انسانی برادری
Al-Risala, April 1997, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کے مطابق تمام انسان ایک خدا کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اس لیے تمام انسان ایک برادری ہیں اور آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ انسان اور انسان کے درمیان فرق کرنا خدا کی پسند کے مطابق نہیں۔
انسانیت کا آغاز ایک جوڑے سے ہوا جس کو آدم اور حوا کہا جاتا ہے۔ انسان خواہ کہیں بھی ہوں اور کسی بھی ملک میں ہوں سب کے سب اسی ایک ماں باپ کی نسل سے ہیں۔ زبان اور دوسری چیزوں کا فرق محض جغرافی اسباب سے ہوا ہے۔ جہاں تک اصل کا تعلق ہے تمام انسان آخر کار آدم و حوا کی اولاد ہیں اور انھیں سے نکل کر ساری دنیا میں پھیلے ہیں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ رنگ اور زبان اور دوسری چیزوں کے فرق کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کو اجنبی نہ سمجھیں، اس کے برعکس یہ ہونا چاہیے کہ ہر ایک کے دل میں دوسرے کے لیے انس ہو۔ ہر ایک کو دوسرے سے محبت ہو۔ ہر ایک دوسرے کے کام آئے۔ وسیع تر معنوں میں مل جل کر اسی طرح رہیں جس طرح لوگ اپنے محدود خاندان میں رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان جو تعلق ہے وہ اجنبیت کا نہیں ہے بلکہ شناسائی کا ہے، دوری کا نہیں ہے بلکہ نزدیکی کا ہے۔ نفرت کا نہیں ہے بلکہ محبت کا ہے۔
جب تمام انسان ایک ماں باپ کی اولاد ہیں تو اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ تمام انسان یہاں نہ کوئی چھوٹا انسان ہے اور نہ بڑا انسان۔ چھوٹے اور بڑے کا فرق انسان اور انسان کے درمیان نہیں ہے بلکہ انسان اور خدا کے درمیان ہے۔ جہاں تک انسان کا تعلق ہے، تمام انسان ایک دوسرے کے مقابلہ میں یکساں حیثیت رکھتے ہیں البتہ خدا کے مقابلہ میں کوئی انسان بڑا نہیں۔ تمام انسان یکساں طور پر خدا کے بندے اور مخلوق ہیں۔ خدا سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ اپنی مخلوقات میں ایک اور دوسرے کے درمیان کسی قسم کا فرق