Al-Risala · January 1997

سفر نامه یورپ ۲

Al-Risala, January 1997, pp. 19–21

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۲ اکتوبر کو صبح ساڑھے دس بجے دوبارہ ڈاکٹر لیونارڈو کے ساتھ فلارنس دیکھنے کے لئے ہم لوگ اس پہاڑی پر گئے جس کو یہاں سبسٹیس (S. Sebastius) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک نہایت خوبصورت مقام ہے۔ اس کو سیاحوں کے اعتبار سے ڈویلپ کیا گیا ہے۔ فلارنس کا بیشتر حصہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ آفاقی انداز کا ایک خوبصورت منظر تھا۔ ملکوں کے سیاح مرد اور عورت نظر آئے۔ سینٹ سیبسٹیس ایک مسیحی تھے جن کو ۲۸۸ میں مذہبی بنیاد پر قتل کر دیا گیا۔

یہاں سے فلارنس کا پھیلا ہوا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ سورج کی آفاقی ٹارچ اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہی تھی۔ بمبئی کی طرح کثیر منزلہ عمارتیں کہیں نظر نہیں آئیں۔ ساتھی نے بتایا کہ یہ لوگ اپنی تاریخی روایات کو قائم رکھنے کے معاملہ میں نہایت حساس ہیں۔ چنانچہ یہاں وہ ملٹی اسٹوری بلڈنگیں نہیں بناتے۔

جگہ جگہ فلارنس کے چرچ ابھرے ہوئے نظر آئے۔ اتنے میں ایک چرچ سے گھنٹہ کی مخصوص آواز سنائی دینے لگی۔ پوچھنے پر میرے اطالوی ساتھی نے بتایا کہ چرچ کے گھنٹے مختلف مواقع پر بجائے جاتے ہیں۔ مثلاً عبادت کے لئے کسی کی موت کے اعلان کے لئے یا کسی تقریب کے لئے۔ ہر ایک کے لئے الگ الگ آوازیں مقرر ہیں۔ جب چرچ سے گھنٹہ کی آواز سنائی دیتی ہے تو آواز کے فرق سے لوگ جان لیتے ہیں کہ کس بات کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ تمام چرچوں میں صرف ایک ٹاور دکھائی دے رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ آجکل نئی مسجدوں میں ایک مینار بنانے کا رواج بڑھ رہا ہے۔ یہ غالب چرچ کو دیکھ کر پیدا ہوا ہے۔ زمانہ میں مسلمان کثرت سے یورپ کے شہروں میں گئے۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ چرچ میں عام طور پر ایک ٹاور ہوتا ہے۔ یہ بات انھیں تصور توحید کے مطابق نظر آئی۔ نے اس کو اپنے حسب حال پاکر اسے اختیار کر لیا۔

یورپ کے ایک نوجوان ڈاکٹر سے گفتگو ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے یہاں تقریباً صد فی صد لو میرتیج ہوتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ بیشتر شادیاں تفریق پر ختم ہو جاتی ہیں۔ کے بعد دونوں اکیلے کی زندگی گزارتے ہیں۔ انھوں نے مختلف وجہیں بیان کیں۔ مثلاً یہ حقیقت

میں وہ محبت نہیں ہوتی۔ بلکہ سطحی کشش سے قریب ہو کر دونوں شادی کر لیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ مرد فطری طور پر غلبہ کا رجحان رکھتا ہے۔ شادی کے بعد ابتدائی کچھ دنوں تک اس کا یہ رجحان دبا رہتا ہے۔ مگر جلد ہی یہ رجحان ظاہر ہونے لگتا ہے ۔ اب شوہر چاہتا ہے کہ وہ گھر میں غالب ممبر کی حیثیت سے رہے۔ دوسری طرف عورت فیمنسٹ تحریکوں کے زیر اثر (نہ کہ فطرت کے زیر اثر عورت اور مرد کی مساوات (gender equality) کے نظریہ کے مطابق رہنا چاہتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں ٹکراؤ شروع ہوتا ہے جو بالآخر تفریق اور طلاق پر ختم ہوتا ہے۔ انہوں نے میرے نقطۂ نظر سے کامل اتفاق کیا۔ پھر میں نے کہا کہ اس سلسلہ میں دوسری قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ شادی سے پہلے جب ایک نوجوان کسی لڑکی کو پسند کرتا ہے تو ابتدائی تاثر کے تحت وہ سمجھ لیتا ہے کہ یہ میرے لئے پرفیکٹ مگر اس دنیا میں کوئی چیز پرفیکٹ نہیں۔ اور اسی طرح کوئی عورت (یا مرد) بھی جلد ہی مرد کے اوپر یہ حقیقت کھل جاتی ہے۔ اب وہ اپنی پسندیدہ خاتون کو کم تر سمجھ کر اس سے بے رغبت ہونے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے سے دور

اس مسئلہ کا حل طلاق یا دوسرا نکاح نہیں ہے۔ بلکہ اس کا حل یہ ہے کہ آپ یہ جانیں کہ اس دنیا میں کوئی بھی چیز آئیڈیل یا پرفیکٹ نہیں۔ یہاں ہر معاملہ میں ہمیں غیر آئیڈیل یا غیر پرفیکٹ کے ساتھ ایڈجسٹ کرتے ہوئے زندگی گزارنا ہے۔ گویا کامیاب زندگی کا راز ایڈجسٹمنٹ میں ہے نہ کہ ناکام طور پر کامل کو تلاش کرنے میں جو کبھی ملنے والا نہیں۔ میری اس بات سے بھی مکمل اتفاق کیا۔

۲۲ اکتوبر کو ظہر کی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا تو مروجہ نیت کے بجائے یہ الفاظ میری زبان پر آگئے: یا اللہ میں تجھ سے امید رکھتا ہوں کہ جب میں مرکز آخرت کی دنیا میں پہنچوں تو میرے بارہ میں تو کہہ دے کہ یہ میرا بندہ ہے جو میرے لئے سجدہ کر کے اور میرے لئے رکوع کر کے یہاں آیا ہے۔

نماز کے بعد اپنے ساتھی کے ہمراہ شہر کی بڑی مناسٹری میں پہنچا۔ یہاں کے وسیع ہال میں انسانوں کا ہجوم تھا۔ لوگ کھانے کی میز پر بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ اس غیر معمولی ہجوم کو دیکھ کر خیال آیا کہ جب اتنے سارے لوگ امن کے خواہش مند ہیں تو دنیا میں امن قائم کیوں نہیں دل نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں ہی نہیں جو دنیا میں بد امنی پھیلائے ہوئے ہیں۔ گویا امن پسند لوگ آپس میں امن کی باتیں کر رہے ہیں۔

اس طرح کی تمام کانفرنسیں، خواہ وہ ملکی ہوں یا بین الاقوامی وہ سب نوپر ابلم انسانوں کے اجتماع کے ہم معنی ہوتی ہیں۔ ہماری دنیا کے جو پرابلم انسان ہیں وہ یہاں آتے ہی نہیں۔ پھر امن کی باتوں کا کوئی عملی نتیجہ نکلے تو کیوں کر نکلے۔ اسی احساس کے تحت پچھلے چند سال سے میں پرابلم انسانوں کے اپنے اجتماعات میں جانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اور ان کی اپنی بھیڑ میں جاکر انھیں امن کا پیغام دے رہا ہوں۔ مگر جو لوگ اس راز کو نہیں سمجھتے وہ مجھ پر عجیب عجیب الزامات عائد

یہاں ایک نوجوان نے مجھ سے نصیحت لکھنے کے لئے کہا۔ میں نے اس کی ڈائری میں یہ الفاظ لکھ دئے _ حقیقت پسند بنو اور کامیابی تمہارے لئے یقینی ہو جائے گی۔

Printed page