رواداری
Al-Risala, April 1997, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
رواداری (ٹالرنس) ایک اعلیٰ انسانی اور اسلامی صفت ہے۔ رواداری کا مطلب دوسروں کی رعایت کرنا ہے۔ اس کے مقابلے میں عدم رواداری یہ ہے کہ آدمی صرف اپنے آپ کو جانے، وہ دوسروں کے تقاضے سے بے خبر ہو جائے۔ رواداری ایک اعلیٰ انسانی اسپرت ہے۔ اس کو شریعیت میں مختلف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ رفتی، تالیفِ قلب، شفقت علی الخلق، وغیرہ۔ آدمی کے اندر جب خدا پرستی اور سچی دین داری آتی ہے تو وہ خود غرضی کے تحت پیش آنے والی تمام برائیوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ وہ اپنی ذات میں جینے کے بجائے حقائق میں جینے لگتا ہے۔ انسان عین اپنے مزاج کے مطابق دوسروں کو محبت کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ وہ دوسروں سے کسی چیز کا امیدوار نہیں ہوتا اس لیے دوسرے اگر اس سے اختلاف رکھیں یا اس کے ساتھ اچھا سلوک نہ کریں تب بھی وہ دوسروں کا خیر خواہ بنا رہتا ہے۔ تب بھی وہ دوسروں کی رعایت کرتا ہے۔ وہ دوسروں کے ساتھ اپنے روادارانہ سلوک کو باقی رکھتا ہے۔
رواداری یہ ہے کہ آدمی ہر حال میں دوسرے کی عزت کرے خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس وہ ہر حال میں دوسرے کو اعلیٰ انسانی درجہ دے خواہ وہ اس کا اپنا ہو یا غیر۔ کے کیس کو ہر حال میں ہمدردی کا کیس سمجھے۔ خواہ دوسرے کی طرف سے بظاہر غیر ہمدردانہ سلوک کا اظہار کیوں نہ ہوا ہو۔
رواداری کا مطلب دراصل دوسروں کی رعایت کرنا ہے۔ اجتماعی زندگی میں لازمی طور پر ایک اور دوسرے کے درمیان اختلافات پیش آتے ہیں۔ مذہب، کلچر، رواج اور ذاتی ذوق کا فرق ہر ساج میں باقی رہتا ہے۔ ایسی حالت میں اعلیٰ انسانی طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اصول پر قائم رہتے ہوئے دوسرے کے ساتھ رعایت اور توسع کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ اپنی ذات کے معاملہ میں اصول پسند ہو مگر دوسرے کے معاملہ میں روادار۔ وہ اپنے آپ کو اپنے معیار کی روشنی میں جانچے ۔ مگر جب دوسروں کا معاملہ ہو تو وہ رواداری اور وسعت ظرف کا طریقہ اختیار کرنے۔ یہ رواداری انسانی شرافت کا لازمی تقاضا ہے۔ اسلام آدمی کے اندر یہی اعلیٰ شرافت پیدا کرتا ہے۔