Al-Risala · April 1997

سادگی

Al-Risala, April 1997, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

مومن وہ ہے جو خدا کو پالے۔ خدا کو پانے والا انسان فطری طور پر اعلیٰ حقیقتوں میں جینے لگتا وہ ظاہری چیزوں سے اوپر اٹھ کر معنوی دنیا میں اپنے لیے دل چسپی کا سامان پاللیتا ہے۔ ایسا انسان عین اپنے مزاج کے مطابق سادگی پسند انسان بن جاتا ہے۔ اس کا نظریہ یہ ہو جاتا ہے کہ ــــــ سادہ زندگی گزارو، البتہ اپنی سوچ کو اونچا رکھو۔

جو آدمی معنوی حقیقتوں کا ذوق آشنا ہو جائے اس کے لیے ظاہری اور مادی چیزوں میں کوئی لذت باقی نہیں رہتی۔ ایسے آدمی کو سادگی میں لذت ملنے لگتی ہے۔ بناوٹی تکلفات اس کی نظر میں اپنی کشش کھو دیتے ہیں۔ اس کی روح کو فطری چیزوں میں سکون ملتا ہے۔ غیر فطری اور مصنوعی رونقیں اس کو ایسی محسوس ہونے لگتی ہیں جیسے کہ وہ اس کی اندرونی دنیا کو بکھیر رہی ہیں جیسے کہ وہ اس کے روحانی سفر میں ایک رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔

سادگی مومن کی طاقت ہے۔ وہ مومن کی مددگار ہے۔ سادگی کا طریقہ اختیار کر کے مومن اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے وقت کو غیر متعلق چیزوں میں ضائع نہ کرے۔ توجہ کو غیر ضروری چیزوں میں الجھانے سے بچائے۔ اور اس طرح اپنے آپ کو کامل طور پر صرف اپنے مقصد اعلیٰ کے حصول میں لگا سکے۔

سادگی مومن کی غذا ہے۔ سادگی اس کی تواضع کے لیے ایک لباس بن جاتی ہے۔ کے ماحول میں اس کی شخصیت زیادہ بہتر طور پر پرورش پاتی ہے۔ سادگی مومن کا حسن ہے۔ سادگی مومن کے لیے زندگی ہے۔ مومن اگر اپنے آپ کو مصنوعی رونقوں میں پائے تو اس کو ایسا محسوس ہوگا جیسے اس کو کسی قید خانہ میں بند کر دیا گیا ہے۔

مومن آخری حد تک اپنے آپ کو خدا کا بندہ سمجھتا ہے۔ یہ چیز اس کو عبدیت کے احساس میں جینے والا بنا دیتی ہے اور جو انسان عبدیت کے احساس میں جی رہا ہو اس کا مزاج لازمی طور پر سادگی کا مزاج ہوتا ہے۔ غیر سادگی کا انداز اس کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا اس لیے وہ اس کو اختیار بھی نہیں کر سکتا۔

Printed page