا وسیلہ بن گئیں کہ پیغمبر کی وفات کے بعد ماقبل پر لیس دور میں بھی آپ کی تعلیمات کی اشاعت مزید آدھی صدی تک مسلسل جاری رہے تاآنکہ کتابت حدیث کا عمل شروع ہوجائے۔

اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ حضرت عائشہؓ کے لیے ممکن ہو گیا کہ وہ لمبی مدت تک بہت قریب سے پیغمبر کی زندگی اور آپ کے قول و عمل کا مشاہدہ کر سکیں۔ اور اس کی حکمتوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھ کر اسے اگلی نسلوں تک پہنچائیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف گھر کی زندگی میں پیغمبر کو دیکھتی اور سنتی تھیں بلکہ مسجد سے متصل رہائش کی وجہ سے اکثر آپ کی باہر کی گفتگو اور تقریر کو بھی سنتی رہتی تھیں۔ اس کے علاوہ سفروں میں بھی وہ پیغمبر کے ساتھ رہتی تھیں جو گویا ان کے لیے تو سیعی تربیت گاہ کے ہم معنی تھا۔

Printed page