حقوق العباد
Al-Risala, April 1997, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
مومن پر ایک ذمہ داری وہ ہے جو خدا کی طرف سے اس پر عائد ہوتی ہے۔ اس کو حق اللہ کہا جاتا ہے۔ یعنی اللہ کو اس کی تمام صفات کمال کے ساتھ ماننا، اس کی عبادت کرنا۔ اس کے آگے اپنے آپ کو جواب دہ سمجھنا۔ اپنے آپ کو اس پر راضی کرنا کہ جب بھی خدا کا کوئی مطالبہ سامنے آئے گا تو وہ اس کو فوراً مان لے گا اور دل کی آمادگی کے ساتھ اس کی تعمیل کرے گا۔ مومن کی دوسری ذمہ داری وہ ہے جس کو حقوق العباد کہا جاتا ہے، یعنی بندوں کے یہ وہ ذمہ داری ہے جو اس کے اوپر دوسرے انسانوں کی نسبت سے عائد ہوتی ہے۔ ہر مرد یا عورت جو اس کا رشتہ دار ہو یا جو اس کا پڑوسی ہو یا جو اس کا ہم وطن ہو یا اس کا معاملاتی شریک ہو۔ ہر ایک کا اس کے اوپر کچھ حق ہے۔ ان حقوق کو ادا کرنا مومن کی لازمی ذمہ ان حقوق کی ادائیگی کے بغیر وہ خدا کی نصرت کا مستحق نہیں بن سکتا۔ حقوق العباد سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی ایک مومن کا سابقہ دوسرے انسانوں کے ساتھ پیش آئے تو وہ اس کے ساتھ وہی سلوک کرے جو اسلامی تقاضے کے مطابق ہو، وہ اس کے ساتھ کوئی ایسا سلوک نہ کرے جو اسلام کے معیار پر پورا نہ اترتا ہو۔
مثلاً دوسرے کا احترام کرنا اور اس کو کبھی بے عزت نہ کرنا۔ دوسرے کو نفع پہنچانا۔ اور اگر نفع پہنچانا ممکن نہ ہو تو کم از کم اپنے نقصان سے اس کو بچانا۔ دوسروں سے کیے ہوئے عہد و پیمان کو پورا کرنا اور کبھی اس کی خلاف ورزی نہ کرنا۔ دوسرے کے مال و جائیداد پر ناجائز قبضہ کی کوشش نہ کرنا۔ دوسرے کے ساتھ ہر حال میں انصاف کرنا اور کبھی بے انصافی کا معاملہ نہ کرنا۔ ایک کے ساتھ حسن ظن کا معاملہ کرنا اور کسی کے خلاف بلا دلیل بدگمانی میں مبتلا نہ ہونا۔ کو اس کے مفاد کے مطابق خیر خواہی کا مشورہ دینا اور کبھی کسی کو برا مشورہ نہ دینا، وغیرہ
ہر آدمی دوسرے کے بارہ میں اپنی انسانی ذمہ داریوں کو ادا کرے۔ اسی کا نام حقوق العباد ہے۔