خلاصہ کلام
Al-Risala, January 1997, pp. 17–18
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں واضح طورپر بتایاگیا ہے کہ زکوٰۃ کی رقم کو کن مدوں میں خرچ کیاجائے۔ یہ کل آٹھ مدیں ہیں ۔ فقراء، مساکین ، عاملین زکوٰۃ ، مؤلفۃ القلوب ، رقاب ، غارمین ، سبیل اللہ ابن السبیل ( التوبہ ۶۰ )
ان میں سات مدیں حاجاتی مدیں ہیں، اور ایک مد (سبیل اللہ) وہ ہے جس کو تحریکی مدکہا حاجاتی مد سے مراد وہ مد ہے جو شخصی ضرورت سے تعلق رکھتی ہے۔ مختلف اسباب کے تحت کوئی شخص کبھی وقتی طور پر اور کبھی مستقل طور پر معاشی اعتبار سے ضرورت مند بن جاتا ہے۔ لوگوں کو زکوٰۃ کے فنڈ سے مالی مد فراہم کی جانی چاہئے ۔
سبیل اللہ کی مدد ایک تحریکی مد ہے۔ یعنی اسلام کو ایک دینی مشن اور فلاح انسانیت کی ایک اسکیم کی حیثیت سے جاری کرنا اور اس سلسلہ میں جو ضرورتیں پیش آتی ہیں، ان کو مالی تعاون یہ سبیل اللہ (اللہ کے راستہ) میں خرچ کرنا ہے۔ بقیہ مدیں اگر انسانی ضرورت سے تعلق
رکھتی ہیں تو اس مد کا تعلق خود اسلام کی اپنی ضرورت سے ہے۔ سبیل اللہ کی یہ مد زکوٰۃ کی آٹھ مدوں میں سے ایک اہم مدہے۔
تحریکی مد سے مراد ہے ۔ ہے-----دعوہ ورک ، اسلام کی مشنری ضرورتیں ، اسلام کی اشاعتی مہم، اسلام کے خلاف اعتراضات کا جواب ، اسلام کو طاقت ور نظریہ کی حیثیت سے پیش کرنا، اسلام پر حملوں کا دفاع ۔ یہ تمام مدیں وہ ہیں جو اسلام کو بطور ایک عالمی مشن کے اٹھانے کی صورت میں پیش اور وہ اسلام کی نظریاتی برتری کو مسلسل قائم رکھنے کے لئے ضروری ہیں۔ یہ ایک نہایت اعلیٰ کام ہے اور اس میں بے حد ثواب ہے۔ یہ وہ کام ہے جس کو قرآن میں خدا کی نصرت (الصف ۱۴)کہا کہا گیا ہے اور اس کے لئے محنت کرنے کو جہاد کبیر (الفرقان ۵۲) بتایا گیا ہے۔ یعنی خدا کے دین کو پھیلانے کے لئے اور اس کو دنیا میں اونچا کر نے کے لئے اپنی طاقتوں کو لگانا۔ اس کام میں اہل اسلام کو ہر طرح تعاون پیش کرنا چاہیے۔ کی خصوصی اہمیت کی بنا پر زکوٰۃ فنڈ کا ایک حصہ اس کے لئے خاص کر دیا گیا ہے ، تاکہ ہر حال میں اور ہر دور میں اس کو مالی تعاون ملتا رہے اور وہ مسلسل جاری اور قائم رہے۔