Al-Risala · January 1997

زکوٰۃ کا مسئلہ

Al-Risala, January 1997, pp. 14–16

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کی ایک اہم تعلیم زکوٰۃ ہے۔ قرآن میں اس کو دین قیم کا ایک رکن قرار دیا گیا ہے (البینۃ: ۵) اور اس کو تطہیر و تزکیہ کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ (التوبہ: ۱۰۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من کنزها فلم يؤد زكا تھا فويل لہ ۔ یعنی اس آدمی کے لئے خرابی ہے جو مال کو جمع کرے، اور اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے ۔ (ابن ماجہ، کتاب الزکاة) خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق نے فرمایا کہ زکوٰۃ مال کا حق ہے : فَإِنَّ الزكاة حق المال فتح الباری ۲۸۸/۱۲ قرآن میں بہت سی آیتیں ہیں جن میں زکوٰۃ کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک آیت میں زکوٰۃ کے خرچ کی تفصیلی مدیں بتائی گئی ہیں :

انما الصدقات للفقراء والمساكين صدقات تو فقیروں اور مسکینوں کے لئے ہیں والعاملين عليها و المؤلفة قلوبهم اور ان کارکنوں کے لئے جو صدقات کے اوپر وفى الرقاب والغارمين وفى سبيل الله مقرر ہیں اور ان کے لئے جن کی تالیفِ قلب وابن السبيل فريضة من الله مطلوب ہے۔ اور گردنیں چھڑا نے میں اور والله عليم حكيم (التوبہ ۶۰ ) قرضداروں کے قرضہ میں، اور اللہ کے راستہ میں اور مسافر کی امداد میں ۔ یہ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔

زکوٰۃ ایک عبادت ہے۔ ادائیگی کے اعتبار سے وہ اسی طرح ایک شخصی عمل ہے جس طرح نماز ایک شخصی عمل ہے۔ البتہ اسلام میں عبادات کو اجتماعی زندگی سے جوڑ دیا گیا ہے تاکہ اس کا فائدہ پورے سماج تک وسیع ہو سکے۔ یہی معاملہ زکوٰۃ کا بھی ہے۔ زکوٰۃ ایک فرد اپنے مال سے نکالتا ہے مگر اس کے خرچ کی مدیں اس طرح مقرر کی گئی ہیں کہ اس کا فائدہ پورے سماج کو اور تمام انسانیت کو پہنچ سکے ۔

سورہ تو بہ کی اس آیت میں "صدقات" کا لفظ ہے۔ اکثر علماء نے اس سے زکوٰۃ مراد لی ہے۔ تاہم کچھ علماء کی رائے یہ ہے کہ قرآن نے جب زکوٰۃ کا لفظ چھوڑ کر یہاں صدقات کا لفظ استعمال کیا ہے

تو ہمیں اس سے زکوٰۃ سمیت تمام مالی عطیات کو مراد لینا چاہئے۔

آیت میں کل آٹھ مدوں کا ذکر ہے مگر ان میں ایک فرق ہے۔ ابتدائی چار مدوں کا ذکر ل (لئے) کے حرف کے ساتھ ہے اور بعد کی چار مدوں کا ذکر فی (میں) کے حرف کے ساتھ۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی ہم مدوں میں شخصی تملیک مراد ہے، یعنی انفرادی طور پر کسی کو دینا۔ اور بقیہ چار مدوں میں شخصی تملیک کے ساتھ اجتماعی مد بھی شامل ہے۔ مثلاً ابن السبیل (مسافر) کو شخصی طور پر بھی صدقات کی رقم دی جاسکتی ہے اور مسافر خانہ جیسی تعمیر میں بھی اس کو خرچ کیا جاسکتا ہے جس سے مسافروں کو فائدہ پہنچے۔

سبیل اللہ (اللہ کے راستہ) کی نوعیت متعین کرنے میں علماء کے درمیان اختلاف واقع ہوا ہے۔ علماء کی ایک تعداد کا کہنا ہے کہ اس میں بھی تملیک ضروری ہے۔ یعنی کسی فرد واحد ہی کو دیا جائے گا نہ کہ کسی اجتماعی مد میں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ انفرادی تملیک اور اجتماعی مد دونوں میں دینا جائز ہے۔ سبیل اللہ سے کیا مراد ہے، اس میں بھی علماء میں اختلاف ہوا ہے۔ ایک گروہ کی رائے یہ ہے کہ سبیل اللہ سے مراد صرف جہاد (بمعنی قتال) ہے ۔ دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ نہیں ، اس میں تمام امور خیر شامل ہیں۔ مثلاً حج ، طلب علم ، وغیرہ (ملاحظہ ہو تفسیر کبیر امام رازی) آیت کے الفاظ سے واضح ہے کہ سبیل اللہ کو جہاد (بمعنی قتال) سے مخصوص کرنا صرف استنباطی ہے ، وہ خود الفاظ قرآن سے براہ راست طور پر نہیں نکلتا۔ بعض احادیث کی بنیاد پر علماء کے ایک گروہ نے کہا ہے کہ سبیل اللہ کا تعلق صرف قتال سے نہیں ہے بلکہ وہ ایک عام

مثال کے طور پر صحیح البخاری (کتاب الدیات، باب القسامہ) کی ایک روایت پر گفتگو کرتے ہوئے ابن حجر العسقلانی نے لکھا ہے کہ بعض علماء نے اس کو ظاہر الفاظ پر محمول کیا ہے چنانچہ قاضی عیاض نے بعض علماء کی رائے نقل کی ہے کہ زکوۃ کی رقم کو مصالح عامہ میں خرچ کرنا جائز ہے۔ انھوں نے اپنی رائے کے حق میں اس حدیث سے اور کچھ دوسری حدیثوں سے استدلال کیا ہے۔ وقد حمله بعضهم على ظاهره - فحكى القاضي عياض عن بعض العلماء جواز صرف الزكاة في المصالح العامة واستدل بهذا الحديث وغيره (فتح الباري ۲۴۴/۱۲)

مزید تفصیل کے لئے سورۃ التوبہ آیت ۴۰ کے تحت حسب ذیل تفسیروں میں دیکھا جاسکتا ہے: التفسیر الکبیر، الرازی م ۶۰۶ھ الجامع لاحکام القرآن، القرطبی م ۶۷۱ھ البحر المحیط، البوحیان م ۷۴۰ھ روح المعانی، آلوسی م ۱۲۴۰ھ قرآن وحدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سبیل اللہ کا لفظ سبیل دین کے معنیٰ میں ہے۔ نہ کہ سبیل قتال کے معنیٰ میں۔ اس میں ہر وہ دینی کام شامل ہے جس کے لئے مالی اعانت کی

جہاد کے معنی صرف کوشش کے ہیں نہ کہ قتال کے۔ چنانچہ ہر دینی کام کے لئے کوشش کرنا جہاد ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے بڑا جہاد دعوت دین میں کوشش کرنا ہے وجاهد هم به جہاداً كبيراً، اس لحاظ سے سبیل اللہ کی مد میں دعوت دین اور اشاعت اسلام کا کام خصوصی اہمیت کے ساتھ شامل ہوگا۔

اصل یہ ہے کہ دین کا اظہار ہر حال میں اور ہمیشہ مطلوب ہے۔ البتہ زمانہ کے حالات کے اعتبار سے اس کی ترجیحات میں فرق ہو سکتا ہے۔ مثلاً قدیم مکہ جیسے حالات ہوں تو سبیل اللہ سے مراد سب سے زیادہ دعوت اور اشاعت اسلام کا کام ہو گا ۔ اور اگر فریق ثانی کی عملی جارحیت کے نتیجہ میں دفاع کی ضرورت پیش آ جائے تو دفاع میں خرچ کرنے کی اہمیت وقتی اعتبار سے بڑھ جائے گی ۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کو مختلف طاقتوں کی طرف سے چیلنج درپیش ہے۔ یہ چیلنج جنگی نہیں ہے بلکہ علمی ہے۔ آج اسلام کا سب سے بڑا دفاعی مسئلہ علم کے میدان میں پیش آرہا ہے۔ اس لئے اسلام کے علمی دفاع کے محاذ پر زکوٰۃ کی مدد سے خرچ کرنا دو گونہ اہمیت کا حامل ہے۔ ایک یہ کہ وہ دعوت اسلام کا کام ہے ، دوسرے یہ کہ وہ اسلام کا دفاعی کام بھی ہے۔ حدیث میں ہے کہ قیامت تک میری امت میں ایسا گروہ ہو گا جو جہاد کرتا رہے گا۔ کی تشریح امام بخاری نے یہ کی ہے کہ وہم اهل العلم (اور وہ اہل علم ہیں ) فتح الباری

Printed page