Al-Risala · February 1996

ایک واقعہ

Al-Risala, February 1996, pp. 18–19

By Maulana Wahiduddin Khan

مسٹر عبدالمحیط خاں ریٹائرڈ جوائنٹ ڈائریکٹر، آجکل فیض آباد میں رہتے ہیں۔ ۱۹۹۵ کی ملاقات میں انھوں نے اپنی سروس کے زمانہ کے کئی سبق آموز تجربات بتائے۔ ان میں سے ایک تجربہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔

مسٹر اے ایم خاں نے ۱۹۵۵ میں بنارس ہندو یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بی ایس کی ۱۹۶۳ میں چندولی ضلع بنارس) کے پرائیویٹ پالی ٹکنیک میں ایک جگہ خالی ہوئی۔ لکچرر کی جگہ تھی۔ اسی کے ساتھ کامیاب امیدوار کو الیکٹریکل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ کا عہدہ بھی سنبھالنا تھا۔

اس کا انٹرویو بنارس کے کمشنر جے بی ٹنڈن کی سرکاری رہائش گاہ پر تھا۔ کمشنر صاحب چندولی پالی ٹکنیک میں بحیثیت عہدہ اس کی منیجنگ کمیٹی کے صدر بھی ہوتے تھے۔ چنانچہ وہ بھی انٹرویو میں شریک تھے۔ انٹرویو بورڈ کے ایک رکن پر وفیسر رام سرن تھے۔ دوسرے رکن پروفیسر گیرولا پروفیسر گیرولا بنارس ہندو یونیورسٹی میں مسٹر خاں کے استاد رہ چکے تھے۔ پروفیسر رام سرن نے مسٹر خان سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ انسٹرومنٹ ٹرانسفارمر کیا ہوتا ہے :

Mr. Khan, do you know what is instrument transformer? مسٹر خاں نے ابھی سوال کا جواب نہیں دیا تھا کہ پروفیسر گیرو لانے کمشنر ٹنڈن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سب سے بہتر امید وار ہیں۔ ان کے لئے انٹرویو دینے کا کوئی سوال نہیں : He is the best candidate. There is no question of interview. اس کے بعد انھوں نے اے ایم خان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر خان، آپ جاسکتے ہیں : Mr. Khan, you can go. پروفیسر سرن جنھوں نے سوال کیا تھا وہ خاموش رہے۔ مسٹر خاں اپنے کاغذات لے کر کمرہ سے باہر ایک ہفتہ کے بعد ان کو حسب قاعدہ اپائنٹمنٹ لیٹر مل گیا۔ وہ چندولی پالی ٹکنیک میں سینیئر لکچرر

مع ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ الیکٹریکل انجینئرنگ مقرر ہو گئے ۔ اس کے بعد ان کی ترقی ہوتی رہی۔ تک کہ وہ جوائنٹ ڈائریکٹر (ٹیکنیکل ایجوکیشن) کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ آج کل اکثر نوجوان یہ کہتے ہوئے ملیں گے کہ روزگار نہیں۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ قابل روزگار افراد نہیں۔ مسٹر اے ایم خان کے ساتھ مذکورہ واقعہ اسی لیے پیش آیا کہ انھوں نے محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کی، ہمیشہ اچھے نمبروں سے پاس ہوئے۔ تعلیم کے دوران ان کا کردار نہایت پروفیسر گیرولا اور دوسرے متعلق لوگوں کے درمیان ان کی تصویر نہایت عمدہ بنی۔ وہ قیمت تھی جو مذکورہ شاندار واقعہ کی صورت میں انھیں ملی۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر ادارہ اور ہر دفتر اچھے کارکنوں کو چاہتا ہے۔ کیوں کہ اس کے بغیر اس کا کام درست طور پر نہیں چل سکتا۔ کوئی بھی آدمی اپنا دشمن نہیں، اس لیے کوئی بھی آدمی اچھے کارکن کو نظر انداز کرنے والا نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اچھا اور قابل اعتماد کارکن دوسروں کی ضرورت ہے۔ آپ دوسروں کی ضرورت بن جائیے، اور پھر آپ کے لئے روزگار حاصل کرنا کچھ بھی مشکل نہ ہوگا۔ اس دنیا کا نظام دو طرفہ لین دین پر چل رہا ہے۔ یہاں شکایت اور احتجاج اور مطالبہ کی کوئی قیمت نہیں۔ اس دنیا کا سادہ اصول یہ ہے کہ جتنا دینا اتنا پانا۔ اگر آپ روزگار حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اپنے آپ کو دوسروں کے لئے مفید بنائیے۔ اپنے اندر وہ مہارت پیدا کیجئے جس کی دوسروں کو ضرورت ہے۔ اور پھر آپ کو کسی سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے آپ کو روزگار تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد روزگار خود آپ کو تلاش کرے گا۔ حتی کہ یہ حال ہو جائے گا کہ آپ آگے ہوں گے اور روزگار آپ کے پیچھے ۔

Printed page