ایک سفر
Al-Risala, December 1996, pp. 28–33
By Maulana Wahiduddin Khan
اٹلی کی ایک مسیحی تنظیم کمیونٹی آف سینٹ ایچی ڈیو کی دعوت پر اٹلی کے چند شہروں کا اور وہاں ایک انٹر نیشنل کانفرنس میں شرکت کی۔ اس سفر کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔
۲۰ اکتوبر ۱۹۹۵ کی صبح کو ۳ بجے گھر سے نکلا۔ ہماری گاڑی دہلی کی سڑکوں سے گزرتی ہوئی ائیر پورٹ کی طرف جارہی تھی اور مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے کہ میں دہلی کو نہیں بلکہ دنیا ہی کو چھوڑ کر چلا جارہا ہوں۔ خیال آیا کہ اگر آج نہیں تو کل ضرور مجھے اس دنیا کو چھوڑ کر اگلی دنیا کی طرف جانا اس کے بعد کیا پیش آئے گا، اس کے بارہ میں خداوند عالم الغیب کے سوا کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ دہلی ائیر پورٹ کی انتظار گاہ میں میرے سامنے ایک دکان ہے۔ اس کے اوپر روشن حروف میں لکھا ہوا ہے: ڈیوٹی سے مفت دکان (duty free shop) میں نے اندر کی الماریوں کی طرف دیکھا تو اس کے اندر زیادہ تر شراب کی بوتلیں رکھی ہوئی نظر آئیں۔ جہاز میں بیٹھا تو اس کے اندر بھی جہاز کا ایک آدمی مخصوص گاڑی پر شراب اور سگریٹ لئے ہوئے یہ آواز لگا رہا تھا: Selling liquor, cigarette, selling liquor, cigarette میں نے سوچا کہ جدید تہذیب نے لوگوں کو شراب میں سکون تلاش کرنے والا بنا دیا۔ اس کے بعد میرا ذہن اسلام کی طرف گیا۔ اسلام ایک ایسا مذہب تھا جو شراب کے بجائے معرفت خدا وندی میں انسان کو سکون کا راز بتا رہا تھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین نے اسلام کی سیاسی تعبیر کر کے اسلام کو صرف جنگجوئی کا مذہب بنا دیا ہے۔ آج اسلام کے علمدار ساری دنیا میں تشدد کا کلچر چلا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ جدید انسان اسلام کو تشدد کا مذہب سمجھ کر اس سے متنفر ہورہا ہے نہ کہ اس کو اطمینان قلب کا راز سمجھ کر اس کی طرف دوڑے۔ ائیر پورٹ کے مناظر حسب معمول تھے۔ ایک کے بعد ایک مختلف مقامات پر جانے والی پروازوں کا اعلان ہورہا تھا، اور مسافر اٹھ اٹھ کر گیٹ کی طرف روانہ ہورہے تھے۔ اس کے بعد میری فلائٹ کا اعلان ہوا۔ ضروری مراحل سے گزرتا ہوا جہاز کے اندر داخل ہوا۔ یہ ائیر انڈیا کا
فِلائٹ ۷۹ تھی جس کے ذریعہ مجھ کو دہلی سے روم جانا تھا۔
جسٹس ایچ آر کھنہ بھی اسی جہاز سے سفر کر رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ کانفرنس کی طرف سے مجھ کو دعوت نامہ ملا تو میں نے منتظمین سے ٹیلی فون کے ذریعہ رابطہ قائم کرنا چاہا مگر ربط قائم نہ ہوسکا۔ پھر میں نے چاہا کہ کورئیر سے انھیں خط بھیجوں۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یورپین ایجنسی میں اس کی فیس تقریباً ایک ہزار روپیہ ہے۔ اسی درمیان میں دہلی کے پوسٹ مین سے ذکر ہوا۔ اس نے کہا کہ آپ اسپیڈ پوسٹ سے بھیجئے۔ چنانچہ انھوں نے اسپیڈ پوسٹ سے بھیجا جس کا چارج صرف چار سور وپیہ تھا۔ اس تجربہ کے بعد معلوم ہوا کہ اسپیڈ پوسٹ کی سروس صرف انڈیا کے لئے نہیں ہے بلکہ باہر کے لئے بھی ہے۔
جسٹس کھنہ بہت کھلے ذہن کے آدمی ہیں۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جب بابری مسجد ڈھائی گئی تو انھوں نے ایل کے آڈوانی سے کہا کہ تم لوگوں نے ایسا کام کیا ہے کہ اب میرے جیسے ہندوستانی کو ہندوستان میں رہتے ہوئے شرم آئے گی ۔
Justice H.R. Khanna, 5-368, Panchshil Park New Delhi 110 017 (Tel. 6442726)
راستہ میں ایئر انڈیا کی فِلائٹ میگزین مسکار (ستمبر - اکتوبر ۱۹۹۵) دیکھا۔ اس میں ایک مضمون گاندھی جی کے بارہ میں تھا۔ اس کا دو سطری عنوان اس طرح تھا : Mohandas Karamchand Gandhi, And, it was no ordinary light یہ دراصل گاندھی جی پر حال میں شائع شدہ کتاب کا ایک حصہ تھا۔ کتاب کا نام یہ ہے : A Higher Standard of Leadership:
Lessons from the Life of Gandhi by Keshavan Nair مضمون میں بتایا گیا تھا کہ سچائی کے بارہ میں گاندھی جی کا نظریہ کیا تھا۔ اس کے مطابق، سچائی (truth) ایک ایسی چیز تھی جو ہر آدمی کو الگ الگ دریافت کرنا تھا۔ ہم میں سے ہر ایک کو
اپنے ذاتی مذہب پر جینا ہے۔ اس کا کوئی ایسا فارمولا نہیں جو کسی سابق مقدس کتاب میں موجو ہو، بلکہ ہر ایک کو اپنا مذہب خود دریافت کرنا ہے:
اسی کے ساتھ مضمون میں بہت گیا تھا کہ گاندھی جی یہ کہتے تھے کہ ہر گھر کے اندر بجلی ہونا چاہئے :- ان سطروں کو پڑھتے ہوئے میں نے سوچا کہ گاندھی جی (اور ان کے جیسے دوسرے لوگ ) سچائی کو پانے کا جو طریقہ بتاتے ہیں، وہی طریقہ اگر وہ بجلی کے حصول کے لئے بھی بتائیں تو کسی ایک گھر میں بھی بجلی موجود نہ ہو۔ آج یہاں گھر گھر میں بجلی ہے۔ مگر وہ اس طرح نہیں پہنچی ہے کہ ہر ایک شخص نے خود اپنی کوشش سے بجلی کو دریافت کر کے اس کا نظام بنایا، اس کے برعکس، ماضی میں دریافت شدہ علم کو استعمال کر کے ہر آدمی اپنے گھر کو بجلی سے روشن کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔
یہی اصول سچائی کے لئے بھی ہے۔ خدا کے پیغمبر پر حقیقت منکشف ہو چکی ہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ اس سے سچائی کی روشنی لے کر اپنی فکر کو منور کریں۔ اگر ہر آدمی خود اپنی کوشش سے سچائی کو معلوم کرنے لگے تو ساری دنیا ہمیشہ کے لئے گمراہی کے اندھیرے میں پڑی رہے گی۔
فلائٹ میگزین میں ایک مضمون تفریح (entertainment) کے اوپر تھا۔ اس کی ایک سطر یہ تھی ــــ اے آر رحمان، دھن کے نئے بادشاہ :
اس کو پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ موجودہ زمانہ میں بہت سے مسلمان ملیں گے جنھوں نے ادبیات، شاعری، خطابت، مصوری، نشانہ بازی، کھیل اور فنون لطیفہ جیسے شعبوں میں کمال کا مظاہرہ کیا۔
مگر ایسا کوئی مسلمان موجودہ زمانہ میں نہیں ابھرا جو سائنس ، ٹکنالوجی اور عصری افکار جیسے شعبوں میں کمال کا ثبوت دے سکے ۔ وہ آرٹ کے پہلوان تو ثابت ہوئے مگر حقائق کے میدان میں وہ مینار بن کر کھڑے نہ ہو سکے ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے پچھڑے پن کا اصل سبب یہی ہے نہ کہ کسی مفروضہ دشمن کی سازشیں اور مؤامرات۔
نمسکار کے صفحہ ۱۳ پر اسکائی فون (sky phone) کا اشتہار تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ اس جہاز کے اندر اسکائی فون (عالمی ٹیلیفون) کا انتظام ہے۔ آپ اس کے اندر سے دنیا کے کسی بھی مقام پر ٹیلیفون کر سکتے ہیں۔ یہاں پوری دنیا آپ کی انگلیوں کے نیچے ہے: The world at your finger tips... چارج کی ادائیگی کے سلسلہ میں بتایا گیا تھا کہ آپ اپنے ٹیلیفون کا بل بین الاقوامی طور پر تمام قابل قبول کریڈٹ کارڈ یا کرنسی کے ذریعہ ادا کر سکتے ہیں۔ مثلاً امریکن ایکسپریس ، ماسٹر کارڈ، یورو کارڈ ، گریٹ وال کارڈ وغیرہ ۔ اس سلسلہ میں قابل قبول کرنسی کے تحت "دینار" کا نام بھی لکھا مگر کئی بار پڑھنے کے باوجود اس میں ہندوستانی روپیہ یا ہندوستانی کارڈ کا نام کہیں نہیں یہ ہمارے ملک کی حالت نہ صرف دنیا میں ، بلکہ خود ہماری نیشنل سروس ایر انڈیا میں بھی ہے۔ ہندوستانی لیڈروں کے کرنے کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ وہ ملک کو اس اقتصادی پچھڑے پن سے نکالیں ۔ اس کے علاوہ کوئی بھی دوسری چیز ملک کو عالمی نقشہ پر با عزت مقام نہیں دے سکتی۔ دہلی سے روم کا فاصلہ ۴۳۹۰ کلو میٹر ہے۔ یہ ایک براہ راست فلائٹ تھی۔ سوا آٹھ گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد جہاز روم کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ اس وقت مقامی ٹائم کے لحاظ سے صبح ساڑھے دس بجے کا وقت تھا۔ میں اور جسٹس کھنہ جہاز سے نکل کر باہر آئے۔ میرا معاملہ نہایت عجیب ہے۔ میں اپنے عجز کی بنا پر ہمیشہ اس اندیشہ میں مبتلا رہتا ہوں کہ میں ایک اجنبی دیس میں جا رہا ہوں ۔ وہاں ایئرپورٹ پر اتروں گا تو کیا ہوگا۔ مدد کے لئے کوئی شخص موجود نہ ہو تو میں کیا کروں گا ۔ اور کہاں جاؤں گا ۔ روم کے ہوائی اڈہ میں داخل ہوا تو وہاں بھی شدت کے ساتھ یہی احساس میرے اوپر چھایا ہوا تھا ۔ مگر یہاں بالکل مختلف معاملہ پیش آیا ۔
روم کے ایرپورٹ پر ساؤتھ انڈیا کے ایک صاحب منیجر کی حیثیت میں ہیں۔ ان کا نام مسٹرٹی ایس بالا سبرانیم (563-4630 .Tel) ہے۔ وہ وکی ٹاکی اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے ہم دونوں کور سیو کرنے کے لئے جہاز کے باہر موجود تھے۔ اس کے علاوہ خود ایئر انڈیا کے پبلک ریلیشنز آفیسر مسٹر ڈیش مکھ بھی ہماری رہنمائی کے لئے آگئے تھے۔ ہوائی جہاز سے اتر کر ہم لوگ ایئرپورٹ کے احاطہ میں داخل ہوئے تو یہ دونوں وہاں ہمارے منتظر تھے۔ اس کے علاوہ کانفرنس کی طرف سے ڈاکٹر فرانسسکو (Dr. Francesco) وغیرہ بھی آئے ہوئے تھے۔
چنانچہ معاملہ میرے اندیشہ کے بالکل برعکس ہوا۔ روم میں ایرپورٹ پر کسی قسم کی کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ انھوں نے ہم کو لے جا کر وی آئی پی لاؤنج میں بٹھا دیا۔ پاسپورٹ لے کر انھوں نے خود یہاں کی ضروری کارروائی مکمل کر دی۔ میں یہ غیر متوقع منظر دیکھ رہا تھا اور دل ہی دل میں کہہ رہا تھا کہ خدایا، آخرت کی دنیا میں جب میرا داخلہ ہو تو وہاں بھی تو میرے ساتھ اسی طرح آسانی کا معاملہ فرما۔ وہاں بھی تو رحمت کے فرشتوں کو میرے استقبال کے لئے کھڑا کر دے۔ اس کے بعد بذریعہ کار فلارنس کے لئے روانگی ہوئی جہاں کانفرنس کی کارروائیاں ہونے یہ چار گھنٹہ کا سفر تھا۔ ہمارے ڈرائیور ایک تعلیم یافتہ نوجوان سارجیو (M. Sargio) وہ انگریزی جانتے تھے اس لئے رابطہ میں کوئی زحمت پیش نہیں آئی۔ یہ ایک بڑا خوشگوار سفر تھا۔ سڑک نہایت عمدہ تھی جس پر کار ۱٣۵ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پھسلتی چلی جا رہی تھی۔ پورے سفر میں ایک بار بھی ہارن کی آواز سنائی نہیں دی۔ دونوں طرف سرسبز پہاڑیاں پھیلی ہوئی تھیں۔ کھیتوں اور باغوں کے درمیان جگہ جگہ خوبصورت مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے یہ سب جنت کا بعید تعارف ہے۔ یہ چیزیں دنیا میں ناقص صورت میں ہیں۔ آخرت میں وہ کامل اور مکمل صورت میں خدا کے نیک بندوں کو دی جائیں گی (وَا توبہ متشابھا)
درمیان میں ہم لوگ کچھ دیر کے لئے ایک سروس اسٹیشن پر رکے۔ سروس اسٹیشن کا جو تصور ہندوستان میں ہے یہ اس سے بالکل مختلف تھا۔ یہ ایک چھوٹی سی خوبصورت دنیا تھی جس میں گاڑی کی ضرورت کے ساتھ انسان کی ضرورت کی تمام چیزیں نہایت سلیقہ کے ساتھ جمع کر دی
اس کو سروس اسٹیشن کے بجائے رسٹ ہاؤس کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔
۱۹۴۷ میں آزادی کے بعد جو پہلی پارلیمنٹ بنی اس کے ایک ممبر کلکتہ کے پروفیسر ہیرن کرجی وہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے لئے کلکتہ سے دہلی آئے۔ فراغت کے بعد جب وہ بذریعہ ٹرین واپس جانے لگے تو ریلوے لائن کے دونوں طرف انھیں جھگی جھونپڑی کی قطاریں نظر انھوں نے غربت اور گندگی کے مناظر دیکھے۔ کلکتہ پہنچ کر انھوں نے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو خط بھیجا۔ اس میں انھوں نے لکھا کہ جب میں فرسٹ کلاس میں سفر کرتے ہوئے ان بستیوں سے گزرا تو مجھے خیال آیا کہ یہ لوگ اگر مجھ سے پوچھیں کہ ہندوستان کی آزادی سے ہم کو کیا ملا تو میں انھیں کیا جواب دوں گا۔ جواہر لال نہرو نے اس کے جواب میں لکھا کہ اصل بات یہ ہے کہ تم اپنے حساس ہونے کی قیمت ادا کر رہے ہو: