Al-Risala · January 1997

Be realist and ensure your success

Al-Risala, January 1997, pp. 22–45

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۹۹۵ میں یروشلم میں ایک انٹر ریلیجس کانفرنس تھی۔ اس میں یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر میں نے اس میں شرکت کی۔ اور وہ مقالہ پیش کیا جو الفصل بین القضیتین کے عنوان سے الرسالہ نومبر۱۹۹۵میں شائع ہو چکا ہے۔ میں کئی عربوں کو بھی دعوت نامہ بھیجا گیا تھا مگر وہ اس میں شریک نہیں ہوئے۔ کیوں کہ ان کے نزدیک یروشلم (قدس) جانا یروشلم کے اوپر یہودیوں کے ناجائز قبضہ کو تسلیم کرنے کے ہم معنی ہے۔ ان میں سے کچھ عرب فلارس کی کانفرنس میں موجود تھے۔

ایک مجلس میں ایک عرب شیخ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ قدس کی کانفرنس میں گئے تھے میں نے کہا کہ کیوں نہ جاتا (لم لا) پھر اس موضوع پر ان سے گفتگو ہوئی۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ اللہ نے آپ کو ایک موقع دیا تھا کہ آپ وہاں جائیں اور اس مقام پر اللہ کے لئے سجدہ کریں۔ جہاں رسول اللہ نے اور تمام دوسرے نبیوں نے سجدہ کیا۔ مگر آپ نے اس سے انکار کیا کہ آپ کا شمار ان مقدس ساجدین میں کیا جائے۔ آپ لوگوں نے ایک سنہرا موقع کھو دیا: ان اللہ سبحانہ وتعالیٰ هیأت لکم الفرصة لكى تسجد و احيث سجد الانبياء كلهم ولكنكم رفضتم ان تكونوا مع هؤلاء الساجدين - انكم والله فقدتم جسٹس کھنہ اردو زبان جانتے ہیں اور اقبال کے اشعار بڑے ذوق وشوق کے ساتھ ایک بار کھانے کی میز پر انھوں نے اقبال کا ایک اردو شعر سنایا۔ پاس ہی ایمسٹرڈم سے آئے ہوئے سوامی چپ شاند بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ مکمل طور پر گیروے لباس میں ملبوس دور تک بھی مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ وہ اردو جانتے ہوں گے۔ مگر جیسے ہی جسٹس کھنہ نے شعر سنایا، وامی جی نے جیب سے قلم کاغذ نکالا اور جسٹس کھنہ سے دوبارہ پوچھا کہ اس کو اردورسم الخط میں لکھنے لگے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے کے ہندوستان میں پیدا ہونے والے ہندو عام طور پر اردو زبان جانتے بلکہ بہت سے فارسی سے بھی واقف تھے۔ جسٹس کھنہ نے بتایا کہ شہنشاہ ایران جب دہلی آئے اس وقت کے راشٹرپتی ڈاکٹر راجندر پرشاد نے ان کے استقبالیہ جلسہ میں فارسی زبان میں

تقریر کی جس سے شاہ بہت خوش ہوئے۔

کیسی عجیب بات ہے کہ جس زمانہ میں ہمارے ملک کے ہندومسلم کلچر سے اتنا زیادہ قریب تھے، اسی زمانہ میں کچھ نام نہاد مسلم رہنماؤں کو مسئلہ ملت کے حل کی یہ الٹی تدبیر سوجھی کہ ہندوؤں سے کٹ کر اپنا علیحدہ ملک بنائیں اور ہندوؤں کو ہمیشہ کے لئے اسلام اور مسلمانوں سے

سوڈان کے مسلمان اپنے سر پر سفید عمامہ باندھتے ہیں۔ مجھے یہ عمامہ پسند آیا۔ عمامہ بہت بڑا ہوتا ہے۔ میں نے چھوٹا عمامہ استعمال کرنا شروع کیا۔ کانفرنس میں سوڈان کے شیخ اسحاق سکوتہ بھی شریک تھے۔ ان کو یہ انداز پسند آیا۔ اور انھوں نے اپنی طرف سے ایک سفید عمامہ مجھے بطور ہدیہ پیش کیا۔ اس کو لیتے ہوئے میں نے کہا: **هذه جيدة مباركة وسوف تكون لى شرفاً وكرامة** سوڈان کے لوگ سیاہ فام ہوتے ہیں۔ مگر ان کا قومی لباس سفید پگڑی ہے۔ صدی عیسوی میں جب عرب اس علاقے میں داخل ہوئے تو اس کو انھوں نے بلاد السودان (سیاہ فام لوگوں کا ملک) کہا۔ اسی سے اس ملک کا نام سوڈان یا سوڈان پڑ گیا۔ سوڈان براعظم افریقہ کا سب سے بڑا ملک ہے۔ یہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ تاہم جنوبی سوڈان میں عیسائی کافی تعداد میں

سوڈان میں اسلام کے تیزی کے ساتھ پھیلنے کا سبب یہ تھا کہ کئی غیر مسلم راجاؤں نے اسلام قبول کرلیا۔ مثلاًکنبورو او رزا کا سی وغیرہ۔ پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے افریقہ میں اسلام کی اشاعت کے تحت لکھا ہے کہ اس زمانہ کی تبلیغی سرگرمیوں سے زیادہ تیزی کے ساتھ مسلم آبادی میں اضافہ ہوتا، اگر وہ مہلک قسم کی باہمی لڑائیاں نہ ہوتیں جن میں ایک مسلم حکومت دوسری مسلم حکومت کی تباہی کا سبب بن گئی:

the propagandist activities... would have contributed to the more rapid growth of a Muhammadan population, had it not been for the internecine wars that caused one Muhammadan state to work the destruction of another. (The Preaching of Islam, p. 324)

یہاں کئی بدھسٹ آئے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ بدھسٹ سے بات ہوئی۔ گفت گو کے دوران انھوں نے کہا کہ سچائی کی دریافت کا آخری درجہ سکون ہے۔ جب آدمی سچائی کو دریافت کرتا ہے تو اس کو کامل ذہنی سکون حاصل ہو جاتا ہے۔ یہی سکون وہ چیز ہے جس کو دوسرے مذاہب میں جنت کہا گیا ہے۔

میں نے کہا کہ ذہنی سکون کا تعلق دریافت حقیقت سے نہیں ہے بلکہ اس بات سے ہے کہ آدمی نے کیا دریافت کیا ہے۔ مثلاً ایک ایسا نظریہ جس میں حساب و کتاب (accountability) کا کوئی تصور نہ ہو۔ جس میں موت کو خاتمہ کے ہم معنی سمجھا گیا ہو۔ ایسے نظریہ کی دریافت آدمی کے اندر ذہنی سکون لاسکتی ہے۔ مگر ایسا مذہب جس میں یہ مانا گیا ہو کہ مرنے کے بعد انسان کے قول و عمل کا حساب لیا جائے گا ، وہ کبھی وہ چیز نہیں دے سکتا جس کو آپ ذہنی سکون کہہ رہے ہیں۔ کیوں کہ حساب کا تصور اس کو مستقل طور پر اس احساس کے تحت بے چین رکھے گا کہ معلوم نہیں آخرت کی جانچ میں میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ میں نے کہا کہ کسی نظریہ کو آپ اس بنا پر برحق نہیں کہہ سکتے کہ وہ آدمی کو ذہنی سکون دے رہا ہے۔ صداقت کو جانچنے کا یہ معیار درست نہیں۔ اس کے بجائے یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ نظریہ بجائے خود معقول ہے یا نہیں۔ میں نے کہا کہ تمام متعلق حقائق یہ بتاتے ہیں کہ موت پر خاتمہ کا نظریہ درست نہیں ہو سکتا۔ اور نہ اس کا کوئی ثبوت ہے کہ زندگی ایک دور مسلسل کا نام ہے۔ یعنی جینا پھر مرنا ، پھر جینا پھر مرنا۔ یہ صرف ایک مفروضہ ہے نہ کہ کوئی ثابت شدہ حقیقت۔

اس کے برعکس موت کے بعد سزا و جزا کا نظریہ انتہائی معقول ہے۔ کیوں کہ موجودہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی کوئی توجیہ اس کے سوا نہیں بنتی کہ یہ مانا جائے کہ آخر کار ایک ایسا وقت آنے والا ہے جب کہ ظالم کو سزا ملے اور حق پرست کو انعام دیا جائے۔ ایک اطالوی نوجوان سے بات ہو رہی تھی۔ میں نے مثبت سوچ کے بارہ میں کچھ باتیں وہ بہت خوش ہوئے۔ پھر میں نے کہا کہ اپنی زندگی کے بارہ میں میرا اصول مختصر طور پر سادہ زندگی، اونچی سوچ (simple living, high thinking) پھر میں نے کہا

کہ اس کو آپ اطالین زبان میں لکھئے۔ انھوں نے ایک کاغذ پر حسب ذیل الفاظ لکھے: Vivere sempli cemente, pensare alla grande ایک اطالوی لڑکی میرے پاس آئی۔ اس نے کہا کہ میں عربی کی طالب علم ہوں۔ اور پھر اس نے عربی میں بولنا شروع کیا۔ اس نے بتایا کہ وہ روم کی یونیورسٹی میں عربی زبان کی تعلیم حاصل اس نے بتایا کہ اس شعبہ میں سو سے زیادہ طالب علم ہیں۔ تعداد لڑکیوں کی ہے ، یعنی ستر فیصد۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگ عربی زبان کیوں پڑھ رہے اس نے کہا کہ ہمارا ملک عرب دنیا سے بہت قریب ہے۔ ہمارے اور عرب دنیا کے بیچ میں صرف بحر متوسط حائل ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم عربوں کی زبان اور ان کے کلچر کو جانیں۔

میں نے سوچا کہ دنیوی مقاصد کے لئے لوگ دوسروں کی زبان اور ان کے کلچر کے بارہ میں معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ مگر یہی چیز دعوتی مقصد کے لئے مسلمانوں میں پیدا نہ ہوسکی۔ کیر الا کے ایک عیسائی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنا نام نادر نیتیا (Fr. Nithya) وہ روم میں رہتے ہیں اور ایک مسیحی عالمی ادارہ میں سکریٹری ہیں۔ وہ نہایت باصلاحیت معلوم ہورہے تھے۔ مسیحی افراد نے بے شمار اعلیٰ قسم کے ادارے کھول رکھے ہیں۔ تعلق رکھنے والوں کو وہ ان اداروں میں باعزت جگہیں دیتے ہیں۔ اس طرح وہ باصلاحیت نوجوانوں کو اپنے ساتھ لینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ہمارے یہاں اس قسم کے ادارے نہیں۔ اپنی قوم کے باصلاحیت نوجوانوں کو ہم اسلامی خدمت کے کام میں مصروف بھی نہ کر سکے۔ ایک صاحب سے امن کے موضوع پر بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ امن کے حصول کے لئے واحد قابل عمل فارمولا صرف ایک ہے، وہ یہ کہ صورت موجودہ کو مان لیا جائے: The only workable formula for peace is to accept the status quo. انھوں نے کہا کہ پھر تو آپ ظلم کو ابدی لائسنس دے رہے ہیں۔ کیوں کہ صورت موجودہ کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ظلم کو ختم کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ بلکہ ظلم کو اسی حالت میں باقی رہنے دیا جائے جیسا کہ وہ ہے۔

میں نے کہا کہ ظلم کو ختم کرنے کے لئے جہاں جہاں اقدام ک گیا ہے وہاں ظلم ختم مثلاً روس میں ظلم کو ختم کرنے کے نام پر خونیں انقلاب لایا گیا۔ مگر اس نے روس میں ظلم کا خاتمہ نہیں کیا۔ مصر میں ظلم کو ختم کرنے کے لئے شاہ فاروق کو اور پاکستان میں ظلم کو ختم کرنے کے لئے ذوالفقارعلی بھٹو کو ختم کیا گیا۔ مگر دوبارہ ان کے خاتمہ سے ظلم کا خاتمہ نہیں ہوا۔ یہی تاریخ میں بار بار ہوا ہے۔

اصل یہ ہے کہ خاتمہ ظلم کے نام پر ٹکراؤ کرنے سے امن نہیں آتا۔ بلکہ اس چیز کو ٹالریٹ کرنے سے امن قائم ہوتا ہے جس کو آپ ظلم کا نام دے رہے ہیں۔ کیوں کہ دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایسا نظام قائم ہو جائے جو تمام لوگوں کو بالکل ٹھیک دکھائی دینے لگے۔ آپ کوئی بھی نظام بنائیں، کچھ ایسے لوگ ہمیشہ باقی رہیں گے جن کو وہ غیر منصفانہ دکھائی دے گا۔

ظلم ختم کرنے کی واحد قابلِ عمل صورت یہ ہے کہ اس سے براہ راست ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے ان دائروں میں کام کیا جائے جہاں ٹکراؤ کئے بغیر کام کرنے کا موقع حاصل ہے۔ کی ایک اچھی مثال جدید جاپان میں ملتی ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں جاپان عظیم ظلم کا شکار ہوا۔ امریکی غلبہ کی صورت میں جنگ کے بعد بھی یہ ظلم بدستور باقی رہا۔ مگر جاپان نے "ظالم" سے ٹکراؤ کا راستہ چھوڑ کر پر امن دائرہ میں اپنا عمل شروع کر دیا۔

ایک صاحب نے کہا کہ آپ الجیریا پر لکھیے۔ وہاں بہت ظلم ہو رہا ہے۔ اب تک ساٹھ ہزار آدمی مارے جا چکے ہیں اور دکھ کی بات یہ ہے کہ مرنے والے بھی مسلمان ہیں۔ اور مارنے والے میں نے کہا کہ الجیریا اور اس قسم کے دوسرے ملکوں میں، صرف ایک ہی فارمولا قابلِ عمل ہے۔ اور وہ وہی ہے جو آج بھی سعودی عرب اور دوسرے پٹرول کے ملکوں میں بالفعل پوری طرح رائج ہے۔ وہ فارمولا یہ ہے کہ "پولیٹیکل اقتدار کو چیلنج نہ کرو، اس کے بعد تم کو ہر قسم کی آزادی حاصل رہے گی۔

انھوں نے کہا کہ الجیریا میں وہاں کی حکومت جو کچھ کر رہی، کیا اس کو آپ حقوقِ انسانی کی خلاف ورزی نہیں سمجھتے۔ میں نے کہا کہ الجیریا یا سے لیکر کشمیر تک ہر جگہ کے بارہ میں میری رائے یہ ہے کہ وہ حقوقِ انسانی کی خلاف ورزی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ عقل انسانی کی خلاف ورزی کا مسئلہ

ان مقامات نام نہاد اسلام پسند جو کچھ کر رہے وہ سراسر بے عقلی ہے، اور بے عقلی کا انجام ہمیشہ یہی ہوا کرتا ہے۔

ایک عیسائی پروفیسر نے کہا کہ ہمارا نظام آپ کے اسلام سے زیادہ بہتر ہے۔ ہمارا نظام فریڈم کے اصول پر قائم ہے۔ ہم ہر ایک کو نکہ کرو عمل کی آزادی دیتے ہیں۔ اسلام جبر کے اصول پر قائم ہے۔ دیکھئے، ، ہم ہر جگہ پیس کانفرنس کرتے ہیں، اور مسلمان ہر جگہ گن کلچر چلا رہے ہیں۔

You see, we are holding peace conferences, while Muslims are engaged in gun culture everywhere. میں نے ان صاحب کو ایک وقتی جواب دیا۔ اس کے بعد جب میں اپنے کمرہ میں آیا اور اس پر سوچنا شروع کیا تو میرے دل نے کہا کہ جہاں تک اصولِ اسلام کا تعلق ہے، ان کا اعتراض بلاشبہ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان عملاً اسلام کے نام پر جو کچھ کررہے ہیں وہ تو بظاہر ایسا ہی ہے، یہ لوگ غیر مسلموں کو یہ موقع دے رہے ہیں کہ وہ اسلام پر مذکورہ قسم کے شبہات وارد کریں۔ پھر مجھے قرآن کی آیت یاد آئی جس میں اہلِ اسلام کو یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ: رَبَّنَا لا تجعلنا فتنة للقوم الظالمين (یونس ۸۵) اس آیت کی تفسیر اس طرح کی گئی ہے کہ : اے ہمارے رب، ان کو ہمارے اوپر غلبہ نہ دے کہ وہ فخر و ناز میں مبتلا ہو جائیں اور یہ گمان کرنے لگیں کہ وہ ہم سے بہتر ہیں۔ فتنہ یہاں منکرین کا اپنے انکار کے اوپر فخر کرنا ہے۔ لا تظهرهم علينا فيعجبوا ويظنو ا | أنهم خير منا ، فالفتنة هُنا اعجاب الكفار بكفرهم ، لسان العرب ۱۴ / ۳۱)

یہ آیت ، براہِ راست طور پر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں پر صادق آتی ہے جو اپنے آپ کو انقلابی اسلام کا نمائندہ بتاتے ہیں۔ ان کے نام نہاد انقلابی اقدامات نے اسلام کو بدنام کرنے کے سوا کوئی اور کارنامہ انجام نہیں دیا۔

انڈیا کے کئی لوگ اس کانفرنس میں شریک ہوئے۔ کھانے کی میز پر ایک بار ایسا ہوا کہ ایک سوامی جی نے گوشت، مچھلی ، انڈا ہر چیز لینے سے انکار کر دیا۔ اس میز کے گرد بیٹھے ہوئے لوگوں سے

ان کی بحث شروع ہو گئی۔ ایک صاحب نے پوچھا کہ سوامی جی، آپ گوشت، مچھلی، انڈے کیوں نہیں کھاتے۔ سوامی جی نے کہا کہ ہم جان مارنے کو سب سے بڑا گناہ سمجھتے ہیں۔ اور یہ غذا ئیں جان مار کر حاصل کی جاتی ہیں۔ انھوں نے ایک بھارتی ودوان کا مشہور مقولہ دہرایا کہ احساس کو مارنا گناہ ہے اور احساس کو زندگی دینا نیکی ہے:

Printed page