Al-Risala · March 1997

Redefining the good society

Al-Risala, March 1997, pp. 14–16

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کانفرنس کی دعوت پر شملہ کا سفر ہوا۔ یہ شملہ کے لئے میرا پہلا سفر تھا۔ ذیل میں اس سفر کی مختصر رو داد درج کی جاتی ہے۔

۴ جولائی ۱۹۹۴ کو صبح ۵ بجے گھر سے روانگی ہوئی۔ ابھی سورج نہیں نکلا تھا۔ مگر فضا میں اجالا پھیل جولائیاں رات کے اندھیرے میں گم تھیں وہ صبح کی روشنی میں نمایاں ہوتی جا رہی تھیں۔ ایسا لگا جیسے یہ آفاقی ماحول خاموش زبان میں کہہ رہا ہے کہ جھوٹ ور سچ کا معاملہ بھی یہی ہے ۔ جھوٹے پروپیگنڈوں کا طوفان تھوڑی دیر کے لئے حقیقت کو چھپا سکتا ہے۔ مگر خود فطرت کے نظام کے تحت یقینی ہے کہ سچائی کا آفتاب طلوع ہوا اور جھوٹے پروپیگنڈوں کا اس طرح خاتمہ کر دے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

منتظمین نے سفر کا انتظام ہمالین کوئن ایکسپریس سے کیا تھا۔ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر پہنچاتو انسانوں کی ایک بھیڑ آتی اور جاتی نظر آئی۔ ریلوے کی طرف سے لاؤڈ اسپیکر پر ٹرینوں کے بارہ میں مختلف اعلان کیا جا رہا تھا۔ ہمالین کوئن کے بارہ میں بتایا گیا کہ وہ اپنے سمے پر ٹھیک ۴ بجے روانہ ہوگی۔ البتہ آج خلاف معمول اس کی روانگی کا انتظام پلیٹ فارم نمبر ا سے کیا گیا تھا۔ پلیٹ فارم پر پہنچے تو اے سی فرسٹ" کی دوا سپیشل بوگی سامنے نظر آئی۔ یہ کانفرنس کے شرکاء کے لئے مخصوص کی گئی تھی۔ میری کیبن میں میرے علاوہ پی آر چاری (IAS) تھے۔ اس طرح کے کیبن میں عام طور پر چار مسافر ہوتے ہیں۔ مگر اس میں صرف ہم دو آدمی تھے۔ بوگی کے اندر کھانے وغیرہ کے تمام انتظامات ہوائی جہاز کے فرسٹ کلاس کے معیار پر کئے گئے تھے۔

راستہ میں ٹائمس آف انڈیا (۴ جولائی ۱۹۹۴) پڑھا۔ اس میں ایک رپورٹ بہتر زندگی (Living Better) کے زیر عنوان تھی۔ ڈاکٹر رانی راؤ نے لکھا تھا کہ ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ چلانا

ایک صحت مند عمل ہے۔ چلانے کو روکنا نہیں چاہئے۔ کیوں کہ ذہنی تناؤ کو ختم کرنے کے لئے چلانا بہت ضروری ہے:

Crying is very crucial for relieving tension. It should not be suppressed. میرے ہم سفر مسٹر پی آر چاری نے کہا کہ ایڈ منسٹریٹر کی حیثیت سے میرا تجربہ ہے کہ جو جلوس جوشیلے نعرے لگاتا ہوا آرہا ہے وہ خطر ناک نہیں ہے۔ البتہ جو جلوس خاموش مظاہرہ کر رہا ہو وہ زیادہ خطر ناک ہے۔ کیوں کہ نعرہ باز جلوس تو اپنا ٹنشن خود ہی نکال رہا ہے۔ جب کہ خاموش جلوس کے ٹنشن کو نکالنا آپ کی ہوشیاری پر منحصر ہے۔

باہر دونوں طرف سر سبز مناظر تھے جن کے درمیان سے ہماری ٹرین گزر رہی تھی۔ مسٹر پی آر چاری تھے جو اپنے تجربات سنا رہے تھے۔ اس طرح سفر بہت آسانی کے ساتھ طے ہوتا رہا۔ اس طرح کے مواقع پر میں خود بہت کم بولتا ہوں۔ میرا طریقہ یہ ہے کہ میں سوال کرتا رہتا ہوں اور اس طرح دوسرے کو بولنے کا موقع دیتا ہوں۔ یہی میں نے مسٹر چاری کے ساتھ کیا۔ اکثر میرا سوال یہ ہوتا ہے کہ اپنا کوئی خاص انہو بتا لئیے۔ آپ کی زندگی کی خاص دریافت کیا ہے۔ ان سے بھی میں نے اسی قسم کے سوالات کئے۔ انھوں نے اپنے کئی قصے بتائے۔ مسٹر چاری (آئی اے ایس) اس سے پہلے کلکٹر تھے، پھر وہ سکریٹری کے عہدہ تک پہنچ گئے اب انھوں نے انتظامی سروس سے پیشگی ریٹائر منٹ لے لیا ہے۔ کیبن میں چوں کہ صرف ہم دو آدمی تھے، ان سے کافی باتیں ہوئیں۔ انھوں نے ایک بڑا سبق آموز تجربہ بتایا۔

انھوں نے بتایا کہ ۳۰ سال پہلے وہ مدھیہ پر دیش کے ضلع چھتر پور میں کلکٹر تھے۔ ان کا کلکٹریٹ کا آفس راجہ کے قدیم محل میں تھا۔ جون ۱۹۶۵ کا واقعہ ہے، وہ اپنے دفتر میں کام کر رہے تھے کہ وائس پر پولیس افسر کا یہ پیغام ملاکہ شہر کے ہندوؤں کی ایک بھیڑ کلکٹریٹ کی طرف بڑھ وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم کلکٹر کو ایک میمورنڈم پیش کرنا چاہتے ہیں۔ مگر وہ لوگ بھرے ہوئے ہیں اور آپ کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگا رہے ہیں۔ آپ اجازت دیں کہ ہم فورس کو استعمال کر کے انھیں یہیں روک دیں۔ اگر وہ کلکٹریٹ تک پہنچ گئے تو وہ ضرور تشدد کریں گے۔ مسٹر چاری نے بتایا کہ میں نے پولیس افسر کی رپورٹ پر اعتماد نہیں کیا۔ بلکہ اپنا آدمی بھیجا کہ

جا کر معلوم کرو کہ حقیقی صورت حال کیا ہے۔ آدمی نے بتایا کہ پولیس افسر کی رپورٹ تو درست ہے۔ البتہ وہ لوگ سخت دھوپ سے پسینہ پسینہ ہورہے ہیں اور پیاس کی وجہ سے ان کے گلے اتنے سوکھ گئے ہیں کہ نعرہ لگانا بھی ان کے لئے مشکل ہورہا ہے۔ مسٹر چاری نے فوراً اپنے ڈپٹی کلکٹر سے کہا کہ بہت سی بڑی بڑی ناندمنگواؤ اور اس میں ٹھنڈا پانی بھر کر کلکٹریٹ کے سامنے کے میدان میں اور وہاں پینے کے لئے بہت سے کوزے بھی رکھ دو۔

فوراً اس حکم کی تعمیل کی گئی۔ کچھ دیر کے بعد جب جلوس والے وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ٹھنڈا پانی وہاں بڑی مقدار میں موجود ہے۔ تمام لوگ پانی پر ٹوٹ پڑے۔ ہر ایک نے جی بھر کر پانی پیا۔ بعد اپنے آپ تمام لوگ ٹھنڈے ہوگئے۔ جلوس کے لیڈر کلکٹر صاحب کے دفتر میں آکر ان سے ملے۔ مگر انہوں نے نہ سخت کلامی کی اور نہ کوئی تشدد کیا۔ بلکہ کلکٹر سے معافی مانگ کرہنستے ہوئے چلے گئے۔ مسٹر چاری نے یہ واقعہ مجھ سے ٹرین میں بیان کیا تھا۔ اس کے بعد میں نے اس کو ان کے حوالے سے کانفرنس کی صدارتی تقریر میں دہرایا۔ مسٹر چاری نے بعد کو بتایا کہ کا نفرنس کے ایک ڈیلی گیٹ مسٹر پی این دھر) ان سے پوچھ رہے تھے کہ یہ واقعہ ہے یا افسانہ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے اعلیٰ ترین دماغ بھی مثبت انداز میں سوچنے سے کس قدر عاجز ہیں۔ ایک صاحب نے زمانہ کا فرق بتاتے ہوئے کہا ہے کہ جب ریلوے ٹرین ایجاد ہوئی تو کہا جانے لگا کہ تاریخ ٹرین کے ذریعہ سفر کرتی ہے :

Printed page