History travels by Fax machines.
Al-Risala, March 1997, pp. 16–21
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک ہم سفر نے کہا کہ ہم لوگوں کی سوچ زمانہ کی رفتار کے مطابق نہیں۔ ہم نے ہندی زبان کو پہلے نیشنل لینگویج کہا۔ مگر وہ ناکام ہو گیا۔ اب ہم ہندی کو لنک لینگو یج کانام دے رہے ہیں۔ پہلے ہم نے ریجنل زبانوں کو نظر انداز کر دیا تھا۔ اب ہندی کولنک لینگویج کہہ کر ہم ریجنل زبانوں کی اہمیت کا اعتراف کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے اندر دور اندیشی کی کمی ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی ہے ۔
ہماری سوچ زمانے سے بہت پیچھے ہے۔
دن میں گیارہ بجے ہماری ٹرین کالکا پہنچی۔ یہاں سے ہمارا اقامتہ گاڑیوں کے ذریعہ آگے روانہ ہوا۔ ریلوے اسٹیشن سے پہلے ہم لوگ ہوٹل شوالک لے جائے گئے۔ یہاں کچھ دیر آرام کرنا تھا ۔ میں نے غسل کیا۔ پھر مسٹر انور جعفری (بھوپال) سے تبادلہ خیال کرتا رہا۔ میں ہوٹل کی طعام گاہ میں لمبی میز پر سب لوگوں نے اکٹھے کھانا کھایا۔ یہیں ظہر کی نماز پڑھی۔ ہوٹل شوالک میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ میرے ایک دوست فرقہ پرستی کے بہت مخالف ہیں۔ چنانچہ انھوں نے انگریزی میں ایک میگزین نکالا ہے جس کا نام فرقہ پرستی سے لڑو (Combat Communalism) میں نے کہا کہ زیادہ بہتر یہ تھا کہ وہ اخوت کو فروغ دو (Promote Brotherhood) کے نام سے اپنا میگزین نکالتے میں نے کہا کہ وہ لوگ جن کو فرقہ پرست کہا جاتا ہے ، وہ کوئی بھیڑیوں کی مانند ہم سے الگ نوع نہیں ہیں۔ وہ بھی ہماری ہی طرح کے انسان ہیں۔ ان کے اندر بھی وہی فطرت ہے جو ہمارے البتہ ان کی فطرت پر کچھ عارضی پردے پڑ گئے ہیں۔ آپ حکمت سے ان پر دوں کو ہٹا اور پھر آپ دیکھیں گے کہ وہ بھی آپ ہی کی طرح شریف انسان بن گئے ہیں۔ ڈیڑھ بجے کالکا سے شملہ کے لئے روانگی ہوئی۔ میں جس کار میں تھا اس میں میرے ساتھ جسٹس آرایس پاٹھک بھی تھے۔ وہ چیف جسٹس آف انڈیا رہ چکے ہیں۔ انٹرنیشنل کورٹ میں وہ دو سال تک رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی کے بہت سے واقعات بتائے۔ راجیو گاندھی کی حکومت کے زمانہ میں شاہ اردن کی دعوت پر وہ چار روز کے لئے اردن بھی جا چکے ہیں۔ سے میں نے کہا کہ آپ نے انڈیا کے اندر اور انڈیا کے باہر بہت کچھ دیکھا ہے۔ آپ اپنا کوئی انوکھا واقعہ (incident) بتائیے۔ مگر اس وقت انھوں نے ایسا کوئی واقعہ نہیں بتایا بتایا۔ نے مسکرا کر کہا کہ پھر بتائیں گے۔
جسٹس آرایس پاٹھک نے بتایا کہ جب وہ انٹرنیشنل کورٹ میں پہنچے اور پہلا فیصلہ لکھا تو میرا فیصلہ رد کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ میں نے اسی عام زبان میں لکھا تھا جس کا میں ہندوستان کی عدالت میں عادی ہو چکا تھا۔ یعنی ایک فریق کی جیت اور دوسرے فریق کی ہار کا اعلان ۔
انٹرنیشنل کورٹ کے فیصلوں میں یہ زبان نہیں چلتی۔ وہاں فریقین کی سماعت کے بعد جب فیصلہ دیتا ہے تو اس کو وہ ایسی زبان میں لکھتا ہے کہ جیتنے والا تو اس میں فاتح نظر آئے مگر ہارنے والا بھی اپنے کو مفتوح نہ سمجھے۔
کالکا سے شملہ کا سفر بذریعہ روڈ طے ہوا۔ یہ سفر تقریباً تین گھنٹہ کا تھا۔ پورا راستہ سرسبز وادیوں کے درمیان سے گزرا۔ میں نے سوچا کہ یہ مناظر کتنے حسین ہیں۔ ان کو دیکھ کر جی چاہنے لگتا ہے کہ انھیں کے درمیان زندگی گزاری جائے۔ مگر جب آدمی یہاں شہر بسا تا ہے تو طرح طرح کی آلودگی بہت جلد اس کے حسن کو غارت کر دیتی ہے۔ اور اگر شہر نہ بسایا جائے تو انسان جیسی مخلوق کے لئے ان کے درمیان زندگی گزار نا ممکن نہیں۔ کیسا عجیب معجزہ ہے جس سے انسان اس دنیا میں دوچار ہے۔ شاید یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ ـــــ لقد خلقنا الانسان فی کبد ـ ہماری کار کے ڈرائیور گر پال سنگھ تھے۔ ان سے میں نے گاڑی چلانے کی بابت انھوں نے کہا کہ گاڑی چلاتے ہوئے ہم کو ہر وقت سبک رہنا پڑتا ہے۔ آپ ٹھیک چل رہے ہیں، دوسرا غلط آگیا تو اس سے بھی ہمیں کو بچاؤ کرنا پڑتا ہے۔ دوسری بات انھوں نے میدانی سفر اور پہاڑی سفر کے بارہ میں بتائی۔ نے کہا کہ میدان میں تو میٹرک دور تک دکھائی دیتی ہے۔ وہاں آپ گاڑی کو تیز بھی دوڑا مگر پہاڑی سڑکوں پر آپ ۳۰- ۳۵ کلو میٹر فی گھنٹہ سے زیادہ نہیں جا سکتے یہاں بار بار موڑ آتا ہے۔ آپ کو پتہ نہیں ہوتا کہ موڑ کے ادھر کیا ہے۔ اس لئے ہم کو سلو چلنا پڑتا ہے، ورنہ ٹکر آؤ کا بہت ڈر ہے۔ راستہ میں کئی جگہ گاڑیاں الٹی ہوئی نظر آئیں میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ شاید وہی لوگ ہیں جنھوں نے پہاڑی سڑک پر بھی اپنی گاڑی اس طرح دوڑانی شروع کردی تھی جیسے کوئی شخص میدانی سڑک پر گاڑی دوڑاتا ہے۔ ایک جگہ لینڈ سلائڈ ہوا تھا۔ مٹی اور پتھر بہت بڑی مقدار میں اوپر سے گر کر سڑک پر ڈھیر ہو گئے تھے۔ تا ہم یہ سڑک کافی چوڑی ہے۔ اس لئے ملبہ آدھی سڑک تک پھیلا۔ سڑک پر پھیل کر سواریوں کے لئے رکاوٹ نہ بن سکا۔
سڑک کے ذریعہ تقریباً ڈھائی گھنٹہ سفر کرنے کے بعد ہم ''بادلوں'' کے اندر داخل ہوگئے۔ شملہ ۲۲۰۰ میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس لئے یہاں موسم بالکل بدل جاتا ہے۔ آتے ہی ہم بادلوں کی اونچائی پر پہنچ جاتے ہیں۔
زمین پر جس طرح کبھی کبھی کہر ہو جاتی ہے۔ اسی طرح یہاں ہر طرف بادل چھائے ہوئے اس کی وجہ سے سڑک پر کسی قدر اندھیرا ہو گیا تھا۔ اس طرح بادلوں کے درمیان چلتے ہوئے ہم شملہ میں داخل ہوگئے۔
شملہ میں میرا قیام ہوٹل ہالی ڈے ہوم (کمرہ نمبر ۳۰۶) میں تھا۔ میدانی ہوٹلوں کی طرح اس سے ملحق لان اور گارڈن نہیں ہیں۔ پہاڑوں کے اوپر جو ہوٹل بنائے جاتے ہیں وہ عام طور پر ایسے ہی ہوتے ہیں۔
یہاں ایک سرکاری افسر سے ملاقات ہوئی۔ گفت گو کے دوران انھوں نے کہا کہ جب میں طالب علم تھا تو میرے بہت سے دوست تھے۔ پھر جب میں جونیئر افسر کی پوسٹ پر تھا تب بھی میرے دوستوں کی تعداد کافی تھی۔ مگر جب میں ترقی کرکے اعلیٰ افسر بن گیا تو میرے دوست بہت کم ہوگئے۔ نے پوچھا کہ اس کی وجہ آپ کے خیال سے کیا ہے۔ انھوں نے فوراً کہا کہ رقابت (rivalry) اسی کو مذہب کی اصطلاح میں حسد کہا جاتا ہے۔
حسد کا مرض اس دنیا میں بہت زیادہ عام ہے۔ بلکہ شاید کوئی بھی شخص اس جذبہ سے دوسرا آدمی جب تک آپ کو اپنے سے کم یا برابر دکھائی دے، آپ کے احساسات اس کے بارہ میں نارمل رہتے ہیں۔ مگر جب آپ کو محسوس ہو کہ دوسرا شخص عہدہ یا مال یا شہرت میں آپ سے آگے بڑھ گیا ہے تو فوراً آپ کے اندر اس کے خلاف جلن پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی کاٹ کرنے لگتے ہیں تاکہ اس کو غلط بتاکر اپنے اس جذبہ کو تسکین دیں کہ اب بھی آپ اس سے بلند ہیں۔
یہ نفسیاتی کمزوری کبھی شعوری طور پر آدمی کے اندر آتی ہے لیکن زیادہ تر آدمی کے دماغ میں غیر شعوری طور پر داخل ہو جاتی ہے۔ بطور خود آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے اندر کسی کے خلاف جلن اور حسد نہیں، حالاں کہ آپ مکمل طور پر حسد کی ذہنیت کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں۔
شملہ ہماچل پردیش کا صدر مقام ہے۔ وہ ہمالیہ کے اوپر ۲۲۰۰ میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ ہندوستان کے چند انتہائی مشہور پہاڑی مقامات میں سے ایک ہے۔ دہلی سے اس کا فاصلہ تقریباً ۳۴۰ کلومیٹر ہے۔
شملہ کو ۱۸۱۶-۱۸۱۴ میں انگریزوں نے بسایا تھا۔ اس وقت اس کا مقصد برطانی فوجی دستوں کو وہاں رکھنا تھا۔ بعد کو وہ گرمیوں کا موسم گزارنے کے لئے ایک مقبول پہاڑی مقام بن گیا۔ ۱۸۶۵ سے ۱۹۳۹ تک وہ گرمیوں کے لئے ملک کی راجدھانی رہا۔
جب تک میں نے شملہ کو نہیں دیکھا تھا، شملہ ایک افسانوی شہر معلوم ہوتا تھا۔ مگر دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ بھی دوسری بستیوں کی طرح ایک بستی ہے۔ کسی زمانہ میں یہاں فطرت کا حسن ہوگا، صحت بخش ہوا لوگوں کو ملتی ہوگی، سکون کا ماحول نظر آتا ہوگا۔ مگر آج وہ شملہ کہیں موجود نہیں۔ اس کے راستوں میں چلتے ہوئے میرا احساس یہ تھا کہ یہ گویا مکانوں کا ایک جنگل ہے جس میں کچھ انسان نما مخلوق ہر طرف بھیڑ لگائے ہوئے ہے۔ پچاس سال پہلے کا شملہ اب یہاں کہیں دکھائی نہیں
جیسے ہی ہماری گاڑی شملہ کے اندر داخل ہوئی، اس سے میری دلچسپیاں ختم ہوگئیں، میں دن اور گھنٹے گننے لگا کہ کب یہاں سے واپسی ہوگی۔ مجھ کو فطرت کا ماحول پسند ہے۔ کے شملہ کے لئے فطرت کا حسن ایک قصۂ ماضی بن چکا ہے۔
دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی تو ہندوستان پر برطانیہ کی حکومت قائم تھی۔ اس نے ہندوستان کو بھی جنگ میں شریک کر دیا۔ مہاتما گاندھی کو اس سے اختلاف تھا۔ ان کا خیال تھا کہ ہندوستان ایک عدم تشدد کا ملک ہے۔ اس کو تشدد کے معاملہ میں فریق نہیں بننا چاہئے، وائسرائے لار ڈلنتهگونی نے بذریعہ ٹیلی گرام مہاتما گاندھی کو شملہ آنے کی دعوت دی تاکہ اس مسئلہ پر گفتگو کی جاسکے۔ مہاتما گاندھی فوراً ٹرین سے سفر کرکے شملہ پہنچے۔ لوئی فشر کی رپورٹ کے مطابق، مہاتما گاندھی نے شملہ میں کہا کہ میں خدا سے پوچھتا ہوں کہ وہ اس قسم کی تشدد دانہ چیزوں کو ظہور میں آنے کی کیوں اجازت دیتا ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عدم تشدد ناکام ہو گیا اور خدا بھی نا کام ہو گیا :
مگر اس تبصرہ کی کوئی حقیقت نہ تھی۔ دوسری عالمی جنگ ہٹلر نے چھیڑی تھی۔ یہ جنگ کامیاب ایک سرکش انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے جنگ چھیڑی۔ نے اس جنگ کی آگ کو بجھا دیا۔ اس کو زیادہ بڑھنے کا موقع نہیں دیا۔
۱۹۷۱ میں بنگلہ دیش کی جنگ کے بعد پاکستان کے ۹۰ ہزار فوجی گرفتار ہو کر ہندوستان لائے اس وقت ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیر اعظم تھے۔ وہ اپنے فوجیوں کو چھڑا کر لے جانے کے لئے ہندوستان آئے۔ مسز اندرا گاندھی سے ان کی بات چیت بھی شملہ میں ہوئی۔ آخر کار وہ اتفاق نامہ طے پایا جس کو شملہ ایگریمنٹ کہا جاتا ہے۔ اس میں طے پایا تھا کہ دونوں ملک اپنے اختلافات کو (بشمول جموں و کشمیر) دو طرفہ گفتگو کی بنیاد پر پر امن طریقہ پر حل کریں گے
اس ایگریمنٹ کی رو سے پاکستان نہ کشمیر کے مسئلہ پر جنگ چھیڑ سکتا تھا اور نہ ہندوستان کے خلاف وہ گوریلا وار شروع کر سکتا تھا جو ان کی مدد سے ۱۹۸۹ سے جاری ہے۔ پاکستانی الکشن میں جماعت اسلامی پاکستان نے اس کو اپنا اشو بنایا۔ اس نے کہا کہ شملہ ایگریمنٹ ہمارے لئے کشمیر کے حصول میں رکاوٹ ہے۔ کشمیر جنگ کے بغیر نہیں مل سکتا اور اس ایگریمنٹ نے ہم کو جنگ چھیڑنے سے روک دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ووٹ دو تا کہ ہم اس ایگریمنٹ کو ختم کر کے انڈیا سے جنگ کریں اور کشمیر کو دوبارہ حاصل کریں۔ میں ان کا نعرہ ہوتا تھا :