The present glory of Florence is its Past.
Al-Risala, December 1996, pp. 35–46
By Maulana Wahiduddin Khan
فلارنس کو رومیوں نے پہلی صدی قبل مسیح میں آباد کیا تھا۔ تیسری صدی عیسوی میں وہ سیاسی راجدھانی بنا۔ اور اس کی اقتصادی اہمیت کافی بڑھ گئی۔ قرون وسطیٰ کے زمانہ میں مسلمانوں کی علمی ترقی کے اثرات فلارنس تک پہنچے تھے۔ مثلاً ماسٹر جیکب (Master Jacob) جو یہیں کا رہنے والا تھا، اس نے ۱۳۰۷ء میں اطالین زبان میں میتھمیٹکس پر ایک رسالہ تیار کیا۔ اس میں الجبرا کی دو درجی مساوات (quadratic equations) کے ان چھ طریقوں کو بیان کیا گیا تھا جو اس زمانہ کے مسلم حساب دانوں نے وضع کیا تھا۔ (ہٹی، صفحہ ۸۰-۳۷۹) میرے کمرہ کی دیوار پر ایک بالشت لمبی لکڑی کی صلیب (†) لگی ہوئی ہے۔ اوپر حضرت مسیح کی ایک مزعومہ تصویر مصلوب حالت میں لٹکی ہوئی ہے۔ شاید اسی طرح یہاں کے تمام کمروں میں اس قسم کی صلیب لگی ہوئی ہو۔
میرا مزاج یہ ہے کہ اس طرح کی کسی چیز کو دیکھ کر میرے اندر غصہ یا جھنجھلاہٹ کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ بلکہ میں اس کی حقیقت پر غور کرنے لگتا ہوں۔ چنانچہ اس کو دیکھ کر میں سوچنے لگا خیال آیا کہ مسیحیوں کے نزدیک، اپنے عقیدہ 0 کے مطابق، ان کے پیغمبر کی تصویر یہ ہے کہ وہ دوسروں کی بھلائی کے لئے قربان ہو گیا۔ اس کے برعکس مسلمانوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کی اپنی تاریخ کے مطابق ان کے ذہن میں اپنے پیغمبر کی تصویر یہ ہے کہ اس نے دوسروں سے لڑاکرا ن کے اوپر غلبہ حاصل کیا۔ مذکورہ مسیحی عقیدہ اور مذکورہ مسلم تاریخ نے دونوں قوموں کی مزاج سازی میں نہایت گہرا کردار ادا کیا ہے۔ اس کی وجہ سے مسیحیوں میں عام طور پر تواضع، خدمت خلق اور دوسروں کے لئے رحمت ورأفت کے جذبات ہوتے ہیں (الحديد ۲۷) دوسری طرف مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان میں احساس برتری، دوسروں کے لئے عدم اعتراف اور بزور و سرور کے اوپر غلبہ حاصل کرنے کا مزاج عام ہے۔
میرا احساس یہ ہے کہ جس طرح مسیحی عقیدہ غلط ہے۔ اسی طرح بعد کے مسلمانوں کی مرتب کی ہوئی اسلامی تاریخ بھی اصل واقعه کے مطابق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسیح ابن مریم اور محمد بن عبد اللہ دونوں ہی خدا کے پیغمبر تھے۔ دونوں نے ایک ہی دین خداوندی کی تعلیم دی دونوں کا پیغام یہ تھا کہ انسان کو خدا کا فرماں بردار بندہ بن کر رہنا چاہئے۔ انسان کو یہاں آخرت کا طالب بن کر زندگی گزارنا چاہئے نہ کہ دنیا کا طالب بن کر۔ دونوں میں جو اصلی فرق ہے وہ باعتبار پیغام نہیں ہے بلکہ باعتبار محفوظیت ہے۔ یعنی حضرت مسیح کا پیغام آج محفوظ حالت میں نہیں پایا جاتا۔ جب کہ حضرت محمد کا پیغام آج بھی پوری طرح محفوظ اور قابل اعتبار حالت میں، ہمارے پاس موجود ہے۔
عام طور پر میں صبح کو فجر سے کچھ پہلے اٹھ جاتا ہوں۔ مگر آج فلارنس میں پہلی رات تھی، سویرے سے نیند نہیں کھلی۔ ۲۱ اکتوبر کی صبح کو میں اپنے کمرہ (نمبر ۴) میں سو رہا تھا کہ اچانک دروازہ پر کھٹکھٹانے کی آواز سنائی دی۔ اٹھ کر دروازہ کھولا تو وہاں کوئی شخص موجود نہ تھا۔ اس کے بعد گھڑی دیکھی تو مقامی وقت کے لحاظ سے ساڑھے پانچ بج رہے تھے۔ ہوا جیسے یہ خدا کا فرشتہ تھا جو ٹھیک آغاز فجر کے وقت آیا۔ اور بہت گیا کہ اٹھو، خدا کو یاد کرو،
کیوں کہ نماز فجر کا وقت شروع ہو چکا ہے۔ میرے دل نے کہا کہ خدا یا، میں ایک عاجز انسان ہوں۔ اسی طرح جب میں غفلت میں پڑوں تو مجھے آگاہ کر دے، جب میں بھولنے لگوں تو اپنی رحمت سے تو مجھے یاد دلا دے۔
اٹھ کر فجر کی نماز پڑھی۔ خیال آیا کہ شاید میں پہلا شخص ہوں جو یہاں نماز ادا کر رہا جو تثلیث کے گھر میں توحید کا اقرار کر رہا ہے۔
اتفاق سے یہاں ایک پاکستانی مسلمان مل گئے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ میں نے خدا کو دیکھا ہے ، میں نے خدا کو چھوا ہے۔ قسم کی بات بولنا تو کفر ہے۔ پھر آپ کیسے ایسا کہتے ہیں۔
میں نے کہا کہ اس قسم کا کلام ہمیشہ مجازی کلام ہوتا ہے۔ مجازی کلام میں ہمیشہ گویا کہ یا جیسے کہ محذوف ہوتا ہے۔ مثلاً، اگر میں کہوں کہ آپ شیر ہیں تو یہ جملہ حقیقی معنوں میں نہیں بلکہ مجازی معنوں میں ہوگا۔ یعنی گویا کہ آپ شیر ہیں۔ آپ شیر کی طرح بہادر ہیں۔ شخص اس جملہ کو سن کر کہے کہ وہ تو دو پاؤں پر چلتے ہیں۔ وہ پنجہ نہیں رکھتے ، پھر آپ نے ان کو شیر کیسے کہہ دیا تو یہ ایک لغو بات ہوگی نہ کہ کوئی حقیقی اعتراض۔
پھر میں نے کہا کہ جو لوگ ایسا کہتے ہیں وہ خود اپنی بے بصیرتی کا ثبوت دیتے ہیں۔ کے بارہ میں اس قسم کی قربت کا احساس تو عین جزو ایمان ہے۔ جو ہر مومن کو ہونا چاہئے۔ دنیا میں اگر آپ پر واسجد واقترب والا تجربہ نہیں گزرا۔ اگر آپ نے کبھی تعبد اللہ کا نک تراہ کا مشاہدہ نہیں کیا۔ اگر آپ پر یہاں سجدہ تچاہک جیسا واقعہ نہیں آیا۔ پر وہ کیفیت نہیں بیتی جس کو حدیث میں بینا جی ربہ کے لفظوں میں بیان کیا گیا ہے تو آپ نے دین کا صرف چھلکا پایا ، دین کا مغز آپ کو نہ مل سکا۔
اس سفر میں کانفرنس کی طرف سے روم کے ڈاکٹر لیونارڈو کو میرا ساتھی اور گائیڈ بنایا گیا تھا: Dr. Leonardo Palmobi (Tel. 5803140, 7259 614)
وہ نہایت سادہ اور نہایت سنجیدہ آدمی ہیں۔ وہ قرآن کی اس آیت کا مکمل مصداق ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اور جن لوگوں نے عیسی بن مریم کی پیروی کی ان کے دلوں میں، ہم نے شفقت
اور رحمت رکھ دی ہے (الحدید، ۲۷)
افریقہ سے آنے والے ایک صاحب نے کہا کہ آپ ایک علمی آدمی ہیں۔ پھر بھی آپ اس طرح کی کانفرنسوں میں آتے ہیں۔ میں نے کہا کہ کانفرنسوں میں ہمیشہ میں بادل ناخواستہ ہی جاتا یہ صحیح ہے کہ میں ذاتی طور پر ایک علم پسند آدمی ہوں۔ میری سب سے زیادہ محبوب چیز کتابوں کا مطالعہ ہے۔ اس طرح کی کانفرنس کے لئے سفر کرنا میرے لئے گویا مطالعہ کے تسلسل کو توڑنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ تاہم ان کانفرنسوں کا ایک خاص فائدہ ہے جو کہیں اور سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اور میں ذاتی طور پر اسی فائدہ کے لئے وہاں جاتا ہوں ۔ وہ یہ کہ اس طرح کی کانفرنسوں میں دنیا بھر کے دانشور اور اہل فکر اکٹھا ہوتے ہیں۔ ذہن کے مطالعہ کا موقع ملتا ہے۔ یہی خاص وجہ ہے جس کے لئے ذاتی بے رغبتی کے باوجود میں کانفرنس کی دعوت کو قبول کرنے پر مجبور ہو جاتا ہوں۔
تاہم اس طرح کی کانفرنسوں سے مذکورہ فائدہ حاصل کرنے کی ایک لازمی شرط ہے۔ اور وہ اجنبی یا مخالف فکر کو کھلے ذہن سے سننے کی صلاحیت ہے۔ آپ کے اندر یہ ماد ہونا چاہئے کہ آپ اپنے فکری سانچے سے باہر آکر دوسروں کی بات کو سن سکیں ۔ میرے اندر خدا کے فضل سے یہ صفت ہے کہ ایک طرف مجھے اپنے نقطہ نظر پر کامل یقین ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ میرا ذہن فی الفور اس کے لئے تیار ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے ذاتی فکر کو الگ رکھتے ہوئے فریق ثانی کی بات کو خود اس کے اپنے زاویہ نگاہ سے سن سکے ۔ یہ صفت غالباً میرے اندر پیدائشی طور پر ہے، اور اس سے مجھے غیر معمولی فائدے حاصل ہوئے ہیں۔
۲۱ اکتوبر کی صبح کو میں اور جسٹس کھنہ فلارنس دیکھنے کے لئے نکلے۔ رہنمائی کے لئے ہمارے ساتھ ڈاکٹر لیونارڈو موجود تھے، شہر کے اکثر خاص حصے دیکھے۔ بمبئی کی طرح یہاں ملتی اسٹوری بلڈنگوں کی لائنیں نہیں ہیں۔ تقریباً تمام عمارتیں پتھر کی بنی ہوئی نظر آئیں ۔ ان کی وضع قدیم طرز کی تھی جس میں ایک خاص عظمت جھلک رہی تھی۔ یہ شہر دریائے آرنو (Arno) کے دونوں طرف آباد ہے۔ دریا کے اوپر جگہ جگہ پل بنے ہوئے ہیں۔ ایک پل کے دونوں طرف دومنزلہ دکانیں بنی ہوئی تھیں ۔ جگہ جگہ پتھر کے اسٹیچو اور چرچ دکھائی دئے۔ ایک جگہ بہت بڑے سائز
مرد و عورت کا اسٹیچو تھا جو بالکل ننگا تھا۔
سیاح بڑی تعداد میں ہر طرف گھوم رہے تھے۔ ایک جگہ ندی کے کنارے ایک بھیڑ تھی۔ وہاں ایک نوجوان مرد اور ایک نوجوان عورت مخصوص لباس میں تھے۔ ان کے اوپر لوگ خوش ہو کر چاول پھینک رہے تھے۔ معلوم ہو کہ یہ شادی کی ایک رسم ہے جو صدیوں سے یہاں چلی آ رہی ہے۔ ایک سڑک پر بڑی تعداد میں لڑکوں اور لڑکیوں کا جلوس نظر آیا۔ وہ جھنڈ لئے ہوئے اور نعرہ لگاتے ہوئے جا رہا تھا۔ اس کے ساتھ پولیس کا بھاری انتظام تھا۔ ہتھیار کے خلاف تھا۔ وہ نعرہ لگا رہے تھے: اسٹاپ نیو کلیئر ٹسٹ۔ فلارنس میں ایک بہت بڑا میوزیم ہے۔ اس کو بھی دیکھا۔ یہ غیر معمولی حد تک شاندار اس میں قدیم فنکاروں کے آرٹ کے نمونے ہیں۔ یہ زیادہ تر پینٹنگ کے نمونے ہیں یا پھر اسٹیچو کے۔ وہ اکثر مذہبی نوعیت کے نمونے تھے۔ بہت سی پینٹنگ میں حضرت مریم کو زمانہ طفولیت کے مسیح کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ اسی طرح حضرت مسیح کے مصلوب کئے جانے کے بارہ میں بہت سے چھوٹے بڑے نمونے تھے۔
جس طرح ہمارے شعرا مضمون بندی کرتے ہیں، اسی طرح مسیحی آرٹسٹوں نے مسیح کی پیدائش اور (اپنے عقیدہ کے مطابق مسیح کے صلیب پر چڑھائے جانے کے بارہ میں کثرت سے مضمون بندیاں کی ہے۔ شعر و ادب کے علاوہ ان کے بارہ میں طرح طرح کی پینٹنگ یا اسٹیچو تیار کئے گئے ہیں۔
ایک مغربی سیاح کے ہاتھ میں ایک انگریزی میگزین تھا۔ اس نے میرا شوق دیکھ کر اس کو مجھے دیدیا۔ یہ ایک مسیحی تنظیم کی طرف سے نکلتا ہے۔ ۳۲ صفحہ کا یہ ماہانہ پرچہ دنیا کی ۱۲۱ زبانوں میں شائع کیا جاتا ہے۔ ان میں بنگالی، ترکی، فارسی اور اردو بھی شامل ہیں۔ غالباً پاکستان سے شائع ہوتا ہے۔ اس کا نام اس طرح درج تھا:
Announcing Jehovah's Kingdom یہ ۱۵ اکتوبر ۱۹۹۵ کا شمارہ تھا۔ اس کے صفحہ ۲ پر اس کے مقاصد اس طرح لکھے ہوئے تھے :
۲۱ اکٹوبر کو شام کا کھانا سینٹ میری مانسٹری میں تھا۔ یہ کافی بڑی عمارت ہے اور نہایت عمدہ بنی ہوئی ہے۔ اس کے وسیع ہال میں آنے والوں کی کافی تعداد اکٹھا تھی۔ ہر طرف دھیمی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ میں جس میز پر کھانے کے لئے بیٹھا، اس پر مختلف ملکوں کے لوگ تھے۔ زیادہ تر تفریحی انداز کی باتیں ہو رہی تھی۔ جرمنی سے آنے والے ایک صاحب نے ایتھوپیا کے نمائندہ سے پوچھا کہ آپ کا ملک کیا چیزیں ایکسپورٹ کرتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ چائے۔ پوچھنے والے نے کہا کہ پھر تو آپ دنیا کو اس کی انرجی سپلائی کر رہے ہیں۔ دہلی کے آریہ سماجی لیڈر سوامی اگنی ویش بھی اس کانفرنس میں آئے ہیں۔ وہ شراب کو عنوان بنا کر سماجی اصلاح کی مہم چلا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ شراب نوشی کی جڑیں تو ملک میں اتنی گہری ہو چکی ہیں کہ اب اس کو اکھاڑ نا سخت مشکل نظر آتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ انھوں نے اپنا تجربہ بتایا کہ ہم لوگ ہریانہ میں گئے ۔ وہاں کے لوگوں نے کہا کہ اس ریاست میں تو شراب کا کارخانہ ہے۔ یہاں ۹۰ فیصد لوگ شراب یہاں مشکل سے دس فیصد لوگ اس سے بچے ہوں گے۔ پھر آپ یہاں شراب بندی کی مہم کو کس طرح کامیاب کریں گے ۔ اس کے بعد ہم عملی تجربہ کے طور پر کئی گاؤں میں گئے ۔ وہاں کے لوگوں کو جمع کیا۔ ہم نے پوچھا کہ کیا تمہاری عورتیں شراب پیتی ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ ہم نے کہا کہ پھر تو آبادی کا ۵۰ فیصد یوں ہی اس سے الگ ہو گیا۔ پھر ہم نے پوچھا کہ کیا تمہارے بچے شراب پیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں، ہم نے کہا کہ ۲۵ فیصد وہ بھی نکل گئے۔ اس کے بعد ہم نے پوچھا کہ تمہارے بڑے کیا سب کے سب شراب پیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سب نہیں۔ ان میں سے کچھ پیتے ہیں۔ ہم نے کہا کہ ان میں سے ایک تعداد کو الگ کر لو۔ اس طرح جب دیکھو گے
محروم ہوگا کہ معاملہ الٹا ہے۔ یعنی ۹۰ فیصد لوگ شراب نہیں پیتے، صرف ۱۰ فیصد لوگ شراب پیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہی اکثر معاملات میں ہوتا ہے۔ لوگ افواہوں کی بنیاد پر رائے قائم کر لیتے ہیں۔ تحقیق کر کے جاننے کی کوشش نہیں کرتے، حالانکہ اگر بات قاعدہ تحقیق کی جائے تو اکثر یہ پتہ چلتا ہے کہ اصل حقیقت کچھ تھی اور عوام میں کچھ اور مشہور ہوگئی۔ جسٹس کھنہ نے ایک گفتگو کے دوران کہا کہ دور درشن والوں نے مجھ سے پوچھا کہ یونیفارم سول کوڈ کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے۔ میں نے کہا کہ میں اس کا مخالف ہوں۔ انھوں نے بتایا کہ اس پر میری پوری فیملی نے مجھ سے اختلاف کیا۔ لڑکا، لڑکی، بہو، سب نے کہا کہ یونیفارم سول کوڈ تو ہونا ہی چاہئے۔
میں نے جسٹس کھنہ سے پوچھا کہ آپ نظریاتی بنیاد پر یونیفارم سول کوڈ کے مخالف ہیں یا عملی انھوں نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ یونیفارم سول کوڈ بجائے خود تو اچھی چیز ہے مگر اس کے لئے قانون جب بننا چاہئے جب کہ مسلمان بھی اس سے اتفاق کر لیں۔ گویا کہ جسٹس کھنہ کے معمولی طور پر وہی رائے رکھتے تھے جو ان کے گھر والوں کی رائے تھی۔ دہلی میں ایک تعلیم یافتہ ہندو نے مجھ سے کہا کہ یونیفارم سول کوڈ کے مسئلے کی نزاکت یہ ہے کہ ۹۹ فیصد ہندو اس کے حامی ہیں اور دوسری طرف ۹۹ فیصد مسلمان اس کے خلاف میں نے سوچا کہ ایسی حالت میں یونیفارم سول کوڈ کے خلاف مسلمانوں کا محض شور وغل کرنا اور اس کو شریعت کے خلاف بتانا کافی نہیں۔ اس مسئلے کا حاصل یہ ہے کہ اس تصور کو عقلی دلائل کے ذریعہ غلط ثابت کیا جائے۔ کیوں کہ گورنمنٹ اگر قانون نہ بنائے تب بھی اصل مسئلہ شدید تر کدورت میں باقی رہے گا، اور وہ باہمی نفرت ہے۔
جسٹس کھنہ انتہائی بے تعصب اور دیانت دار آدمی ہیں۔ انھوں نے اپنے ایک فیصلہ میں مسز اندرا گاندھی کو ناخوش کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نہ بن سکے۔ ورنہ وہ چیف جسٹس آف انڈیا کی حیثیت سے ریٹائر ہوتے۔ انھوں نے اپنے بہت سے قصے بتائے۔ انھوں نے کہا کہ آنچانی جے آر ڈی ٹاٹا ہمارے ان کے یہاں آئے ۔ اس وقت ان کی عمر ۸۰ سال سے زیادہ ہو چکی تھی۔ انھوں نے اپنی
حالت بتاتے ہوئے کہا: میں مولیہ تو کھا چکا، اب بیان پر رہ رہا ہوں۔
یہ اس انسان کی بات ہے جو موجودہ زندگی کو آخری زندگی سمجھتا ہو۔ لیکن جو آدمی یہ یقین رکھتا ہو کہ موجودہ زندگی کے بعد ایک اہم تر زندگی آنے والی ہے، اس کا تاثر اس سے
جسٹس کھنا نے بتایا کہ انہیں اردو شاعری سے بہت دلچسپی ہے۔ انہوں نے اردو پڑھی تھی۔ اقبال اور غالب کا کلام وہ اکثر پڑھتے رہتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اردو شاعروں میں سب سے زیادہ کون آپ کو پسند ہے۔ انہوں نے بڑی محبت کے ساتھ اقبال کا نام لیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ہماری حکومت کی نالائقی ہے کہ اس نے اقبال جیسے شاعر کی قدر نہیں کی۔ ۱۹۷۸ء میں جب پاکستان میں اقبال کی جنم صدی منائی گئی تو اس سے بھی شاندار طور پر اس کو ہمارے یہاں منایا جانا چاہئے تھا، مگر افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا اس کے بعد انھوں نے بڑے شوق کے ساتھ اقبال کے کئی شعر سنائے۔
میں نے کہا کہ ہندوستان میں اقبال کے خلاف تعصب اس لئے ہے کہ انھوں نے کی تقسیم کا نظریہ پیش کیا۔ مگر جسٹس کھنا نے اس کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ انھوں نے کہا کہ میں تو ملک کے بٹوارہ کی ذمہ داری صرف کانگریس لیڈر شپ پر ڈالتا ہوں۔
انھوں نے بتایا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ سے پہلے انھوں نے ایل کے آڈوانی سے کہا تھا کہ دیکھو آڈوانی، اجودھیا میں ایسا کام مت کرو، نا کہ میرے جیسے ہندو کو اس دیش میں رہتے ہوئے شرم آئے پھر جب بابری مسجد ڈھادی گئی تو دوبارہ دونوں کی ملاقات ہوئی۔ جسٹس کھنا نے مسٹر آڈوانی سے کہا کہ تم کو اجودھیا نہیں جانا چاہئے تھا اور نہ یہ کام کرنا چاہئے۔ آڈوانی نے کہا: کھنا جی، اب تو جو ہو گیا اب آگے کی بات کیجئے۔
یہ ایک سیاست داں کی طرف سے اپنی زبان میں غلطی کا اعتراف تھا۔ ۶ دسمبر کے بعد مسلم دانشوروں اور مسلم لیڈروں کو چاہئے تھا کہ حالات کا مطالعہ کرکے وہ اس حقیقت کو جان لیتے۔ اگر وہ بروقت اس حقیقت کو جانتے تو وہ سمجھ لیتے کہ بابری مسجد کا انہدام دراصل اس تخریبی عمل کے اوپر فل اسٹاپ ہے۔ مگر اپنی بے خبری کی وجہ سے انھوں نے اس کو کاما سمجھ لیا۔
مسلم لیڈروں اور تمام مسلم دانشوروں نے انتہائی نادانی کے ساتھ یہ کہہ کر مسلمانوں کو ڈرانا شروع کیا کہ یہ آغاز ہے، اور اب یہ انتہا پسند عناصر اپنی فہرست کے مطابق تین سو یا تین ہزار مسجدوں کو ڈھانے کا سلسلہ شروع کرنے والے ہیں۔
تاہم حالات کے رخ نے اب خود ہی بتا دیا ہے کہ ۶ دسمبر اس تخریبی عمل کا اختتام تھا، وہ اس کا آغاز نہ تھا۔ اور یہ خود فطرت کا قانون ہے۔ یہی وہ بات ہے جس کو راقم الحروف نے بابری مسجد کے حادثہ کے فوراً بعد ان الفاظ میں لکھا تھا کہ : انتقام اپنی آخری حد پر پہنچ کر ندامت بن جاتا ہے۔ غصہ جب اپنی آخری کارروائی کر چکا ہوتا ہے تو اس کے بعد وہ اعتراف میں ڈھل جاتا ہے۔ حیوانیت اپنا آخری روپ دکھانے کے بعد انسانیت کی طرف لوٹ آتی ہے۔ ۲۱ اکتوبر کی شام کو نماز مغرب کے بعد دوبارہ ہم لوگ فلارنس دیکھنے کے لئے نکلے۔ طور پر یہاں کا کیتھڈرل دیکھا۔ وہ ہیبت ناک حد تک بڑا ہے۔ سفید اور کالے ماربل کو ملاکر وہ بچروھیں صدی عیسوی میں بنایا گیا تھا۔ اس کے اندر داخل ہوئے تو اس کے وسیع ہال اور اس کی انتہائی اونچی چھت کے نیچے انسانوں کے قافلے بالشتیے کی مانند نظر آتے تھے۔ باہر نکلے تو اچانک ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ یہ پاکستان کے مسٹر اسد صادق پی آئی اے تھے جو اپنی اہلیہ کے ساتھ بطور سیاح یہاں آئے تھے۔ وہ کراچی میں رہتے ہیں۔ انھوں نے پوچھا کہ آپ لوگ یہاں کس سلسلہ میں آئے۔ جشن منانے کہا کہ پیس کانفرنس میں شرکت کے لئے۔ وہ فوراً بولے : کتنا اچھا ہو کہ ہمارے دونوں ملک بھی آپس میں اس طرح کی پیس کانفرنس کریں۔ ان کی اہلیہ ایک تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ انھوں نے کہا کہ یہاں میں دیکھ رہی ہوں کہ یورپ کے ملکوں کے لڑکے اور لڑکیاں آزادانہ طور پر گھوم رہے ہیں۔ کاش اسی طرح ہندوستان اور پاکستان کے بچے بھی دونوں ملکوں میں آنے اور جانے لگیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات اتنی سادہ نہیں۔ اس کا تعلق فہم و تدبر سے ہے۔ یورپ کے لوگ اس راز کو جانتے ہیں کہ شکایتیں اور اختلافات کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔ اس لئے انھوں نے یہ طے کیا کہ شکایتوں کو الگ رکھتے ہوئے میل جول قائم رکھو۔ اس کے برعکس آپ کے لیڈر یہ کہتے
ہیں کہ پہلے اختلاف اور شکایت کو ختم کرو، اس کے بعد ہم میل جول کی فضا قائم کریں گے۔ اختلاف زندگی کا لازمی حصہ ہے، وہ کبھی ختم ہونے والا ہی نہیں۔
روانگی سے ایک دن پہلے 19 اکتوبر کی شام کو جے پور کے سردار موہندر سنگھ (650715 Tel) دہلی میں مجھ سے ملتے تھے۔ وہ بھی لاہور میں پیدا ہوئے اور وہاں انھوں نے اردو پڑھی۔ وہ راقم الحروف کے مضامین اکثر پڑھتے رہتے ہیں اور بہت زیادہ متاثر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اُس وقت ہندو اور مسلمان ایک ہو کر رہتے تھے۔ میری ماں کا انتقال میرے بچپن میں ہوگیا۔ میرے محلہ میں ایک مسلم خاتون تھیں۔ وہ مجھ کو اپنے بیٹے کی طرح مانتی تھیں۔ انتقال کے بعد میں اُن کے گھر گیا تو وہ اپنے چھوٹے بچہ کو گود میں لئے ہوئے تھیں۔ مجھ کو دیکھ کر انھوں نے کہا: آؤ بیٹا ۔ یہ کہہ کر انھوں نے مجھے اپنی گود میں لے لیا۔ ان کا بچہ ایک ٹانگ پر بیٹھا گیا اور میں دوسری ٹانگ پر۔ اس کے بعد انھوں نے دولڈ منگائے۔ ایک انھوں نے مجھ کو دیا اور دوسرا اپنے بیٹے کو۔ یہ قصہ بتاتے ہوئے سردار جی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
اس طرح کے واقعات لوگ اکثر بتاتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ جب ہندو اور مسلمان میں اتنا میل ملاپ تھا تو آخر ملک کا بٹوارہ کیسے ہوا۔ میرے نزدیک اس کی ذمہ داری عوام پر نہیں بلکہ صرف لیڈروں پر ہے۔ ہندو اور مسلمان دونوں صدیوں سے نہایت مل جل کر رہ مگر لیڈروں نے نفرت کی باتیں کرکے دونوں کو ایک دوسرے سے پھاڑ دیا۔ جناح اور نہرو میں انا کا ٹکراؤ (ego clash) ہوا۔ مسٹر جناح اس کا بدلہ جواہر لال نہرو سے لے مگر مسٹر جناح نے اس کو پوری قوم کا مسئلہ بنا دیا۔ انگریزوں نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تقسیم کے نظریہ کی خاموش حمایت کی ۔ اور بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچی کہ ملک دو ٹکڑے ہو گیا۔
۲۲ اکتوبر کی صبح کو ناشتہ کی میز پر ایک بشپ سے ملاقات ہوئی ۔ وہ ایتھوپیا سے آئے میں نے ایتھوپیا اوراریٹریا کے بارہ میں پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ چند لوگوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے یہ تقسیم کی ہے۔ ورنہ وہ دونوں ایک ہی ملک تھے۔ میں نے دونوں کے اقتصادی حالات کے بارہ میں پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ اریٹریا تو بہت چھوٹا ہے اور نہایت غریب بھی ہے۔
ہے یا ہر لحاظ سے مقابلے زیادہ خوش حال اور ترقی یافتہ ہے۔
ممکن ہے کوئی شخص اس کو ایک "متعصب مسیحی" کا تبصرہ کہے۔ مگر میں اس کو بالکل درست آجکل اکثر ملکوں میں علیحدہ مسلم خطہ بنانے کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ کئی مقامات پر اس نے تشدد کی صورت اختیار کر لی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ جہاں بھی موقع ملتا ہے وہ اپنا ایک "اریٹریا" بنانے کی مہم شروع کر دیتے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ ان علاقوں کے لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ وہ پورے ملک کو اپنا میدانِ عمل بنائیں۔ کی پالیسی نا قابل فہم حد تک بے معنی ہے۔ مسلمانوں کی موجودہ نسل اندھی تقلید کی حد تک اقبال کی پرستار ہے۔ مگر یہ سب کے سب لوگ عملی طور پر اقبال کے اس شعر کا مصداق بن رہے ہیں۔
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا ورنہ گلشن میں علاجِ تنگی داماں بھی ہے ناشتہ کی میز پر جسٹس کھنہ بھی تھے۔ ان سے میں نے کہا کہ آپ جیسے سنجیدہ لوگ ہندوستان میں ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ آپ لوگ مل کر تعمیر ہند کا کوئی ابھیان کیوں نہیں چلاتے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کچھ لوگوں نے اس قسم کی کوشش شروع کی تھی۔ مگر میڈیا ہمارا ساتھ نہیں دیتا۔ ہماری تعمیری باتیں بڑے اخباروں کے نزدیک قابل اشاعت نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم کو تو اخبار ایک اخبار والے نے کہا کہ آپ لوگوں کی بات ہمارے نزدیک خبر (news) نہیں وہ تو صرف ایک فرسوده چیز (Platitude) ہے۔
ایک صاحب نے ایک فلسطینی ادارہ کا چھپا ہوا ایک پمفلٹ دیا۔ اس کا ایک حصہ بوسنیا کے علی عزت بیگوویچ کے بارہ میں تھا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا :
علی عزت بیگوویچ 1925 میں پیدا ہوئے۔ سراجیو یونیورسٹی سے اولاً انھوں نے سوشل سائنس میں اور پھر قانون میں ڈگری حاصل کی۔ نوجوانی ہی کی عمر میں وہ بوسنیا ہر زے گوویناکی ایک اسلامی تحریک میں شامل ہو گئے۔ اس جماعت کی تاسیس بوسنیا کے دو نوجوانوں نے کی تھی جن کے نام محمد خار پنج اور قاسم دو رہا جاہیں۔ یہ دونوں قاہرہ کی جامعہ ازہر کی فیکلٹی آف شریعہ سے فارغ ہو کر آئے تھے۔ قاہرہ کے زمانہ قیام میں وہ الاخوان المسلمون سے متاثر
چنانچہ واپسی کے بعد انھوں نے اخوانی فکر کو بوسنیا میں پھیلانا شروع کیا۔ علی عزت بیگوویچ اور اشرف تسار مبارک کی قیادت میں یہاں کے مسلمانوں میں انقلابی بیدار لانے کے لئے کام کرنے لگی۔ اس تحریک کا عربی نام حرکتہ الشبان المسلمین تھا۔ علی عزت بیگوویچ نے کئی کتابیں لکھی ہیں جن کے ترجمے مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ مثلاً اسلام مشرق اور مغرب کے درمیان، عصرِ حاضر میں اسلامی مشکلات، اسلامی اعلان آخری کتاب کے " باغیانہ " مضامین کی وجہ سے ۱۹۷۳ سے ۱۹۸۹ تک وہ جنرل ٹیٹو کی حکومت کے تحت جیل میں رہے۔ ایک بار مصر کے صدر جمال عبد الناصر کی ملاقات جنرل ٹیٹو سے ہوئی۔ ملاقات میں جنرل ٹیٹو نے صدر ناصر سے کہا تھا کہ علی عزت بیگوویچ کی تحریک ان کے لئے الاخوان المسلمون ہی کی طرح خطرناک ہے۔ کیوں کہ اس کا نظریہ حکومت پر قبضہ کرنا ہے۔ علی عزت بیگوویچ نے بوسنیا میں " جمہوری عمل پارٹی" بنائی۔ پارٹی کا بظاہر سیکولر نام انھوں نے اس لئے رکھا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ ایسا نام رکھیں جس سے یورپ یا مغربی قوتوں کو یہ محسوس ہو کہ عین مشرقی یورپ کے بیچ میں ایک نئی اسلامی حکومت قائم ہونے جارہی ہے۔ الیکشن میں علی عزت کی پارٹی کو اتنے زیادہ ووٹ نہیں ملے کہ وہ قطعی اکثریت حاصل کرلیتی۔ تاہم اس نے کثیر جماعتی حکومت میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ علی عزت بیگوویچ ملک کے صدر منتخب ہوگئے صدر علی عزت کے دور اقتدار میں بوسنیا میں اسلامی تاریخ کے احیاء کی بہت سی کوششیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ ریڈیو اور ٹی وی سے اذان اور دیگر علمی اور قرآنی محافل پر مبنی پروگرام نشر کئے جانے لگے۔ علی عزت کے دور حکومت میں پہلی بار صدارتی میٹنگ کو ایک گھنٹے کے لئے موخر کرکے نماز جمعہ ادا کی گئی۔ اس واقعے پر سرب اور کروات نے اپنے شدید رد عمل کا اظہار کیا۔ اس رپورٹ کو پڑھ کر میں نے ایک صاحب سے کہا کہ بوسنیا کے مسلم لیڈروں کے لیے جب یہ موقع تھا کہ وہاں کے جمہوری نظام میں الیکشن کے ذریعہ وہ صدر کے عہدہ تک پہنچ سکتے تھے تو اس کی کیا ضرورت تھی کہ وہ بوسنیا کو آزاد مسلم ریاست بنانے کا اعلان کر دیں اور اس کے نتیجہ میں وہاں کے غیر مسلم عوام اور فوج سے وہ لڑائی چھڑے جو بوسنیا کے مسلمانوں کو بالکل تباہ و برباد کر دے۔ ہی نادانوں کے لیے کہا گیا ہے کہ جو آدھے پر راضی نہیں ہوتا اس کو پورا کھونا پڑتا ہے۔