زکوٰۃ
Al-Risala, April 1997, pp. 20–21
By Maulana Wahiduddin Khan
زکوٰۃ سے مراد وہ متعین رقم ہے جو ایک مال والا آدمی اپنے مال میں سے سال کے آخر میں اس طرح وہ اپنے کمائے ہوئے مال کو پاک کرتا ہے۔ ایک جزئی حصہ کو خدا کی راہ میں دے کر بقیہ حصہ کو وہ اپنے لیے جائز طور پر قابل استعمال بنا لیتا ہے۔ اپنی کمائی میں سے زکوٰۃ کی رقم نکالنا اس بات کا عملی اعتراف ہے کہ اصل دینے والا خدا ہے۔ جب دینے والا خدا ہے تو بندے کو چاہیے کہ اس کے دیے ہوئے میں سے خدا کی راہ میں خرچ کرے ۔
زکوٰۃ کا قانون یہ ہے کہ مال والوں سے لے کر اس کو بے مال والوں میں دینا۔ کی گردش میں پیدا ہونے والی نابرابری کو دوبارہ برابر کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس طرح مال والوں کو یاد دلایا جاتا ہے کہ تمہارے اوپر ان لوگوں کا مالی حق ہے جن کو تقسیم میں کم حصہ ملا یا سرے سے کچھ نہیں ملا۔
زکوٰۃ کا تعلق اخلاقیات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ زکوٰۃ ایک طرف دینے والے کے اندر سے بخل اور خود غرضی کے جذبات کو نکالتی ہے، وہ دینے والے کے دل میں فیاضی اور انسان دوستي کی روح پیدا کرتی ہے۔
دوسری طرف پانے والے کے لیے زکوٰۃ کا فائدہ یہ ہے کہ دوسروں کو وہ اپنا بھائی اور غم گسار سمجھنے لگے۔ دوسروں کے بارے میں اس کے دل میں حسد کے جذبات نہ ابھریں۔ بلکہ اس کے بجائے اس کے دل میں دوسروں کے لیے محبت کے جذبات پیدا ہوں۔ یہ زکوٰۃ چوں کہ اللہ کی راہ میں نکالی جاتی ہے اسی لیے وہ دوسری عبادتوں کی طرح ایک عبادت ہے۔ بظاہر وہ انسانوں کے درمیان تقسیم کی جاتی ہے، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ انسان کو خدا سے جوڑنے والی ہے، وہ انسان کو خدا سے قریب کرنے کا ایک
زکوٰۃ اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے عبادت ہے اور اپنی خارجی تعمیل کے اعتبار سے خدمت۔
حج ایک عبادت ہے۔ وہ استطاعت رکھنے والے کے اوپر زندگی میں ایک بار کے لیے جو آدمی استطاعت نہ رکھتا ہو اس کے اوپر حج کی فرضیت نہیں۔ حج میں آدمی اپنے وطن سے نکل کر حجاز جاتا ہے۔ وہاں وہ مکہ میں داخل ہو کر کعبہ کا طواف وہ صفا اور مروہ نام کی دو پہاڑیوں کے درمیان سعی کرتا ہے۔ عرفات میں قیام کرتا ہے۔ جمار پر پتھر مارتا ہے۔ قربانی کرتا ہے۔ اس طرح کے مختلف عبادتی رسوم ذوالحجہ کے مہینہ میں ادا کیے اسی کا نام حج ہے۔
یہ حج بندے کی طرف سے اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالہ کرنے کی ایک علامتی صورت ان اعمال کے ذریعہ بندہ یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو خدا کے لیے سونپ رہا اس کی زندگی صرف خدا کے گرد گھومے گی۔ وہ خدا کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار ہے۔ حج کے عمل کے دوران آدمی کعبہ کے معمار حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو یاد کرتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخی یادگاروں کو دیکھتا ہے۔ وہ اپنے کچھ ایام کو اس ماحول میں گزارتا ہے جہاں اسلام کی ابتدائی تاریخ بنائی گئی۔ اس طرح حج ایک آدمی کو خدا سے اور خدا کے پیغمبروں سے جوڑنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ وہ خدا کے نیک بندوں کی زندگیوں کی یاد دلاتا ہے۔ وہ اسلام کی تاریخ سے زندہ تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
اسی کے ساتھ حج ساری دنیا کے خدا پرستوں کو متحد کرتا ہے۔ وہ دنیا بھر کے ایمان والوں کے ذہن میں اس حقیقت کو تازہ کرتا ہے کہ ان کی نسلیں اور ان کی قومیتیں خواہ الگ الگ ہوں، مگر ایک خدا پر عقیدہ ان کے عالمی اتحاد کی مضبوط بنیاد ہے۔ وطن کے اعتبار سے وہ خواہ کتنے ہی مختلف ہوں مگر ایک خدا کا پرستار ہونے کے اعتبار سے وہ سب کے سب ایک ہیں اور ہمیشہ ایک رہیں گے۔ حج اصلاً خدا کی عبادت ہے مگر عملی اعتبار سے اس میں دوسرے بہت سے ملی فائدے بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ انھیں میں سے ایک ملی اتحاد ہے۔