Al-Risala · December 1996

خبر نامه اسلامی مرکز - ۱۱۶

Al-Risala, December 1996, pp. 47–50

By Maulana Wahiduddin Khan

میڈیا اسٹار (دہلی) کے نمائندہ نے ۱۷ ستمبر ۱۹۹۶ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق پاکستان میں ہونے والے بھیانک شیعہ سنی فساد سے تھا۔

ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ پر امن زندگی حاصل کرنے کا راز یہ نہیں ہے کہ مسلمان اپنا علاحدہ ملک بنوائیں۔ اس کا راز یہ ہے کہ مسلمان دوسروں کے ساتھ صلح و آشتی اور صبر و تحمل کے ساتھ رہنا سیکھیں۔

آل انڈیا ریڈیو کے نمائندہ مسٹر آر پی دھر نے ۱۸ ستمبر ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو سوالات کا تعلق اس مسئلہ سے تھا کہ ملک میں اخلاقی بگاڑ کیوں آيا ہے اور اس کو کس طرح دور کیا جا سکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ پہلے سماج کے بڑے لوگ اخلاقی رول ماڈل کا کام کرتے تھے۔ آزادی کے بعد یہ ماحول ختم ہو گیا۔ یہی خلاء اخلاقی بگاڑ کا سب سے بڑا سبب ہے۔

ویکلی اکشتر Akhshar کی نمائندہ مسز برکھا اورورا نے ۱۹ ستمبر ۱۹۹۶ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر کم عمر میں لڑکیوں کی شادی سے تھا۔ سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اس طرح کے معاملات میں سماجی شعور ضروری ہوتا ہے۔ شعور پیدا کرنے سے پہلے قانون بنانا ایسا ہی ہے جیسے گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنا۔ ویکلی آؤٹ لک (نئی دہلی) کی نمائندہ مسز ساگریکا گھوش (اسپیشل کرسپاڈنٹ) نے ۱۹ ستمبر ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر لبرل مسلمان اور کنزرویٹو مسلمان کے مسئلہ سے تھا۔ اپنی ذات کے بارہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا کہ میں ایک کٹر مسلمان ہوں ۔ معروف معنوں میں میں لبرل مسلمان نہیں ہوں۔ اسلام اپنے پیروؤں کو نفرت اور تشدد نہیں سکھاتا۔ اگر کچھ مسلمان نفرت اور تشدد کا طریقہ اختیار کریں تو یہ ان مسلمانوں کا فعل ہوگا نہ کہ اسلام کی تعلیم۔

ہندوستان ٹائمس کے نمائندہ مسٹر سدھیر پانڈے نے ۲۱ ستمبر ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ اسلام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ

ایک اسلامی ادارہ کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے امریکہ کا سفر کیا۔ یہ سفر تقریباً ایک اگست تا ستمبر 1996ء جاری رہا۔ اس کی رو داد ان شاء اللہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔ ۲۴ ستمبر 1996ء کو ڈاکٹر اے جے ساہنی سی ایف ٹی وی کی ٹیم کے ساتھ مرکز آئے۔ اور صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مذہب اور سیاست کے مسئلہ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ یہ بات صحیح ہے کہ موجودہ زمانہ میں مذہبی سیاست نے دنیا کو تباہی کا تحفہ دیا ہے۔ مگر اس کا سبب خود مذہب نہیں ہے۔ اس کا سبب وہ لوگ ہیں جو حقیقتہً مذہبی نہ تھے اور انھوں نے مذہب کو ایکسپلا ئٹ کرنے کے لیے مذہب کا نام لیا۔ سوسائٹی آف سرونٹس آف گاڈ (چانک یہ پوری، نئی دہلی) کے تحت ۲۵ ستمبر 1996ء کو ایک اجتماع اس کا عنوان تھا : ورلڈ ریلیجینز پر یہ میٹنگ۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمایندے صدر اسلامی مرکز کو وہاں اسلام پر ایک ٹاک دینے کی دعوت دی گئی اس کے مطابق انھوں نے اس مشترک اجتماع میں اسلام کے تعارف پر ایک تقریر کی۔ گول مارکیٹ (نئی دہلی) میں ۲۸ ستمبر 1996ء کی شام کو ایک اجتماع ہوا۔ اس میں تعلیم یافتہ مسلمان شریک ہوئے۔ صدر اسلامی مرکز نے اس موقع پر قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک ایک مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ دین میں بلاشبہ مکمل اطاعت مطلوب مگر یہ مکمل اطاعت افراد یا جماعت کے اپنے حالات کے اعتبار سے ہے نہ کہ شرعی احکام کی تفصیلی فہرست کے اعتبار سے۔ یعنی ہم بقدر فہرست پیروی کے مکلف نہیں ہیں بلکہ اپنے دائرہ اختیار کے اعتبار سے مکلف ہیں۔

پرفیکٹ ہیلتھ میلہ (سنھے لیک پارک ، نئی دہلی) میں ۴ اکتوبر 1996ء کو نماز جمعہ کے بعد ایک جلسہ اس میں ہندو اور مسلمان دونوں طبقہ کے لوگ شریک ہوئے۔ اس موقع پر صدر اسلامی مرکز نے "نماز کیا ہے" کے موضوع پر تقریر کی۔ اور آخر میں سوالات کے

گستاخی کرنے والے کے لیے کیا مسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کے عالم کا نقطہ نظر بتایا گیا۔ ۶- سنت کر پال روحانی مشن کے تحت ۲۰ستمبر ۱۹۹۶ کو ایک بڑا جلسہ ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں تقریر کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ دنیا خدا کا باغ ہے۔ چاہیے کہ وہ اس کو باغ کی نظر سے دیکھے اور اس کے ہر پیڑ اور ہر پودے سے محبت کرے۔ ۷- ہندوستان ٹائمس کے نمائندہ مسٹر سدھیر شرما نے ۲۱ ستمبر ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو جامعہ کے پرووائس چانسلر کو سلمان رشدی کا حامی بتا کر ان کے خلاف چلنے والے ایجی ٹیشن کے بارہ میں تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ اس قسم کا تخریبی مزاج دینی مدرسوں میں بنایا جاتا ہے۔ اس کا کھلا ہوا ثبوت یہ ہے کہ یہ مزاج اگر مدرسوں میں بنایا جاتا تو اس قسم کے ہنگامے سب سے پہلے مدرسہ میں نظر آتے۔ حالاں کہ کسی بھی مدرسہ میں ایسا نہیں ہوا۔

۸- جرمنی (فرینکفرٹ) کے سفید فام اسکالرس کی ایک ٹیم ۲۳ ستمبر ۱۹۹۶ کو اسلامی مرکز میں آئی یہ نو اس ٹیم کی لیڈر ایک سینیر خاتون (Thea Mohn) تھیں۔ اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ایک سوال یہ تھا کہ اسلام کو برحق آپ کیوں مانتے ہیں کیا کسی استاد نے آپ کو ایسا یقین دلایا ہے۔ صدر اسلامی مرکز نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میری ڈسکوری ہے۔

۹- آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۲۴ ستمبر ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ عنوان تھا : قرآن کا رول انسانیت کی تاریخ میں۔

۱۰- امریکہ کی یونی ورسٹی آف ساوتھ کیرولینا کے پروفیسر ڈاکٹر رابرٹ ورسنگ (Dr Robert Wirsing) نے ۲۴ ستمبر ۱۹۹۶ کو دہلی میں صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو یہ انٹرویو پروفیسر کی ایک زیر ترتیب کتاب کے سلسلہ میں تھا۔ بابری مسجد کے سلسلہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا :

Babri Masjid was demolished not by Mr Hindu; it was demolished by Mr Ego. And it was Muslim leadership which turned Mr Hindu into Mr Ego.

AL-RISALA BOOK CENTRE 1, Nizamuddin West Market, New Delhi 110 013, Tel. 461128, Fax 4697333 -125/ ظہور پختون -13 ظہور عثمان -18 آثار نبوت -18 آثار قادیانیت -19 بیدا رکائنات -17 اسلامی حکومت -125/ رسول اکرم اور عورت کا کردار -125/ میلاد نبی -125/ منشیات اور ان کا حل -125/ حیات نبی -125/ حیات زادہ -125/ حیات درندہ -125/ حیات مبارکہ -125/ حیات ایران -175 God Arises -185 Prophet or Revolution -155 Islam As It Is -170 God-Oriented Life -145 Religion and Science -165 Indian Muslims -120 The Way to Find God -120 The Teachings of Islam -120 The Good Life -125 The Garden of Paradise -125 The Fire of Hell -125 Man Know Thyselfi -18 Muhammad: The Ideal Character -125 Tabligh Movement -171 Polygamy and Islam -175 Words of the Prophet -130 Islam: The Voice of Human Nature -155 Islam: Creator of the Modern Age -165 Woman Between Islam and Western Society -195 Presenting the Qur'an -165 Woman in Islamic Shari'ah -120 Hijab in Islam -171 Concerning Divorce -175 Treasury of the Qur'an -175 The Life of the Prophet -171 تذکرہ قائد اعظم -18 اوّلین پیروان -18 اسلام اور ایک براعظم کا المیہ -19 اسلامی تحریکیں -17 برصغیر پاک و ہند اور اسلام -18 جنت کا باغ -17 راه نجات -18 پیغمبر اسلام کے بچپن کی باتیں -18 اسلام اور عورت -18 آذری رُوبرو -110 پچپن کی کہانیاں -14 پیغمبر اسلام -14 انسان کے چھپ چھپے مکان -18 بچپن کی باتیں

-185 اسلام کی تاریخی حقیقت -121 مذہب اور طاقت -141 سرسید احمد خان اور تحریک آزادی -1 روح كاتب -171 قرآن کریم اور عورت -111 ہندوستان کی آزادی کے بعد -110 تحریک پاکستان -14 اسلام اور جدیدیت -18 اسلام کا تعارف -19 فهم كرام -171 فہم رمضان -171 روشن مستقبل -140 پچپن کی کہانیاں -171 تصور خاندان -145 مضامین اسلام -17 دین اور دنیازینات -110 فتح باری -171 تاریخ پاکستان 5/- Rs. نامۂ شوق 12/- مطالعۂ سیرت 80/- ذخیرۂ القرآن جلد اول -200/ ذخیرۂ القرآن جلد دوم 45/- اثرِ ابلیس -50/ انوارِ انقلابِ پیغمبر 45/- انوارِ حکمت -25/ انوارِ حکمت 8/- تحریکِ حیات -20/ تبیینِ تحریک -35/ تفہیم القرآن 50/- تفہیم السلام -71/ تفہیم صحابہ 35/- دینِ کمال 50/- تہذیبِ اسلام -30/ اسلام کا معیشت نظام 35/- اسلام اور عصرِ حاضر -40/ اسلام اور جدید تقاضے -40/ مرآۃ التفسیر 50/- قانونِ اسلام -40/ تصورِ اسلام اور اسلام 30/- اسلام اور عهدِ حاضر -40/ اسلام چشمہ ہیڈ ہند کی 45/- کاروانِ وقت 25/- اسلام کی تجلیات -25/ اسلام اور جدید سائنس 35/- دربارِ رسالت -85/ تحریکِ آزادی ہند - (منقطع) سفر نامۂ یورپ -35/ سیرتِ سرورِ کائنات 71/- سیرتِ سرورِ کائنات -30/ قیات و کفر -70/ تیرے نقوش 20/- دنیا کی کہانی -20/ ابیاتِ اولین 71/- فلسفۂ خودی -41/ اسلام کا نظامِ جدید اور ہماری معیشت 3/- فکرِ اسلامی

Printed page