Al-Risala · December 1996

You are paying the price of being sensitive.

Al-Risala, December 1996, pp. 33–35

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ بلاشبہ ایک غلط جواب تھا، پنڈت نہرو کو چاہئے تھا کہ وہ اس خط کو پڑھ کر تڑپ اٹھتے ۔ اپنے تمام ساتھیوں کو اسے پڑھاتے اور کہتے کہ اب آزادی کے بعد ہمیں سب سے پہلا کام یہی کرنا ہے کہ ملک کو غریبی اور جہالت کی دلدل سے نکالیں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو آج ہندوستان بھی یورپ کی مانند ایک ترقی یافتہ ملک ہوتا۔

جسٹس کھنہ نے ایک ملاقات میں صحیح کہا کہ آزادی کے بعد کام کی جو مدت ہندوستان کو ملی وہی مدت سنگاپور، کوریا ، ملیشیا اور جاپان کو بھی ملی۔ مگر آج حالت یہ ہے کہ وہ ممالک ترقی کے اعلیٰ درجہ کو پہنچ چکے ہیں اور ہندوستان کی حالت یہ ہے کہ وہ دنیا کے چند سب سے زیادہ پسماندہ ملکوں کی فہرست میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔

فلارنس میں قیام کا انتظام ایک تاریخی عمارت میں کیا گیا تھا۔ یہ عمارت کئی سو سال پہلے مانسٹری کے طور پر بنائی گئی تھی۔ اس کا نام کا نو بیٹو (Convitto Ecclessiale) ہے۔ اس کو از سر نو جدید معیار کے مطابق درست کیا گیا ہے۔ آجکل وہ زیادہ تر مسیحی پیشواؤں کے گیسٹ ہاؤس کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ یہاں میں کمرہ نمبر ۴۰ میں تھا اور جسٹس کھنہ کمرہ نمبر ۳۸ میں۔ یہ ایک پرشوکت بلڈنگ ہے جو پتھروں سے بنائی گئی تھی۔ باہر سے وہ قدیم مگر اندر سے

پوری طرح جدید دکھائی دیتی ہے۔ اس کے کمروں اور دیواروں کو ٹائل سے مزین کیا گیا ہے۔ اور باتھ روم وغیرہ میں جدید ترین فٹنگ کی گئی ہے۔ پوری عمارت نہایت صاف ستھری اور مرصع نظر آتی ہے۔ (ملاحظہ ہو تصویر ذیل)

مذہبی حلقوں میں اکثریت قدیم عمارتوں کو مقدس سمجھ لیا جاتا ہے۔ اور ضروری سمجھا جاتا ہے کہ اس کو ہر اعتبار سے اس کی قدیم وضع پر باقی رکھا جائے مگر دوسرا تصور یہ ہے کہ اس کے بنیادی ڈھانچہ میں تدامت کا رنگ باقی رکھتے ہوئے اس کو مکمل طور پر جدید کر دیا جائے۔ حضرات کی بہت سی قدیم عمارتوں کو دیکھنے کے بعد میرا اندازہ ہے کہ وہ لوگ اسی دوسرے نظریہ میں یقین رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنی قدیم عمارتوں کو جدید تکنیک کے استعمال سے از سر نو شاندار تر بنا دیا ہے۔ وہ تاریخ کے اعتبار سے قدیم ہیں مگر استعمال کے اعتبار سے پوری طرح جدید۔ مانسٹری (monastery) تقریباً وہی چیز ہے جس کو ہمارے یہاں خانقاہ کہا جاتا ہے۔

یہ عام طور پر کسی چرچ کے پاس ہوتی تھی۔ اب غالباً نئی مانسٹری نہیں بنائی جاتی۔ زمانہ کی مانسٹریان کثرت سے یورپ کے مختلف مقامات پر پائی جاتی ہیں۔ مانسٹری کو ابیے (Abbey) بھی کہا جاتا ہے۔ اس نوعیت کی ایک عمارت انگلینڈ میں ہے جو ویسٹ منسٹر ابیے (Westminster Abbey) کے نام سے مشہور ہے۔ مانسٹری کا طرزِ عام طور پر یکساں ہوتا ہے۔ پانچویں صدی عیسوی میں روم کے زوال کے بعد یہی مذہبی ادارے تعلیم اور اشاعت کا مرکز بن گئے (15/223)

فلارنس وسط اٹلی کا ایک تاریخی شہر ہے۔ اس کی آبادی تقریباً پانچ لاکھ ہے۔ میں وہ اٹلی کی راجدھانی تھا۔ روم سے وہ ۴۵ میل دور ہے۔ فلارنس میں ہر طرف تاریخی آثار پھیلے ہوئے ہیں۔ قدیم عمارتیں، آرٹ کے نمونے، وغیرہ، یہاں بہت بڑی بڑی شخصیتیں پیدا ہوئیں. مثلاً لیو نارڈو، مائیکل اینجلو، دانتے، میکیا ویلی، گلیلیو وغیرہ۔ فلارنس کی موجودہ عظمت اس کے اسی ماضی کی بنا پر ہے۔ چنانچہ ایک شخص نے کہا:

Printed page