Al-Risala · April 1997

عبرت پذیری

Al-Risala, April 1997, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

مومن کا مزاج عبرت پذیری کا مزاج ہوتا ہے۔ اس کو قرآن میں تو سم کہا گیا ہے یعنی واقعات سے نصیحت لینا ۔ گردو پیش کی چیزوں سے سبق حاصل کرنا۔

ایمان عین اپنی فطرت کے نتیجہ میں آدمی کو حساس بنا دیتا ہے ۔ وہ ہر معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگتا ہے ۔ اس کا مزاج یہ بن جاتا ہے کہ وہ چیزوں کے سطحی پہلو سے گزر کر ان کی گہرائیوں میں اترے۔ جن چیزوں کو دیکھ کر لوگ سرسری طور پر گزر جاتے ہیں ان میں وہ حکمت کا خزانہ دریافت کر لیتا ہے ۔ وہ بصارت سے گزر کر بصیرت کی نعمتوں کو پا لیتا ہے ۔ یہ ایک عظیم مومنانہ صفت ہے جو آدمی کی شخصیت کو بے پناہ بنا دیتی ہے ۔ وہ ہر آن نئی نئی چیزیں دریافت کرتا ہے۔ پھیلی ہوئی کائنات اس کی روح کے لیے رزق کا ایک عظیم دسترخوان بن جاتی ہے۔

سورج کی روشنی میں اس کو معرفت کا نور دکھائی دیتا ہے۔ ہوا کے جھونکوں میں وہ لمس ربانی کے تجربے کرنے لگتا ہے ۔ سر سبز درخت اور رنگین پھول اس کو عالمِ معنویت کی جھلکیاں دکھائی دینے لگتے ہیں۔ وہ ہر بہار میں ایک اور وسیع تر بہار اور ہر خزاں میں ایک اور باعنی خزاں کا منظر دیکھنے لگتا ہے۔

اسی طرح تمام انسانی اور غیر انسانی واقعات اس کے لیے نصیحت کا خزانہ بن جاتے ہیں۔ دوسروں کے علم سے اپنے علم میں اضافہ کرتا ہے ۔ دوسروں کی غلطیاں اس کے لیے اپنی اصلاح کا سبب بن جاتی ہیں۔ چیونٹی سے لے کر اونٹ تک اور دریا سے لے کر پہاڑ تک ہر چیز میں وہ ایسے پہلو تلاش کر لیتا ہے جو اس کی بصیرت میں اضافہ کریں۔ جو اس کو نئے تجربات سے آشنا کر کے آخری حد تک بے پناہ بنا دیں۔

جس طرح مادی خوراک جسم کی صحت کے لیے ضروری ہے اسی طرح عبرت اور نصیحت انسان کی روحانی خوراک ہیں۔ مادی خوراک اگر جسمانی صحت کی ضمانت ہے تو نصیحت پذیری روحانی صحت کی ضمانت ۔

Printed page