Kiran Bedi as the ideal police officer.
Al-Risala, March 1997, pp. 35–40
By Maulana Wahiduddin Khan
مسزنلنی سنگھ ٹی وی کی دنیا میں کافی مشہور ہیں۔ وہ اپنے کیریئر میں نہایت کامیاب سمجھی جاتی ہیں۔ ایک عام آدمی ان کو کامیاب خاتون سمجھے گا۔ مگر ایک ملاقات میں انھوں نے نہایت افسردگی کے ساتھ اپنی بے اطمینانی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ زندگی صرف پیسہ اور شہرت کا نام تو میں جب زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچتی ہوں تو مجھے یہ ساری سرگرمیاں بےکار (futile) نظر آنے مجھ کو جینے کے لئے بظاہر سب کچھ ملا ہوا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جیو تو کس کے لئے جیو۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا کے ساتھ جب تک آخرت کو نہ جوڑا جائے، زندگی کی معنویت سمجھ میں نہیں آتی۔ کچھ سطحی قسم کے لوگ اس کے بغیر خوش رہ سکتے ہیں مگر ایک سنجیدہ آدمی کبھی اس پر مطمئن نہیں ہو سکتا کہ زندگی بس اتنی ہے کہ _ پیدا ہو ، کھاؤ پیو اور مر جاؤ۔ ڈاکٹر محمود صاحب اور اقبال احمد صاحب عرصہ سے شملہ میں رہتے ہیں۔ ۴ جولائی کی رات کو ان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ شملہ میں تقریبًا تین ہزار مسلمان ہیں جن میں زیادہ تر لیبر کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں سات مسجدیں اور ایک مدرسہ بھی قائم ہے۔ ۱۹۴۷ تک شملہ میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ یہاں کی زمینیں زیادہ تر مسلمانوں کے پاس تھیں۔ مگر تقسیم کے بعد جب پنجاب میں مار کاٹ ہونے لگی تو یہاں کے مسلمان گھبرا کر یہاں سے بھاگ گئے۔ اس کے بعد پھر یہاں مسلمان دوبارہ جم نہ سکے۔
تقسیم کے نتیجہ میں جو بربادیاں پیدا ہوئیں ان کی گنتی کرنا مشکل ہے۔ تاہم سب سے بڑی برائی جو تقسیم نے پیدا کی ہے وہ نفرت ہے۔ تقسیم کی تحریک بظاہر اسلام کے نام پر اٹھائی مگر حقیقتً یہ نفرت کا ایک ہنگامہ تھا۔ اولا اس نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مستقل نفرت پیدا کی ۔ اور اس کے بعد خود مسلمانوں اور مسلمانوں میں گہری نفرتیں جگا دیں۔
میں باہمی نفرت اور تشدد جتنا زیادہ پایا جاتا ہے اتنا کسی بھی دوسرے مسلم ملک میں نہیں۔ اسی بنا پر مسٹر مجید نظامی نے پاکستان کو نا پاکستان کہا ہے (نوائے وقت) مجھ سے کہا گیا تھا کہ آپ ہوٹل کی روم سروس کو ٹیلی فون کر کے اپنا ناشتہ اور کھانا اپنے کمرہ میں منگالیا کریں۔ مگر میں قصد اًڈائننگ ہال میں جا کر کھاتا تھا۔ کیوں کہ اس طرح لوگوں کا مطالعہ کرنے اور ان کی باتیں سننے کا موقع ملتا ہے۔
جب میں لوگوں کو جوش اور انہماک کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو اکثر میں سوچنے لگتا ہوں کہ یہ لوگ آخر کیا باتیں کرتے ہیں۔ کیوں کہ میرے نزدیک تو یہ دنیا چپ ہو جانے کی جگہ ہے نہ کہ بولنے کی جگہ۔ اس دنیا کی ہر چیز آدمی سے کہہ رہی ہے کہ خدا کی عظمتوں کو پہچانو، اپنا احتساب کرو، اپنے حال پر غور کرو کے اپنے مستقبل کا حق کہ بناؤ۔ مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ نہیں سوچنے کی فرصت نہیں۔ وہ صرف ایک چیز جانتے ہیں ـــــــــ بے محابابولتے رہنا۔ ۵ جولائی کی صبح کو ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں کچھ لوگ میرے قریب کی لمبی میز پر بیٹھے ہوئے ایک صاحب نے دوسرے سے کہا: ’۲۵ نکال دو، پھر دیکھو کہ کتنا بچا۔ دوسرے نے کہا: دیکھو ان گدھوں کو، میرا پرموشن چار سال سے روک رکھا ہے۔ تیسرے نے کہا: اجی سروس میں کیا رکھا ہے، فلاں کو دیکھو۔ چند سال پہلے ٹھیکہ داری شروع کی تھی۔ آج ماروتی کار میں گھوم
یہی حال ۹۹ فیصد لوگوں کا ہے۔ سنجیدگی اور گہرائی آج لوگوں سے اٹھ گئی ہے سطحی باتوں کے سوا کسی اور چیز سے لوگوں کو دلچسپی نہیں۔
مسٹر اجناس انیال منتفلین کی ٹیم سے تعلق رکھتی تھیں۔ شملہ کے راستہ میں مجھ کو چکر آگیا، اور وہاں قیام کے دوران بھی چکر آتا رہا۔ موصوفہ نے میرے علاج اور آرام کا ہر طرح اہتمام کیا۔ وہ برابر میری خبر گیری کرتی رہتی تھیں۔ راشٹر پتی نواس میں ایک کمرہ انھوں نے میرے لئے خاص کرا دیا تھا کہ میں اس میں آرام کروں اور جب جی چاہے، کانفرنس میں آجاؤں۔
میں نے موصوفہ کا شکریہ ادا کیا تو انھوں نے کہا: مجھ کو تو بس آپ آشیرواد دیجیے کہ میں بھی چل سکوں سچائی پر؛ جیسے کہ آپ چل رہے ہیں سچائی پر۔
شملہ کانفرنس کی میزبانی ہماچل پردیش سرکار نے اپنے ذمہ لی تھی۔ چنانچہ ہماچل پردیش کے گورنر اور چیف منسٹر اور دوسرے سرکاری افراد۔ برابر اس کانفرنس میں ذاتی طور پر شریک رہے۔ ہماچل پردیش (نیز پنجاب اور چنڈی گڑھ) کے گورنر مسٹر سریندر ناتھ کی کرسی میری کرسی سے ملی ہوئی تھی۔ چنانچہ ان سے کافی باتیں ہوئیں۔ انھوں نے بتایا کہ گورنری کی میعاد پوری ہونے کے بعد وہ مذہبیات پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے اسلام پر کئی کتابوں کے نام مجھ سے پوچھ کر نوٹ کئے۔ ۷ جولائی کی شام کو انھوں نے گورنر ہاؤس میں نہایت اہتمام کے ساتھ تمام شرکاء، کانفرنس کو ڈنر دیا۔ اس موقع پر انھوں نے اپنے تمام افراد خاندان کا مجھ سے تعارف سب کے سب بہت خوش نظر آتے تھے۔
عجیب بات ہے کہ جب میں کانفرنس سے فارغ ہو کر دہلی واپس آیا تو یہاں خبر ملی کہ ۹ جولائی کی صبح کو ان کے تمام افراد خاندان (گورنر صاحب کو لے کر دس افراد) ہوائی جہاز کے حادثہ میں ہلاک ہو گئے۔ موصوف اپنی بیوی، لڑکی اور داماد، ان کے دو لڑکے، ایک بیٹا اور اس کی بیوی، اور ان کی دولڑکی کے ساتھ شملہ سے چنڈی گڑھ جا رہے تھے۔ راستہ میں ان کا چھوٹا جہاز پہاڑی سے ٹکرا گیا اور جہاز کے عملہ سمیت تمام کے تمام مسافر ہلاک ہو گئے۔ کی خبر پاکستانی اخبار نوائے وقت ۱۰۔ جولائی ۱۹۹۴) میں اس سرخی کے ساتھ چھپی: بھارتی پنجاب کا ہندو گورنر خاندان سمیت طیارے کے حادثہ میں مارا گیا۔
پہاڑوں کے اوپر اس وقت گہراکہر تھا۔ غالباً دھند (Poor Visibility) کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ جس سرکاری جہاز پر یہ لوگ سفر کر رہے تھے اس کانام سپرکنگ (super king) تھا ۔ مگر فطرت کے مقابلہ میں نہ کوئی سپر ہے اور نہ کوئی کینگ۔ وزیر اعظم نرسمہاراؤ کے سامنے کانگریس پارٹی کے ایک شخص نے کہا کہ نرسمہا راؤ کو ابھی دس سال اور پرائم منسٹر کے عہدہ پر رہنا چاہیے۔ نرسمہاراؤ نے فوراً جواب دیا کہ یہ بہت بڑی بھول ہے کہ کسی کے لئے دس سال یا بیس سال کی اصطلاح میں سوچا جائے۔ دیکھئے پنجاب کے گورنر سریندر ناتھ کے ساتھ کیا ہوا :
شریمتی گایتری رے (Gayatri Ray) اندرا گاندھی میموریل ٹرسٹ میں اسسٹنٹ سیکرٹری وہی اس کانفرنس کی آرگنائزرتھیں۔ جب میں شملہ پہنچا تو وہ بار بار مجھ سے کہتی تھیں کہ یہاں جو لوگ جمع ہوئے ہیں وہ سب آپ کو خصوصی طور پر سننا چاہتے ہیں۔ اس لئے آپ خوب کھل کر اپنے خیالات رکھیں۔ ۶ جولائی کی شام کو مجھے اس کا موقع ملا۔ میں نے تفصیل کے ساتھ موضوع پر موضوع تھا: پر امن دنیا کی طرف (Towards a non-violent world) شریتی گایتری رے نے اپنا ایک عجیب قصہ سنایا۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۷۱ میں جب بنگلہ دیش کی جنگ ہوئی، اس وقت ان کے شوہر ہندوستانی سفیر کی حیثیت سے ڈھاکہ میں مقیم تھے۔ پاکستانی فوج نے ان کو ہاؤس ارسٹ (خانہ قید) کر دیا۔ اتفاق سے انھیں دنوں وہ حاملہ تھیں۔ ڈاکٹری حساب کے مطابق، ۱۸ ستمبر کو ان کے یہاں ڈلیوری ہونے والی تھی۔ وہ بہت پریشان ہوئیں۔ انھوں نے پاکستانی حکام تک اپنی فریاد پہنچائی۔ مگر انھوں نے گھر سے نکل کر اسپتال جانے کی اجازت البتہ ایک پاکستانی ڈاکٹر کو ان کی مدد کے لئے گھر پر بھیجا۔ لیکن انھوں نے پاکستانی ڈاکٹر کی مدد لینے سے انکار کر دیا۔
انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے کمرہ میں بیٹھ کر بھگوان سے خوب پرارتھنا کی کہ وہ ان کی ڈلیوری کوروک دے۔ ان کی دعا قبول ہوئی۔ اور ڈلیوری کی تاریخ ایک مہینہ کے لئے مؤخر چنانچہ ان کی دہلی واپسی کے بعد ۲۱ اکتوبر ۱۹۷۱ کو ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا۔ ٹینکل تحقیق کے مطابق، بچہ کی پیدائش ۲۸۰ دن میں ہو جانا ضروری ہے۔ مگر دعا نے اس کو ایک مہینہ تک کے لئے روک دیا۔ شاید یہی مطلب ہے اس حدیث کاکہ : لَا يَرُدُّ القدر إلا
یہاں جو وی آئی پی تھے وہ سب مجھ کو پہلے سے جانتے تھے۔ وہ اخباروں میں میرے مضامین پڑھے ہوئے تھے۔ ہر ایک بڑے شوق سے ملا۔ ہماچل پردیش کے گورنر مسٹر سریندر ناتھ نے کہا کہ سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد میں مذہب پر کام کرنا چاہتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ تمام مذہبوں کی تعلیمات بنیادی طور پر ایک ہیں۔ میں اس کے بارہ میں مزید تفصیلی اسٹڈی کرنا چاہتا آپ مجھے اس موضوع کی کتابیں بتائیے ۔ میں نے کہا کہ اس موضوع پر مسلمانوں نے بہت کم
کتابیں لکھی ہیں۔ میں نے کئی انگریزی اور اردو کتابوں کے نام انہیں نوٹ کرائے۔ میں نے کہا کہ مسلم علماء اس نظریہ سے زیادہ اتفاق نہیں کرتے۔ البتہ غیر مسلم حضرات کو اس سے کافی دل چسپی ہے اور انھوں نے اس پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔
رشید طالب صاحب ایک کافی تجربہ کار صحافی ہیں۔ ایک ملاقات میں انھوں نے کہا کہ اوسط قاری کی پسند یا نا پسند اس اعتبار سے ہوتی ہے کہ کالم نگار اس کے اپنے خیالات کی تائید کرتا ہے یا تائید
The average reader approves or disapproves of a columnist depending on how far the columnist rationalises the reader’s prejudices. یہ صرف اخبار کے قاری کی بات نہیں ہے۔ یہی بیشتر انسانوں کی بات ہے۔ صرف وہی باتیں سننا پسند کرتے ہیں جو ان کے مخصوص فکر کی تصدیق کرنے والی ہوں۔ مزاج کی یہ بھاری قیمت انھیں دینا پڑتا ہے کہ ان کا فکری ارتقاء رک جاتا ہے۔ مسٹر رشید طالب ایک لبرل مسلمان ہیں۔ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ اس کانفرنس میں شریک تھے۔ وہ اس خیال کے حامی ہیں کہ اسلام میں نظر ثانی کی ضرورت ہے تاکہ اس کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق کیا جاسکے۔ انھوں نے تسلیمہ نسرین کے خلاف قتل کے فتوے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بد دین کے خلاف اسلام کی مقرر کی ہوئی سزا کیا جدید معیار انصاف کے مطابق ہے : Is the Islamic punishment for apostasy fair by modern standards of justice? میں نے کہا کہ یہ بات آپ اس مفروضہ پر کر رہے ہیں کہ تسلیمہ نسرین کے قتل پر جو لوگ انعام کا اعلان کر رہے ہیں وہ اسلام کے نمائندہ ہیں۔ حالاں کہ وہ ہر گز اسلام کے نمائندہ نہیں۔ یہ تو کچھ بے علم لوگوں کا شور و غل ہے۔ اس سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں۔ آپ قرآن پڑھیں تو آپ پائیں گے کہ مخالفوں کی اس قسم کی باتوں کا جواب دلیل سے دیا جا رہا ہے۔ یہی اسلام کا طریقہ ہے۔ کون سا جدید معیار ہے جس سے اسلام ٹکرا رہا ہے۔
۶ جولائی ۱۹۹۳ کو مسجد بابو گنج دیکھی۔ ۱۹۴۷ء میں یہ مسجد نا مکمل حالت میں تھی۔ تقسیم کے ہنگامہ میں یہاں کے مسلمان اس علاقہ کو چھوڑ کر چلے گئے۔ اس لئے مسجد بھی نامکمل حالت میں پڑی رہی۔
نار مل ہونے کے بعد دوبارہ مسلمان یہاں آنا شروع ہوئے ۔ اب یہ مسجد آباد ہے اور تعمیری اعتبار سے مکمل ہو چکی ہے۔ اس کے اطراف میں مسلمانوں کے پانچ گھر ہیں۔ مسجد میں ایک مدرسہ اور مختلف شعبے قائم ہیں۔ وہ ہماچل پردیش کے لئے اسلامی مرکز کا کام کر رہی ہے۔ اس دنیا میں وقتی نقصان ہر ایک کو پیش آتا ہے۔ مگر یہ قدرت کا قانون ہے کہ وقتی نقصان ہمیشہ وقتی نقصان رہے، وہ کسی کے لئے مستقل بربادی نہ بنے۔
بابو گنج کی مسجد کے پاس ایک صاحب پنڈت دیارام رہتے ہیں۔ یہاں کے مندر کا انتظام بھی وہی کرتے ہیں۔ پچھلے رمضان میں ایسا ہواکہ رات کو جس وقت مسجد میں تراویح ہوتی، عین اسی وقت مندر میں لاؤڈ اسپیکر پر بھجن ہوتا۔ اس سے نمازیوں کو الجھن پیش آ رہی تھی۔ روز ایک مسلمان نے پنڈت جی سے اس کا ذکر کیا۔ پنڈت جی نے فوراً کہا کہ آپ نے پہلے کیوں انھوں نے اسی دن ہدایت کر دی کہ تراویح کے وقت مندر کا لاؤڈ اسپیکر بند کر دیا جائے اور دوبارہ اس وقت کھولا جائے جب کہ تراویح ختم ہو چکی ہو۔
پنڈت دیارام مجھ سے ملنے کے لئے مسجد میں آئے۔ ان کی عمر ۷۲ سال ہو چکی ہے۔ سے میں نے پوچھا کہ آپ نے ۱۹۴۷ء سے پہلے کا زمانہ بھی دیکھا ہے اور ۱۹۴۷ء کے بعد کا زمانہ بھی دیکھ رہے ہیں۔ آپ نے دونوں میں کیا فرق پایا۔
پنڈت جی نے کہا کہ بہت زیادہ فرق ہے۔ اس وقت انسان کی قدر تھی۔ لوگ ایماندار تھے۔ ہم سکون کے ساتھ رہتے تھے۔ لاٹ صاحب (انگریز وائسرائے) سڑک پر صرف ایک گاڑی میں کل دہلی کے منسٹر صاحب آئے ہیں۔ جب وہ ائیر پورٹ سے یہاں پہنچے تو میں نے ان کے موٹروں کے قافلہ کو گن تو کل ۲۲ گاڑیاں ان کے ساتھ چل رہی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ اب جو اختلاف اور لڑائی جھگڑا ہے وہ سب پالی ٹیکس کی وجہ سے ہے۔ "ووٹ کے چکر میں سارے اختلافات پیدا ہو گئے"
انھوں نے بتایا کہ یہاں کے سیسل ہوٹل (Cecil Hotel) کا لان اس وقت بہت اچھا ہوا کرتا تھا۔ اس کے گیٹ کے سامنے یہ بورڈ لگا رہتا تھا کہ ہندوستانی اور کتے اندر داخل نہ ہوں: