مناظر ، داعی
Al-Risala, May 1997, pp. 16–23
By Maulana Wahiduddin Khan
مناظرہ ایک کرتب ہے اور دعوت ایک اسلامی عمل مناظرہ ایک منفی کارروائی ہے اور دعوت ایک مثبت کارروائی مناظرہ اپنے عمل سے اپنے آپ کو خوش کرتا ہے، داعی وہ ہے جو خدا کو خوش کرنے کے
مناظر کا طریقہ یہ ہے کہ مخاطب کے اندر کمزوریاں تلاش کر کے اس کی مذمت کرے اور اس طرح اس کے اوپر اپنی فتح کا جھنڈا گاڑے ۔ اس کے مقابلہ میں داعی کا طریقہ یہ ہے کہ مخاطب کے اندر کوئی مشترک بنیاد تلاش کر کے اس سے قربت حاصل کی جائے اور پھر تدریج کے ساتھ اس کے فکر و عمل میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جائے ۔ مناظر صرف اپنی ذات کا خیر خواہ ہوتا ہے اور داعی اپنے ساتھ پورے معنوں میں مخاطب کا بھی خیر خواہ ۔
مناظر اور داعی میں وہی فرق ہے جو وکیل اور مصلح میں ہوتا ہے۔ وکیل کا مقصد دوسرے کے اوپر برتری ہوتا ہے اور مصلح کا مقصد صرف دوسرے کی خیر خواہی ۔ وکیل کا کام یہ ہے کہ وہ ایک فریق کے مقابلہ میں دوسرے فریق کو نیچا ثابت کرے۔ مصلح کا کام یہ ہے کہ وہ دلوں میں اتر کر لوگوں کو آمادہ کرے کہ وہ اپنی درستگی کی فکر کریں اور اپنے معاملات کو بہتر بنا لیں ۔ مناظرہ اور ڈیبیٹ اپنی ذات میں خود ایک برائی ہے۔ جب کہ دعوت کا مقصد یہ ہے کہ برائیوں کو حکیمانہ تدبیروں سے دور کیا جائے ۔ مناظرہ بازی ماحول کے اندر فکری آلودگی پیدا کرتی ہے، اور دعوت و تبلیغ سے لوگوں کے درمیان صفائی اور پاکیزگی کا ماحول قائم ہوتا ہے، مناظرہ تاریکی میں مزید تاریکی کا اضافہ ہے۔ دعوت تاریکی میں روشنی کا چراغ روشن کرنا ہے مناظرہ بازی لوگوں کے دماغوں میں منفی رجحانات کی پرورش کرنے والی ہے جبکہ دعوت و تبلیغ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی داخلی دنیا میں مثبت سوچ کی بہار آ جائے۔
مناظرہ کھلے ہوئے دروازوں کو بند کرنے والا ہے اور دعوت کا عمل بند دروازوں کو کھولنے والا مناظرہ صرف مناظر کی اپنی ذات کو فائدہ پہنچاتا ہے، جبکہ دعوت خود مدعو کی زندگی میں فائدوں کی بہار لے آتی ہے۔ مناظرہ اسلام میں ایک اجنبی چیز ہے، جبکہ دعوت سراپا اسلام کا ایک مطلوب عمل۔
سماجی ذمہ داریاں اور صحافت Social Responsibilities and Media آج کی اس میٹنگ کا موضوع بحث ہے۔ صحافت اور سماجی ذمہ داریاں۔ اس موضوع کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو شاید اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح آج کل ہمارے ملک میں جوڈیشیل ایکٹوزم زوروں پر چل رہا ہے، اسی طرح ضرورت ہے کہ اسی کے ساتھ یہاں ایک میڈیا ایکٹوزم بھی جاری کر دیا جائے۔ یہ بلا شبہ ایک اچھا آئیڈیا ہے۔ اور بعض دوسرے ملکوں میں اس کے کامیاب تجربے بھی کیے گئے ہیں۔ آج ہمیں سوچنا ہے کہ ہم اپنے ملک میں اس آئیڈیا کو کس حد تک واقعہ بنا سکتے ہیں۔
اگر چہ جس طرح جو ڈیشیل ایکٹوزم کی کچھ محدودیتیں (limitations) ہیں اسی طرح میڈیا ایکٹوزم کی بھی کچھ محدودیتیں ہیں۔ تاہم محدودیت موجودہ دنیا کا ایک عام قانون ہے۔ کوئی بھی ادارہ اس سے بچایا ہوا نہیں۔ حتی کہ گورنمنٹ یا پولیٹیکل پاور جس کو بظاہر کسی سماج کا سب سے زیادہ طاقتور ادارہ سمجھا جاتا ہے اس کی بھی محدودیتیں ہیں۔ ایک حد پر جا کر پولیٹیکل پاور کا اختیار اسی طرح ختم ہو جاتا ہے جس طرح دوسرے تمام سماجی اداروں کا۔
اس لیے زیادہ بڑھی ہوئی توقع (over-expectation) میں پڑے بغیر ہم کو حقیقت پسندانہ انداز میں یہ جائزہ لینا ہے کہ سماج سدھار کے لیے میڈیا ایکٹوزم کی کیا اہمیت ہے اور اس کو کس طرح یہاں جاری کیا جا سکتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ پریس ایک انڈسٹری ہے۔ والٹر پکن نے کہا کہ جس گاڑی بنانے والا گاڑی بنا کر نقل و حمل کو فروخت کرتا ہے ٹھیک اسی طرح اخبار کا مالک معلومات کو فروخت کرتا ہے ، اخبار نہ نصیحت ہے اور نہ پروپیگنڈا :
اصولی طور پر میں اس کو درست سمجھتا ہوں۔ یہ غیر حقیقت پسندانہ بات ہوگی کہ اخبارات کو ریفارمر یا مارل ٹیچر کے معیار پر جانچا جائے ۔ تاہم بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ اس دنیا میں کسی چیز کو دوسری چیز سے مکمل طور پر الگ نہیں کیا جا سکتا۔ کیوں کہ یہاں چیزیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی اگر براہِ راست نہیں تو بالواسطہ طور پر ایک چیز کا اثر دوسری چیز پر پڑتا ہے ۔ جس طرح ڈاکٹر مریض کو ایک دوا دیتے ہوئے یہ بھی دیکھتا ہے کہ اس کا کوئی سائیڈ ایفیکٹ تو اسی طرح اخبار کے لیے بھی ضروری ہے کہ اس کو انڈسٹری کے اصول پر چلاتے ہوئے یہ بھی دیکھا جائے کہ سماج کے اوپر اس کا کوئی بُرا اثر تو نہیں پڑے گا۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کی صحافت اس ضروری شرط کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
ہماری موجودہ صحافت میں بنیادی خرابی یہ ہے کہ وہ عمومی خبر رسانی کے اصول پر نہیں چلائی جاتی بلکہ منتخب خبر رسانی (selective reporting) کے اصول پر چلائی جاتی ہے۔ اس صحافتی اصول کو اس مشہور فقرہ میں بتایا گیا ہے کہ کتا آدمی کو کاٹے تو خبر نہیں لیکن آدمی کتے کو کاٹے تو وہ خبر ہے : اسی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ ہمارے اخبارات کے نزدیک گرم خبر (hot news) تو خبر ہے لیکن جن خبروں میں گرمی اور سنسنی خیزی نہ ہو ان کو وہ اس طرح نظر انداز کر دیتے ہیں جیسے کہ وہ خبر ہی نہیں۔ خبریں نیوز وردی ہیں اور اچھی خبریں نیوز وردی نہیں۔ اس انتخابی خبر رسانی نے ہمارے سماج کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
میں ایک مثال دیتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے غالب اکیڈمی میں ایک جلسہ تھا۔ رام پور کے مسٹر طارق
بوڑھی خاتون نے کہا: اشوک تو اتنا ہی اچھا ہے جتنا طارق۔ ٹھیک یہی واقعہ اشوک کے گھر میں ہوا۔ ایک عرصہ کے بعد ان کے گھر کی بوڑھی خاتون نے کہا: طارق تو اتنا ہی اچھا ہے جتنا اشوک ۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں۔ تقریباً ہر مسلمان اور ہر ہندو اپنے روزمرہ ملنے والے کے بارے میں ایسی ہی رائے رکھتے ہیں۔ انفرادی سطح پر ہر ہندو اپنے ملاقاتی مسلمان کو اچھا سمجھتا ہے ۔ طرح ہر مسلمان اپنے ملاقاتی ہندو کو اچھا خیال کرتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ طارق اور اشوک کے گھروں میں جو جملہ ایک ہندو فردا اور ایک مسلمان فرد کے بارے میں کہا گیا وہی جملہ دونوں طرف پوری کمیونٹی کے بارے میں کیوں نہیں کہا جاتا۔ دونوں فرقوں میں یہ الفاظ کیوں نہیں سنائی دیتے کہ مسلمان لوگ تو اتنے ہی اچھے ہیں جیسے ہندو یا ہندو لوگ تو اتنے ہی اچھے ہیں جیسے مسلمان۔ اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ انفرادی سطح پر ایک ہندو یا ایک مسلمان جب ایک دوسرے کو جانتے ہیں تو وہ براہ راست انٹرایکشن کے ذریعہ جانتے ہیں۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے کا مکمل تعارف حاصل کرتے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس کمیونٹی کی سطح پر تعارف کا ذریعہ ہمارے اخبارات ملکی اور قومی سطح کے واقعات کو ہم صرف اخباروں کے ذریعہ معلوم کرتے ہیں ۔ نہ کہ براہ راست میل جول کے ذریعہ۔
اب چونکہ اخباروں میں سلیکٹیو رپورٹنگ کا طریقہ رائج ہے۔ اس لیے عملاً یہ ہوتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے بارے میں صرف جزئی حالات سے باخبر ہوتے ہیں۔ ہندو جب اخبار پڑھتا ہے تو اس میں وہ مسلم فرقہ کی صرف ”ھاٹ نیوز“ سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح مسلمان جب اخبار پڑھتا ہے تو وہ ہندو فرقہ کی صرف ”ھاٹ نیوز“ سے باخبر ہوتا ہے۔ اس طرح دونوں طرف غیر حقیقی ذہن بنتا رہتا ہے۔ ہندو سمجھتا ہے کہ مسلم فرقہ تو ایسا اور ایسا ہے ، دوسری طرف مسلمان سمجھتا ہے کہ ہندو فرقہ ایسا اور ایسا ہے۔ فرقوں کے بارے میں لوگ صرف بری خبروں کو جانتے ہیں وہ ان کی اچھی خبروں سے سرے سے واقف ہی نہیں ہوتے۔
یہی اس سماجی تضاد کا اصل سبب ہے کہ ایک ہی ملک میں ہندو اور مسلمان انفرادی طور پر
ایک دوسرے کے بارے میں اچھی رائے رکھتے ہیں اور اسی ملک میں یکسوئی کی سطح پر وہ ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور تعصب کا شکار ہیں۔ اس نے ملک کو ناقابل بیان نقصان سے دوچار کیا ہے۔
اگر ہم ہندوستان میں بہتر سماج یا سچے میل ملاپ والا سماج بنانا چاہتے ہیں تو لازم ہے کہ ہم اس تضاد کو ختم کردیں۔ ہمارے اخبارات سماجی حالات کی مکمل رپورٹنگ کریں۔ وہ سماجی طبقوں کے بارے میں ایک دوسرے کی پوری تصویر دکھائیں۔ اور جب پوری تصویر سامنے لائی جائے گی تو یقینی طور پر وہی ہوگا جو آج بھی انفرادی سطح پر موجود ہے۔ جس طرح آج ہزاروں افراد ایسے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اشوک تو اتنا ہی اچھا ہے جتنا طارق یا طارق تو اتنا ہی اچھا ہے جتنا اشوک ۔ طرح آئندہ ہمارے کان یہ الفاظ بھی سننے لگیں گے کہ ہندو لوگ تو اتنے ہی اچھے ہیں جتنے مسلمان۔ اور مسلمان لوگ تو اتنے ہی اچھے ہیں جتنے ہندو ۔ اور پھر ہمارے سماجی مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے ۔
اب اس معاملہ کے دوسرے پہلو کو لیجئے ۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، اخبارات انفارمیشن فروخت کرنے کی تجارت ہیں۔ مگر یہاں بھی، ہمارے ملک کے اخبارات ایک زبردست کوتاہی کا شکار ہیں۔ کچھ برس پہلے یورپ کا ایک اعلیٰ صحافتی وفد دہلی آیا۔ اس نے اخبارات کو دیکھ کر کہا تھا کہ انڈیا کے اخبارات تو ابھی تک اس صحافتی طرز پر چلائے جا رہے ہیں جو ہمارے یہاں انیسویں صدی میں مگر اب وہاں وہ بالکل ختم ہو چکا ہے۔ اس نے کہا کہ پہلے ہمارے اخبارات پر سیاسی خبریں چھائی رہتی تھیں۔ مگر اب ہمارے یہاں سیاسی خبریں نمبر ۲ پر جا چکی ہیں۔ اس کے مقابلہ میں قومی اور سماجی اہمیت کی خبریں نمبر ایک پر آگئی ہیں۔
یہ تبصرہ بالکل درست ہے ۔ ہمارے اخبارات ابھی تک اس پس ماندگی کا شکار ہیں مغرب کی ترقی یافتہ صحافت کے مقابلہ میں وہ تقریباً سو سال پیچھے ہیں۔ ہمارے اخبارات کے اسی ذوق کا یہ نتیجہ ہے کہ آج آپ ملک کے کسی گوشہ میں جائیں تو ہر جگہ لوگوں کو سب سے زیادہ سیاسی موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے پائیں گے۔ یہ کوئی صحت مند علامت نہیں۔ صحت مند بات یہ ہے کہ لوگوں کو علمی ، سائنسی اور تمدنی معلومات ملیں اور لوگ ان پر بحث و گفتگو کریں ۔
اس صحافتی ذوق کے جو نقصانات ہیں ان کی ایک مثال انٹرنیٹ (Internet) کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ انٹرنیٹ کی ابتدا تقریباً ۲۵ سال پہلے ۱۹۷۲ میں ہوئی۔ برسوں پہلے دنیا کے ڈیڑھ سو سے زیادہ ملک اس سے جڑ گئے ۔ وہ اس سے زبردست فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ ہندستان میں انٹرنیٹ کا آغاز ابھی صرف اگست ۱۹۹۵ میں ہو سکا۔ آج بھی وہ اس معاملے میں سنگاپور اور کوریا جیسے چھوٹے ملکوں سے بہت پیچھے ہے۔
انٹرنیٹ جیسی مفید چیز کے معاملے میں ہندستان کے اس پچھڑے پن کا ذمہ دار کون ہے۔ غالباً بے ہمارے اخبارات ہی ہیں، جو اس پچھڑے پن کے زیادہ ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ انہوں نے ہندستانی سماج کو انٹرنیٹ کے معاملے میں باخبر نہیں بنایا۔ اس معاملے میں انہوں نے ہندستانیوں کو ایجوکیٹ نہیں اسی لیے لوگ نہ بروقت اس کے فوائد کو سمجھ سکے اور نہ سماجی سطح پر اس کی مانگ پیدا ہوئی۔ اس لیے میں کہوں گا کہ ہمارے اخبارات کو پورے معنی میں معلومات کا تجارتی ادارہ بننا انہیں پولیٹیکل obsession سے نکلنا چاہیے جس طرح مغربی ملکوں کے اخبارات اس سے نکل کر باہر آ چکے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ اخبار کو وسیع تر انسانی شعبہ کی حیثیت سے چلائیں۔ خبروں کے حصہ کو گھٹائیں۔ اور اس کے بجائے علمی ، سائنسی اور جدید تر ترقیاتی معلومات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں اور اس قسم کے مضامین اور تبصرے زیادہ سے زیادہ شائع کریں۔ ہندستانی معاشرے کو ایک سائنسی معاشرہ بنانے میں اپنا حصہ ادا کریں۔
ہندستان میں بڑے پیمانہ پر اسٹرکچرل تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔ ۱۹۴۷ میں آزادی کا انقلاب، ۱۹۵۰ میں سوشلسٹک پیٹرن آف سوسائٹی بنانے کا فیصلہ، قومی حکومتوں کے قیام کے بعد ہزاروں اصلاحی قوانین کا پاس کیا جانا ۔ اسی طرح ، ۱۹۷۰ کا ٹوٹل ریولیوشن، وغیرہ ۔ مگر یہ تمام تبدیلیاں یکسر بے فائدہ ثابت ہوئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسٹرکچرل چینج کے نتیجہ خیز بننے کے لیے انٹلکچول چینج کی زمین درکار ہے۔ یہ فکری زمین سب سے زیادہ اخبارات بنا سکتے تھے ، انھوں نے یہ کام کیا نہیں۔ اسی لیے تمام اسٹرکچرل تبدیلیاں یہ نتیجہ ہو کر رہ گئیں۔
اب آخری وقت آگیا ہے کہ ہمارا اخباری ادارہ اپنی رپورٹوں، اپنے فیچرس اور اپنے مضامین کے ذریعہ اس تعمیری ذمہ داری کو ادا کرے تاکہ ہمارا مستقبل ہمارے حال سے بہتر ثابت ہو۔
میڈیا فورم(Media (Media Relations Forum) جس کے تحت یہ میٹنگ کی گئی ہے وہ اسی صحافتی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، ہمارے ملک میں بہت سی صحافتی تنظیمیں موجود ہیں۔ مگر وہ زیادہ تر حقوق کے حصول کے لیے بنائی گئی ہیں۔ ریلیشنز فورم خصوصی طور پر صحافتی ذمہ داریوں کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے وہ خود صحافیوں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے۔
ترقی یافتہ ملکوں میں ہر جگہ بڑی بڑی تنظیمیں قائم ہیں جو صحافت کی سماجی ذمہ داریوں (Social responsibilities) کے اصول پر مبنی ہیں۔ اور انھوں نے ان ملکوں میں صحافت کو سماجی اعتبار سے مفید بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ موجودہ تنظیم اسی نوعیت کی ایک طاقت ور صحافتی تنظیم ثابت ہوگی۔ وہ اس بات کی ایک ضمانت ہوگی کہ ہمارا صحافتی شعبہ اپنی سماجی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔ وہ سماج سے لینے کے ساتھ سماج کو دینے والا ادارہ بن جائے ۔ تا ہم میرا خیال ہے کہ اس قسم کی صحافتی تنظیم بنانا ہی اس مسئلہ کے حل کے لیے کافی نہیں ہے۔ کیونکہ موجودہ صحافت کا پور انشوونما اصلاً معلوماتی صحافت (informative journalism) کی حیثیت سے ہوا ہے۔ اب بظاہر یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کو اچانک ناصحانہ صحافت (suggestive journalism) میں تبدیل کر دیا جائے ۔ اس لیے یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ بات ہوگی کہ ہم یہ امید کریں کہ موجودہ صحافت کو ناصحانہ صحافت کے اصول پر چلایا جا سکتا ہے۔
مگر میرا تجربہ ہے کہ ایک صورت اور ہے جو موجودہ ڈھانچہ ہی میں ممکن ہے اور وہ پوری طرح مفید بھی ہے۔ وہ ہے صحافت کے ساتھ سوشل ورکرس کا تعاون۔ اگر ایسا ہو کہ سوشل ورکرس اور ریفارمرس اخباروں سے ربط رکھیں اور حسب ضرورت انھیں سماجی اہمیت والے امور کی طرف متوجہ کرتے رہیں تو مذکورہ مقصد بڑی حد تک حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اس سلسلہ میں ذاتی طور پر کئی کامیاب مثالیں مجھے معلوم ہیں۔ مثلاً ۱۹۹۳ کے شروع میں جب کہ ملک کے مختلف حصوں میں تناؤ کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی، پونہ میں ایک روزصبح کویہ افواہ پھیل گئی کہ رات کو کچھ مسلمان فلاں مندر میں گھسے اور انھوں نے وہاں رکھی ہوئی مورتیوں کو توڑ ڈالا۔ کے فورا بعد کچھ سماجی کارکن شہر کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اخبار کے ایڈیٹر سے ملے ۔
یہ ایک ساوتھ انڈین تھے۔ مشورہ کے بعد ایڈیٹر نے فورا اپنی ٹیم بھیج کر تحقیق کرائی۔ معلوم ہوا کہ مذکورہ مندر بالکل ٹھیک حالت میں ہے۔ وہاں کسی قسم کی کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہوئی۔ اس کے بعد انھوں نے فوراً ایک رپورٹ بنائی اور شام کے سپلیمنٹ میں اس کو چھاپ دیا۔ جب لوگوں نے اخبار کی رپورٹ کو پڑھا تو تناؤ اپنے آپ ختم ہو گیا اور پورنہ شہر بھیانک فساد سے بچ گیا۔ اسی زمانہ میں الور (راجستھان) کے ایک ہندی اخبار میں ایک خبر چھپی کہ فلاں گاؤں کے میو مسلمان ہتھیار جمع کر رہے ہیں اور وہ الور شہر پر حملہ کرنے والے ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک مسجد کا نام بھی چھاپ دیا گیا ۔ اس کے نتیجہ میں الور میں تناؤ پیدا ہو گیا اور بظاہر ایسا معلوم ہوا کہ جلد ہی فساد پھوٹ پڑے گا۔ دوبارہ کچھ سماجی کارکن فورا حرکت میں آ گئے ۔ انھوں نے الور کے چار ہندی اخباروں کے دفتر سے ربط قائم کیا۔ اور ان کے نمائندوں کو لے کر مذکورہ گاؤں میں پہنچے۔ گھر جا کر لوگوں سے ملے۔ مذکورہ مسجد میں داخل ہو کر اس کو اچھی طرح دیکھا۔ مگر وہاں نہ کوئی ہتھیار تھا اور نہ اس قسم کی کوئی اور چیز ۔ اس کے بعد چاروں اخباروں نے اپنے نمائندوں کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ چھاپ دی۔ اس کو پڑھتے ہی اپنے آپ لوگوں کے جذبات ٹھنڈے ہو گئے اور شہر میں فساد ہونے سے رہ گیا۔
موجودہ حالات میں یہی سب سے زیادہ مفید اور قابل عمل طریقہ ہے ۔
اسلام کا فکری اور عملی اور تاریخی مطالعہ مولاناوحید الدین خاں ششم رسول کا مسئلہ قرآن و حدیث اور فقہ و تاریخ کی روشنی میں مولانا وحید الدین خاں فکر و عمل، افق و تاریخ، روشنی و تحقیق مولانا وحید الدین خاں 320 pages; Rs. 60 192 pages; Rs. 40 240 pages; Rs. 50 AL-RISALA BOOK CENTRE 1, Nizamuddin West Market, Near DESU, New Delhi-110 013 Tel. 4611128, 4611131 Fax 91-11-4697333