حقیقتِ اسلام
Al-Risala, May 1997, pp. 4–6
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام ایک خدائی صداقت ہے۔ اسلام اولاً اور اصلاً نفس انسانی میں اپنی جگہ بناتا پھر ایک ذات کی سطح پر اس کا ایک انفرادی فارم بنتا ہے، اور مسلم گروہ کی سطح پر اس کا ایک اجتماعی فارم تیار ہوتا ہے۔ تاہم دونوں ہی قسم کے فارم کا تعلق خارجی حالات پر ہے۔ ان میں سے کوئی بھی مطلق نہیں۔ خارجی حالات جس درجہ میں موافقت کریں گے اسی درجہ میں یہ فارم بھی بنے گا۔ مثلاً ایک شخص زاد راہ رکھتا ہے اور راستے بھی محفوظ ہیں تو وہ حج کرے گا، ورنہ وہ حج نہیں کرے گا۔ اسی طرح کسی مسلم سماج میں اگر حالات موافق ہیں تو قانونِ اسلامی کا عملی نفاذ کیا جائے گا ورنہ ذہنی فضا بنانے پر اکتفا کی جائے گی۔
مگر جہاں تک نفسِ انسانی کا تعلق ہے، وہ زمان ومکان کی قید سے آزاد ہے۔ ایک انسان کو ہر حال میں یہ موقع رہتا ہے کہ وہ اپنے اسلام کو ترقی دے۔ وہ لامحدود طور پر اپنے آپ کو خدا کے رنگ میں رنگتا چلا جائے۔
اسلام میں سب سے بڑی عبادت خدا کا ذکر ہے۔ یعنی خدا میں سوچنا اور اس کو یاد کرنا۔ ذکر ایک نہ ختم ہونے والا عمل ہے۔ اس کا آغاز تو ہے مگر اس کا کوئی اختتام نہیں۔ اسی لیے ذکر ہی واحد عمل ہے جس کو قرآن میں کثیر مقدار میں کرنے کا حکم دیا گیا ہے ( الاحزاب ۴۱) آدمی کے لیے لامحدود طور پر یہ موقع ہے کہ وہ معرفتِ خداوندی کے سمندر میں نہائے۔ وہ ہر آن اور ہر حال میں اللہ کے جلال و جمال سے اپنے لیے روحانی رزق حاصل کرتا رہے۔ وہ اپنی ذات میں غور کر کے خدا کو یاد کرے اور آفاق کی وسعتوں میں آلاء اللہ کا مشاہدہ کر کے اس سے سرشار ہوتا رہے۔ وہ ہر پیش آنے والے واقعہ سے ربانی سبق لے۔ وہ ہر لمحہ حیات میں شکر اور صبر اور تقویٰ اور دعا اور استغفار کی کیفیات میں غرق رہے۔ تاہم موجودہ زمانہ میں ایک نئی چیز ظہور میں آئی ہے جس کو اسلام کی انقلابی تشریح کہا جاتا ہے۔ اس سے متاثر ہو کر بہت سے مسلمان دنیا کے ہر حصہ میں سرگرم ہیں۔ مگر یہ اسلام کے نام پر غیر یہ ایک غیر مطلوب صورتِ حال ہے نہ کہ کوئی بابرکت چیز۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے فکری انحرافات میں یہ سب سے بڑا انحراف ہے جو اسلام کے نام پر اٹھنے والی انقلابی تحریکوں کی صورت میں ظا ہوا ہے ۔ موجودہ زمانہ کے فکری انحرافات میں یہ سب سے بڑا انحراف ہے۔ ان تحریکوں کے علم بردار اپنے خیال کے مطابق ، اسلام کی جامع تشریح پیش کرتے ہیں۔ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ اسلام کی صرف ناقص تشریح کر رہے ہیں۔ اس ناقص تشریح نے موجودہ زمانہ میں اسلام کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا نقصان اسلام کی پوری تاریخ میں کسی اور چیز نے نہیں پہنچایا۔ معاملہ کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجئے۔
" انسان صرف ایک جسمانی ڈھانچہ نہیں ہے ، وہ ایک مکمل سماجی اور معاشی اور سیاسی وجود ہے " ــــــــ یہ جملہ بظاہر ہر انسان کی شخصیت کا جامع بیان ہے۔ مگر حقیقت میں وہ اس کو محدود کرنے والا ہے۔ وہ اس ناقص طرزِ فکر کا نتیجہ ہے جس کو علم النفس کی اصطلاح میں دو قسمی طرزِ فکر (dichotomous thinking) کہا جاتا ہے۔ یعنی چیزوں کو بلیک اینڈ وائٹ میں دو کے سوا کسی تیسری حقیقت سے بے خبر رہنا۔
بظاہر یہ ایک جامع یا تکمیلی بیان ہے۔ مگر اس میں انسانی شخصیت کا تیسرا اہم ترین حصہ چھوٹ گیا ہے ، اور وہ اس کا داخلی وجود ہے۔ انسان کا ذہن ، اس کی کیفیات ، اس کے جذبات جو انسان کی عظیم تر اندرونی ہستی کی تشکیل کرتے ہیں ، وہ انسانیت کی اس تشریح میں سرے سے غیر مذکور ہو کر رہ گئے ہیں ۔
ٹھیک یہی معاملہ اسلام کی نام نہاد انقلابی تشریح کا بھی ہے۔ اس کے علم برداروں کا کہنا ہے کہ اسلام صرف ایک محدود مذہب نہیں ہے ، وہ ایک مکمل سیاسی اور معاشی اور معاشرتی نظام (politico-socio-economic system) ہے۔ مگر یہ بظاہر جامع تشریح اسلام کی انتہائی ناقص تشریح ہے۔ اس تشریح میں دوبارہ اسلام کا وہ اہم ترین پہلو حذف ہو گیا ہے جو اس کا اصل پہلو ہے ، یعنی اسلام کار بانی اور احسانی پہلو۔
اسلام جب ایک انسان کی ہستی میں داخل ہوتا ہے تو اس کے بعد جو سب سے بڑا واقعہ رونما ہوتا ہے وہ یہ کہ اس کی شخصیت ایک نئی دریافت کا تجربہ کرتی ہے۔ یہ خدائے عظیم
کی معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں اس کی داخلی دنیا میں ایک ناقابل بیان قسم کا روحانی بھونچال آجاتا ہے۔ خدا کی آتشیں یاد اس کے سینہ میں سمندری طوفان سے بھی زیادہ بڑا طوفان برپا کر دیتی ہے۔ وہ ایک ایسی لامحدود دنیا میں جینے لگتا ہے جو سیاسی اور حکومتی وسعتوں سے بہت زیادہ وسیع ہے۔
ایسے انسان کے اندر تخلیقی صلاحیت اپنی اعلیٰ ترین صورت میں ابھر آتی ہے۔ کی ادنی سطح سے اوپر اٹھ کر زندگی کی اعلیٰ سطح پر پہنچ جاتا ہے۔ محدود مادی دنیا سے آگے جاکر وہ لامحدود اخروی دنیا کا تجربہ کرنے لگتا ہے۔ عام انسانی ذہن کے اگر چند دریچے کھلتے ہیں تو اس کے ذہن کے تمام دریچے کھل جاتے ہیں۔ وہ برتر حقیقت کی لامحدود فضا میں پرواز کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
ایسا انسان گویا خدا کو دیکھنے لگتا ہے۔ وہ خدا کی قربت کا آسمانی تجربہ کرتا ہے۔ ساتھ اس کی سرگوشیاں ہونے لگتی ہیں۔ نورانی فرشتے قطار در قطار اس کے اوپر نازل ہوتے ہر واقعہ اس کے لیے ایمانی خوراک فراہم کرتا ہے، ہر مشاہدہ اس کے ایمان میں اضافہ کا سبب بن جاتا ہے۔
یہ ایک ایسا انسان ہوتا ہے جو بظاہر مادی دنیا میں ہوتا ہے مگر اپنی نفسیات کے اعتبار سے وہ عالم روحانی میں جینے لگتا ہے۔ اس کی روح ایک لطیف ربانی غسل میں نہا کر ایک برتر روح بن جاتی ہے۔ وہ مسلسل تزکیہ کے مراحل طے کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ قرآن کے الفاظ میں، وہ النفس المطمئنہ کے درجہ کو پا لیتا ہے۔ وہ اپنی داخلی صفات کے اعتبار سے ایک ایسا انسان بن جاتا ہے جو خدا کے پڑوس میں بسائے جانے کے قابل ہو۔ جس کے لیے ابدی جنتوں کے دروازے ابدی طور پر اس طرح کھول دیے جائیں کہ کوئی بھی دروازہ اس کے لیے بند نہ رہے۔