Where there is no vision, the people perish.
Al-Risala, May 1997, pp. 31–45
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کی تقریر کافی عالمانہ تھی۔ انھوں نے اس پر زور دیا کہ انسان کو فطرت کے قوانین کی پیروی کرنا چاہیے اسی میں اس کی کامیابی کا راز ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے کہا کہ میں انتہائی حد تک زور دے کر کہوں گا کہ انسانی نسل کو قانون فطرت کے خلاف ورزی چھوڑنی پڑے گی ورنہ وہ خود حستم ہو جائے گی :
With all the emphasis I have at my command, I say: The human race must cease breaking the laws of Nature or Nature, will break us. وہ ایک عالمی تنظیم یونائیٹڈ ارتھ کے فاؤنڈر اور چیرمین ہیں۔
ایم آئی ٹی پونہ کا ایک ممتاز ٹیکنکل ادارہ ہے۔ اس کے فاؤنڈر ڈائرکٹر پروفیسر وی ڈی کراڈ (V.D. Karad) نے اپنی اسپیچ میں مذہب اور فلسفہ کے متعلق بہت سی باتیں کہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے تھامس ہارڈی کا یہ قول دہرایا کہ مذہب کا بنیادی مقصد یہ نہیں ہے کہ انسان کو جنت میں داخل کرے بلکہ یہ ہے کہ وہ جنت کو انسان کے اندر داخل کر دے :
The main object of religion is not to get a man into heaven; but to get heaven in him. مگر اصل حقیقت ان دو کے علاوہ ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ مذہب انسان کو حسینی اوصاف کے ساتھ دنیا میں رہنا سکھاتا ہے تاکہ وہ آخرت کی جنت میں داخلہ کا استحقاق پاسکے۔ ایک اور بات انھوں نے یہ کہی کہ مذہب اور سائنس کا حقیقی اتحاد ہی انسان کو دنیا میں امن دے سکتا ہے :
چتریکھا وکیل جو مراٹھی اور گجراتی دونوں زبانوں میں نکلتا ہے اس کے نماینده ، ششی کانت سوانت نے ، ۲۷ نومبر کو انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اسلام سرتاپا امن کا مذہب ہے۔ اسلام کی تمام سرگرمیاں پر امن جد و جہد کے اصول پر مبنی ہے اسلام میں جنگ کوئی ایجابی حکم نہیں وہ صرف دفاع کے لیے ہے اور وہ بھی اس وقت جب کہ جنگ سے بچنے کی تمام ممکن کوشش ناکام ہو چکی ہو اور مقابلہ کے سوا کوئی دوسرا چارہ کارباقی ہی نہ رہے۔
میرا قیام جس ہوٹل میں تھا وہ مسلم آبادی سے الگ تھا۔ تاہم روزانہ کچھ نہ کچھ مسلمان یہاں آتے رہے اور ان سے گفتگو ئیں جاری رہیں ۔ ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اور نگ زیب کے زمانہ سے لے کر اب تک مسلمانوں کا صاحب علم طبقہ مرہٹوں کو مسلمانوں کا حریف اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ مسلمانوں اور مرہٹوں کے درمیان معتدل انسانی تعلقات قائم نہ اس کا نقصان سب سے زیادہ خود مسلمانوں کو بھگتنا پڑا۔
میں نے کہا کہ اس سے پہلے مرہٹوں کا جوٹکراؤ پیش آیا وہ اصلا مغل حکومت سے تھا نہ کہ یہ ایک تباہ کن نظریہ ہے کہ مسلم وجود کی شناخت سیاسی اقتدار کو بنایا جائے ۔ اقتدار ایک ایسی چیز ہے جس کے خلاف ہمیشہ رقابتیں جاری رہتی ہیں۔ حتی کہ خود اصحاب رسول کے زمانہ میں بھی شدید ترین نوعیت کی سیاسی رقابتیں ابھر آئیں۔ اور اس کی بنا پر زبر دست قتل و خون ہوا۔
ایسی حالت میں اگر سیاسی اقتدار کو مسلمانوں کے وجود ملی کی شناخت بنایا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مسلمان ابدی طور پر وقت کے حکمرانوں سے ٹکراتے رہیں۔ اور اس کے نتیجہ میں انھیں کبھی وہ سکون حاصل نہ ہو جو ہر قسم کی ترقیاتی کاموں کے لیے انتہائی طور پر ضروری ہے۔ پونہ کے آٹھ روزہ قیام کے دوران مقامی مسلمانوں سے مسلسل ربط قائم رہا۔ انفرادی ملاقاتوں کے علاوہ ہر روز چھوٹے بڑے اجتماعات ہوتے رہے۔ ایک اجتماع ایک ہال میں ہوا ۔ کچھ مسجد میں اور کچھ لوگوں کے گھروں پر۔ ان اجتماعات کا مشترک موضوع یہ تھا۔ اسلام اور مسلمان عہد جدید میں ۔
ایک اجتماع میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمامت میں مسلم تحریکیں ضبط اعمال کا شکار ہو گئیں۔ اس کی خاص وجہ ہمارے رہنماؤں کا دہرامعیار ہے۔ مثلاً ہندوستان کا ہندو اگر ایک سے زیادہ شادی پر پابندی لگانے کی بات کرے۔ تو تمام بے ریش اور باریش رہنما اس کے خلاف پر شور تحریک چلانے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف خود مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ہر گھر میں پہلی بیوی نے دوسرے نکاح کو عملاً پوری طرح بند کر رکھا ہے۔ میں نے حاضرین سے کہا کہ آپ میں سے جس کو میرے اس بیان پر شبہ ہو وہ اپنے گھر میں دوسری بیوی لا کر دیکھے۔ تمام حاضرین نے میری بات سے اتفاق کیا۔
میں نے کہا کہ یہ واضح طور پر ڈبل اسٹینڈرڈ کا معاملہ ہے۔ ایک مسئلہ اگر ہندو پیدا کرے تو ہمارے تمام چھوٹے اور بڑے رہنما بھڑک کر اس کے خلاف سر گرم ہو جاتے ہیں۔ مگر ٹھیک وہی مسئلہ مسلمان پیدا کرے تو کوئی بھی اس پر تحریک چلانے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔
جو کام اس دہرامعیار کے ساتھ کیا جائے اس کو کبھی بھی خدا کی مدد نہیں مل سکتی۔ اور نہ اس سے کسی با برکت نتیجہ کی امید کی جا سکتی ہے۔
پونہ میں جناب فاروق فیصل صاحب سے ملاقات ہوئی وہ گورنمنٹ سروس میں ہیں۔ نے بتایا کہ ناندیڑ( (مہاراشٹر) میں تبلیغی جماعت کا ریاستی جوڑ ۲۲۔ ۲۴ نومبر ۱۹۹۶ کو تھا۔ وہ خود بھی اس میں شریک تھے۔ انھوں نے بتایا کہ شارٹ سپلائی اسکیم کے تحت دوسرے مقامات کی طرح ناندیڑ میں بھی مختلف علاقوں میں باری باری بجلی کی کٹوتی کرتے رہتے ہیں۔ مگر تبلیغی جماعت کے اجتماع میں مسلسل تین دن تک بجلی کی سپلائی جاری رہی۔ انھوں نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ خود میرے سامنے سئیز پولیس انسپکٹر شری دیش مکھ نے بجلی محکمہ (ایم ایس ای بی) کے انجینئر کو بلایا اور اس سے کہا دیکھو یہاں مسلمانوں کا دھارمک کاریہ ہورہا ہے۔ ان دنوں میں یہاں بجلی کٹ نہ کرنا۔
پچھلے کچھ برسوں کے اندر ہندوستان کے مسلمانوں میں تعمیری کام کی ایک نئی لہر آئی ہے۔ اس کی ایک مثال پونہ بھی ہے۔ پونہ کے ایک مسلم تاجر نے بتایا کہ پونہ کے مسلمانوں نے پچھلے دس سال میں کافی ترقی تجارت اور صنعت دونوں میدانوں میں وہ مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس کی کئی مثالیں انھوں نے بتائیں۔
اسی طرح تعلیم کے میدان میں بھی پونہ کافی ترقی کر رہا ہے۔ یہاں ایک قدیم وقف تھا جس میں کافی بڑی زمین تھی مگر وہ تقریبا غیر استعمال شدہ پڑی ہوئی تھی۔ آج کل وہ جناب انعام دار صاحب کے زیر انتظام ہے اور انھوں نے اس کے اندر ایک پوری تعلیمی دنیا آباد کر دی ہے۔ وہ طلبہ کے داخلہ میں یا اساتذہ کے انتخاب میں صرف میرِٹ کو سامنے رکھتے ہیں۔ اس بنا پر ان کے تعلیمی اداروں کا معیار کافی اچھا ہے۔
پونہ کی کانفرنس میں میری جو تقریر تھی اس میں میں نے امن سے متعلق قرآن کی آیتیں اور حدیثیں پیش کیں ۔ اس پر ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا۔ آپ نے اسلام کے ایک جزئی پہلو کو پیش کیا۔ آپ نے اسلام کو اس کی جامعیت (Totality) کے ساتھ پیش نہیں کیا۔ یہ تو ناقص نمائندگی تھی، اور دین کی ناقص نمائندگی ایک جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔ میں نے کہا کہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ اگر آپ کو اسلام کے تعارف کے طور پر ایک جامع کتاب لکھنا ہو تو اس میں آپ مختلف ابواب مقرر کر کے اسلام کی تمام تعلیمات بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔ مگر دعوت کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ دعوت میں ہمیشہ مخاطب کی رعایت کی جاتی ہے۔ مذکورہ قسم کی کتاب میں اگر اسلام کی فہرست احکام کو ملحوظ رکھا جائے گا تو دعوتی خطاب میں ہمیشہ سامعین کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں زیادہ تر دوسری نوعیت سے تعلق رکھتی ہیں۔ لیے ان میں عام طور پر وہی اسلوب کلام ملتا ہے جس کو آپ نے جزئی تعارف یا ناقص تعارف کا نام مثلاً ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں (المسلم مَنْ سَلِمَ الناس من لسانه ويده) اس طرح کی ہزاروں حدیثیں ہیں جن میں آپ نے اسلام کو جامع نظام کے طور پر پیش نہیں فرمایا بلکہ اسلام کے صرف کسی ایک پہلو کو پیش فرمایا۔ اسی کا نام مخاطب کی رعایت ہے۔ اور مخاطب کی رعایت اسلامی دعوت کا ایک اہم اصول ہے۔ مسلمانوں کی ایک مجلس میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں اپنے مزاج کے اعتبار سے ان فٹ ہو کر رہ گئے ہیں۔ آغازِ اسلام کے بعد ہزار سال تک مسلم دنیا میں بادشاہی کا اس زمانہ میں سارا لٹریچر حاکمانہ فضا میں بنا۔ موجودہ زمانہ میں جب مسلمانوں کا زوال ہوا تو ہمارے تمام رہنماؤں نے مسلمانوں کو دوبارہ اٹھانے کا ایک ہی نسخہ دریافت کیا۔ وہ تھا ماضی کی عظمت کو بیان
کر کے انہیں اکسانا۔ اس طرح ماضی کا حاکمانہ مزاج حال میں بھی بدستور باقی رہا۔ مگر موجودہ زمانہ جمہوریت کا زمانہ تھا۔ بادشاہی دور میں غیر مشترک اقتدار کا ماحول ہوتا تھا۔ جمہوریت کے دور میں اشتراک اقتدار (Power sharing) کا ماحول ہے۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان کے عوام و خواص دونوں ہی اقتدار میں شرکت کے تصور سے ناآشنا ہیں۔ وہ جمہوریت کے دور میں حاکمانہ نفسیات کے ساتھ جینا چاہتے ہیں۔ اس سبب سے وہ دور حاضر میں بالکل ان فٹ ہو کر رہ گئے ہیں۔
قدیم حاکمانہ دور صرف اپنی رعایت کرنا جانتا تھا۔ جدید جمہوری دور دوسروں کی رعایت کا قدیم دور میں بلا شرکت صرف اپنا اقتدار تھا۔ اب نئے زمانہ میں دوسروں کی شرکت کے ساتھ روادارانہ نظام پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ مگر مسلمانوں کے مقررین اور محررین نے ان کے اندر نئے حالات کے مطابق ذہن نہیں بنایا۔ اس کے بھیانک نتائج ہر مسلم ملک اور ہر مسلم معاشرہ میں پیش آرہے ہیں۔
ایک خطاب میں میں نے کہا کہ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ امت محمدی کا ثواب زیادہ ہے۔ یہ سادہ طور پر کوئی فضیلت کا معاملہ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ امت محمدی کی ذمہ داری زیادہ ہے اس لیے اس کا انعام بھی زیادہ ہے۔ پچھلی امتوں کی نجات کے لیے یہ کافی تھا کہ وہ عبادت اور اخلاق کے معیار پر پورے اتریں۔ مگر امت محمدی کی ایک اور لازمی ذمہ داری ہے اور وہ غیر اقوام میں حق کا پیغام پہنچانا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہو گئی مگر کار نبوت بدستور باقی ہیں۔ یہ کار نبوت دعوت الی اللہ ہے۔ پچھلے زمانوں میں پیغمبر براہ راست طور پر دعوت کا کام کرتے تھے۔ اب ختم نبوت کے بعد امت محمدی کو آپ کی نیابت میں یہ کام انجام دینا ہے۔ اس طرح چونکہ ان کی ذمہ داری زیادہ ہے اس لیے ان کا ثواب بھی زیادہ ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ پچھلی امتوں کی نجات اگر ایک عمل پر موقوف تھی تو اب امت محمدی کی نجات کا انحصار دو عمل پر موقوف ہو گئی ہے۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ یہ تو بہت مشکل معاملہ ہے۔ ہر مسلمان دعوت کا کام کس طرح کر سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ عام شرعی اصول کے مطابق یہ ذمہ داری بھی حسب استطاعت ہے۔
یہ ہے کہ اس ذمہ داری کی ادائیگی کے تین مرحلے ہیں۔ پہلا مرحلہ نیت کا ہے۔ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو مخالف دعوت اعمال سے روکنا ہے اور تیسرا مرحلہ براہ راست دعوت دینے کا ہے۔ مسلمان یا جس مسلم گروہ کی جو استطاعت ہوگی اسی کے مطابق اس سے خدا کا مطالبہ ہوگا۔ نیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے دل میں دعوت کی سچی تڑپ پیدا ہو جائے اور اس کا معیار یہ ہے کہ آپ اپنی تنہائیوں میں مدعو کی ہدایت کے لیے دعا کرنے لگیں۔ دوسری چیز یہ ہے کہ ہر اس کارروائی سے اپنے کو بچایا جائے جو داعی اور مدعو کے درمیان نفرت اور کشیدگی پیدا کرنے والی ہو۔ اس معاملے میں مسلمان کا حال یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے لیے یک طرفہ نقصان کو برداشت کر لیں مگر وہ کوئی ایسی تحریک نہ اٹھائیں جو داعی اور مدعو کے تعلقات کو غیر معتدل بنانے والی ہو۔ تیسری چیز براہ راست موجودہ زمانہ میں اس کی آسان صورت یہ ہے کہ اس کام کو دعوتِ اسلام کے نام پر کرنے کے بجائے تعارفِ اسلام کے نام پر کیا جائے۔ عنوان کا یہ فرق ایک نیا دعوتی امکان ہے جو جدید تبدیلیوں کے نتیجہ میں ہمارے لیے پیدا ہوا ہے۔
کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں نے ان کے موقف میں ایک عجیب تضاد محسوس کیا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ لوگوں کا عجیب حال ہے۔ اگر میں عقلی دلیل سے کوئی بات کہوں تو آپ کہتے ہیں کہ قرآن و حدیث کی دلیل لاؤ۔ اور جب میں قرآن و حدیث کی دلیل پیش کرتا ہوں تو آپ اس کے خلاف اپنی عقلی قیاسات پیش کرنے لگتے ہیں۔
یہ حال ان لوگوں کا ہوتا ہے جو اپنے مانوس افکار میں جیتے ہوں اور سچائی کو جاننے کے لیے سنجیدہ نہ ہوں۔ انھیں وہی بات اپیل کرتی ہے جو ان کے اپنے ذہن کی تصدیق کر رہی ہو۔ جو چیز ان کے مانوس ذہن سے ٹکرائے وہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ خواہ کتنی ہی زیادہ دلیل ان کے سامنے پیش کر دی جائے۔
ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری ان کی غلط فکری ہے۔ اور غلط فکری کی وجہ یہ ہے کہ وہ صحیح معیار اور غلط معیار کے فرق کو نہیں جانتے۔ مثلاً کسی سے غیر مسلموں میں دعوت کی بات کیجئے تو وہ فوراً کہے گا کہ ابھی تو مسلمانوں ہی کی اصلاح نہیں ہوئی تو غیر مسلموں میں دعوت کا کام کیسے کیا جا سکتا ہے۔ حالاں کہ دعوت کا یہ معیار
ہی نہیں کہ مسلمان سب کے سب اصلاح یافتہ ہو جائیں تب وہ دعوت عام کا کام کریں۔ خود مطلوب ہے جس طرح نماز خود مطلوب ہے۔ مسلمانوں کے اصلاح یافتہ ہونے یا نہ ہونے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
اسی طرح اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی کسی روش پر انہیں نصیحت کیجئے تو فوراً اپنے اکابر کا قول اپنی تائید میں پیش کر دیں گے۔ حالاں کہ دین میں اکابر کا قول معیار نہیں ہے بلکہ قرآن و حدیث کو واحد معیار کا درجہ حاصل ہے۔ مسلمانوں کو سب سے پہلے یہ جاننا ہوگا کہ استدلال کا صحیح معیار کیا ہے۔ اس کے بعد ہی ان کے اندر صحیح سوچ اور صحیح فیصلہ کی صفت پیدا کی جاسکتی ہے۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ موجودہ زمانہ میں مسلموں میں بہت بڑی بڑی جماعتیں اور تحریکیں مسلمانوں کی بیشتر تعداد کسی نہ کسی طور پر ان سے جڑی ہوئی ہے۔ مگر دین کی اصل روح (تقویٰ) کہیں نظر نہیں آتا۔ میں نے کہا کہ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ یہ تحریکیں تقویٰ کے اصول پر اٹھائی ہی نہیں گئیں۔ پھر ان سے تقویٰ کا نتیجہ کیوں کر برآمد ہو سکتا ہے۔
آپ غور کیجئے تو تمام تحریکیں اور جماعتیں دین کے مظاہر پراٹھائی گئیں نہ کہ دین کی روح کسی نے مظاہر عبادت کو، کسی نے مظاہر شرک کو، کسی نے مظاہر سیاست کو، کسی نے کسی اور مظاہر کو۔ چنانچہ ہر جماعت اور ہر تحریک میں مظاہر کی دھوم دکھائی دے رہی ہے۔ دین کی روح یا دین کی اسپرٹ کسی کا نشانہ نہیں۔ اسی لیے ان کے یہاں نہ روح دین پر زور ہے اور نہ ان سے وابستہ لوگوں میں اس کی جھلک نظر آتی ہے۔ روح پر زور دیا جائے تو روح اور مظاہر دونوں پیدا ہوں گے۔ اور اگر صرف مظاہر پر زور دیا جائے تو مظاہر تو پیدا ہو جائیں گے مگر اصل روح کا کہیں وجود نہیں
ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ کی مخالفت اب کا فی کم ہوگئی ہے۔ میں نے کہا کہ یوں نہ کہئے۔ بلکہ یہ کہئے کہ بعض غلط فہمیاں دور ہوگئیں اس لیے مخالفت بھی ختم ہو گئی۔ مثلاً ہندوؤں کے اجتماعات میں میری شرکت کو کچھ لوگوں نے اس معنی میں لے لیا تھا کہ میں ہندو نوازی کر رہا ہوں۔ مگر اس کی جو رپورٹیں چھپی ان کو دیکھ کر لوگوں نے جانا کہ میں وہاں اس لیے جاتا ہوں کہ اسلام کا مثبت تعارف پیش کروں اور اس کے خلاف ان کی غلط فہمیوں کو دور کروں۔ یہ جاننے کے بعد لوگ اپنے آپ مطمئن ہو گئے۔
الرسلہ کے ایک قاری نے سوال کیا کہ آپ باتوں کو پیشگی طور پر کیسے جان لیتے ہیں۔ لکھا تھا کہ افغان، روس لڑائی جب ختم ہوگی تو افغانی لوگ آپس میں لڑنا شروع کر دیں گے، اور واقعہ ایسا ہی ہوا۔
اسی طرح آپ نے لکھا تھا کہ بابری مسجد کا ڈھایا جانا فل اسٹاپ ہے وہ کام نہیں ہے اور اس معاملہ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا ہی پیش آیا ہے۔
اسی طرح جب تمام لوگ فرقہ وارانہ فساد کے بارے میں یہ کہہ رہے تھے کہ وہ صرف حکومت کے روکنے سے رکے گا اس وقت آپ نے یہ کہا کہ مسلمان اگر صبر و تحمل کی پالیسی اختیار کر لیں تو فرقہ وارانہ فساد کا بم اپنے آپ نا کارہ ہو کر رہ جائے گا، اور اس معاملے میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایسا ہی پیش آیا۔ ایک عرصہ سے مسلمان اس معاملے میں صبر و تحمل سے کام لے رہے ہیں چنانچہ فرقہ وارانہ فساد بھی عملاً تقریباً ختم ہو گیا ہے۔
میں نے کہا کہ یہ کوئی پر اسرار بات نہیں ہے۔ آپ بھی اسی طرح باتوں کو پیشگی طور پر جان سکتے ہیں۔ بشرطیکہ آپ اپنے اندر غیر متعصبانہ اور غیر جانبدارانہ طرز فکر پیدا کر لیں۔ بابری مسجد کے معاملہ کو دوسرے لوگ اس لیے نہیں سمجھ پائے کہ وہ ہند و نفرت میں مبتلا تھے ۔ یہ نفرت اصل بات کو سمجھنے میں رکاوٹ میں خدا کے فضل سے ہند و نفرت سے خالی تھا۔ اس لیے میں اس کی حقیقت سمجھنے میں کامیاب اسی طرح افغانستان کے معاملہ کو سمجھنے سے دوسرے لوگ اس لیے قاصر رہے کہ وہ افغانی لڑائی کو جہاد فی سبیل اللہ سمجھ بیٹھے تھے۔ میں اس قسم کی خوش فہمی میں مبتلا نہیں تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ ساری جنگ قبائلی جذبہ کے تحت ہو رہی ہے نہ کہ خدائی جذبہ کے تحت۔ اسی لیے مجھے اس کی اصل حقیقت کو سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ یہی معاملہ فرقہ وارانہ فساد کا بھی ہے لوگ اس کو ظلم اور تعصب اور سازش کی اصطلاحوں میں دیکھ رہے تھے اس لیے وہ معاملے کو زیادہ گہرائی سے سمجھ نہ سکے۔ میں نے خالی الذہن ہو کر اس کو فطرت کے قانون کی روشنی میں دیکھا اس لیے میں اس کی تہہ تک پہنچ گیا۔
ایک مجلس میں گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ کسی شخص کے اندر اعلیٰ انسانیت موجود ہے یا نہیں، اس کا ایک معیار مقرر کرنا ہو تو وہ اعتراف ہو گا۔ اور اگر دو معیار مقرر کرنا ہو تو اعتراف اور احسان مندی۔ اس میں شک نہیں کہ دلیل سامنے آنے کے بعد فوراً اس کے وزن کو محسوس کرنا اور اپنی غلطی کا اعتراف
کر لینا اعلیٰ ترین انسانی صفت ہے۔ اسی طرح کسی شخص سے دوسرے آدمی کو فائدہ پہنچے تو اس فائدہ پہنچانے والے شخص کا احسان مند ہونا اعلیٰ ترین انسانی خصوصیت ہے۔
پونہ میں کچھ لوگوں سے دعوت کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ اکثر لکھتے ہیں کہ مسلمان دعوت کا کام نہیں کر رہے ہیں حالاں کہ واقعہ یہ ہے کہ آج دعوت کا کام ساری دنیا میں ہو رہا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ قول، قرآن کے الفاظ میں یحبون ان یحمدوا بمالم يفعلوا (۳ : ۱۸۸) کا یعنی ایک ایسے کام کا کریڈٹ لینا جس کو آدمی نے کیا نہ ہو۔
میں نے کہا کہ دعوت کا سر چشمہ محبت انسانی ہے، اور موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں محبت انسانی کا بظاہر وجود ہی نہیں۔ اور جب انسان سے محبت ہی نہ ہو تو اس کو آپ دعوت حق کا مخاطب کس طرح بنا سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ پریس کا دور آنے کے بعد ۱۹ ویں اور ۲۰ ویں صدی کے درمیان مسلم اہل قلم نے کروڑوں کی تعداد میں کتابیں شائع کی ہیں مگر آپ اردو، انگریزی، عربی اور فارسی میں کسی ایک کتاب کی بھی نشان دہی نہیں کر سکتے جو حقیقی معنوں میں محبت انسانی کے موضوع پر لکھی گئی ہو۔ اس دور میں بے شمار تعداد میں جلسے کیے جا رہے ہیں مگر میرے علم کے مطابق کوئی ایک بھی مسلم جلسہ نہیں جس کے پیچھے حقیقتاً محبت انسانی کا جذبہ کام کر رہا ہوں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا واحد اثاثہ ان کا قومی فخر ہے۔ ان کے درمیان وہی تحریکیں اور جماعتیں فروغ پاتی ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر ان کی نخوت قومی کی تصدیق کر رہی ہوں۔ اور جو تحریک یا جماعت ان کی قومی نخوت کو اپیل نہ کرے وہ ان کے درمیان فروغ بھی نہیں پاتی۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان سے محبت کرنا خود ایک عبادت ہے۔ وہ اسلامی اخلاق کا اعلیٰ ترین معیار ہے۔ مگر موجودہ مسلمانوں میں اسلام کا یہ پہلو کامل طور پر اجنبی ہے۔ اسی کا ایک ظاہر ہ ساری دنیا میں یہ دکھائی دیتا ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم کوئی ایسی بات کہہ دے جو مسلمانوں کے قومی وقار سے ٹکراتی ہو تو وہ فوراً سپر سر اس کے خلاف متشددانہ تحریک شروع کر دیتے ہیں۔ آج سب سے پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کا یہ مزاج ختم کیا جائے۔ غیرمسلموں کے تئیں یہ مزاج رکھتے ہوئے وہ دعوتی کام کے اہل ہی انھیں غیرمسلموں کے حق میں یک طرفہ طور پر خیر خواہ اور متحمل بننا پڑے گا۔ ورنہ وہ خدا کے یہاں اس بات کے مجرم قرار پائیں گے کہ انھوں نے خدا کی مخلوق کو خدا کا پیغام پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔
ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ فقہ کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ جس چیز کے بغیر کسی واجب کو پورا نہ کیا جا سکتا ہو وہ بھی واجب ہو جاتا ہے (ما لا يتم الواجب الا بہ فھو واجب) مثلاً سمت کا علم اگر نہ ہو تو بیرونی علاقے کے لوگوں کے لیے قبلے کے رخ کا تعین کرنا ممکن نہ ہوگا۔ جس طرح نماز میں قبلے کی طرف رخ کرنا ضروری ہے اسی طرح سمت کے علم کا حصول بھی ضروری ہے تاکہ قبلے کے رخ کا تعین ہو سکے ۔
یہی معاملہ دعوت کا ہے ۔ دعوت کا کام صحیح طور پر صرف اس وقت انجام دیا جاسکتا ہے جبکہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات ہوں ۔ اس لیے داعی کو مدعو وہ پر جس طرح دعوت دینا لازم ہے۔ اسی طرح یہ بھی لازم ہے کہ وہ اپنے اور مدعو کے درمیان تعلق کو بگڑنے نہ دے۔ وہ یک طرفہ کوشش کے ذریعہ دونوں کے درمیان تعلق کو برقرار رکھے ۔ کیوں کہ اس کے بغیر دعوت کے عمل کی بجا آوری ممکن ہی نہیں ۔
پونہ کے ایک صاحب نے ایک پاکستانی عالم کی ایک کتاب دکھائی وہ شرک کے بارے میں اس میں شرک کی چند قسمیں بتائی گئی تھیں۔ ان میں سے ایک سیاسی شرک بھی تھا۔ اس کو دیکھ کر میں نے کہا کہ ”سیاسی شرک“ کا تصور اسلام میں ایک اضافہ ہے جو میرے نزدیک ناقابل معافی جسارت اس قسم کی بات حضرت علیؓ کے زمانہ میں خوارج نے کی تھی۔ اس کے بعد پوری اسلامی تاریخ میں کبھی بھی ایسی بات نہیں کہی گئی۔ موجودہ زمانہ میں کچھ نام نہاد مفکرین نے خوارج کے نظریہ کو از سر نو سیاسی شرک کے نام سے زندہ کیا ہے ۔
میں نے کہا کہ شرک سیاسی کا نظریہ اتنا ہی بے اصل ہے جتنا کہ نبوت ظلی کا نظریہ ۔ طور پر قابل رد ہیں۔ اس قسم کے نظریہ کی تبلیغ ایک فتنہ ہے نہ کہ اسلام کی کوئی خدمت ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی نظریہ نے ساری دنیا میں مسلمانوں کو حکمراں طبقہ سے ٹکرار کھا ہے جس کے نتیجہ میں اسلام کے خلاف اتنی زیادہ نفرت پیدا ہوگئی ہے کہ دعوت توحید کا کام کرنا ہی سخت مشکل ہو گیا ہے ۔ الرسالہ میں ایک مسلم شخصیت کی ایک بات پر تنقید چھپی تھی۔ اس پر ایک صاحب نے شکایت کی گفتگو کے دوران انھوں نے جوش میں آکر کہا: وہ اتنے بڑے تھے کہ ان سے کوئی چھوٹا بھی نہیں ۔
میں نے کہا کہ یہ تو صرف آپ کے کچھ الفاظ ہیں۔ یہ کوئی دلیل نہیں۔ اگر صرف لفظ ہی بولنا ہو تو دوسرا شخص کہہ سکتا ہے کہ: وہ اتنے چھوٹے تھے کہ ہر شخص ان سے بڑا ہے۔
آج کل اس طرح کا استدلال عام ہے۔ لوگ ادبی انداز میں کچھ الفاظ بول دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انھوں نے دلیل دی۔ حالاں کہ الفاظ خواہ وہ نحو اور صرف کے لحاظ سے کتنا ہی درست ہوں، حقیقت کے اعتبار سے وہ بالکل بے معنی ہو سکتے ہیں۔ اوپر کے دونوں جملے اسی کی ایک مثال ہیں۔ ہے حقائق کی بنیاد پر علمی اور منطقی تجزیہ کرنے کا نہ کہ محض کچھ الفاظ بول دینے کا۔ حیدر آباد کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے بارے میں حیدر آباد کے اردو اخبار میں یہ چھپا ہے کہ آپ نے حال میں حیدر آباد کا خفیہ دورہ کیا۔ اس کے پیچھے کوئی یہودی سازش میں نے کہا کہ یہ ایک لغو بات ہے۔ میں نے زندگی میں کبھی کوئی خفیہ دورہ نہیں کیا۔ حیدر آباد کا نہ کسی اور جگہ کا۔
پھر میں نے پوچھا کہ آپ کس طرح کہتے ہیں کہ وہ خفیہ دورہ تھا ۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے حیدر آباد کے دورہ کی خبر وہاں کے اخباروں میں نہیں چھپی۔ میں نے کہا کہ آپ یہاں اپنے بیان کے مطابق ایک دورہ پرآئے ہیں مگر آپ کے آنے کی کوئی اطلاع یہاں کے اخبارات میں نظر نہیں آئی۔ کیا آپ کا یہ دورہ کوئی خفیہ دورہ ہے ۔ وہ خاموش ہو گئے۔
رات کو فجر سے پہلے چار بجے سو کر اٹھا۔ وضو کر کے دو رکعت نماز لمبی قرأت کے ساتھ پڑھی۔ اس کے بعد اپنے کمرہ میں بیٹھا تو اچانک یاد آیا کہ شتری گر دگولو الکرا اور مسٹر ارن شوری نے لکھا ہے کہ ایک گڈ مسلم کبھی گڈ انڈین نہیں بن سکتا۔ یہ سوچتے ہوئے بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے کہ یہ لوگ انسان کو کتنا کم جانتے ہیں۔ ان سے کہیں زیادہ انسان سے واقف انیسویں صدی کا امریکی شاعر والٹ وہٹ مین (Walt Whitman) تھا جس نے کہا کہ :
I am large enough to contain all these contradictions. میں یہ کہہ رہا تھا اور رو رہا تھا کہ بخدا میں ایک گڈ مسلم ہوں اور اسی کے ساتھ میں گڈ انڈین بھی ہوں۔ یہ میری شرافت انسانی کی توہین ہے کہ یہ کہا جائے کہ میں جس ملک میں پیدا ہوا، اس کا میں اچھا شہری نہیں ہوں۔ وطن کی محبت ایک خالص فطری جذبہ ہے۔ اور جس چیز کی جڑیں خود فطرت انسانی میں ہوں اس
سے کوئی انسان کبھی خالی نہیں ہو سکتا۔
میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر مہاتما گاندھی پیدا ہوں اور کہیں کہ میں تم کو گڈ انڈین ہونے کا سرٹیفکٹ دیتا ہوں تو میں ایسا سرٹیفکٹ لینے سے انکار کر دوں گا۔ میں کہوں گا کہ کیا کسی بیٹے کو اس کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی ماں کا اچھا بیٹا بننے کے لیے کسی اور کاسرٹیفکٹ حاصل کرے ۔ بخدا میں کسی گرو کولوا لحمر یا کسی گاندھی کے سرٹیفکٹ کے بغیر ہی ایک گڈ انڈین ہوں۔ انڈیا کی محبت میں نکلنے والے میری تنہائیوں کے آنسو جن کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہوتا وہ بذات خود اس کے لیے کافی ہیں کہ میں اپنے آپ کو پورے معنی میں ایک گڈ انڈین سمجھوں۔
ایک بار میں مسلمانوں کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ ایک شخص نے حدیث رسول کے طور پر یہ جملہ سنایا : "حب الوطن من الایمان" اس مجلس میں ایک عالم بھی تھے انھوں نے کہا کہ یہ حدیث نہیں ہے بلکہ وہ ایک عربی مقولہ ہے۔ ایک اور شخص نے کہا کہ وطن کی محبت کے بارے میں قرآن و حدیث میں کوئی واضح حوالہ موجود نہیں۔
میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ "حب الوطن من الایمان" کوئی حدیث رسول نہیں۔ مگر اس کو عربی مقولہ کہنا بھی درست نہیں ہے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ فطرت کا مقولہ ہے یہ انسانی فطرت کی آواز ہے جو ہر زبان میں مختلف الفاظ میں پائی جاتی ہے اور جو چیز عین فطرت کا حصہ ہو اس کا ذکر قرآن و حدیث میں ہونا ضروری نہیں ہے۔
میں نے کہا کہ کیا قرآن میں کہیں لکھا ہوا ہے کہ اے ماں ، تو اپنے بیٹے سے محبت کر۔ اے انسان، تو ہوا میں سانس لے۔ اے پیاسا، تو ٹھنڈا پانی پیا کر۔ یہ باتیں قرآن و حدیث میں درج نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سب فطرت کے لازمی تقاضے ہیں اور جو چیز فطرت کا لازمی تقاضا ہو وہ اپنے آپ آدمی کی زندگی میں شامل رہتی ہے اس کے لیے کسی خارجی حکم کی ضرورت نہیں۔
ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ غیر مسلموں میں دعوت کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی اصلاح کی جائے۔ یہ بالکل بے اصل اس کا تعلق نہ شریعت سے ہے اور نہ عقل سے۔ اس کے بجائے غیر مسلموں میں دعوت کے کام کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کشیدگی کی فضا کو ختم کیا جائے غیر مسلموں میں
دعوت کے نفوذ کی راہ میں اصل رکاوٹ یہی کشیدگی ہے نہ کہ مسلمانوں کی عملی کوتاہی۔ اگر مسلمان اور غیرمسلموں کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہو جائیں تو فوراً ہی دعوت کا عمل شروع ہو جائے گا۔ اس کے بعد دونوں کا باہمی اختلاط ہی دعوت کے لیے کافی ہو جائے گا جس طرح وہ پچھلے زمانوں میں ہوا تھا۔ ایک مسلمان نے کہا کہ کا نفرنس میں آپ کی دونوں تقریریں امن و اخوت کے موضوع پر تھیں۔ آپ نے براہ راست اسلامی دعوت پیش نہیں کی۔ میں نے کہا کہ کا نفرنس والوں کی طرف سے جو موضوع دیا گیا تھا، مجھ کو بہر حال اسی موضوع پر بولنا تھا۔ اگر میں خود ساختہ طور پر کسی اور موضوع پر بولنے لگتا تو وہ غیر متعلق (irrelevant) ہو جاتا۔ اور پھر اہل علم کی اس کانفرنس میں میری تقریر کی کوئی اہمیت نہ ہوتی۔ دوسری بات یہ کہ جس طرح براہ راست دعوت ایک کام ہے اسی طرح تقریب دعوت بھی ایک ضروری کام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تقریب دعوت براہ راست دعوت کا پہلا مرحلہ ہے۔ اس حکمت کے بغیر دعوت کا کام مؤثر طور پر انجام نہیں دیا جا سکتا۔ یہی پیغمبرانہ سنت ہے اور فطرت کا تقاضا بھی۔ پونہ ہندوستان کے ان چند مقامات میں سے ہے جس کی معتدل آب و ہوا کی بنا پر انگریزوں نے اس کو اپنی رہائش کے لیے پسند کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پونہ میں برٹش حکومت کے ابتدائی زمانہ ہی میں تعلیم کا رواج ہو گیا چنانچہ آج یہاں بہترین تعلیمی ادارے قائم ہیں اور عمومی طور پر لوگ تعلیم یافتہ نظر آتے اسی کا یہ فائدہ ہے کہ پونہ کے لوگوں میں جو شعور اور ڈسپلن نظر آتا ہے وہ ملک کے دوسرے حصوں میں کم ملے گا۔ مثلاً یہاں کی سڑکوں پر یہ ایک عام منظر ہے کہ سواریاں اپنی اپنی لین میں چلتی ہیں۔ دہلی والی صورت نہیں ہے جہاں سڑکوں پر ہر آدمی ضابطہ کو توڑ کر اپنی گاڑی بھگا نے کی کوشش کرتا ہے۔ پونہ کی سڑک پر آپ اپنی گاڑی چلا رہے ہوں اور اور ٹیک کرنے کے لیے اپنا ہارن بجائے تو اگلا آدمی فوراً ہی اپنی گاڑی کو کنارے کر لے گا۔ دہلی جیسے شہروں میں ایسا نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ لوگ فوراً ہی اس کو وقار کا مسئلہ بنا لیتے ہیں جب کہ پونہ میں بار بار مجھے اس کا تجربہ ہوا کہ اس طرح کے مواقع پر کوئی آدمی اس کو وقار کا مسئلہ نہیں بناتا بلکہ سادہ طور پر صرف یہ دیکھتا ہے کہ میں ہلکی رفتار سے چل رہا ہوں اور پیچھے والا تیز رفتار سے تو مجھے کنارے ہٹ جانا چاہیے تاکہ پیچھے والا رکاوٹ کے بغیر آگے
پونہ مرہٹوں کاتاریخی علاقہ ہے۔ یہ علاقہ نہ صرف نام کے اعتبار سے ہمارا شرہ ہے بلکہ یہ علاقہ ہندوستان
کے سب سے زیادہ اہم علاقہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ بمبئی بھی اسی علاقہ کا ابیک حصہ ہے جو ہندوستان کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ دولت مند شہر سمجھا جاتا ہے۔
اورنگ زیب سے لے کر بعد کے تمام مسلم رہنما بشمول شاہ ولی اللہ دہلوی سب سے بڑا مسئلہ مرہٹوں کو سمجھتے رہے۔ ان کا خیال تھا کہ مرہٹوں کے زور کو توڑنا مسلم عہد کو دوبارہ واپس لانے کے ہم معنی یہ تصور یک وقت دواعتبار سے سطحی تھا۔ ایک یہ کہ حال کے اعتبار سے یہ دراصل انگریز تھے جو ہندوستان میں مسئلہ بن رہے تھے۔ اور مستقبل کے اعتبار سے مراٹھا قوم مزید زور آور ہو کر دوبارہ اس علاقہ کی طاقت نمبرایک بننے والی تھی ـــــ سطحی مشاہدہ اور گہری بصیرت میں کتنا زیادہ فرق ہے، اس کی ایک مثال اس واقعہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
ہمارے ہوٹل کے عین سامنے فرگوسن کالج ہے۔ یہ کالج سوا سو سال پہلے انگریزوں نے قائم کیا تھا۔ یہ تاریخی کالج بہت بڑے کیمپس میں واقع ہے۔ پونہ میں تعلیم کے عمومی رواج میں اس کا بہت بڑا حصہ ہے۔ ۱۸۵۷ء کی بغاوت کے بعد اس وقت کے برٹش حکمرانوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ ہندوستانیوں کو انگریزی زبان اور مغربی علوم پڑھائے جائیں۔ اس سے وہ یہ امید رکھتے تھے کہ ہندوستانیوں کے باغیانہ جذبات ختم ہو جائیں گے اور وہ اس ملک میں آسانی کے ساتھ حکومت کر سکیں گے۔ اس فیصلے کے تحت انھوں نے ملک کے مختلف مقامات پر انگریزی زبان اور مغربی تعلیم کے ادارے قائم کیے یا قائم کرنے میں مدد کی۔ انھیں میں سے ایک علی گڑھ کا تعلیمی ادارہ ہے جو اب مسلم یونی ورسٹی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ادارہ کو "عظمت ملی" کانشان بتایا جاتا ہے۔ انگریزی دور میں جب سر سید اور ان کے ساتھیوں نے یہ تعلیمی ادارہ قائم کیا تو مسلمانوں کی طرف سے اس کی زبردست مخالفت کی گئی۔ یہ دراصل انگریز تھے جن کی براہ راست یا بالواسطہ مدد سے اس ادارہ کو قائم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔
پونہ کی سڑکوں سے بار بار گزرنا پڑا۔ اس دوران مختلف ایسے مناظر دیکھے جو کافی سبق
مثلاً ایک بار سڑک سے گزرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ اسکول کے طلبہ جو سب کے سب یونیفارم میں تھے دو، دو کی قطار بنائے ہوئے لمبی لائن میں فٹ پاتھ سے گزر رہے ہیں۔ شمالی ہند کے شہروں میں کم نظر آتا ہے۔ اسی طرح اتوار کے دن یہی منظر دوبارہ نظر آیا۔ فٹ پاتھ پر بڑی
تعداد میں لوگ لمبی لائن میں خاموشی کے ساتھ چلے جارہے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ لوگ چرچ جارہے ہیں۔ اس واقعہ میں دو سبق ہے۔ ایک یہ کہ پوری سڑک پر بکھر کر چلنے کی صورت میں یہ لوگ دوسرے مسافروں کے لیے مسئلہ بن جاتے۔ انھوں نے اس کا آسان حل یہ دریافت کیا کہ فٹ پاتھ پر اپنی لمبی لائن بنالیں۔ دوسرا سبق یہ تھا کہ جب دائیں بائیں پھیلنے کے مواقع نہ ہوں تو آگے اور پیچھے کی طرف لمبی لائن میں پھیل اس دنیا میں ہر مشکل کا سادہ حل موجود ہوتا ہے بشرطیکہ آدمی اپنی عقل کو استعمال کرے۔ اسی طرح دو بار یہ صورت پیش آئی کہ ہماری گاڑی بھیڑ میں کسی سائیکل یا اسکوٹر سے ٹکر آگئی۔ بار ایسا ہوا کہ سائیکل اور اسکوٹر والے نے پیچھے مڑ کر ایک بار دیکھا اور پھر خاموشی کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔ حالاں کہ اس قسم کا واقعہ اگر دلی میں ہو جائے تو دونوں میں تکرار ہونا لازمی ہے۔ حتی کہ یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں میں ہاتھاپائی کی نوبت آجائے۔ ایک ہی ملک کے دو حصوں میں مزاج کا اتنا زیادہ فرق کیوں اس کی وجہ غالباً پالیٹکس ہے۔ دہلی جیسے علاقوں میں مدت سے پالیٹکس کی دھوم جاری رہی ہے جس نے لوگوں کو بے برداشت اور اشتعال پسند بنا دیا ہے۔ اس کے برعکس پونہ جیسے علاقوں میں سیاست کا زور کم تھا۔ اس لیے وہاں کے لوگ عام طور پر متحمل اور تعمیر پسند ہیں۔ ڈاکٹر بار لنگے(۷۴سال) پونہ کی ایک ممتاز شخصیت ہیں۔ وہ انتہائی حد تک سیکولراور غیر متعصب ایک ملاقات میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کی تجویز مسٹر جناح سے پہلے اقبال نے پیش کی تھی۔ اعتبار سے پاکستان کے اصل فکری قائد اقبال ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے کہا کہ یہ بات مجھے بہت عجیب معلوم ہوتی ہے کہ ایک طرف اقبال نے یہ شعر کہا کہ: