Al-Risala · February 1996

From denial to belief

Al-Risala, February 1996, pp. 34–42

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوتی کام کے سلسلہ میں انھوں نے کئی عجیب قصے بتائے۔ مثلاً ایک انگریز جس کا قدیم نام ڈیوڈ مورس Dawid Morris تھا ۔ ان سے شمشاد خاں صاحب کا ربط قائم ہوا۔ عرصہ تک گفت گو اور مطالعہ کے بعد آخر انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اب نام کا مسئلہ تھا۔ خاں صاحب نے کہا کہ نام بدلنا کوئی ضروری نہیں ہے۔ مگر انھوں نے کہا کہ نہیں۔ (منافق) بن کر رہنا نہیں چاہتا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد مجھے اپنا نام بھی بدلنا ہے۔

کچھ دنوں بعد ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ انھوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ کسی مسجد میں داخل ہوکر وضو کر رہے ہیں۔ اتنے میں عربی لباس میں ایک بزرگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نماز کے لئے جماعت تیار ہے، آجاؤ۔ یہ بزرگ ان کوڈیوڈموریس نہیں کہتے۔ بلکہ ان کو محمد اسلام کے نام سے اس خواب سے وہ نہایت خوش ہوئے اور اپنا نام محمد اسلام رکھ لیا۔ وہ نیوکیسل میں رہتے ہیں اور ایک بڑی سروس میں ہیں۔

ایک صاحب نے بتایا کہ پاکستان کے ایک صاحب روزگار کی تلاش میں سعودی عرب وہاں عرصہ تک وہ پریشان رہے کیوں کہ کوئی کام نہیں ملا۔ اس وقت مکہ میں ایک ہندوستانی بزرگ رہتے تھے۔ وہ ان سے دعا کے لئے ملے اور ان کو تحفہ کے طور پر دال روٹی پیش کیا۔ نے اس کو خوشی سے قبول کرتے ہوئے کہا کہ تمہارا کام بن گیا ۔ تم دال لائے ہو۔ اس کے شروع میں د کا حرف دہے اسی طرح دین، دولت، دنیا، سب کے شروع میں ہے۔ تم کو تینوں چیزیں مل گئیں ۔

اس کے بعد مذکورہ صاحب کو ایک اچھی سروس مل گئی۔ انھوں نے کافی ترقی کی ۔ طرح کے واقعات میں بچپن سے سنت آیا ہوں ۔ لوگ ان کو بزرگ کا کرشمہ سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ وہ محض

شمشاد خاں صاحب تعلیمی لحاظ سے انجینئر ہیں۔ چنانچہ ان کے اندر یہ خاص ملکہ ہے کہ کسی بات کو نہایت درست الفاظ اور انداز میں بیان کرسکیں ۔ ایک روز ان سے منافقت پر گفتگو ہورہی اس سلسلے میں انھوں نے اپنے کچھ تجربات بتائے۔ میں نے کہا کہ آپ کو اگر ایک جملہ میں منافق کی تعریف کرنا ہو تو آپ کیا کہیں گے۔ انھوں نے ان الفاظ میں منافق کی تعریف کی: One, who, for some ulterior motives, makes pretences, continuously. میں نے کہا کہ واقعی یہ منافق انسان کی بہت صحیح اور جامع تشریح ہے۔

پاکستانی روزنامہ جنگ کے لندن ایڈیشن (۲۹ ستمبر ۱۹۹۳) میں "لندن نامہ" کے عنوان سے ایک مضمون تھا۔ اس کا پہلا فقرہ یہ تھا:

"برطانیہ اور یورپ میں آباد پاکستانیوں اور کشمیریوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے

کہ جس معاشرے میں وہ رہتے ہیں، یہ نہ تو پاکستانی معاشرہ ہے اور نہ ہی اسلامی معاشرہ۔ زندگی گزارنے کے لئے ہمیں بہر حال مقامی معاشرہ کے ساتھ ساتھ چلنا ہو گا ۔ یہ ہماری مجبوری ہے

باہر کے ملکوں میں ہر جگہ مسلمان اس "مجبوری" کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔ مگر اپنے ملک میں وہ اس کے لئے تیار نہیں۔ تا ہم میں کہوں گا کہ کم از کم ہندوستان کی حد تک یہ مجبوری کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہاں مکمل آزادی ہے۔ یہاں مسلمانوں کو صرف یہ جاننا ہے کہ زندگی کا سب سے اہم اصول ایڈجسٹمنٹ ہے۔ اس اصول کی ضرورت ہندوستان میں بھی ہے اور پاکستان میں بھی اور دوسرے تمام ملکوں میں بھی۔

روزنامہ جنگ (۲۸ ستمبر) کی ایک رپورٹ سے معلوم ہوا کہ پاکستان کی ایم کیو ایم میں ایک بنیادی تبدیلی آئی ہے۔ حتیٰ کہ انھوں نے اپنا نام بدل دیا ہے۔ ایم کیو ایم کا لفظ بدستور باقی رہے گا۔ مگر پہلے اس کا مطلب یہ ہوتا تھا مہاجر قومی موومنٹ ۔ اور اب اس کا مطلب ہو گا متحدہ قومی موومنٹ ۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین جو آجکل لندن میں مقیم ہیں ۳ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو پشاور کے ایک جلسہ سے لندن سے ٹیلی فون پر خطاب کریں گے ۔ کے لیڈر پہلے مہاجر قومیت ہونے کو اپنی شناخت بنائے ہوئے تھے۔ مگر یہ تحریک ناکام اب وہ پاکستانی قومیت کو اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔ جنگ (۲۹ ستمبر) میں ایک مضمون میں بتایا گیا ہے کہ بالآخر ایم کیو ایم نے مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ قومی موومنٹ کی شکل اختیار کرلی۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کے مسلمانوں میں بھی ایک اعتبار سے یہی عمل جاری ہے۔ تک وہ ہندوستان کی عمومی قومیت سے الگ اپنی انفرادی قومیت پر اصرار کرتے رہے تھے۔ ۱۹۹۲ کے بعد ان کی سوچ میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ علیحدہ قومیت کے بجائے اب وہ ہندوستانی قومیت کو اپنی شناخت بنانے کی طرف تیزی سے جارہے ہیں۔ یہ ایک صحت مند نقطہ نظر جیسا کہ مولا حسین احمد مدنی نے کہا تھا : قومیں اوطان سے بنتی ہیں نہ کہ مذہب سے۔ شمشاد خاں صاحب کے یہاں ایک کرسچین خاتون ہفتہ وار صفائی کے لئے آتی تھی۔

اس کا نام پرل تھا۔ وہ اپنی ذاتی کار پر آتی تھی۔ میں نے صاحب خانہ سے پوچھا کہ یہ گھروں میں صفائی کرنے والے لوگ جاہل ہوتے ہیں یا پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یہ خاتون جو ہمارے یہاں آتی ہے وہ باقاعدہ تعلیم یافتہ ہے اور اس سے پہلے وہ ایک آفس میں سکریٹری اس نے کسی وجہ سے سروس چھوڑ دی۔ اب وہ گھروں میں صفائی کا کام کر رہی ہے۔ نے بتایا کہ یہ لوگ کام میں کوئی عیب نہیں سمجھتے۔ آپ ایک شخص کو دیکھیں گے کہ وہ صفائی کا کام یا اور کوئی بظاہر چھوٹا کام کر رہا ہے۔ حالاں کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوگا۔ اس کے پاس کار اور ذاتی

یہ بات انڈیا جیسے ملک کے لئے بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ وہاں ایسی حیثیت کا کوئی آدمی صفائی کا کام کرنا کبھی پسند نہیں کرے گا۔ اس قصہ پر مجھے اقبال احمد سہیل مرحوم کی ایک نظم اس میں بتایا گیا تھا کہ ہمارے اسلاف کس طرح کام کو عار نہیں سمجھتے تھے۔ اس کا ایک شعر یہ تھا :

تھے امام ابو حنیفہ کون اک بزاز تھے اور فرید الدین سا شیخ اجل عطار تھا ۲۸ ستمبر کی شام کو برمنگھم میں پہلا خطاب تھا۔ یہ اینڈ رٹن روڈ (Anderton Road) پر اسپارک بروک سنٹر میں رکھا گیا تھا۔ مقامی مسلمانوں کے علاوہ باہر سے بھی کچھ افراد اس میں شریک چھ روزہ قیام کے دوران یہاں اس نوعیت کے چھ خطاب رکھے گئے ہیں۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ موجودہ زمانہ میں اگرچہ ہمارے لئے بہت سی مشکلات ہیں۔ مشکلات زندگی کا حصہ ہیں۔ وہ کسی ایک یا دوسری صورت میں، ہمیشہ دنیا میں باقی رہتی ہیں۔ زیادہ قابل لحاظ بات یہ ہے کہ قانون فطرت کے تحت یہاں عسر کے ساتھ یسر بھی لازمی طور پر موجود رہتا ہے۔ اس لئے ہمارے لئے کسی بھی حال میں مایوسی کا کوئی سوال نہیں۔ آخر میں سوال و جواب کا پروگرام تھا۔

اسی کے ساتھ اسلامی مرکز کی انگریزی کتابوں اور انگریزی رسالہ کا اسٹال بھی رکھا گیا بہت سے لوگوں نے یہاں سے کتابیں حاصل کیں۔

ایک صاحب نے کہا کہ آج ہر جگہ یہ کوشش ہو رہی ہے کہ مسلم نسلوں کو اسلام سے بیگانہ

کر دیا جائے اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اسلام دین فطرت ہے۔ طاقت اس پر قادرنہیں کہ وہ فطرت کو بلڈ و ز کر سکے۔ ترکی اور روس کی مثالیں اس کا کھلا ہوا

۲۹ ستمبر کی شام کو والسل (Walsall) کے اسلامک کلچر سنٹر میں دوسرا خطاب ہوا۔ میں نے اتحاد کے موضوع پر خطاب کیا۔ میں نے کہا کہ آج ساری دنیا میں مسلمان ایک بلین کی تعداد میں ہیں۔ حالات نے ان کو دنیا کے ہر گوشہ میں پہنچا دیا ہے۔ ان کے پاس ہر قسم کے وسائل ہمیشہ سے زیادہ موجود ہیں۔ اس کے باوجود مسلمان جدید دور میں عزت کا مقام حاصل نہ کر سکے۔ اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ان کے درمیان اتحاد واتفاق نہیں۔ میں نے کہا کہ لوگ کوئی ایک یا دوسری شکایت لے کر باہم لڑنے لگتے ہیں۔ گویا وہ سمجھتے ہیں کہ اتحاد اس وقت ہوگا جب سرے سے شکایت کا خاتمہ ہو جائے۔ مگر ایسا ہونا کبھی ممکن پھر میں نے صحابہ کے بہت سے واقعات بتائے کہ کس طرح وہ شکایتوں کے باوجود متحد رہتے تھے۔ مثلاً حضرت خالد کو سرداری کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا ، مگر اس کے باوجود وہ بدستور مل کر جہاد کرتے رہے۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی نظر عہدہ پر نہیں ہوتی تھی بلکہ ثواب پر ہوتی تھی۔ وہ سوچتے تھے کہ عہدہ نہیں تو اس سے کیا فرق پڑا۔ ثواب تو ان شاء اللہ مجھے حاصل ہے۔ آج لوگوں کی نظر ثواب کے بجائے عہدوں پر ہو گئی ہے۔ اس لئے ان میں اتحاد نہیں ہونے پاتا۔ ۳۰ ستمبر کی شام کو دار العلوم (Coventry Road) میں خطاب تھا۔ اس کا موضوع تھا اسلام میں علم کی اہمیت۔ میں نے کہا کہ عرب کے ایک سفر میں میری ملاقات ایک عرب عالم سے انھوں نے کہا کہ اس وقت مسلمان طرح طرح کی مشکلات میں مبتلا ہیں۔ ہر طرف ان کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ ایسی حالت میں سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ ہم اپنے عمل کا آغاز کہاں سے کریں۔ (من این نبدأ)

میں نے کہا کہ اس کا جواب تو قرآن میں موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب پہلی وحی اتری تو عرب میں بہت سے مسائل تھے۔ کعبہ میں ۳۶۰ بت ، رومیوں اور ایرانیوں کا تدخل

یہود و نصاریٰ کی عرب میں موجودگی۔ سماج میں مختلف قسم کے جرائم۔ مگر قرآن میں جو پہلی آیت اتری وہ یہ یں تھی کہ _ طھر الکعبة من الاصنام يا قاتل الفرس و الرومان يا اخر ج اليهود و النصارى من جزيرة العرب يا نفذ حدود الله على المجرمين_ اس کے بجائے قرآن کی پہلی آیت یہ تھی کہ پڑھ (اقرأ)، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسائل خواہ کتنے ہی زیادہ ہوں مگر عمل کا آغاز علم سے کرنا چاہئے۔ یہی طریقہ پہلے بھی اختیار کیا گیا اور یہی طریقہ آج بھی اختیار

ایک مسلمان تاجر سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے یہاں بڑی تجارتی کامیابی حاصل وہ اعلیٰ معیار کی زندگی گزارتے ہیں۔ ایک صاحب نے ان کا تعارف کراتے ہوئے کہا: اللہ نے ان کو بہت نوازا ہے۔

میں نے کہا کہ آپ لوگوں کی یہ سوچ قرآنی سوچ نہیں۔ کیا آپ مجھے قرآن کی کوئی آیت بتا سکتے ہیں جس میں دنیوی ترقی کو "نوازش" کہا گیا ہو۔ وہ کوئی ایسی آیت نہ بتا سکے۔ کہا کہ دنیا میں نہ زیادہ ملنا نہ تو نوازش ہے اور نہ کم ملنا غیر نوازش۔ قرآن کے مطابق دونوں حالتیں ابتلاء کی حالتیں ہیں۔ اقتصادی تنگی کو اہانت سمجھنا بھی غلط ہے اور اقتصادی خوش حالی کو اکرام سمجھنا بھی غلط (الفجر ۱۵ - ۱۶)

حدیث میں ہے کہ لكل امة فتنة وفتنة اُمتی المال ۔ اس حدیث میں اس آنے والے دور کی پیشین گوئی ہے جب کہ لوگوں کے لئے سب سے بڑی چیز مال بن جائے گا۔ آج وہی زمانہ تمام لوگ مال کو اپنی دلچسپی بنائے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کا حال بھی یہی ہے۔ ظاہری فرق کے ساتھ کہ کچھ مسلمان دولت پرستی کے ساتھ "دین داری" کا ضمیمہ بھی اپنے ساتھ لگائے اور کچھ لوگ اس ضمیمہ کے بغیر دولت پرستی کے کام میں مشغول ہیں۔ ٹائمز (The Times) کے شمارہ ۳۰ ستمبر ۱۹۹۳ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بوسنیا ہر زے گووینا میں ۱۰ مہینے کی جنگ کے بعد اس کا ۹۰ فیصد حصہ سرب اور کروٹ کے قبضہ میں چلا گیا ہے۔ موجودہ پیس پلان میں قدیم یوگوسلاویہ تین نسل حصوں میں بٹ جائے سرب ، کروٹ اور مسلمان ، مسلم لیڈر شپ تقسیم پر راضی ہوگئی ہے۔

چاہتی ہے کہ سرب فوج نے جن علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اس کو وہ خالی کرے اور سمندری ساحل کا چار فیصد حصہ اس کو دیا جائے۔ مگر سرب فوج اس پر راضی نہیں۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے جہاں بھی اس قسم کی تحریک اٹھائی ہے، ہر جگہ ان کو پسپائی اختیار کرنی پڑی ہے۔ اراکان (برما) میں، فلپائن میں، فلسطین میں، بوسنیا میں۔ ہر جگہ یہی ہوا ہے کہ مسلم لیڈروں نے زیادہ کی طرف چھلانگ لگائی اور آخر میں صرف کم ہی ان کے حصہ میں آیا۔ یہی اب کشمیر میں ہونے والا ہے۔

مسلمان اس کو اقدام کی سیاست سمجھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اگر اس کا نام اقدام کی سیاست ہو تو پسپائی کی سیاست آخر کس چیز کا نام ہوگا۔

برطانیہ کے مسلمانوں میں اکثریت پاکستان (بشمول بنگلہ دیش) کی ہے۔ میں پاکستانی اور بنگلہ دیشی ایک ساتھ مل کر نہ رہ سکے۔ لیکن انگریز مملکت میں دونوں نہایت اطمینان کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

بیسویں صدی کے نصف اول میں جب پاکستان کا مطالبہ کیا گیا تو اس کے پیچھے ڈاکٹر محمد اقبال کا یہ ذہن تھا کہ :

اپنی ملت پر قياس اقوام مغرب سے نہ کر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی برصغیر کے مسلمانوں نے بہت بڑے پیمانہ پر یہ مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کو اپنے تشخص کے ساتھ زندہ رہنے کے لئے ایک علیحدہ خطۂ زمین کی ضرورت ہے۔ مسٹر محمد علی جناح اور دوسرے لوگوں نے اس کی زبردست وکالت کی۔ یہاں تک کہ پاکستان کی صورت میں ایک مسلم ہوم لینڈ بن گیا۔ مسلم ہوم لینڈ بننے کے بعد مسلمانوں نے اس کو صرف زینہ کے طور پر استعمال کیا۔ اور ہر شخص جس کو موقع ملا وہ پرواز کر کے دوبارہ "اقوام مغرب" کی دنیا میں پہنچ گیا۔

یہ بلا شبہ ایک جرم تھا جو اسلام کے نام پر کیا گیا۔ اس میں مسلمانوں کے لیڈر اور عوام دونوں شریک ہیں۔ اس جرم کی کم سے کم تلافی یہ ہے کہ صاف لفظوں میں اس کا اقرار کر کے اللہ تعالیٰ سے اس کی معافی کی دعا کی جائے۔

برطانیہ میں مقیم ایک عرب کو کچھ سفید فام نوجوانوں نے وحشیانہ طور پر قتل کر دیا۔

سے انٹرویو لیا گیا جس کو بات عدہ ٹی وی پر دکھایا گیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ تم نے اس کو کیوں قتل کر دیا۔ نوجوانوں نے صاف کہا کہ ان ایشیائیوں کو ہمیں اپنے ملک سے نکالنا ہے۔ کیوں کہ وہ ہمارے لئے مسئلہ بن گئے ہیں۔ وہ جہاں سے آئے ہیں وہیں چلے جائیں ورنہ بزور انہیں نکلنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔

برطانیہ میں ایک پارٹی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کا نام ہے برٹش نیشنل پارٹی (BNP) یہ نسل پرست لوگوں کی تنظیم ہے۔ وہ باہر سے آنے والے مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کو ایشیائی (Asians) کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد ان ایشیائی لوگوں کو برطانیہ سے نکالنا ہے کیوں کہ وہ ہماری اقتصادیات پر بوجھ بن چکے ہیں۔ یہ لوگ اکثر ایشیائیوں پر حملے کرتے رہتے ہیں تاکہ وہ خوف زدہ ہو کر یہاں سے بھاگ جائیں۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانیہ کو اپنی اقتصادی مشین چلانے کے لئے لیبر کی سخت انھوں نے ایشیائیوں کی آمد کی حوصلہ افزائی کی۔ چنانچہ بڑے پیمانے پر ایشیائی ملکوں کے لوگ یہاں آگئے۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد پاکستان ، بنگلہ دیش اور انڈیا کی تھی۔ اب خودکاری (automation) کا دور آگیا اور اس کے نتیجہ میں انھیں بیرونی کارکنوں کی ضرورت نہ چنانچہ یہ باہر سے آئے ہوئے لوگ ان کی نظر میں غیر مطلوب (unwanted) بن گئے۔ یہ زبردست خطرہ ہے جو ایشیائیوں کے سر پر منڈلا رہا ہے اور جو سب سے زیادہ مسلمانوں کے حصہ میں آنے والا ہے۔ اس کے جواب میں یہاں کے مسلمانوں میں احتجاج کا ذہن ابھر رہا ہے۔ مگر احتجاج اس مسئلہ کا حل نہیں۔ اس کا حل صرف ایک ہے، اور وہ مسلمانوں کو یہاں داعی بن کر رہنا ہوگا۔ اگر انھوں نے احتجاجی سیاست کا طریقہ اختیار کیا تو مجھے اندیشہ ہے کہ ان کا وہی حال نہ ہو جائے جو بوسنیا میں مسلمانوں کا ہوا۔ یکم اکتوبر کو جمعہ کا دن تھا۔ آج برمنگھم کی مرکزی مسجد (central mosque) میں خطاب کا اسی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی۔ خطبہ سے پہلے آدھ گھنٹہ نماز کے موضوع پر تقریر کی۔ میں نے کہا کہ قرآن و حدیث کے مطابق، نماز صرف ایک ظاہری عمل کا نام نہیں ہے بلکہ ایک اسپرٹ کا نام ہے۔ ظاہری اعمال کا پیمانہ یہی روحانی اور اخلاقی اسپرٹ ہے۔ اگر نماز سے یہ اسپرٹ پیدا الحمر ال فروری ۱۹۹۶

ہور ہی ہو تو وہ مطلوب نماز ہے اور اگر یہ اسپرٹ پیدانہ ہو تو حدیث کی زبان میں اس سے کہا جائے گا : ارجع فصلّ فانّك لم تصل۔

نماز سے فراغت کے بعد کئی لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ اکثر لوگوں نے پسندیدگی کا اظہار ایک صاحب ملے۔ انھوں نے کہا کہ میرا ایک سوال ہے۔ میں اس کا جواب چاہتا ہوں۔ میں نے کہا فرمائیے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے قرآن کے ترجمہ میں ایک جگہ ”شیطان کی اولاد “ پڑھا ہے ، تو کیا شیطان میں بھی شادی بیاہ کا سلسلہ ہے۔

پوچھنے والوں کو یہ پوچھنا چاہئے کہ شیطان کی تلبیسات کیا ہیں اور ان سے بچنے کی تدبیر کیا ہے۔ مگر لوگ عجیب و غریب طور پر یہ پوچھ رہے ہیں کہ شیطان کے یہاں کیا شادی بیاہ اور اولاد کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں میں نہ صحیح دینی فہم پیدا ہوا اور نہ صحیح علمی مزاج۔ جمعہ کی نماز ختم ہوئی تو نماز جنازہ کا اعلان ہوا۔ لوگ اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے ۔ کے بعد دو اسٹول لاکر اگلی صف کے آگے بچھائے گئے۔ پھر کچھ آدمی خوبصورت قسم کا ایک لمبا بکس لائے اور اس کو اسٹول کے اوپر رکھ دیا۔ یہ عمدہ لکڑی کا بنا ہوا تابوت تھا۔ اس کے اندر میت تھی اور اس کو نہایت مضبوطی کے ساتھ پیک کر دیا گیا تھا۔ تمام لوگوں نے نماز جنازہ پڑھی۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہاں کے قانون کے مطابق ، جس طرح عیسائی لوگ اپنی میت کو تابوت میں دفن کرتے ہیں، اسی طرح مسلمانوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ اپنی میت کو تابوت میں رکھ کر دفن کریں۔ یہ قانون شعبہ ماحولیات (environmental department) کی طرف سے بنایا گیا یہ تابوت مخصوص کارخانوں میں اہتمام کے ساتھ بنائے جاتے ہیں، اور وہ بہت مہنگے ہوتے یعنی ہندوستانی روپیہ کے لحاظ سے ۲۵ ہزار روپیہ سے لے کر پچاس ہزار روپیہ تک۔ انڈیا کی حکومت اگر ماحولیاتی تحفظ کے نام پر اس قسم کے تابوت کو ضروری قرار دے تو ہندوستان کے نام نہاد رہنمااس کو ”شریعت میں مداخلت “ قرار دے کر فورا اس کے خلاف احتجاجی تحریک چلا دیں گے ۔ مگر برطانیہ کے دو ملین مسلمان اس کو بلا احتجاج قبول کئے ہوئے ہیں۔ اسی کا نام ایڈجسٹمنٹ ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لئے ایڈجسٹمنٹ ایک ملک میں جائز ہے اور دوسرے ملک میں ناجائز۔

Printed page