Read AL-QURAN THE LAST TESTAMENT
Al-Risala, February 1996, pp. 23–26
By Maulana Wahiduddin Khan
برمنگھم میں میرا قیام جناب شمشاد خاں صاحب کے یہاں تھا۔ وہ مکمل طور پر دعوتی مزاج کے اپنی پوری زندگی دعوہ ورک کے لئے وقف کئے ہوئے ہیں۔ ہر جگہ وہ دعوت کے کام کا موقع نکال لیتے ہیں۔ برمنگھم میں وہ اپنا نیا مکان بنوا رہے تھے۔ مختلف قسم کے کاریگر اس میں لگے ہوئے تھے جو سب کے سب مسیحی تھے۔ ایک روز انھوں نے ان مسیحی کاریگروں سے کہا: دیکھو، تمہاری کلرجی نے تم کو کیسا بیوقوف بنا رکھا ہے۔ اس براہ راست جملہ پر وہ لوگ چونکے۔ انھوں نے کہا کہ وہ کیسے؟ شمشاد خاں صاحب نے کہا کہ یہ بتاؤ کہ اگر میں ایک قتل کروں اور اس کی سزا تم کو دی جائے تو کیا یہ انصاف کی بات ہوگی۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہرگز نہیں۔ خاں صاحب نے کہا کہ پھر یہ دیکھو، تمہاری کلرجی کا کہنا ہے کہ مسیح کو گناہ کے کفارہ کے لئے صلیب پر یعنی گناہ تو دوسرے انسانوں نے کیا اور اس کی سزا حضرت مسیح کے اوپر ڈال دی گئی۔ کیا یہ انصاف ہے اور کیا ایسا کہہ کر کلرجی تم کو بے وقوف نہیں بنا رہی ہے۔ ان لوگوں نے فوراً کہا: مسٹر خان، آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں (Mr. Khan, you are right.)
چند سو سال پہلے مذہبی موضوعات پر اس طرح آزادانہ گفتگو نہیں ہو سکتی تھی۔ فکری انقلاب کا کرشمہ ہے جس نے اس طرح آزادانہ انداز میں مذہب پر تبادلہ خیال کا موقع دے مگر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے ساری دنیا میں قومی جھگڑوں کی جو سیاست چلا رکھی ہے وہ اس فضا کو درہم برہم کر رہی ہے۔
برمنگھم کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ کچھ لوگ میرے بارے میں یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ میرے اندر بڑائی کا احساس ہے۔ میں اپنے آپ کو بہت قابل سمجھتا ہوں۔ حالاں کہ یہ سراسر الٹی
اصل حقیقت یہ ہے کر میں اپنے آپ کو اتنا زیادہ عاجز سمجھتا ہوں کہ مجھے اپنا وجود بالکل بے معنی نظر آتا ہے۔ شعر و شاعری مجھے پسند نہیں۔ مگر اپنی تنہائیوں میں اکثر فارسی کا یہ شعر میری زبان پر آجاتا ہے:
نه گلے نه برگ سبزے نه ثمر نه سایه دارم در حیرتم که دهقاں بچهکار کشت مرا برمنگھم کے اردو ماہنامہ "صراط مستقیم" کے شمارہ جولائی، اگست، ستمبر 1993ء میں ایک یہ برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کے بارہ میں تھی۔ اس رپورٹ کا ایک حصہ یہ تھا: "یہاں شادیوں کے لئے بڑے بڑے ہال بک کرائے جاتے ہیں ، چھ ماہ پہلے ہی بک کرانے کے لئے تگ و دو شروع ہو جاتی ہے۔ شادی کے دن عورتیں ، بڑے زرق برق لباس پہن کر آتی ہیں۔ آدمی خوب اپنی عورتوں ، بہنوں اور بچیوں کو ہرا سنگار کر کہ اکرو میک اپ لگاکر لاتے ہیں ، جیسے انھیں کسی منڈی میں لے جا رہے ہیں۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں خوب بن ٹھن کہ آتے ہیں۔ ٹولیوں میں ایک دوسرے کی تصاویر کھینچتے ہیں اور مختلف پوز بناتے ہیں۔ ویڈیو فلمیں بھی خوب بنائی جاتی ہیں۔ جہاں نوجوان فیشن پرست لڑکیاں دیکھیں ان پر کیمرے خوب چلتے ہیں۔ جاتا ہے کہ یاد کے لئے رکھتے ہیں۔ حقیقت میں بے حیائی اور بے غیرتی کو تحفظ دینا مقصود ہوتا گھر کے اندر نوجوان بیٹھ کر شادی کی فلمیں دیکھتے ہیں ، پھر لڑکیوں کو پسند کرتے ہیں ، ان سے تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
برمنگھم میں ان دنوں کافی سردی تھی۔ یہاں کے موسم کے مطابق اکثر ہلکی بارش ہوتی رہتی رات کو میں اپنے بستر پر لیٹا تو جناب شمشاد محمد خاں صاحب نے گرم پانی کی تھیلی (Hotwater bottle) لا کر دی اور کہا کہ اس کو بستر میں رکھ لیں۔ پہلے میں نے خیال کیا تھا کہ شاید موجودہ لحاف کے ساتھ مجھے ایک کمبل کا اضافہ کرنا پڑے۔ لیکن گرم پانی کی تھیلی بالکل کافی ہو گئی اور بستر اچھی طرح گرم ہو گیا۔
یہ طریقہ مجھے معلوم نہ تھا۔ مگر اس تجربہ کے بعد معلوم ہوا کہ یہ سخت سردیوں میں بستر کو گرم کرنے کا نہایت آسان اور سستا طریقہ ہے۔ کشمیر کے لوگ رات کو بستر میں کانگڑی رکھتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ گرم پانی کی تھیلی اس کے مقابلہ میں زیادہ مفید ہے اور بے ضرر بھی۔
کراچی سے ایک اردو ماہنامہ الفاروق شائع ہوتا ہے۔ اس کا شمارہ محرم صفر ۱۴۱۴ھ دیکھا۔ اس میں ایک مسلمان مقیم برطانیہ (برنلے) کا مضمون تھا۔ اس کا عنوان تھا : برطانیہ کی روز افزوں تباہی کے دو اہم اسباب ، سودی قرض اور کتوں کی کثرت۔ برطانیہ کے نفرت انگیز تعارف کے بعد آخر میں مضمون اس جملہ پر ختم ہوا تھا : اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مسلمانوں کو اس بلا سے محفوظ اللّٰھمَّ حفظنا منہ، آمین (صفحہ ۲۸)
میں نے برطانیہ کی ایک مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ میں نے پایا کہ یہاں بھی مسلمان اسی طرح " کافروں اور مشرکوں " اور یہود و نصاریٰ کے خلاف بد دعا کرنے میں مشغول ہیں جس طرح ہندوستان میں دکھائی دیتا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمان جس ملک میں رہتے ہیں اس سے نہ تو ان کو وطنی محبت ہے اور نہ ان ممالک کے باشندوں کے حق میں ان کی زبان سے دعائیہ کلمات نکلتے ہیں۔ ان کے یہاں صرف اپنی قوم کے لئے دعائیں ہیں۔ انہیں شاید معلوم نہیں کہ جو لوگ دوسروں کے حق میں نیک دعائیں نہ کر سکیں ان کی نیک دعائیں خود اپنے حق میں بھی قبول نہیں ہوتیں۔
مذکورہ رسالہ میں " تبلیغی جماعت " کے بارہ میں ایک مضمون تھا۔ اس کے آخر میں امت کو دعوت کی محنت پر ڈالنے کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ دعا کی گئی تھی : اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اپنے دین کے لئے قبول فرمائے (صفحہ ۸) رسالہ کی اشاعت کے نویں سال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا گیا تھا کہ : اللہ تعالیٰ ہمیں امت مسلمہ کی مزید خدمت کی توفیق نصیب فرمائے، آمین
اس قسم کی باتوں کو جب میں سنتا ہوں یا پڑھتا ہوں تو میرے دل سے ایک آہ نکلتی میں سوچنے لگتا ہوں کہ مسلمانوں نے اسلام کو اپنا قومی افتخار بنا لیا ہے۔ اور جو مذہب قومی افتخار بن جائے وہ نہ خدا کو مطلوب ہوتا ہے اور نہ خلق کو۔
مسٹر پرویز عالم (علیگ ) بی بی سی میں ہندی سیکشن کے پروڈیوسر ہیں۔ ان سے ملاقات انھوں نے برٹش سوسائٹی کے بارہ میں کئی باتیں بتائیں۔
انھوں نے کہا کہ سلمان رشدی کے خلاف جب مسلم دنیا میں تحریک چل رہی تھی تو
یہاں کے مسلمانوں نے بھی اس کے خلاف جلوس نکالا۔ اس کو تمام انگریزوں نے ٹی وی پر دیکھا۔ اس میں انہوں نے دیکھا کہ مسلمان لکڑی میں باندھ کر سلمان رشدی کی کتاب اٹھا رہے ہیں۔ آگ لگاتے ہیں۔ پھر اس کو زمین پر گراکر اس کو پیروں کے نیچے روندتے ہیں۔ چیختے چلا تے او ر نعرہ لگاتے ہیں۔
اس قسم کے مناظر تمام انگریزوں نے ٹی وی پر دیکھا تو لوگوں کے درمیان مسلمانوں کے خلاف سخت نفرت پیدا ہو گئی۔ وہ سمجھنے لگے کہ یہ کوئی وحشیانہ مذہب ہے۔ اب بھی جب کوئی اسلام یا مسلمان کی بات آتی ہے تو اس کے ساتھ بار بار وہ مناظر سامنے لائے جاتے ہیں۔ دیکھتا ہے کہ مسلمان اچھل اچھل کر جلتی ہوئی کتاب کو پیروں کے نیچے روند رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ ایک داڑھی والا مسلمان قصائی ہاتھ میں چھری لئے ہوئے ہے اور کہہ رہا ہے : میں تم کو مار ڈالوں گا (I will kill him.)
میں نے یہاں کے ایک مسلمان سے اس کا ذکر کیا۔ انھوں نے جواب دیا کہ یہ کچھ مسلمانوں نے کیا تھا نہ کہ سارے مسلمانوں نے۔ میں نے کہا کہ بقیہ مسلمانوں نے اس کے خلاف مذمتی بیان کیوں نہیں دیا۔ اور جب بقیہ مسلمانوں نے اس کی مذمت نہیں کی تو اسلام کی رو سے وہ بھی اس مجرمانہ فعل میں شریک ہیں۔ حدیث کی زبان میں وہ گونگے شیطان ہیں۔ ناگپور کے ایک ادارہ انڈیا پیس سنٹر (India Peace Centre) نے گاندھی پیس فاؤنڈیشن (نئی دہلی)، اور انسٹی ٹیوٹ آف گاندھین اسٹڈیز (واردھا) کے تعاون سے نومبر ۱۹۹۳ میں ایک چھ روزہ اسٹڈی کیمپ منعقد کیا۔ اس اسٹڈی کیمپ میں ملک کے تعلیم یافتہ افراد شریک اس کی تھیم تھی قومی دھارا اور اقلیت :