Al-Risala · January 1997

داعی کی ذمہ داری

Al-Risala, January 1997, pp. 12–13

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن (البقرہ ۱۴۳) میں امت محمدی کو امت وسط کہا گیا ہے۔ فرمایا کہ اور اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا ، تاکہ تم گواہ ہو لوگوں کے اوپر اور رسول تمہارے اوپر گواہ ہو (وكذلك جعلناكم امة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا)

وسط کے معنی درمیان کے ہیں مثلاً ایک لائن میں ایک ، دو، تین لکھا جائے تو دو اس کا درمیانی قرآن میں نماز عصر کو صلاۃ وسطی کہا گیا ہے۔ کیوں کہ وہ رات کی دو نمازوں اور دن کی دو نمازوں کے درمیان ہے (لانها وسط بين صلاتي الليل وصلاتي النهار) لسان العرب ۷ / ۲۳۰ اس کا مطلب یہ ہے کہ دعوت و شہادت کے اعتبار سے امت محمدی کا رول ایک درمیانی رول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے اس کو خدا کا دین ملا۔ اب اسے قیامت تک نیابت امر دین کو اہل عالم تک پہنچاتے رہنا ہے ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اقوام عالم کے درمیان ہے (هم وسط بين النبي صلى الله عليه وسلم وبين الامم) تفسیر طبری ۸/۲ اس اعتبار سے گویا مسلمان کی حیثیت ایک قسم کے درمیانی آدمی (middle-man) کی ہے۔ اپنا درمیانی کردار اسی وقت ادا کر سکتا ہے جب کہ وہ طرفین کے نزدیک قابل اعتماد ہو۔ اسی لیے قرآن میں پیغمبر کے بارے میں آیا ہے کہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ میں تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچا رہا ہوں اور میں تمہارے لیے نصح اور امین ہوں (ابلغكم رسالات ربي وانا لكم ناصح امين) الاعراف ۶۸ یعنی خدا کی نسبت سے امین اور انسانوں کی نسبت سے ناصح۔ ناصح کا مطلب خیر خواہ ہے۔ لفظ غش (بدخواهی) کا ضد ہے۔ نصیحت کی تشریح میں ابن الاثیر نے کہا کہ یہ مخاطب کے لیے بہتری چاہنا ہے (هي ارادة الخير للمنصوح له)۔ النابغہ کا شعر ہے کہ میں نے بنو عوف سے ان کی خیر خواہی کی بات کہی مگر انھوں نے اس کو قبول نہیں کیا :

نصحت بنی عوف فلم يتقبلوا (لسان العرب ۱۶/۲- ۶۱۵)

امین کا لفظ خائن کا ضد ہے۔ یعنی امانت دار۔ یہاں امین کا مطلب یہ ہے کہ میں عین وہی بات تم کو بتا رہا ہوں جو مجھ کو خدا سے ملی ہے۔ میں نے اس میں کچھ بھی فرق نہیں کیا ہے۔ خدا نے اپنے دین کا

جو علم مجھے عطا کیا ہے، پوری امانت داری کے ساتھ عین وہی علم میں تم کو پہنچارہاہوں۔ مخاطب قوم کے لیے ناصح بننے کا معیار قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ داعی اپنی مدعو قوم سے کسی بھی قسم کے اجر کا طالب نہ ہو۔ پیغمبر نے اپنی قوم سے کہا: یا قوم لا اسئلکم علیہ اجراً (ھود ۵۱) یہ بے حد اہم بات ہے۔ کیوں کہ داعی اگر اپنے مدعو سے کسی بھی قسم کا اجر چاہے تو اس کی خیر خواہانہ حیثیت مشتبہ ہوجائے گی۔ امین ثابت ہونے کا معیار یہ ہے کہ داعی اپنے مدعو سے وہی کہے جو اس کو خدا کی طرف سے ملا ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کی کمی یا بیشی یا تبدیلی نہ کرے۔ قرآن میں ہے کہ پیغمبر نے اپنی قوم سے کہا : انی رسول من حقيق على ان لا اقول على ٱللَّهِ الا الحق (الاعراف ۱۰۵) مجھ پر واجب ہے کہ میں خدا پر نہ لگاؤں مگر وہی بات جو واقعہ ہے۔ یعنی خدا کی طرف سے ٹھیک ٹھیک پیغام رسانی کروں۔

امین اور ناصح ـــــــ یہ دو لفظ داعی کی پوری شخصیت کو بتاتے ہیں۔ داعی کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ دین خدا کے معاملہ میں پوری طرح امین بنے، اور مدعو کی نسبت سے وہ پوری طرح اس کا خیر خواہ ثابت ہو۔ ان دونوں ذمہ داریوں میں سے کسی ایک میں بھی اگر کمی واقع ہو تو دعوت کا عمل حقیقی طور پر انجام پانا ناممکن ہوجائے گا۔

دین خدا کے معاملہ میں امین بننے کے لیے اس کو ایسا ذہن بنانا ہے جو ہر قسم کے تعصب سے پاک ہو، تاکہ وہ دین کو اس کی صحیح صورت میں سمجھ سکے۔ اور مدعو یا خدا کے بندوں کے معاملہ میں اس کو انتہائی حد تک صابر و شاکر بننا ہے تاکہ لوگوں کی طرف سے زیادتی کا تجربہ ہو تب بھی وہ خیر خواہی اور ہمدردی کی روش سے نہ ہٹے ۔ وہ لوگوں کے رد عمل سے بے نیاز ہو کر ان کی اصلاح و نجات کا حریص بنا رہے۔ حیات بشری کا ربانی طریقہ مولاناوحید الدین خاں

Printed page