شخصیت پرستی : اصل سبب
Al-Risala, January 1996, pp. 7–9
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اسلام میں اجتہاد کی اتنی زیادہ حوصلہ افزائی کی گئی تھی کہ غلطی کا اندیشہ ہو تب بھی اپنی نیت بیخر رکھتے ہوئے اجتہاد کرو۔ دوسری طرف عقل کہتی ہے کہ حالات
ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں ، اس لیے اجتہاد کا عمل لازمی طور پر جاری رہنا چاہیے ۔ ان دو طرفہ تقاضوں کے باوجود کیوں ایسا ہوا کہ اجتہاد کا عمل قولاً یا عملاً بند کر دیا گیا۔
اس پر غور کرنے کے بعد سمجھ میں آتا ہے کہ اس کی وہ نہیں ہے جو عام طور پر بیان کی جاتی ہے ، یعنی رجالِ اجتہاد کا معدوم ہو جانا۔ اس کی اصل وجہ شخصیت پرستی ہے۔ یہ در اصل شخصیت پرستی کا ظاہرہ(Phenomenon) (Phenomenon) ہے۔ اس کے پیچھے کوئی بھی حقیقی وجہ، عملی یا نظریاتی موجود نہیں۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہو گا کہ اجتہاد مقید کو اس لیے جائز رکھا گیا کہ اس میں اکابر پر زد نہیں پڑتی۔ اجتہاد مطلق کو اس لیے ممنوع قرار دے دیا گیا کہ اس میں اکابر کی شخصیت زد میں آجاتی ہے۔ اجتہاد کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے تنقید کا ماحول انتہائی طور پر ضروری ہے۔ ابتدائی چار صدیوں میں تنقید اور اختلاف کی کھلی اجازت تھی ۔ امام محمد امام ابو حنیفہ کے شاگرد تھے۔ مگر انھوں نے اپنے استاد سے ایک سو سے زیادہ مسائل میں اختلاف کیا۔ مگر بعد کی صدیوں میں بڑھی ہوئی اکابر پرستی نے تنقید و اختلاف کو ایک امر ممنوع (taboo) بنا دیا۔ یہی وہ فکری صورت حال ہے جس نے اجتہاد کے عمل کا خاتمہ کر دیا۔ اور اس کی توجیہہ کے لیے لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اب چونکہ پہلے جیسے بڑے علماءء پیدانہیں ہو سکتے اس لیے اب اجتہاد کا دروازہ بھی عملاً بند رہے گا۔
اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہو گا کہ بعد کے دور میں اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ بلکہ تنقید و اختلاف کا دروازہ بند ہو گیا۔ اب اصول یہ قرار پا یا کہ جس اجتہاد کی زد کسی شخصیت پر نہ پڑے وہ اجتہاد جائز ہے، اور جس اجتہاد کی زد کسی شخصیت پر پڑے وہ اجتہاد نا جائز۔
اجتہاد کی ضرورت ہمیشہ اس وقت پیش آتی ہے جب کہ نئی صورت حال سامنے آنے کی بنا پر پچھلے علما کی رائیں یا فتاویٰ غیر متعلق بن گئے ہوں، اور ضرورت پیش آگئی ہو کہ دین کے اصل ماخذ (قرآن وسنت) پر از سر نو غور کر کے نئے مسئلے کے بارے میں شرعی حکم کا تعین کیا جائے، مثال کے طور پر فتاویٰ قاضی خان (م ۱۱۹۶ء) میں لکھا ہوا ہے کہ ایک شخص اگر قسم کھا کر یہ کہہ دے کہ میں ہوا میں اڑوں گا اور اڑ نہ سکے تو اس پر قسم کا کفارہ لازم نہیں آئے گا، کیوں کہ یہ ایک لغو قسم ہے۔ اب ہوائی جہاز کے زمانہ میں ہوائی پرواز ممکن ہو گئی ہے۔ اس لیے اب ایسی قسم لغو قسم نہیں
اس بنا پر اگر کوئی شخص اجتہاد کر کے اس معاملہ میں نیا فتوی دے تو وہ دور سابق کے حنفی فقیہ قاضی خاں پر تنقید کے ہم معنی ہوگا۔ سابق فقیہ کی رائے کو رد کیے بغیر اس مسئلہ میں نیا فتوی نہیں دیا جا سکتا۔
یہی خاص وجہ ہے جس کی بنا پر بعد کے دور میں لوگ معاملات میں مجتہد انہ رائے دینے سے ایسی ہررائے دور سابق کے کسی عالم کی رائے سے ٹکراتی تھی، اور چونکہ دور سابق کے علماء کو تنقید سے بالاتر سمجھ لیا گیا تھا اس لیے قولاً یا عملاً اجتہاد کا دروازہ بند کر دیا گیا۔ تاکہ نہ اجتہاد کرنا ہو اور نہ ماضی کے علماء پر تنقید کی نوبت آئے۔