Privitisation is no panacea
Al-Risala, March 1997, pp. 46–47
By Maulana Wahiduddin Khan
اس میں بتایا گیا تھا کہ انڈیا میں اس وقت پبلک سیکٹر کے ۴۷۲ یونٹ ہیں۔ ان میں حکومت نے ۱۵۰ ہزار (150,000) کروڑ روپیہ لگایا ہے۔ مضمون میں پلک سیکٹر کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا
If the public sector failed in India, it was because of the command system imposed on it by politicians and the bureaucracy in their frantic search for انٹلیکچول کس طرح لوگوں کی سوچ کو بگڑتا ہے اس کی یہ ایک مثال ہے۔ یہ مضمون پبلک سیکٹر کو باقی رکھنے کی حمایت میں لکھا گیا ہے۔
روزگار میں لگی ہوئی خواتین کی سب سے بڑی تعداد پبلک سیکٹر میں ہے۔ اس طرح کے اور بھی بعض طبقات ہیں جن کا مفاد پبلک سیکٹر کو باقی رکھنے میں ہے۔ اس لئے پبلک سیکٹر کی حمایت میں برابر مضامین چھپوائے جا رہے ہیں۔ مذکورہ اقتباس میں ذہن کو خراب کیا گیا ہے۔ پبلک سیکٹر کی ناکامی کا سبب اقتصادی عمل سے محرک (incentive) کو ختم کر دینا ہے۔ مگر غیر متعلق طور پر اس کا ایک اور سبب نکال کر اس پر مضمون لکھا جارہا ہے۔
۷ جولائی کی دوپہر کو شملہ سے واپسی ہوئی۔ شملہ سے کالکا تک کا سفر بذریعہ کار طے کرنا تھا۔ میں اور ڈاکٹر چاری ایک گاڑی میں روانہ ہوئے۔ راستہ میں کچھ دیر کے لئے ہوٹل پائیں وڈ
(Hotel Pinewood) میں ٹھہرےے۔ یہ ایک خوبصورت ہوٹل ہے جو پہاڑی کے دامن میں بنایا
راستہ میں ڈاکٹر چاری نے کئی سبق آموز باتیں بتائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے جبلپور میں انگریز کلکٹر ہوا کرتا تھا۔ ایک بار شیعہ لوگوں نے آکر کلکٹر سے کہا کہ جس راستہ سے ہمارا تعزیہ گزرنے والا ہے وہاں ایک درخت کی شاخ سڑک کے اوپر آگئی ہے۔ ہم تعزیہ کی اونچائی کم نہیں انگریز کلکٹر نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ ہم اس کو کٹوادیتے ہیں۔ کلکٹر کے آدمیوں نے دیکھ کر کلکٹر صاحب سے کہا کہ یہ درخت تو پیپل کا درخت ہے۔ اس کی شاخ کاٹی جائے گی تو ہندو لوگ بگڑ جائیں اب کلکٹر کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کرے۔ آخر میں ایک تحصیلدار نے کہا کہ میری سمجھ میں ایک تدبیر آتی ہے میں اس کو استعمال کرتا ہوں۔
تحصیل دار نے ایک ہاتھی والے کو پکڑا اور اس سے کہا کہ تم اس مسئلہ کو حل کرو۔ والے نے اپنا ہاتھی اس سڑک پر چلایا۔ ہاتھی درختوں کی پتیاں اور شاخیں توڑتا ہوا مذکورہ پیپل تک پہنچا۔ یہاں ہاتھی والے نے اپنے ہاتھی کو کچھ دیر روکا۔ ہاتھی نے اپنی سونڈ اِدھر اُدھر گھمائی۔ آخر کار اس نے مذکورہ شاخ توڑ کر گرا دی۔ ہاتھی چوں کہ ہندوؤ ں کی نظر میں گنیش دیوتا کا روپ مانا جاتا ہے۔ اس لئے وہ ہاتھی کے عمل پر غصہ نہیں ہو سکتے تھے۔ چنانچہ شاخ راستہ سے ہٹ گئی۔ اور تعزیہ آسانی کے ساتھ اس سے گزر گیا۔ یہ سطریں واپسی میں ہوٹل پائن وڈ کے کمرہ نمبر ۱۰۳ میں بیٹھ کر لکھی گئیں۔
مسٹر چاری (سابق کلکٹر) نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں ان کے چیف سکریٹری مسٹر ادتار تھے۔ کہا کرتے تھے کہ ضلع کلکٹر کے پاس کسی معاملہ سے نمٹنے کے لئے اتنے زیادہ ذرائع ہوتے ہیں کہ فورس کا استعمال اس کے لئے ناکامی کے ہم معنی ہے: