Al-Risala · March 1997

ٹوٹے شملہ کی زنجیر لینا ہے اب تو کشمیر

Al-Risala, March 1997, pp. 21–34

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر پاکستانی قوم جماعت اسلامی کے اس نعرہ سے متاثر نہیں ہوئی۔ الکشن ہوا تو امیر جماعت قاضی حسین احمد صاحب سمیت جماعت کے تمام لیڈر بری طرح ہار گئے۔

برطانوی دور میں شملہ گرمی کے لئے ملک کی راجدھانی سمجھا جاتا تھا۔ آزادی ہند کی بہت سی گفتگوئیں شملہ میں ہوئیں۔ شملہ سے بہت سی تاریخی یادیں وابستہ ہیں۔ جنگ کے آخر میں شملہ میں ایک کانفرنس ہوئی۔ لارڈ ویویل اس وقت برطانیہ کے وائسرائے تھے۔

کانگریس اور مسلم لیگ دونوں کے اونچے لیڈر اس میں شریک ہوئے۔

اس بات چیت میں، برطانی حکومت کی طرف سے جو نقشہ پیش کیا گیا ، اس میں مسلمانوں اور اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کو برابر کا تناسب دیا گیا تھا:

مگر مسٹر جناح کے انکار کی وجہ سے یہ منصوبہ منظور نہ ہوسکا۔ کیوں کہ برطانیہ کی پالیسی یہ تھی کہ مسلم لیگ کی رضامندی کے بغیر کوئی منصوبہ نہ طے کرے۔ مسٹر جناح نے ایک اخباری بیان میں کہا: شملہ میں ہر طرف نیچے اونچے راستے ہیں۔ اس لئے شہر کے اندر مال برداری کا کام جزوی طور پر سواریوں کے ذریعہ ہوسکتا ہے۔ یہاں بے شمار مزدور ہیں جو ہر وقت یہ کام کرتے رہتے ایک عجیب منظر بار بار یہ دکھائی دیا کہ ایک مزدور کو کنگ گیس کے دو بھرے ہوئے سلنڈر اپنی پیٹھ پر باندھے ہوئے ہے، اور جھکی ہوئی حالت میں اس کو لے کر چل رہا ہے۔ اس میں اتنا اور اضافہ کر لیجئے کہ اس قسم کی پر مشقت مزدوری کرنے والے زیادہ تر کشمیری لوگ نظر آئے۔ ۱۹۸۹ سے پہلے کشمیر میں سیاحوں کی مسلسل آمد کی وجہ سے کشمیریوں کے لئے روزی کمانا بہت آسان تھا۔ اس کے بعد وہاں سیاحوں کی آمد رک گئی۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ کشمیری لوگ مجبور ہیں کہ وہ باہر جاکر سخت محنت کے ذریعہ اپنی روزی حاصل کریں۔

ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہندوستان کی مصیبتوں کے اصل ذمہ دار مسٹر محمد علی جناح ، اور جواہرلال نہرو۔ مسٹر جناح کی فرقہ وارانہ سیاست نے ملک کو ہندو مسلم نفرت سے بھر دیا۔ پاکستان کے لوگ کہتے ہیں کہ ہندو ہمارا ازلی دشمن ہے ، زیادہ صحیح طور پر انھیں کہنا چاہئے کہ جناح کی تفریقی سیاست نے ہندوؤں اور مسلمانوں کو ازلی طور پر ایک دوسرے کا

دشمن بنا دیا۔

اس کے بعد جواہر لال نہرو کی سوشلسٹ اقتصادیات نے ہندوستان کو تباہ کر دیا۔ نے ملک کو بے شمار نقصانات پہنچائے۔ انھیں میں سے ایک عام نقصان یہ ہے کہ اس اسکیم نے قوم کی قوم کو کاہل (Lethargic) بنا دیا۔ اس کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ پہلے دہلی میں کوکنگ گیس کا یہ حال تھا کہ بار بار ٹیلی فون کرنے کے بعد وہ کئی دن پر آتی تھی۔ اب لبرلائزیشن کے بعد یہ حال ہے کہ ایک ٹیلی فون کیجیے، اور اسی دن گیس کا سلنڈر آپ کے گھر پہنچ جائے گا۔ ۱۹۴۷ کے بعد ہریانہ، پنجاب، ہماچل پردیش اور راجستھان کے علاقہ میں مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے تھے۔ اس وقت مسلمانوں کو دوبارہ اس علاقہ میں جمانے کے لئے سب سے زیادہ جس نے کام کیا وہ بلا شبہ جمعیۃ علماء ہند ہے۔

یہ کام کس طرح انجام دیا گیا، اس کی ایک مثال مولانا ممتاز احمد قاسمی ہیں۔ دار العلوم سے فراغت کے بعد انھوں نے ارادہ کیا تھا کہ طب کی تعلیم حاصل کریں۔ وہ دہلی آکر مولانا محمد میاں صاحب سے ملے۔ وہ چاہتے تھے کہ مولانا محمد میاں ان کے لئے حکیم عبد الحمید صاحب کے نام ایک سفارشی خط لکھ دیں تاکہ طبیہ کالج میں آسانی سے ان کا داخلہ ہو جائے۔ مولانا محمد میاں نے ان کی بات سننے کے بعد کہا کہ اگر تم میرا مشورہ مانو تو میں تم کو ایک اور زیادہ بہتر کام بتاتا ہوں۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ دیکھو، یہ ہماچل پردیش کے ایک گاؤں سے خط آیا ہے کہ یہاں ایک عالم بھیجئے میری رائے ہے کہ تم وہاں چلے جاؤ۔

مولانا ممتاز احمد قاسمی اللہ کے بھروسہ پر روانہ ہوگئے۔ یہ شملہ کے قریب ایک گاؤں تھا۔ وہاں کی مسجد میں آکر وہ مقیم ہو گئے۔ مگر شروع میں یہ حال تھا کہ اتنے مسلمان نہیں ملتے تھے کہ باجماعت نماز قائم ہوسکے۔ ایک روز جمعہ کا دن تھا۔ مسجد میں صرف دو آدمی تھے۔ تیسرے کی تلاش میں وہ باہر نکلے۔ ایک جاہل مسلمان گھاس کا گٹھڑ باندھ کر کھڑا ہوا تھا۔ مولانا ممتاز صاحب نے اس سے مسجد چلنے کے لئے کہا۔ اس نے کہا کہ تم مولویوں کو اور تو کوئی کام نہیں۔ پھر وہ بولا کہ اگر تم میرا یہ گھاس کا گٹھڑ اٹھالو تو میں تمہارے ساتھ مسجد چلنے کے لئے تیار ہوں۔ مولانا ممتاز صاحب نے فوراً دونوں ہاتھوں سے گھاس کا گٹھڑ اٹھا کر اپنے سر پر رکھ لیا۔ اب وہ دیہاتی مسلمان مسکرانے

لگا اور مسجد میں آ کر نماز میں شریک ہو گیا۔ آج یہ گاؤں کافی ترقی کر چکا ہے۔ اب وہاں نہ صرف مدرسہ اور مسجد آباد ہیں، بلکہ وہاں کے مسلمان تعلیم اور اقتصادیات میں بھی کافی آگے بڑھ چکے کچھ عرصہ بعد مولانا ممتاز صاحب شملہ منتقل ہو گئے۔

ہماچل پردیش پہلے پنجاب کا ایک حصہ تھا۔ ۱۹۴۷ء میں یہاں جو قتل و خون ہوا اس وقت بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ علاقہ اب ہمیشہ کے لیے ناقابل رہائش ہو چکا ہے۔ مگر آج دوبارہ یہاں مسلمان معتدل حالات میں آباد ہو رہے ہیں۔ ہماچل پردیش اور پنجاب کے ہر حصہ میں مسلمان دوبارہ نظر آنے لگے ہیں۔

پنجاب کے بہت سے مقامات پر مسلمانوں کی جائدادیں اور ان کی مسجدیں دوبارہ ان کو حاصل ہو گئی ہیں۔ اس سلسلہ کی تازہ خبر یہ ہے کہ پنجاب کے شہر مکتسر میں ایک بڑی مسجد تھی جو ۱۹۴۷ء کے ہنگامہ میں سکھوں کے قبضہ میں چلی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ”بابا ٹھاکر سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے مکتسر کی اس جامع مسجد کو آپسی بھائی چارہ کے فروغ کے لئے مسلمانوں کے حوالے کر دیا ہے۔ وہاں سے سکھوں کے جھنڈے اور شری گورو گرنتھ صاحب کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ مسجد ۱۹۴۷ء کے بعد گورو دوارہ کے طور پر استعمال کی جارہی تھی۔ اور مقامی شری گور وسنگھ سبھا اس کی دیکھ بھال کر رہی تھی۔ تقریباً ۱۱۵ سال پہلے سردار کرتار سنگھ بھنڈراں والا نے اس مسجد میں سکھوں کا جھنڈا نصب کیا تھا۔ (اخبار نو، نئی دہلی۔ ۱۵ - ۲۱ جولائی ۱۹۹۴ء) فساد خواہ کتنا ہی بڑا ہو، بہت جلد اس کی حد آ جاتی ہے، اور آخر کار جس چیز کو فتح اور بقا حاصل ہوتی ہے وہ امن ہے۔ فساد ایک وقتی حادثہ ہے اور امن ایک دیرپا حقیقت۔ ۴ جولائی کی شام کا وقت ہے۔ ابھی سورج غروب نہیں ہوا ہے۔ میں اپنے ہوٹل کے کمرہ میں ہوں اور شیشہ کے اُس پار دیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ مگر کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ میں کچھ درخت کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ دور بھورے رنگ کے بادلوں میں ہر چیز ڈوبی ہوئی دیکھنے سے پہلے شملہ ایک پر اسرار مقام محسوس ہوتا تھا۔ لیکن دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ بعض ظاہری فرق کے ساتھ وہ بھی دوسرے شہروں کی طرح ایک شہر ہے۔ کسی پہلو سے اگر شملہ زیادہ ہے تو کسی اور پہلو سے وہ کم ہے۔ اسی طرح ہمارے عام شہراگر کسی سے کم نظر آتے ہیں تو کسی اور پہلو

سے وہ زیادہ دکھائی دیں گے۔

کانفرنس ۵ جولائی ۱۹۹۴ کو راشٹر پتی نواس (وائسر یگل لاج) کے ایک ہال میں شروع ہوئی۔ افتتاحی اجلاس میں سب سے پہلے ایک مرد اور ایک عورت نے مل کر گیتا (سنسکرت) کا ایک حصہ ترنم کے ساتھ پڑھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ کسی بھی مذہبی کتاب کی تلاوت میں وہ شان پیدا نہیں ہوتی، جو قرآن کی تلاوت میں پائی جاتی ہے۔ دوسری مذہبی کتابوں اور قرآن کو اگر ایک ساتھ پڑھا جائے تو صرف لفظی تلاوت ہی قرآن کی برتری ثابت کرنے کے لئے کافی ہو جائے گی۔ اس کے بعد مسز سونیا گاندھی نے افتتاحی خطبہ انگریزی میں پڑھا۔ اس کانفرنس میں تمام اعلی تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ اور اس کی تمام کارروائیاں از اول تا آخر انگریزی میں ہوئیں۔ شملہ کی اس کانفرنس کا افتتاح پرائم منسٹر نرسمہا راؤ کرنے والے تھے۔ مگر وہ کسی وجہ سے ان کا پیغام مرکزی وزیر ڈاکٹر من موہن سنگھ نے پڑھ کر سنایا۔ ان کے علاوہ مسز سونیا گاندھی، مسٹر نٹور سنگھ اور، ہماچل پردیش کے گورنر اور چیف منسٹر اور بہت سی اعلیٰ شخصیتیں اس میں شریک ہوئیں۔

اس طرح کی مختلف کانفرنسوں میں شرکت کے بعد میرا احساس یہ ہے کہ ہمارے ملک میں باشندوں کے اعتبار سے دو ملک پائے جاتے ہیں۔ ایک لور انڈیا، اور دوسرے اپر انڈیا۔ انڈیا ۹۹ فیصد لوگوں پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد ایک فیصد انگریزی دانوں کی سطح پر ایک اپر یہاں ہر چیز بقیہ ملک سے مختلف ہے۔ یہ تقریباً وہی تقسیم ہے، جو برطانوی دور میں انگریزوں اور غیر انگریزوں کے درمیان پائی جاتی تھی۔

راشٹرپتی نواس کے بڑے ہال (ball room) کی ۲۵۰ کرسیاں سب کی سب بھری ہوئی بہت سے لوگ کناروں پر کھڑے ہوئے تھے۔ ہال میں داخل ہونے کے بعد میں اپنی نشست کی طرف خاموشی سے بڑھ رہا تھا کہ ایک کرسی پر بیٹھی ہوئی ایک معمر خاتون نے میرا نام پوچھتے ہوئے کہا :

Sir, due to your impressive personality, I want to know your name. ہال کے اندر تمام لوگ شاندار کپڑوں میں ملبوس تھے۔ میں اپنے سادہ کپڑے اور لمبی سفید

داڑھی میں ان کو ایک "درویش" دکھائی دیا۔ ہندو قوم فقیروں اور درویشوں کے حلیہ سے بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ غالب اسی طرح کے احساسات کے تحت مذکورہ خاتون نے میرے بارہ میں

موجودہ وائسر یگل لاج جون ۱۸۸۸ میں بن کر تیار ہوا ۔ ۱۹۴۷ سے پہلے وہ وائسرائے کی رہائش گاہ تھا۔ آزادی کے بعد اس کا نام راشٹرپتی نواس رکھا گیا اور وہ گرمیوں کے موسم میں ہندوستانی صدر کی رہائش گاہ قرار پایا۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن نے اکتوبر ۱۹۶۵ میں اس کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز کے حوالے کر دیا ، اب اسی ادارہ کے دفاتر اس عمارت میں قائم ہیں۔ تاہم اب یہ عمارت جگہ جگہ سے خستہ ہو گئی ہے۔ اس کی دیکھ ریکھ (maintenance) کے لئے مرکزی حکومت سالانہ ۲۰ لاکھ روپیہ دیتی ہے ۔ مگر وہ ناکافی ہے۔ اور اس کے منتظم منسیال میری نے حکومت سے دو کروڑ ۲۰ لاکھ روپیہ کا مطالبہ کیا ہے۔ The viceregal lodge in Shimla which now houses the Indian Institute of Advanced Studies راشٹرپتی نواس (قدیم وائسر یگل لاج ، جہاں یہ کانفرنس ہوئی ، وہ بہت بڑا ہے اور عالی شان محل کی مانند ہے۔ اس میں تین سو سے زیادہ کمرے ہیں اور کئی بڑے بڑے ہال ہیں۔ مسٹر نٹور سنگھ نے اپنی تقریر میں اس بلڈنگ کی تاریخی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ ملک کی تقسیم کا

منصوبہ اسی عمارت کے ایک کمرہ میں مکمل کیا گیا تھا جو ہمارے اس ہال سے زیادہ دور نہیں ہے: The partition plan (1947) was finalised here in a room not far from تاہم یہ سو سالہ عمارت اب کافی حد تک قابل مرمت ہو چکی ہے۔ اور عمارت کے ذمہ داروں کے پاس اتنا فنڈ نہیں کہ وہ اس کے شایان شان اس کی مرمت کر سکیں۔

اس کا نفرنس کا بنیادی موضوع یہ تھا کہ گڈ سوسائٹی کیسے بنائی جائے۔ ایک صاحب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ گڈ سوسائٹی کے بارہ میں فلسفی کا پرسپشن ایک ہے، اور کامن مین کا پرسپشن گڈ سوسائٹی کے بارہ میں دوسرا ہے۔ کیا یہاں اچھے سماج کا کوئی عالمی نظریہ پایا جاتا ہے: Is there a universal definition of a good society. اس طرح کے معاملات میں نظریاتی وحدت صرف مقدس کتاب کے ذریعہ لائی جاسکتی ہے۔ یافتہ لوگوں کے مباحثہ کے ذریعہ ایسے معاملات میں نظریاتی وحدت حاصل کرنا ممکن نہیں۔ مرکزی وزیر ڈاکٹر من موہن سنگھ نے حکومت کی جدید اقتصادی پالیسی (لبرلائیزیشن) پر تقریر کی۔ تقریر کے بعد لوگوں نے ان پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی خاص طور پر خواتین نے۔ کیونکہ با روزگار خواتین زیادہ تر پبلک سکٹر میں ہیں اور پبلک سکٹر کے ختم ہونے سے عورتوں کے لئے روزگار کے مواقع بہت کم ہو جائیں گے۔

ڈاکٹر من موہن سنگھ (وزیر مالیات) نے نہایت جرأت کے ساتھ سوالات کا سامنا ایک صاحب سے میں نے کہا کہ من موہن سنگھ کی ایک صفت میں نے یہ دیکھی کہ انھوں نے کسی سوال کا جواب ٹالنے والے (evasive) انداز میں نہیں دیا۔ انھوں نے کہا: جو آدمی ڈبل ٹاک نہیں کرتا وہ کبھی ٹالنے والا جواب (evasive reply) نہیں دے گا۔ ڈاکٹر من موہن سنگھ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم باہر پیسہ لانے کے لئے گئے تو ایک افسر نے ہم کو جواب دیا کہ ہنر اکسیسلنس، آپ کے ملک سے جتنا پیسہ باہر جا رہا ہے اس کو ملک میں روک لیجئے ۔ پھر باہر سے آپ کو پیسہ مانگنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ میں نے ڈاکٹر من موہن سنگھ سے کہا کہ میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں کہ آپ پہلے شخص

ہیں جو میرے خواب کو پورا کر رہے ہیں۔ 1950 میں جب جواہر لال نہرو نے سوشلسٹ پیٹرن آف سوسائٹی کا نعرہ دیا اس وقت سے میں اس کا مخالف رہا ہوں۔ میرے نزدیک ہندوستان کے تمام اقتصادی مسائل کا سبب یہی ہے۔ آپ بہا درانہ طور پر اس کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ جو لوگ آپ کی مخالفت کر رہے ہیں وہ سب سطحی سوچ کا شکار ہیں۔ آپ اس مہم کو جاری رکھئے۔ لوگوں کی سمجھ میں آجائے گا کہ سوشلسٹ پالیسی کے مقابلہ میں لبرل پالیسی ہی زیادہ درست تھی۔ ہماچل پردیش کے چیف منسٹر راجہ ویر بھدر سنگھ نے اپنی تقریر میں ایک ہندو دعا کا ذکر کیا۔ اس کاانگریزی ترجمہ انھوں نے اس طرح سنایا :

Lead us from untruth to truth Lead us from darkness to light. Lead us from death to immortality. ہم کو غیر سچائی سے نکال کر سچائی کا راستہ دکھا۔ ہم کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے آ۔ کو موت سے نکال کر ابدیت میں لے آ۔

اس دعا کا آخری حصہ کس قدر مبہم ہے۔ موت خاتمہ حیات نہیں، وہ بجائے خود ابدی زندگی کا آغاز ہے۔ موت اگلے مرحلہ حیات میں داخلہ کا دروازہ ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ پولٹیکل سسٹم اور پولٹیکل کلچر کے درمیان بہت فرق ہے۔ یہاں کہنے کے لئے ڈیموکریسی ہے۔ مگر ڈیموکریسی کی اسپرٹ ہمارے یہاں موجود نہیں۔ ریل روکو، یہ ڈیموکریسی ہوسکتی ہے۔ مگر یہ ڈیموکریٹک کلچر نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ ڈیموکریسی کے ساتھ ڈیموکریسی کی روایات بھی ضروری ہیں۔ یہاں ڈیموکریسی تو آگئی۔ لیکن ڈیموکریسی کی روایات قائم نہیں ہوئیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں ڈیموکریسی عملاً انارکی بن کر رہ گئی ہے۔

ایک صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ مغربی طرز فکر آج بھی ہمارے سماج پر غلبہ حاصل کئے ہوئے ہے:

Western framework of thinking is dominating our society

ٹھیک اسی قسم کی باتیں پاکستان کا روایت پسند طبقہ بھی پاکستان میں دہرا رہا ہے۔ اولاً مغرب کو برا بتا کر اس کے سیاسی غلبہ سے نجات حاصل کی۔ مگر اس کے بعد صرف یہ ہوا کہ دونوں ہی نے دوبارہ مغرب کے تہذیبی غلبہ کو مزید شدت کے ساتھ قبول کر لیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں مذہب کی ترقی رک جانے کا ایک سبب یہ ہے کہ مذہب میں سوال یا شبہ کو امر ممنوع سمجھا جاتا ہے، حالاں کہ شبہ ثبوت کا آغاز ہے: Doubt is the beginning of proof. میں نے کہا کہ آپ اگر مذہب کے بجائے اہل مذہب کا لفظ بولیں تو مجھے اس سے اتفاق ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، وہ تو غور و فکر اور تحقیق کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ اسی بنا پر دورِ اول میں مسلمانوں نے علم و تحقیق کے میدان میں غیر معمولی ترقیاں کیں۔ مگر مسلمانوں کی موجودہ نسلوں میں فکری زوال کی بنا پر ضرورت یہ ہے کہ وہ سوال اور تنقید سے بھڑکتے ہیں۔ کی قیمت انھیں اس صورت میں مل رہی ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان علم و فن کر کے میدان میں دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئے ہیں۔

ایک ہندوجرنلسٹ سے موجودہ جرنلزم پر گفت گو ہوئی۔ میں نے ہندوستانی جرنلزم کی سطحیت کی شکایت کی۔ انھوں نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اصل یہ ہے کہ ہمارے قومی مزاج سے آجکل محنت نکل گئی ہے۔ اس کا اثر جرنلزم پر بھی پڑا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آجکل تحقیقی صحافت (investigative journalism) نام ہے دو رپورٹ پڑھ کر ایک آرٹیکل لکھ دینے کا۔ اور اگر آپ نے تین رپورٹ پڑھ لی تو آپ ایوارڈ کے مستحق بن جائیں گے۔

ایک صاحب کمیونزم سے متاثر تھے۔ ان سے گفت گو ہوئی، مگر انھوں نے کمیونسٹ فکر کی غلطی کا اعتراف نہیں کیا۔ کمیونسٹ روس کی ناکامی کے بارہ میں انھوں نے کہا کہ کمیونسٹ سسٹم کے ٹوٹنے کو اس معنی میں نہیں لیا جا سکتا کہ تاریخ نے اشتراکی طرزِ معیشت کو رد کر دیا ہے: The collapse of communism should not be regarded as history's rejection of the socialist pattern. میں نے کہا کہ یہ دلیل صحیح نہیں۔ میں نے کہا کہ ایک شخص اگر یہ کہے کہ لوگوں کے اندر خوفِ خدا

آجائے تو سماجی برائیاں مٹ جائیں گی تو اس نظریہ کی صحت کو اس سے جانچا جائے گا کہ خوفِ خدا آنے کے بعد سماجی برائی مٹی یا نہیں۔ مگر اشتراکیت کی بنیادفکری تبدیلی پر نہیں ہے بلکہ پیداوار اور تقسیم کے خارجی نظام کی تبدیلی میں ہے۔ اس لئے اگر خارجی نظام بدلنے کے باوجود سماجی برائیاں نہ مٹیں تو اس سے اشتراکیت کا نظریہ رد ہو جائے گا۔ اول الذکر کو جانچنے کا معیار فکری تبدیلی ہے اور ثانی الذکر کو جانچنے کا معیار خارجی ڈھانچہ کی تبدیلی۔ چوں کہ سوویت یونین میں خارجی ڈھانچہ کی تبدیلی کے باوجود سماجی برائیاں ختم نہیں ہوئیں، اس لئے سوویت یونین کی ناکامی خود اشتراکیت کی ناکامی کے ہم معنی قرار پائے گی۔

ایک صاحب نے مہاتما گاندھی کا یہ قول دہرایا کہ دنیا میں آدمی کی ضرورت کے لئے بہت کچھ ہے۔ مگر آدمی کی حرص کے لئے بہت زیادہ نہیں :

There was enough in the world for every ones's need but not for یہ بات بالکل درست ہے۔ موجودہ دنیا آزمایش کے لئے بنائی گئی ہے۔ یہاں اتنا ہی سامان رکھا گیا ہے جو آزمایش کے لئے ضروری ہو۔ انسان کی خواہشات کی لامحدود تکمیل کے لئے آخرت کی دنیا ہے۔ جو لوگ موجودہ دنیا میں اپنی آزمایش میں پورے اتریں گے وہ آخرت میں اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے لامحدود سامان پالیں گے۔

ایک صاحب نے کہا کہ اب دنیا بہت بدل چکی ہے۔ بیسویں صدی کے آخر میں خوش قسمتی سے امپیرلزم اور نسل پرستی انسانیت کے ایجنڈے پر نہیں ہیں۔ اب ایک نئے ورلڈ کی باتیں ہر طرف کی جارہی ہیں :

Colonialism, imperialism and racialism are fortunately no longer on the agenda of humankind. There is much talk of a new world order. یہ بات درست ہے کہ مختلف تجربات کے بعد اب انسانی ذہن کسی نئی چیز کی تلاش میں ہے. یہ نئی چیز مذہب کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتی۔ سیکولر نظریات سب کے سب ناکام ہو چکے ہیں۔ اس نے دینِ حق کے لئے دوبارہ نئے مواقع دے دئے ہیں۔ مگر دینِ حق کو نئی دنیا میں عظمت کا مقام

دینا گن کلچر کے ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ وہ صرف دلیل کے زور پر ہی ہو سکتا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ دین حق کو جدید انسان کے فکری مستوى پر پیش کیا جائے۔ اگر ایسا ہو سکے تو دین حق کو دوبارہ تاریخ میں واپسی سے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔

دسمبر ۱۹۹۰ء میں جے پور میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کا ایک اجلاس ہوا۔ وہاں کچھ ہندوؤں نے یہ نعرہ لگایا : جو ہندو ہت میں بات کرے گا، وہی دیش پر راج کرے گا۔ کچھ اور ہندوؤں کو یہ نعرہ پسند نہیں آیا۔ انھوں نے اس کے خلاف اپنی ناپسندیدگی کا حتی کہ اگلے دن اجلاس ہوا تو انھوں نے نعرہ لگایا : جو راشٹر ہت میں بات کرے گا، وہی دیش پر راج کرے گا۔ (ہندوستان ٹائمس، سنڈے ایڈیشن، صفحہ (۲)

یہ واقعہ علامتی طور پر اس صورتحال کو بتا رہا ہے جو اس وقت ہندو قوم کے اندر موجود ہے۔ ان میں دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جن کی نمائندگی اول الذکر نعرہ میں ہو رہی ہے، اور دوسرے وہ جن کی نمائندگی ثانی الذکر نعرہ میں پائی جاتی ہے۔ اس معاملہ کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اسی کو قرآن میں قانون دفع کہا گیا ہے (البقرہ ۲۵۱، الحج (۴۰) یہ فطرت کا نظام ہے کہ وہ ایک کو دوسرے کے ذریعہ دفع کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی مفسد یا انتہا پسند کبھی زیادہ تک یا بہت دور تک اپنا کام نہیں کر پاتا۔ جب بھی کوئی شخص یا گروہ ایسا اٹھتا ہے تو فطرت کی طاقتیں اس کا مقابلہ کر کے اس کو پیچھے دھکیل دیتی ہیں۔

اعلی تعلیم یافتہ افراد کے سیناروں کے بارہ میں میری رائے زیادہ اچھی نہیں۔ یہاں بھی میں نے اپنی اس رائے کا اظہار کیا۔ میرا تجربہ ہے کہ یہ لوگ زیادہ تر خوبصورت الفاظ کے فرضی قلعے یہ لوگ اپنی ذاتی زندگی میں آخری حد تک پریکٹیکل ہوتے ہیں۔ مگر سیمنار میں آتے ہی وہ آئیڈیلسٹ بن جاتے ہیں۔ اسی لئے ان کی باتیں خوبصورت الفاظ بکھیرنے کے سوا کوئی اور نتیجہ ظاہر نہیں کر پاتے۔ خوبصورت الفاظ سے میری مراد کیا ہے ، اس کی ایک مثال لیجئے۔ ایک صاحب نے اپنی تقریر میں انڈیا کی اقتصادیات پر بولتے ہوئے کہا :

We have to see that the economy becomes sound and we are able to integrate with the global economy.

بظاہر یہ الفاظ بہت خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ مگر ان الفاظ کے اندر کسی بھی درجہ میں کوئی عملی رہنمائی موجود نہیں۔ اور نہ اس طرح کے الفاظ سے ملک کا کوئی اقتصادی مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ ایک دانشور نے کہا کہ آپ کو اپنے سماجی حالات کو جدید ٹکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہوگا؛ You will have to combine your social conditions to the modern technology. یہ بھی اسی قسم کا ایک خوبصورت جملہ ہے۔ وہ سننے میں تو اچھا لگتا ہے مگر اس کے اندر ہمارے لئے کوئی عملی رہنمائی موجود نہیں۔

یہاں جن لوگوں نے تقریریں کیں ، ان میں سے ہر ایک کا اپنا اپنا انداز تھا۔ مگر مجھے سب سے زیادہ شری ارجن سنگھ (مرکزی وزیر) کا انداز پسند آیا۔ ان کے ہاتھ میں چند ٹائپ شدہ انھوں نے اس کو پڑھا نہیں۔ بس درمیان تقریر میں کبھی کبھی وہ اس یاد داشت پرایک نظر ڈال لیتے تھے ، اور پھر برجستہ انداز میں اظہار خیال کرتے تھے۔ ان کے بولنے کا طریقہ یہ تھا کہ ٹھہر ٹھہر کر سنجیدہ لہجہ میں اپنے خیالات پیش کرتے تھے۔ نہ کبھی زور سے بولے اور نہ کبھی جوش شروع سے آخر تک یکساں سلجھا ہوا انداز رہا۔

چائے کا وقفہ ہے۔ لوگ ایک ہال کے اندر جمع ہیں۔ میں ایک کنارے کرسی پر بیٹھا ہوا ہوں۔ لوگ خوش ہیں۔ وہ شوق سے کھاپی رہے ہیں اور آپس میں تفریحی باتیں کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ شریک نہیں۔ غمگین دل کے ساتھ میری زبان سے نکلا : آہ ، کس طرح لوگوں کو بتایا جائے کہ یہ ”چند دن کی چاندنی اور پھر اندھیری رات“ کا معاملہ ہے۔ ان لوگوں کو حقیقت سے باخبر کرنے کی صورت صرف یہ تھی کہ مسلمان صبر و برداشت کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے داعیانہ کردار پر قائم رہتے وہ ہر قیمت پر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نارمل تعلقات کو باقی رکھتے ۔ نفرت اور کشیدگی اور ضد کو ختم کر دیتے، خواہ اس کے لئے کوئی بھی قربانی دینی پڑے۔ ہوتا تو دونوں فرقوں کے درمیان معتدل حالات میں انٹرایکشن ہوتا۔ اس کے درمیان بالکل فطری طور پر علم حقیقت لوگوں تک پہنچتا رہتا اس کو تاہی کے ساتھ اگر مسلمانوں کا ایک ایک شخص تہجد گزار ہو جائے تب بھی اللہ کے یہاں وہ بری الذمہ ہونے والے نہیں۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو نے پر فخرانداز میں کہا کہ سینٹفک مذاہب میں یہ عقیدہ ہے کہ سچائی ایک

مگر ہند و ازم میں اس قسم کا ریجڈ نظریہ نہیں۔ ہند و ازم میں مانا گیا ہے کہ حقیقت کے مختلف روپ ہو سکتے ہیں۔ سبھی مذاہب اپنی اپنی جگہ پر سچے ہیں۔

میں نے کہا کہ یہ بات کہنے میں تو اچھی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اگر آپ گہرائی کے ساتھ سوچیں تو آپ کو اس میں کئی خلا نظر آئے گا۔ مثلاً اس تصور میں اخلاقی ویلیوز سب کی سب اضافی (relative) قرار پاتی ہیں۔ جب دو مختلف اخلاقی رویہ کو بیک وقت درست سمجھ لیا جائے تو اس کے بعد ایک اخلاقی معیار اور دوسرے اخلاقی معیار میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں پائے جانے والے موجودہ غیر معمولی کرپشن کی۔

۶ جولائی کو میری صدارت میں جو اجلاس ہوا۔ اس میں لیڈ اسپیکر ڈاکٹر پی آر چاری آئی اے پہلے میں نے مختصر طور پر تعارفی تقریر کی۔ اس کے بعد مسٹر چاری نے اظہار خیال کیا۔ کے بعد جن افراد نے بحث میں حصہ لیا ان کے نام یہ ہیں۔ مسٹر رانا، ڈاکٹر چھوٹانی، ڈاکٹر برار، پروفیسر پی این دھر، پروفیسر روندر کمار، پروفیسر رندھاوا، پروفیسر یشپال، پروفیسر راؤ، مسٹر نلنی سنگھ، ڈاکٹر کرن بیدی، مسٹر تنور سنگھ، مسٹر سریندر ناتھ۔ آخر میں میں نے مفصل طور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور بتایا کہ پر امن سماج بنانے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ مسٹر پی ایس چاری آئی اے ایس) نے اپنی تقریر میں بتایا کہ پلاسی کی جنگ (۱۷۵۷ء) کے بعد جب بنگال اور اس کے آس پاس کے علاقہ پر انگریزوں کا سیاسی قبضہ ہو گیا تو ہیسٹنگز (Warren Hastings) کو اس کا پہلا گورنر جنرل بنایا گیا۔ ۱۷۷۸تک وہ یہاں کا گورنر جنرل رہا۔ وقت یہاں کوئی انتظامی ڈھانچہ نہیں تھا۔ دیہاتوں میں زمیندار بے زمین لوگوں پر بہت ظلم کرتے ہیسٹنگز نے بنگال کو انتظامی یونٹوں میں تقسیم کیا اور ہر یونٹ کے لئے ایک انگریز کلکٹر ان انگریزوں کو اس نے کوئی تفصیلی قانون یا قاعدے نہیں بتائے۔ ان کو صرف ایک بنیادی ہدایت دیدی ــــ تم ظالموں اور کسانوں کے درمیان کھڑے ہو جاؤ :

Thou shalt stand between the hand of oppression and the peasantry. یہی سماجی انتظام کا خلاصہ ہے۔ سماجی حالات کو درست کرنے کے لئے ایک ہی کام کرنا ہے۔ مظلوموں کے خلاف ظالموں کا ہاتھ پکڑ لینا۔ اگر یہ چیز حاصل ہو جائے تو بقیہ حالات خود فطرت کے

زور پر درست ہو جائیں گے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانہ میں مکہ میں جو حلف الفضول ہوا ، اس کی روح بھی یہی تھی ۔

میں نے اپنی تقریر میں جو کچھ کہا، اس کا خلاصہ پیشگی طور پر تین صفحہ میں لکھ لیا تھا۔ کاپیاں منتظمین کی طرف سے کانفرنس میں تقسیم کی گئیں ۔ یہ مقالہ انشاء اللہ انگریزی الرسالہ میں شائع کر دیا جائے گا۔ لوگوں کا تاثر بتا اچھا تھا۔ مسنر انجنا سانیال نے کہا: آپ کا پیپر میں نے اور اس کی کاپی بھی اپنے پاس رکھ لی۔ وہ بہت سہل ہے اور فوراً سمجھ میں آ جاتا ہے۔ طرح کا تاثر جسٹس پاتھیگ نے بھی بیان کیا۔

ڈاکٹر کرن بیدی بھی اس کانفرنس میں شریک تھیں۔ وہ انسپکٹر جنرل آف پولیس آئی جی ہیں۔ اور اس وقت دہلی جیل (پر یزن) کی انچارج ہیں۔ کانفرنس کے بعد ایک ملاقات میں انھوں نے بتایا کہ میں آپ کے مضامین ہندی اور انگریزی اخباروں میں پڑھتی رہتی ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جیل میں ہم آپ کے لکچر کا انتظام کریں۔ آپ وہاں آئیں اور ہمارے قیدیوں کے سامنے اسلام کی روشنی میں اخلاق اور انسانیت والی باتیں بتائیں۔

انھوں نے بتایا کہ میری ماتحتی میں اس وقت نو ہزار قیدی ہیں۔ میں نے دیکھا کہ جیل کا ہر آدمی دھر م میں بشواس رکھتا ہے، اور اگر پہلے وہ ایسا نہیں تھا تو اب وہ ایسا ہو گیا ہے ۔ جب میں پولیس افسر بنی تو میرے اندر روحانیت (spirituality) نہیں تھی۔ مگر جیل والوں کو دیکھ مجھے بھی دھرم اور روحانیت کے بارہ میں پڑھنا پڑا تاکہ میں ان کو بہت سکوں۔ انھوں نے ہر روز ایک گھنٹہ کے لئے جیل میں سرو دھرم سبھا شروع کر دیا۔ کیوں کہ جیل میں ہر مذہب کے لوگ موجود ان تجربات نے خود ان کے اندر بھی روحانیت پیدا کر دی۔

شملہ سے واپسی کے بعد ۱۰ جولائی کو معلوم ہوا کہ ڈاکٹر کرن بیدی کو مشہور بیگ سے ایوارڈ (Magsaysay Award) دیا گیا ہے جو ۵۰ ہزار ڈالر پر مشتمل ہے۔ یہ ایک انٹرنیشنل ایوارڈ جب ان کو اس ایوارڈ کی خبر ملی تو وہ ناچ اٹھیں ۔ انھوں نے کہا:

Printed page