Al-Risala · May 1997

پونہ کا سفر

Al-Risala, May 1997, pp. 24–26

By Maulana Wahiduddin Khan

پونہ کے ایک بڑے سائنسی ادارہ ایم آئی ٹی کے زیر انتظام پونہ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس ہوئی جو ۲۴ نومبر سے یکم دسمبر ۱۹۹۶ تک جاری رہی۔ اس کانفرنس کا نام ورلڈ فلاسفر میٹ تھا۔ دعوت پر راقم الحروف نے پونہ کا سفر کیا۔ ذیل میں اس کی مختصر روداد درج کی جاتی ہے۔ ۲۳ نومبر ۱۹۹۶ کی شام کو دہلی سے انڈین ایرلائنس کی فلائٹ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ طور پر بھرا ہوا تھا جب کہ ہر دن بہت سے لوگ ٹرینوں اور بسوں کے ذریعہ بھی دہلی سے پونہ کا سفر کرتے جدید وسائل سفر سے پہلے دہلی اور پونہ کے درمیان روزانہ ایک آدمی کے سفر کا اوسط بھی نہیں ہوگا مگر آج دونوں شہروں کے درمیان ہزاروں آدمی روزانہ آتے ہیں اور جاتے ہیں۔ یہ صنعتی انقلاب کا نتیجہ ہے۔ صنعتی انقلاب نے زندگی کے نقشہ میں جو تبدیلیاں کی ہیں اس کا ایک پہلو انسانی اختلاط میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ اس طرح جدید دور نے دعوت کے امکانات کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ مگر جن لوگوں کو ان جدید دعوتی مواقع کو استعمال کرنا تھا وہ ان سے باخبر ہی نہ ہو سکے، پھر وہ ان کو استعمال کس طرح کرتے۔

دو گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد جہاز پونہ کے ہوائی اڈہ پر اترا وہاں کانفرنس کے نمائندوں کے علاوہ حلقۂ الرسالہ کے افراد بھی موجود تھے۔ ایئر پورٹ پر کچھ وقت گزارنے کے بعد ہمارا قافلہ شہر کی طرف روانہ ہوا۔ یہاں میراقیام اسیش پلازہ (روم ۴۰۴) میں تھا۔ یہ ہوٹل تاریخی فرگوسن کالج کے عین سامنے واقع ہے اور نہایت صاف ستھرا ہے۔ ہوٹل کا عملہ بھی مستعد نظر آیا۔ پونہ کی یہ فلسفیانہ کانفرنس مہاراشٹر کے ایک قدیم فلسفی شاعر جنانیشور (۱۲۹۶ء ۔ ۱۲۷۶ء) کے نام پر کی گئی تھی۔ دوسری کتابوں کے علاوہ انھوں نے گیتا کی ایک شرح مراٹھی زبان میں لکھی تھی جس کا ترجمہ یونیسکو کی طرف سے انگلش، ،فرنچ اسپینش میں کیا جا رہا ہے۔ یہ بات کانفرنس میں بتائی گئی۔ ۲۴ نومبر کو کانفرنس کے افتتاح کا دن تھا۔ ایک وسیع پنڈال میں دلائی لامہ نے اس کا افتتاح انھوں نے اپنی تقریر میں اس پر زور دیا کہ لوگ اپنے نفرت پن کو ختم کریں اور مل جل کر امن کے ساتھ

چند دوسری شخصیتوں کے علاوہ میری بھی ایک تقریر اس افتتاحی پروگرام میں رکھی گئی تھی۔ نے اپنی تقریر میں کہا کہ آزادی کے بعد ہندوستان مطلوب ترقی حاصل نہ کر سکا اس کی واحد وجہ کردار کی کمی ہے۔ اس وقت سب سے بڑا کام یہ ہے کہ ملک کے اندر کردار سازی کی مہم چلائی جائے ۔ بھی دوسری ترقی کردار کا بدل نہیں بن سکتی۔

کانفرنس کے آغاز میں اسکول کے بچے اپنے مخصوص یونیفارم میں قطار در قطار اسٹیج کے سامنے وہ اپنے ہاتھوں میں تمام دنیا کے ملکوں کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور عالمی اتحاد کے گیت گارہے تھے۔ یہ ایک دلکش منظر تھا میں نے سوچا کہ گیت اور جھنڈے کی سطح پر عالمی اتحاد کا مظاہرہ کتنا آسان ہے۔ اس کے مقابلہ میں حقیقی زندگی کی سطح پر عالمی اتحاد حاصل کرنا کتنا زیادہ مشکل۔

یہ کانفرنس ۲۴ نومبر سے لے کر ۳۰ نومبر ۱۹۹۶ تک جاری رہی ۔ ہر روز مختلف مذاہب اور مختلف فلسفیانہ اسکول پر الگ الگ اجلاس ہوتے رہے۔ اس کانفرنس میں تقریباً ایک ہزار ڈیلی گیٹ شریک تھے جس میں ہندوستان کے علاوہ بیرونی ملکوں کے لوگ بھی شامل تھے۔ ڈیلی گیٹ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔

میں اپنے ذوق کے مطابق روزانہ کسی ایک اجلاس میں شریک ہوتا رہا۔ چند مواقع پر مختصر طور پر اپنی رائے کا بھی اظہار کیا۔ اس کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں سے انفرادی ملاقاتیں ہوئیں۔ اس طرح انفرادی گفتگو کی صورت میں مختلف ملکوں ، مختلف مذاہب اور مختلف فلسفیانہ اسکول کے لوگوں سے تبادلہ خیال جاری رہا۔

۲۵ نومبر کو ایک پورا سیشن اسلام کے موضوع پر رکھا گیا تھا۔ اس سیشن کا صدر مجھ کو بنایا مجھے اس سیشن میں تقریر کرنے کے لیے یہ موضوع دیا گیا تھا ــــ اسلام کافلسفۂ امن : (The Philosophy of peace in Islam) اس سیشن میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ مقرر کو بیس منٹ کا وقت دیا جاتا تھا۔ مگر ہر مقرر نے زیادہ وقت لے لیا۔ آخر میں یہ ہوا کہ ایک خاتون جو پروگرام کو کنڈکٹ کر رہی تھیں انھوں نے مجھ سے کہا کہ اب آپ کے لیے صرف دو منٹ باقی میں نے کسی ناراضگی کے بغیر دو منٹ میں اپنی بات ختم کر دی۔ میں نے جیسے ہی اپنی تقریر ختم کی

فورا کانفرنس کے ذمہ داران (ڈاکٹر بار لنگے، پروفیسر کرار وغیرہ) اسٹیج کے پاس آگئے ۔ اور کہنے لگے کہ اتنا مختصر کیوں۔ ہم تو آپ کی تقریر تفصیل کے ساتھ سننا چاہتے تھے۔ میں نے کہا کہ اس کا جواب یہ خاتون دیں گی ۔ خاتون نے بتایا کہ مجھے سیشن کو مقرر وقت پر ختم کرنا تھا اور دوسرے مقررین کی لمبی تقریروں کی وجہ سے مزید وقت باقی نہیں تھا۔

اس سیشن کے فورا بعد دوسرا سیشن تھا جو جین دھرم کے لیے خاص کیا گیا تھا۔ فوری طور پر پروگرام میں تبدیلی کرتے ہوئے مجھے اگلے سیشن میں بولنے کا موقع دیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ دوبارہ تیس منٹ تک اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ چنانچہ میں نے اس کے فورا بعد اپنے مقررموضوع اسلام میں فلسفہ امن پر اپنی تقریر شروع کی ۔ اس تبدیلی کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ حاضرین کی تعداد کافی بڑھ گئی ، کیوں کہ جین مذہب کو سننے کے لیے مزید کافی لوگ وہاں آگئے تھے۔ اس کانفرنس میں بیرونی ملکوں (یورپ ، امریکہ وغیرہ) کے لوگ بھی موجود تھے چنانچہ اس کی تمام کارروائی مکمل طور پر انگریزی میں ہو رہی تھی ۔ میں نے بھی اپنی تقریر انگریزی میں کی۔ میں پہنچ کر جب میں نے کہا کہ :

Printed page