Al-Risala · May 1997

Truth is One; Wise speak of it in many ways.

Al-Risala, May 1997, pp. 27–31

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ بات عام طور پر اس طرح دہرائی جاتی ہے جیسے کہ وہ سائنٹفک فیکٹ کی طرح کوئی ثابت شدہ حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں دو سوالات بہت بنیادی ہیں جن کا جواب ابھی نہیں دیا گیا ہے۔

کہنے والے کا استناد (authenticity) کیا ہے ۔

جب کہنے والا آج زندہ موجود نہیں ہے بلکہ اس کے نام سے صرف کچھ کتابیں موجود ہیں تو سوال یہ ہے کہ ان کتابوں کی تاریخی اعتباريت (historical credibility) کیا ہے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے ابھی تک ان دونوں سوالوں کا کوئی معتبر جواب نہیں دیا گیا ہے۔ جب تک ان دونوں سوالوں کا معتبر جواب نہ دیا جائے مذکورہ بیان کی صداقت غیر ثابت شدہ

یہاں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ان میں ایک سادھو تھے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے اپنے خاص انداز میں کہا : یہ دونوں آنکھیں تو کیمرہ ہیں باہر دیکھنے کے لیے۔ بہتر کو تو آنکھیں بند کرکے ہی دیکھا جاسکتا ہے۔

یہ بات مجھے پسند آئی۔ یہ صحیح ہے کہ آنکھیں صرف بیرونی چیزوں ہی کو دیکھ پاتی ہیں۔ چھپی ہوئی حقیقتوں کو دیکھنے کے لیے بصیرت درکار ہے نہ کہ صرف بصارت۔ تاہم یہ بات مطلق معنوں میں صحیح نہیں۔ کیونکہ آنکھ سے دیکھی ہوئی چیزوں کی حیثیت ڈاٹا (data) کی ہے۔ آنکھیں گویا باہر سے

ڈیٹا اکٹھا کر کے اندرونی بصیرت کو فراہم کرتی ہیں پھر بصیرت اس جمع شدہ ذخیرہ معلومات کی مدد سے گہرے نتائج تک پہنچتی ہے۔ اگر آنکھ کا مشاہداتی عمل رک جائے تو اندرونی بصیرت کا عمل ختم تو نہ ہو گا البتہ بہت زیادہ محدود ہو جائے گا۔

اس کانفرنس میں بہت بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ ہندو شریک تھے۔ کئی ہندوؤ ں نے اپنے مخصوص ذوق کے مطابق یہ بات کہی کہ سب دھر م ایک ہیں۔ لوگ ناحق مذہب کے نام پر آپس میں اس سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مذہبی اختلاف کا حل یہ نہیں ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ سب مذہب ایک ہیں۔ اس کا حقیقی حل یہ ہے کہ ٹالرنس پر زور دیا جائے۔ کو یہ بتایا جائے کہ اختلاف زندگی کا ایک حصہ ہے نہ صرف مذہب میں بلکہ ہر معاملہ میں اختلافات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں پر امن سوسائٹی بنانے کا راز یہ ہے کہ لوگ اپنے عقیدے کو مانتے ہوئے دوسرے کا احترام کریں۔ گویا کہ اس مسئلہ کا حل باہمی اعتراف (mutual recognition) میں نہیں ہے بلکہ باہمی احترام (mutual respect) میں ہے۔

پونہ کی کانفرنس میں شرکت کرنے والوں میں سے ایک پٹنہ کے ڈاکٹر احسان اشرف (368037 .Tel) بھی تھے ۔ ان کا مضمون فلسفہہ ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ میں اقبال کے فلسفہ پر ایک کتاب لکھ رہا ہوں۔

میں نے کہا کہ اقبال کو فلسفی کہنا بذات خود درست نہیں۔ اگر آپ اقبال کی اس کتاب (The Reconstruction of religious thought in Islam) کی بنا پر ان کو فلسفی کہیں تو میں کہوں گا کہ وہ فلسف کی کتاب نہیں ہے بلکہ علم کلام کی کتاب ہے ۔ اور فلسفہ اور علم کلام میں بہت زیادہ فرق ہے۔ اور اگر آپ اقبال کے اشعار کی بنا پر ان کو فلسفی کہیں تو یہ اور بھی زیادہ عجیب ہے کیونکہ فلسفہ ایک انتہائی سنجیدہ نظام فکر کا نام ہے اور کسی سنجیدہ نظام فکر کو کبھی بھی درست طور پر شاعری کے ذریعہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔

ان سے دو دن ملاقات ہوئی پہلے دن وہ اس موضوع پر دیر تک اختلافی بحث کرتے رہے مگر جب اگلے دن ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ میں آپ کی بات پر غور کرتا رہا اور آخر میں یہ سمجھ میں آیا کہ آپ جو کہتے ہیں وہی ٹھیک ہے۔ اقبال کو فلسفی کہنے کے لیے سب سے پہلے خود فلسفہ کی تعریف کو بدلنا ہوگا۔

فلسفہ کیا ہے؟ فلسفہ دراصل حقیقت کے عقلی اور منطقی مطالعہ کا نام ہے۔ فلسفی اور سائنسداں میں یہ فرق ہے کہ سائنس داں فطرت کے قانون کو اصولی طور پر بطور واقعہ تسلیم کر کے اس کا مطالعہ اس کے مقابلہ میں فلسفی کسی بھی چیز کو پیشگی طور پر واقعہ نہیں مانتا۔ وہ آزادانہ عقلی جستجو کے ذریعہ آخری حقیقت تک پہنچنا چاہتا ہے :

Philosophy is a logical and rational analysis of principles underlying the ultimate nature of the universe, and related fields. کچھ لوگ اسلام کو ایک فلسفہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ مجھے اس سے حقیقت یہ ہے کہ اسلام فلسفہ کے مشابہ علم نہیں ہے بلکہ سائنس کے مشابہ ایک علم ہے۔ اسلام میں حقیقت کا مطالعہ آزادانہ عقلی جستجو کے ذریعہ نہیں کیا جاتا جیسا کہ فلسفہ میں ہوتا ہے۔ کو مان کر اس کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اسلام کا یہ طریقہ سائنسی طریق مطالعہ کے عین مطابق ہے۔ اسلام میں جس چیز کو عقیدہ کہا جاتا ہے اسی کا نام سائنس میں مفروضہ (hypothesis) ہے۔ سائنس داں فطرت کے اٹل نظام کی بنیاد پر ایک بات کو بطور نظری اساس (مفروضہ مان کر شواہد خارجی کا مطالعہ اور تجزیہ کرتا ہے۔ اور اس طرح ایک ایسی حقیقت تک پہنچنا چاہتا ہے جو اس کے عقیدہ یا مفروضہ کے مطابق پیشگی طور پر کائنات میں موجود ہے۔ ٹھیک یہی طریقہ اسلام کا ہے۔ اسلام کا ایک طالب علم وحی کو بطور نظری اساس تسلیم کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ شواہد خارجی کا مطالعہ شروع کرتا ہے۔ یہ بے لاگ مطالعہ آخر کار اس حقیقت کی تصدیق کر دیتا ہے کہ جس چیز کو اس نے بطور نظری اساس مانا تھا وہ عین صداقت تھی۔ یہ مطالعہ کا عین وہی اصول ہے جس کو موجودہ زمانہ میں سائنٹفک طریق مطالعہ کہا جاتا ہے۔

یہاں ایک نوجوان اسکالر، مسٹر گربخش سنگھ سے ملاقات ہوئی۔ وہ گورنمنٹ آف انڈیا کے ایک قیمتی اسکالر شپ پر ٹوکیو میں ریسرچ کے لیے گئے۔ ان کا موضوع خاموشی (silence) کی سائنسی اور مذہبی اہمیت ہے۔ وہ ٹوکیو میں کومازاوا یونی ورسٹی انٹرنیشنل سنٹر کے تحت یہ کام کر رہے ہیں۔

میں نے ان کو ایک حدیث سنائی جس کو سن کر وہ بہت خوش ہوئے اور اسی وقت

اپنے نوٹ بک میں درج کیا۔ وہ حدیث یہ ہے: من صمت نجا (جو چپ رہا اس نے نجات پائی) میں نے کہا کہ خاموشی کوئی سلبی فعل نہیں ہے ۔ بلکہ وہ ایک ایجابی فعل ہے۔ خاموش ہوتا ہے تو وہ دراصل اندرونی فکر میں مشغول ہو جاتا ہے۔ خارجی فکر آدمی کو بہت کچھ دیتی ہے مگر اندرونی فکر سے آدمی جو کچھ پاتا ہے وہ اپنی گہرائی کے اعتبار سے اس سے بھی زیادہ ہے۔ بنارس کے ڈاکٹر رام جی سنگھ سے ملاقات ہوئی۔ وہ وہاں گاندھیئن انسٹی ٹیوٹ آف اسٹڈیز کے ڈائرکٹر ہیں۔ (330871 ,330125 .Tel)

انھوں نے کہا کہ میں آپ کے مضامین اخباروں میں بڑے شوق سے پڑھتا ہوں۔ سدھار لانے کے لیے آپ ہی جیسے سوچ والے انسان کی ضرورت ہے۔ یہ بات اکثر ہندوؤں نے مختلف الفاظ میں کہی۔

مسلم رہنما پچھلے پچاس سال سے ہندی اور انگریزی میں اپنا اخبار نکالنے کی بات کرتے رہے ہیں مگر موجودہ حالات میں زیادہ بہتر یہ ہے کہ خود ان کے اخباروں میں مضامین شائع کیے میرا تجربہ یہ ہے کہ ملکی اخبارات ہمارے مضامین نہایت شوق سے چھاپنے کے لیے تیار بشرط صرف یہ ہے کہ وہ وکیلانہ انداز میں نہ لکھے گئے ہوں بلکہ سنجیدہ اور سائنٹفک انداز میں لکھے گئے ہوں۔

ہمارا سٹڈ کے گورنر ڈاکٹر الگزینڈر ہند و فلسفی کے اسکالر رہے ہیں۔ انھوں نے ایک معلوماتی انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہندو ازم فل اسٹاپ میں یقین نہیں رکھتا حتی کہ کامامیں بھی یہ سچائی کی تلاش کا ایک ابدی بہاؤ ہے:

Hinduism does not believe in full stop, not even comma. It believes in perennial flow of search for truth. بظاہر یہ ایک خوب صورت بات معلوم ہوتی ہے مگر وہ درست نہیں۔ یہ بیان اپنی نوعیت کے اعتبار سے خود بھی ایک فل اسٹاپ ہے۔ مذہب کے مختلف تصورات میں سے کسی ایک تصور کو حتمی قرار دینا اس تصور کو مطلق سچائی کا درجہ دینا ہے۔ جب کہ قائل کا دعویٰ یہ ہے کہ مطلق سچائی ابھی دریافت ہی نہیں ہوئی ۔ جو لوگ اس قسم کی بات کریں ان کے لیے علمی طور پر یہ درست نہیں کہ

وہ مذکورہ قسم کا ایجابی بیان دیں۔ اس کی بجائے انھیں اپنے آپ کو مشکک (sceptic) بنانا چاہیے۔ اپنے کو مشکک نہ کہہ کر مذکورہ بالا قسم کا بیان دینا گویا کہ اپنی پہلی بات کو خود اپنی ہی دوسری بات سے رد کردینا ہے۔

نوبیل فیملی کی ایک ممتاز شخصیت مسٹر کلیس نوبل بھی اس کانفرنس میں شریک تھے۔ چیرمین کی حیثیت سے جو اسپیچ دی اس کے آغاز میں یہ مقولہ نقل کیا۔ جہاں بصیرت نہ ہو وہاں لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں :

Printed page