Al-Risala · January 1997

بشرح صحیح البخاری ۳۰۶/۱۳ -

Al-Risala, January 1997, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت یہ ہے کہ علم کی راہ سے اسلام کی اشاعت کرنایا اسلام کا دفاع کرناسبیل اللہ کاسب سے بڑا اور صدقات (زکوٰۃ) کی رقم کا اس مد میں خرچ کیاجانا، خاص طور پر موجودہ زمانہ میں، اس کی سب سے اہم مد ہے۔

یہ ایک معلوم بات ہے کہ دین کے اکثر مسائل میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ اسی طرح زکوٰۃ کی مدوں کے معاملہ میں بھی علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خود دور اول میں صحابہ و تابعین کے درمیان کثرت سے اختلاف پایا جاتا تھا۔ یہی ابتدائی اختلاف کے علماء تک منتقل ہوگیا۔ علماء ہی نے لکھا ہے کہ یہ اختلاف امت کے لئے عین رحمت ہے ۔ کیوں کہ اس کی وجہ سے دین میں توسع کی صفت پیدا ہو گئی ہے ۔ اور اس بنا پر ہمارے لئے یہ ممکن ہوگیا ہے کہ ہم بدلتے ہوئے حالات میں شرعی احکام کو از سر نو منطبق کرسکیں ۔ ہر دور کے حالات میں اس کے موافق کوئی نہ کوئی حکم یاکسی نہ کسی کا قول پالیں۔ یہ دین اسلام کی ابدیت اور، ہمہ گیریت کا ایک یقینی ثبوت ہے۔

Printed page