Al-Risala · February 1996

Minorities in India and the national mainstream.

Al-Risala, February 1996, pp. 26–28

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے منتظمین کی طرف سے مجھے دعوت نامہ ملا تھا کہ میں ۶ نومبر کو اس کے آخری اجلاس میں اختتامی خطاب (Valedictory address) پیش کروں۔ اس کے لئے مجھے ایک گھنٹہ کا وقت دیا گیا سفر سے پہلے دہلی میں میں نے ایک پیپر لکھنا شروع کیا۔ مگر محسوس ہوا کہ یہ موضوع بے حد مشکل کوشش کے باوجود پیپر تیار نہ ہوسکا۔ برمنگھم میں جب کہ میں جناب شمشاد محمد خاں صاحب

کے مکان میں ٹھہرا ہوا تھا۔ اچانک ایک روز صبح کو محسوس ہوا کہ پورا مضمون بیک وقت ذہن میں اتر آیا ہے۔ میں قلم کاغذلے کر بیٹھا اور اسی وقت اس کو لکھ ڈالا۔ یہ مضمون برمنگھم میں ٣٠ ستمبر ١٩٩٣ کی شام کو مکمل ہوا۔ یہ مقالہ الرسالة اردو اور انگریزی میں شائع ہو چکا ہے۔ احمدیہ موومنٹ (قائم شدہ ۱۸۸۹) کا ایک انگریزی ماہنامہ لندن سے نکلتا ہے۔ نام ہے: (The Review of Religions) اس ماہنامہ کے شمارہ جولائی ۱۹۹۳ میں پا دری جوناتھن ڈریپر (Rev. Dr. Jonathan Draper) کی ایک تقریر چھپی تھی جو انہوں نے لندن مسجد (London Mosque) میں یکم مئی ۱۹۹۳ کو کی تھی۔

اس تقریر میں انھوں نے کہا کہ کھلا پن (Openness) اینگلیکن ٹریڈیشن کی امتیازی انھوں نے اس پر خوشی کا اظہار کیا کہ آپ لوگ یہاں عیسائیت کے بارہ میں میری تقریر سننے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ اسی طرح میں امید کرتا ہوں کہ آپ میرے چرچ میں آئیں اور ہم کو اسلام کے سمجھنے میں مدد دیں :

But in the same way that you are now spending time learning about Christianity in its various forms, I hope that one day soon some of you will come to my church to help us learn something of Islam. (p. 18)

یہ زمانہ آزدا نہ طور پر سننے اور سنانے کا زمانہ ہے۔ اس کو ہمیں پوری طرح استعمال کرنا اس کی صورت یہ ہے کہ ہم دوسروں کے اجتماعات میں شریک ہو کر سنجیدگی کے ساتھ ان کی بات سنیں ۔ اس طرح تعلق بڑھانے کی صورت میں اپنے آپ مختلف صورتوں میں یہ مواقع نکلیں گے کہ ہم اسلام کی بات دوسروں تک پہنچا سکیں۔ حتی کہ دوسرے لوگ خود اپنے اجتماعات میں ہمیں بلائیں گے کہ آئے اور ہمیں بتائیے کہ اسلام کیا ہے ۔ جیسا کہ اسی سفر میں میرے ساتھ اٹلی میں پیش آیا۔ مگر اس جدید امکان کو استعمال کرنے کے لئے دو چیزوں کی لازمی ضرورت ہے ۔ صبر اور حکمت ۔

ریاض عبد السلام احمد ایک عرب نوجوان ہیں جو انگلستان میں رہتے ہیں۔ نے بتایا کہ خلیجی جنگ کے بعد ۱۹۹۱ میں لندن میں مصر کے شیخ عمر عبد الرحمن آئے۔ ان کا ایک

ویڈیو ٹیپ میں نے دیکھا ۔ اس کے مطابق ، مجلس میں انھوں نے کہا کہ کافروں کے ساتھ ہمارا تعلق صرف قتل اور جنگ کا ہے ۔ ایک مسیحی نے کھڑے ہو کر کہا کہ یا شیخ ، آپ کیوں صرف قتال کی آیتیں قرآن سے لیتے ہیں اور عفو اور نرمی اور محبت کی آیتوں کو چھوڑ دیتے ہیں ۔ شیخ عمر عبد الرحمن تردید میں پڑ گئے اور کہا کہ کافروں کے ساتھ معاملہ کے لئے ہمارا طریقہ یہی ہے : قال الشيخ عمر عبد الرحمن : علاقاتنا مع الكافرين القتل وغير هامن اساليب العنف - فقام رجل مسيحي وقال يا شيخ انا ممن تعدونهم كافرين ولكن يا شيخ ، لما تذهب الى آيات القتال وتعرض عن آيات العفو والتسامح والحب - فارتبك الشيخ وقال . هذا منهجنا في التعامل مع الكافرين ایک مجلس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے تمام مسلم دانشور اس اعلان میں مشغول ہیں کہ موجودہ زمانہ ایک اسلام دشمن زمانہ ہے ۔ امریکہ اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے ، اسی لئے وہ اسرائیل کی سر پرستی کر رہا ہے ۔ برطانیہ اسلام کا پشتینی دشمن ہے ، اسی لئے وہ سلمان رشدی کو پناہ دئے ہوئے ہے ۔ مگر عین اسی وقت مسلمان بہت بڑی تعداد میں ان ملکوں میں آکر آرام کے ساتھ رہ رہے ہیں ۔ چنانچہ امریکہ میں چھ ملین مسلمان آباد ہیں اور برطانیہ میں دو ملین مسلمان ۔

ذاتی معاملہ اور ملی معاملہ میں یہ فرق کیوں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسلمان اپنی ذات کے لئے مواقع کو دیکھتے ہیں اور اسلام کے لئے مسائل کو ۔ ذات کے معاملہ میں وہ مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو کی پالیسی کو اختیار کئے ہوئے ہیں اور جب اسلام کا معاملہ ہو تو فوراً اُمَسائل کو لے کر دوڑنا شروع کر دیتے ہیں ۔ اپنی ذات کے معاملہ میں وہ مسٹر نو پر البم بنے ہوئے ہیں اور اسلام کا معاملہ ہو تو وہ فوراً مسٹر پر البم بن جاتے مسلمانوں کا یہی تضاد موجودہ زمانہ میں تمام ملی مصیبتوں کا اصل سبب ہے ۔ معاملہ میں انھوں نے فطرت کے اصول کو اختیار کیا اس لئے ذات کے معاملہ میں وہ کامیاب اسلام کے معاملہ میں وہ فطرت کے اصول کو اختیار نہ کر سکے اس لئے انفرادی ترقی کے باوجود بحیثیت ملت انھیں ترقی حاصل نہ ہوسکی ۔

Printed page