Al-Risala · April 1997

تقویٰ

Al-Risala, April 1997, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

تقویٰ کے معنی ہیں پر ہیز گاری ۔ یعنی دنیا میں احتیاط اور پر ہیز کے ساتھ زندگی گزارنا ۔ زندگی کا نام متقیانہ زندگی ہے ۔ اور غیر محتاط زندگی کا نام غیر متقیانہ زندگی ۔ حضرت عمر فاروق رض نے ایک صحابی سے پوچھا کہ تقویٰ کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اے امیر المومنین کیا آپ کسی ایسے راستے سے گزرے ہیں جس کے دونوں طرف جھاڑیاں ہوں ۔ صحابی نے دوبارہ پوچھا کہ ایسے موقع پر آپ نے کیا کیا ۔ انھوں نے جواب دیا کہ میں نے اپنے دامن سمیٹ لیے اور اپنے کو اس سے بچاتا ہوا گزر گیا ۔ صحابی نے کہا کہ اسی کا نام تقویٰ ہے ۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں انسان کی آزمائش کے لیے مختلف قسم کے کانٹے بکھیر دیے گئے ہیں۔ کہیں منفی جذبات کا طوفان ہے۔ کہیں غیر سنجیدہ لوگوں کے چھیڑے ہوئے مسائل کہیں دنیا کی کشش اپنی طرف کھینچ لینا چاہتی ہے۔ کہیں ایسے ناخوش گوار اسباب ہیں جو آدمی کے ذہن کو درہم برہم کر کے اس کو نیکی کے راستے سے ہٹا دیں۔

یہ تمام چیزیں گویا کہ زندگی کے راستے کے دونوں طرف کھڑی ہوئی کانٹے دار جھاڑیاں ہر لمحہ یہ اندیشہ ہے کہ انسان کا دامن ان سے الجھ جائے۔ اور پھر آگے بڑھنے کے بجائے وہ انھیں چیزوں میں پھنس کر رہ جائے۔

ایسی حالت میں عقل مند وہ ہے جو دنیا کا راستہ اس طرح طے کرے کہ وہ اپنے دامن کو سمیٹے ہوئے ہو۔ وہ ناموافق چیزوں سے الجھنے کے بجائے ان سے اعراض کرتے ہوئے آگے ہر حال میں اس کا ذہن یہ ہو کہ اس کو اپنے آپ کو سنبھالنا ہے۔ اس کو بچاؤ کا طریقہ اختیار کرنا ہے نہ کہ الجھاؤ کا طریقہ۔

انسان صحیح فطرت پر پیدا کیا گیا ہے۔ کوئی چیز رکاوٹ نہ بنے تو ہر انسان اپنے آپ صحیح رخ پر اپنا سفر طے کرے گا۔ اس لیے اصل اہتمام کی بات یہ ہے کہ آدمی غیر فطری رکاوٹوں کو اپنے لیے رکاوٹ نہ بننے دے۔ اس کے بعد وہ خود اپنی فطرت کے زور پر صحیح رخ اختیار کرے گا یہاں تک کہ وہ اپنے رب سے جا ملے۔

Printed page