Al-Risala · March 1997

یہ فرق کیوں

Al-Risala, March 1997, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر پیغمبر کے زمانہ میں یہ واقعہ پیش آیا کہ جو لوگ پچھلے پیغمبر کو مانتے تھے، انھوں نے اپنے زمانہ کے پیغمبر کا انکار کر دیا۔ پچھلے پیغمبر کو ماننے والوں کے ساتھ وہ دوستی اور تعاون کا معاملہ کرتے مگر معاصر پیغمبر کے ساتھ انھوں نے اپنے آپ کو وابستہ نہیں کیا۔ وہ معاصر پیغمبر کو اپنا تعاون دینے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی کا پیغمبر سماجی روایات میں شامل ہو چکا تھا۔ اس کے نام پر ادارے سماج میں ان کا یہ درجہ بن چکا تھا کہ ان کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کرنے میں سماجی عزت حاصل ہوتی تھی۔ پچھلے پیغمبر کے نام پر سر گرم ہونے سے سماج میں حیثیت بلند ہوتی تھی۔ معاصر پیغمبر کا معاملہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ معاصر پیغمبر لوگوں کی نظر میں ابھی ثابت شدہ پیغمبر نہیں بنا تھا۔ اس کی حیثیت ایک نزاعی شخصیت کی تھی۔ نہ کہ مسلمہ شخصیت کی۔ پچھلے پیغمبر کو پانے کے لیے صرف سماج کا ساتھ دینا کافی تھا۔ جب کہ نئے پیغمبر کو ماننے کے لیے ضروری تھا کہ آدمی کے اندر وہ نگاہ ہو جو سماجی روایات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے۔

ان دونوں گروہوں کو تقلیدی ذہن اور انقلابی ذہن کے الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ ہر زمانہ میں بیشتر لوگ تقلیدی ذہن کے ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر زمانہ میں پچھلی قائم شدہ شخصیتوں کے نام پر بھیڑ اکٹھار ہتی ہے۔ مگر نئی شخصیت غیر قائم شدہ ہونے کی بنا پر صرف انھیں غیر معمولی افراد کو متاثر کر پاتی ہے جو انقلابی ذہن کے حامل ہوں۔ جو خارجی چیزوں سے اوپر اٹھ کر حقیقت کی سطح پر باتوں کو دیکھیں اور گہری بنیادوں پر آزادانہ فیصلہ کر سکیں۔

خدا کو وہ ایمان مطلوب نہیں ہے جو عوامی رواج یا سماجی تقلید کے زیر اثر بنا ہو۔ وہ ایمان مطلوب ہے جو اس طرح حاصل ہو کہ وہ آدمی کی اپنی دریافت بن جائے۔ یہ وہ ایمان ہے جس میں آدمی درمیانی پردوں کو پھاڑ کر براہ راست خدا کو پا لیتا ہے، وہ ظواہر سے گزر کر اصل حقیقت تک براہ راست پہنچ جاتا ہے۔

ان میں سے ایک معرفت ہے اور دوسرا صرف تقلید۔

Printed page