Al-Risala · February 1996

۲۸ العرب ال فروری ۱۹۹۶

Al-Risala, February 1996, pp. 29–34

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مجلس میں میں نے کہا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب بنو آدم کو زمین پر بسانے کا ارادہ کیا تو فرشتوں نے کہا : اتجعل فيها من يفسد فيها ويسفك الدماء ونحن نسبح بحمدك ونقدس لك ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انسان کو آزاد مخلوق کی حیثیت سے زمین پر بسایا جانے والا تھا۔ اور فرشتے جانتے تھے کہ آزاد مخلوق لازماً اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے گی اور زمین پر فساد برپا کرے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے اس شبہہ کی تردید نہیں کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرشتوں کا شبہہ درست تھا اور بعد کی تاریخ میں وہ عملی طور پر درست ثابت ہوگیا۔

اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی اس بات کو قبول نہیں کیا کہ نحسن نسج بحمدک و نتقدس لک ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فرشتے اضطراری حامد اور اضطراری مسیح تھے ۔ کو ایسی مخلوق درکار تھی جو اختیاری حامد اور اختیاری مسیح ہو ۔ پوری تاریخ اگر فسادیوں سے بھر جائے اور صرف تھوڑے سے مطلوب انسان مل سکیں تب بھی وہ اس قابل تھا کہ تاریخ بشری کا یہ عظیم ہنگامہ وجود میں لایا جائے ۔

برطانیہ میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً دو ملین ہے۔ ان میں سے زیادہ تر پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس کے بعد ترک اور عرب ہیں ۔ تقریباً دس ہزار وہ انگریز ہیں ، جنھوں نے اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔

۳۵ سال پہلے برطانیہ میں صرف دس مسجدیں تھیں ۔ مگر آج یہاں ۱۴۵ مسجدیں موجود ہیں برطانیہ کی پہلی مسجد ووکنگ میں ۱۸۹۰ میں بنائی گئی تھی۔ لندن کی پہلی مسجد غالباً ۱۹۳۳ میں بنی اس کے علاوہ پورے برطانیہ میں ۲۰۰ کی تعداد میں اسلامی مرکز قائم کئے جا چکے ہیں ۔ حتیٰ کہ یہاں روایتی انداز کا دارالعلوم بھی قائم ہے ۔ جس میں طلبہ کی تعداد ۳۵۰ ہے۔ مجموعی طور پر برطانیہ میں ایک درجن کی تعداد میں بڑے مدرسے قائم ہو چکے ہیں ۔ لندن کا مرکز سب سے بڑا اسلامی مرکز ہے ، یہاں مختلف قسم کی اسلامی سرگرمیاں سال بھر جاری رہتی ہیں۔ لائبریری میں دس ہزار سے زیادہ کتابیں ہیں ۔ اس کے مطالعہ کے ہال میں بیک وقت ایک ہزار آدمی بیٹھ کر مطالعہ کر سکتے ہیں ۔ ایک اندازہ کے مطابق ، ہر سال تقریباً ۲۰ ہزار انگریز طلبہ ۲۹ اردو ڈائجسٹ (۵) ۱۹۶۹

المركز الثقافی الاسلامی میں اسلام کے بارے میں جاننے کے لئے آتے ہیں۔

آپ دنیا کے جس حصہ میں بھی جائیں ہر جگہ ایک چیز ضرور دکھائی دے گی۔ مسلمانوں کے اوپر غیر مسلموں کے ظلم کی داستان ہے۔ برطانیہ میں قیام کے زمانہ میں مجھے ایک کتاب اس میں برما کے مسلمانوں پر مظالم کی داستان بتائی گئی تھی۔ اس کا نام تھا _ مسلمو بورما : حملات آباده - اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ برما کی حکومت وہاں کے مسلمانوں کو فنا کرنے کی کوشش کر رہی مگر یہ واقعہ کا نصف ثانی ہے۔ اصل یہ ہے کہ برما کے ایک حصہ میں مسلمانوں نے علیحدگی کی تحریک اس کے نتیجہ میں وہ وہاں معتوب ہو گئے۔ اس سے پہلے وہ برما میں امن کے ساتھ رہ رہے تھے۔ ایک عرب نوجوان نے ایک رپورٹ پڑھنے کے لئے دی۔ اس کا عنوان تھا : بريطانيا - مشکلات المسلمین ۔ اس کے مطابق برطانیہ کا کیس مسلمانوں کے لئے گویا مشکلات کا کیس تھا۔ اس میں برطانی مسلمانوں کی مشکلات کے ذیل میں بغض، سیکولر تعلیمی نظام، نسل پرستی اور تشدد کو شمار کیا گیا تھا اس کے بعد کہا گیا تھا کہ برطانیہ کے مسلمان اگر ان مشکلات کو حل کر لیں تو یہاں اسلام کے لئے عظیم مستقبل ہے ان الاسلام فی بريطانيا سيكون له مستقبل عظیم اذا تمكنوا من حل المشكلات السابقة (صفحه ۴۹۲ اس کو پڑھنے کے بعد میں نے کہا کہ ان الفاظ میں موجودہ زمانہ کے مسلم دانشوروں کی سب سے بڑی غلطی کا راز چھپا ہوا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مستقبل کی تعمیر کا آغاز مشکلات کو ختم کرنے سے ہوتا ہے۔ حالاں کہ مستقبل کی تعمیر کا صحیح آغاز یہ ہے کہ مشکلات کو نظر انداز کر کے کے مواقع کو استعمال کیا جائے: زعماء المسلمين يعتقدون ان بناء المستقبل يبدأ من حل المشاكل . والصحيح ان بناء المستقبل يبدأ من الاعراض عن المشاكل واستغلال الفرص. ۲۹ ستمبر کو فجر کی نماز برمنگھم کی سنٹرل مسجد (مرکزی مسجد ) میں پڑھی۔ اس میں بیک وقت تین ہزار آدمی نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اب ایک اور مسجد بنائی جا رہی ہے جس میں پانچ ہزار آدمیوں کے لئے گنجائش ہوگی۔

نمازیوں کی تعداد بہت کم تھی ۔ نماز ختم ہوئی تو چھ آدمی حلقہ بنا کر بیٹھ گئے۔ وہ روزانہ اجتماعی

طور پر قرآن پڑھتے ہیں۔ سب کے سب زیادہ عمر کے تھے جن کے بال سفید ہو چکے ہیں۔ یہ غالباً وہ لوگ ہیں جو اپنے بیٹے یا رشتہ داروں کے ساتھ یہاں مقیم ہیں۔ ان میں کوئی بھی نوجوان موجود مجھے بار بیڈوز کے ایک نوجوان کا قصہ یاد ہے جس کا باپ اس کو اپنے ساتھ مسجد میں لے آیا۔ وہ ایک کنارے الٹا رخ کر کے بیٹھ گیا۔ کسی نے سبب پوچھا تو کہا کہ : me not مسجد میں مذکورہ منظر دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کہ کچھ بوڑھے اور ریٹائرڈ لوگ تو قرآن میں دلچسپی لے رہے ہوں اور نوجوان نسل کہہ رہی ہو کہ: یہ میرے لئے نہیں۔ نماز کے بعد ایک مجلس میں میں نے کہا کہ فجر کی نماز کے بارہ میں ایک بڑی عجیب حدیث اس کے الفاظ یہ ہیں کہ من صلی الصبح فھو فی ذمۃ اللہ (جس نے صبح کی نماز پڑھ لی وہ خدا کی ذمہ داری میں آگیا)۔ گویا فجر کی نماز اللہ کی طرف سے حفاظت کی گارنٹی ہے۔ پھر میں نے کہا کہ یہ کوئی پر اسرار بات نہیں بلکہ ایک ایسی بات ہے جو غور و فکر سے سمجھ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز آدمی کے اندر وہ صفات پیدا کرتی ہے جس کے بعد آدمی لوگوں کی دست برد سے محفوظ ہو جائے۔ مثلاً نماز کی چند باتوں کو لیجئے ۔ آپ بستر سے اٹھ کر سب سے پہلے وضو کرتے ہیں۔ وضو گویا ایک علامتی فعل کے ذریعہ اس بات کا عزم ہے کہ آپ اخلاقی اور روحانی اعتبار سے پاک رہیں گے۔ پھر نماز میں بار بار اللہ اکبر کہتے ہیں۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ آپ اللہ کی بڑائی کے احساس میں جئیں گے اور تواضع کی روش اختیار کریں گے۔ ہر رکعت میں الحمد للہ رب العالمین کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہر حال میں اللہ کا شکر کریں گے۔ جو بھی اللہ نے دیا ہے اس پر قانع رہیں گے۔ آخر میں آپ دونوں طرف رخ کر کے کہتے ہیں کہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ گویا کہ آپ اہل عالم کو یہ بتا رہے ہیں کہ ان کے لئے آپ کے دل میں صرف رحمت اور سلامتی کا جذبہ ہوگا۔

صبح کی نماز میں جو لوگ اس قسم کے اخلاق کی تربیت پا کر نکلیں ان کا یہ اعلیٰ انسانی اخلاق خود ہی ان کی محبوبیت اور حفاظت کی ضمانت بن جائے گا۔

برمنگھم میں میں اپنی رہائش گاہ کے حمام میں گیا تو وہاں جو صابن تھا اس کا نام عنبر تھا۔ لکھا ہوا تھا ، الصابون الحلال ، خال من الدهن الحيواني :

صابن کے کاغذی ڈبہ پر عربی اور فرنچ اور انگلش میں الرجاء الانتباہکے تحت لکھا ہوا تھا کہ اکثر صابن کا سٹک سوڈ ااور حیوانی چربی کے ذریعہ بنائے جاتے ہیں۔ مگر عنبر صابون حلال اسلامی صابن ہے جو خالص نباتی تیل کے ذریعہ بنایا گیا ہے۔ اس کے انگریزی الفاظ کسی قدر فرق کے ساتھ یہ تھے:

یہ گویا صابن کا اسلامائزیشن تھا۔ یہ اسلامی صابن ایک برٹش فرم نے بنایا ہے ۔ نے سوچا کہ اگر ہم یہ واضح کر سکیں کہ اسلامی اصول تمہارے لئے مفید اصول ہیں تو دنیا تمام تعصبات کو چھوڑ کر اسلامی اصول کو اختیار کر لے گی۔

جو لوگ مغربی ملکوں میں ہیں وہ مسلم ملکوں کے مقابلہ میں اپنے بچوں کے دین کے لئے زیادہ چوکنار ہتے ہیں۔ شمشاد صاحب کے گھر میں ایک بار میں حمام سے نکل کر اپنے کمرہ کی طرف چلا تو دوسرے کمرے سے آواز آئی مسٹر شمشاد اپنے صاحبزادے سے کہہ رہی تھیں: جھوٹ بولنے سے کیا ملا ، گناہ ملانہ ، لکھ گیا اوپر۔

برمنگھم کی ایک تقریر کے بعد ایک صاحب نے سوال کیا کہ مغربی ملکوں میں ہمارے بچے یہاں کے کلچر سے بہت تیزی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس سے حفاظت کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ میں نے مذکورہ واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہی ماحول ہر گھر میں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ بچہ کے دل میں بچپن سے یہ ڈال دیں کہ تمہارا قول و فعل اوپر لکھا جارہا ہے تو وہ ساری زندگی کے لئے اس کا چیک بن جائے گا۔

میں نے کہا کہ اس معاملہ میں ہم کو حقیقت پسند بننا چاہئے۔ مثلاً اگر آپ یہ مطالبہ لے کر اٹھیں کہ ہمیں سی این این اور بی بی سی کو اسلامائز کرنا ہے تو بظاہر وہ بہت شاندار معلوم مگر ایسا مطالبہ کبھی پورا ہونے والا نہیں۔ اس لئے ہمیں وہ کرنا ہے جو ممکن ہے اور ہمارے

بس میں ہے۔ اور ممکن اور بس کی چیز یہی ہے کہ ہر گھر کو تربیت گاہ اور دینی مدرسہ بنا دیا جائے۔ ایگ عراقی تاجر ابراہیم تہامس نے ایک بڑی عجیب بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ حدیث جبریل میں قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بتائی گئی ہے کہ لونڈی اپنا آقا جنے گی (و ان تلد الا مۃ ربتھا) اس پر سوچتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اس سے مراد غالبًا (surrogate mother) کا ظاہر ہے جو موجودہ زمانہ میں وجود میں آیا ہے۔ جدید مغربی سماج میں دولت مند خاندان کی عورتیں جو بچہ کے حمل کی مصیبت اٹھانا نہیں چاہتیں اور اسی کے ساتھ یہ چاہتی ہیں کہ ان کے پیٹ کی شیپ خراب نہ ہو وہ اس قسم کی تدبیر اختیار کر رہی ہیں۔ خاص طور پر امریکہ میں اس کا رواج دولت مند لوگوں کے یہاں بڑھ رہا ہے۔ اس طریقہ میں یہ کیا جاتا ہے کہ مرد کا اسپرم اور عورت کا ایک لے کر لیبو رٹری میں فرٹائل کیا جاتا ہے۔ پھر اس کو عورت کے رحم womb میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس طرح وہ عورت کے رحم میں پرورش پا کر اپنے وقت پر پیدا ہو جاتا ہے۔ دولت مند عورتیں اپنی ملازمہ عورت سے یا کسی غریب عورت کو کچھ رقم دے کر ایسا کرتی ہیں۔

اس تشریح کی صورت میں مذکورہ حدیث بالکل لفظی طور پر صادق آتی ہے۔ کیوں کہ اس میں ماں کی حیثیت فی الواقع لونڈی کی ہوتی ہے اور اس کے پیٹ سے جو بچہ نکلتا ہے وہ فی الواقع اس کا آقا ہوتا ہے۔

۲۰ سال پہلے تک سروگیٹ مدر کا تصور موجود نہ تھا۔ ایسی حالت میں ۱۴سو سال پہلے عرب کے ایک شخص کی زبان سے یہ جملہ نکلنا اس کا قطعی ثبوت ہے کہ وہ شخص خدا کا پیغمبر تھا۔ اس کے سوا اس کی کوئی اور توجیہ نہیں کی جا سکتی۔

یہاں کے ایک شخص مسٹر فریڈ نے جناب شمشاد خاں صاحب سے سوال کیا کہ برٹرینڈرسل نے لکھا ہے کہ گناہ کرنا اگر گناہ ہے تو گناہ کی بات سوچنا بھی گناہ ہے۔ خدا جب کہتا ہے کہ فلاں کام گناہ ہے اس کو مت کرو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے خود بھی گناہ کیا۔ کیوں کہ گناہ کا خیال ذہن میں لائے بغیر گناہ نہیں کیا جا سکتا۔

شمشاد خاں صاحب نے جواب دیا کہ ایک مینوفیکچر رایک سامان بناتا ہے اور اس کے ساتھ

ایک گائیڈ بک رکھ دیتا ہے کہ اس سامان کو اس طرح استعمال کرو اگر اس کے خلاف کرو گے تو سامان خراب ہو جائے گا۔ ایسی حالت میں کیا مینوفیکچر مجرم ہے۔ کیوں کہ مینوفیکچر نے جو کچھ کیا تمہارے فائدے کے لئے کیا۔ ایسی گائیڈ دینے کی بنا پر خود اس کو جرم میں شریک نہیں قرار دیا جا سکتا۔

اس مثال سے تم خدا کے معاملے کو سمجھ سکتے ہو۔ خدا نے جب انسان کو بنایا تو انسان کے لئے جو مفید ترین ہدایات تھیں وہ بھی اس کو پیغمبروں کے ذریعہ بتا دیں۔ پھر جب تم مینوفیکچر کو ہدایت نامہ دینے کی بنا پر مجرم نہیں مانتے تو خدا کو ہدایت نامہ دینے کی بنا پر کیوں ایسا کہہ رہے ہو۔

شمشاد خاں صاحب کے اندر دعوہ ورک کاجذبہ بہت زیادہ ہے۔ ان کا اگر چہ مستقل بزنس ہے مگر ان کی دل چسپی سب سے زیادہ دعوت کے کام سے ہے۔ انھوں نے اس مقصد کے لئے ایک خوب صورت مرکز (اسلامک پروپگیشن سنٹر برمنگھم میں قائم کیا ہے۔ ذریعہ اب تک تقریباً ۵۰۰ لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں۔ وہ ایک زبر دست کام کر رہے ہیں جس کا نام ہے: گھر گھر اسلام کا تعارف پہنچانا :

Printed page