Al-Risala · December 1996

ایک مثال

Al-Risala, December 1996, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

اس معاملہ کی ایک مثال وہ روایت ہے جو صحیح البخاری (کتاب فضائل القرآن ، باب تالیف القرآن) میں آئی ہے ۔ اس کے مطابق ، ایک شخص کے سوالات کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت عائشہ رض نے کہا کہ قرآن میں پہلے ایک عرصہ تک وہ آیتیں اتریں جن میں جنت اور جہنم کا ذکر ہے۔ پھر جب لوگوں کے قلوب تیار ہو گئے تو حرام و حلال کے احکام اتارے گئے ۔ اگر پہلے ہی یہ حکم اترتا کہ شراب نہ پیو اور زنا نہ کرو تو لوگ کہہ دیتے کہ ہم تو کبھی شراب نہیں چھوڑیں گے ، ہم تو کبھی زنا نہیں چھوڑیں گے (فلما لوا لا تندع الخمر ابدا، لا ندع الزنا ابدا) فتح الباری ۶۶۵/۸ حضرت عائشہ رض نے اپنے اس قول میں وہ حکمت بیان کی ہے جس کو تدرجی عمل (gradual process) کہا جاتا ہے۔ تدرج کے اس معاملہ کو انھوں نے کیسے جانا ۔ میں یا حدیث میں یہ بات کہیں بھی انھیں لفظوں میں موجود نہیں ہے ۔ اس کا واحد ذریعہ یہ تھا کہ طویل مدت تک ان کو پیغمبر کی صحبت و رفاقت مسلسل طور پر حاصل رہی۔

دین کی اس حکمت کو جاننے کے لیے ضروری تھا کہ وہ مکہ سے لے کر مدینہ تک پیغمبر کے احوال کو دیکھیں ۔ وہ نزول قرآن کے مذکورہ دونوں دور کا براہ راست مشاہدہ کریں ۔ دوروں کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیے بغیر کوئی مرد یا عورت نہ تو تدرجی عمل کی حکمت کو سمجھ سکتا اور نہ اس کو اتنے اعتماد کے ساتھ بیان کر سکتا۔

Printed page