Al-Risala · May 1997

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

Al-Risala, May 1997, pp. 45–49

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر انھیں اقبال نے برصغیر ہند میں مذہب کے نام پر پارٹیشن کی تائید کی۔ جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مستقل طور پر مذہبی بیر کا سبب بن گیا۔

میں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ مذہب محبت سکھاتا ہے وہ بیر نہیں سکھاتا۔ لیکن جب مذہب کو زر اور زمین کے مسئلے سے جوڑا جائے گا تو ہمیشہ وہی الٹا نتیجہ نکلے گا جو برصغیر ہند میں نکلا۔ صحیح بات یہ ہے کہ مذہب کو صرف دل سے جوڑنا چاہیے ۔ مذہب کا اصل کام آدمی کے اندر فکری اور روحانی انقلاب لانا ہے۔ خارجی اصلاحات اپنے آپ انسانی انقلاب کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہیں۔ خارجی چیزوں کو اگر

براہ راست تحریک کا نشانہ بنایا جائے تو اس سے صرف فساد پیدا ہو گا نہ کہ اصلاح۔ ڈاکٹر سریندر بارلنگے نے یکم دسمبر کی صبح کو اپنے یہاں چائے پر مدعو کیا تھا۔ میں اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ وہاں پہنچا۔ ڈاکٹر بارلنگے کی عمر تقریبا ۵۰ سال ہے اور وہ مہاتما گاندھی کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے برت کو انگریز وائسرائے نے اپنی فوجوں سے زیادہ طاقت ور بتایا تھا۔ پھر مہاتما گاندھی نے ملک کے بٹوارے کو روکنے کے لیے اپنی یہ طاقت کیوں نہیں

ڈاکٹر بارلنگے نے کہا کہ مہاتما گاندھی سے براہ راست یہ سوال کیا گیا تھا انھوں نے جواب دیا کہ میرے برت کی طاقت اس وقت ہے جب کہ عوام میرے ساتھ ہوں۔ اور اب یہ حالت ہو چکی ہے کہ بٹوارے کے سوال پر دیش کے عوام میرا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں۔ ڈاکٹر بارلنگے نے کہا کہ اس وقت میں ایک مراٹھی اخبار "انقلاب" نکالتا تھا۔ میں نے خود اپنے اخبار میں اس پر اداریہ لکھا تھا جس میں میں نے کہا تھا کہ پاکستان دو، آزادی لو۔ انھوں نے کہا کہ اس سوال پر اگر مہاتما گاندھی برت رکھتے تو یقیناً ان کا برت ناکام ہو جاتا۔ کیوں کہ عوام آزادی کے لیے مزید انتظار پر تیار نہ تھے۔ اس گفتگو کے بعد مجھے مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب "آزادی ہند" یاد آئی۔ انھوں نے اس معاملہ پر جو کچھ لکھا ہے اس میں مذکورہ پہلو کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ انھوں نے ملک کی تقسیم کے معاملہ کو صرف چند سیاسی شخصیتوں کا معاملہ بنا دیا ہے وہ اس راز کو نہ سمجھ سکے کہ جمہوری دور میں کسی سیاسی شخصیت کی طاقت صرف اس وقت ہے جب کہ عوام کی بھیڑ اس کے ساتھ ہو۔ عوامی بھیڑ سے کٹے ہی سیاسی لیڈر کا حال ایسا ہو جاتا ہے جیسے ترازو کے پلڑے پر پلٹہ کا بٹ چھوڑ کر کونسل کا باٹ اس سے اتار لیا جائے۔ ۳۰ نومبر کو کانفرنس ختم ہو گئی مگر اس کے مہا بعد یکم دسمبر ۱۹۶۶ء کو ایک خصوصی جلسہ ہوا۔ پنڈال میں کافی لوگ اکٹھا تھے۔ یہ جلسہ ورلڈ پیس یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ اس میں دوسرے ممتاز افراد کے علاوہ ڈاکٹر کلیس نوبیل (فاؤنڈر چیرمین، یونائٹیڈارتھ، نیویارک) فرانسین فورنیر (اسسٹنٹ ڈائرکٹر جنرل، یونیسکو، فرانس) شامل تھے ۔

اس موقع پر دوسروں کے علاوہ میری بھی ایک تقریر ہوئی۔ میں نے کہا کہ امن کے مقصد کے لیے ایک تعلیمی اور تربیتی ادارہ قائم کرنا بہت خوش آئند بات ہے۔ میں دل سے بے حد امن پسند آدمی ہوں۔

چنانچہ امن وانسانیت کی باتیں کرتے ہوئے میرا دل بھر آیا۔ میں بے اختیار رونے لگا۔ بھرے انداز کو دیکھ کر مجمع بھی رو پڑا ۔ اختتام پر جب میں اسٹیج سے نیچے اترا تو بہت بڑی تعداد میں لوگ برکت لینے کے لیے میرے گرد اکٹھا ہو گئے۔ یہ انگریزی تقریر ان شاء اللہ انگریزی الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔

یکم دسمبر ۱۹۹۶ء کی شام کو پونہ سے واپسی ہوئی۔ یہ سفر بذریعہ انڈین ایرلائنس طے ہوا۔ پونہ ایئر پورٹ پر اتفاقاً مسٹر ارن شوری سے ملاقات ہو گئی۔ وہ بھی اسی جہاز سے دہلی جا رہے تھے۔ یہاں وہ مسٹرانا ہزارے سے ملاقات کے لیے آئے تھے جو اس وقت کرپشن کے خلاف برت رکھئے ہوئے ہیں مسٹرانا ہزارے ایک سچے دیش بھگت ہیں مگر جہاں تک ان کے برت کا تعلق ہے مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ ہندوستان کا کرپشن کسی آدمی کے برت سے ختم نہیں ہو سکتا خواہ برت رکھنے والے خود مہاتما گاندھی کیوں نہ ہو۔

مسٹر ارن شوری سے میں نے پوچھا کہ انڈیا میں آج کل جوڈیشل ایکٹیوزم زوروں پر ہے۔ سے لیڈر عدالتی کارروائیوں کی زد میں ہیں۔ کیا اس سے ملک میں کچھ سدھار آئے گا۔ انھوں نے جواب دیا کہ صرف جوڈیشل ایکٹیوزم سے تو کسی سدھار کی امید نہیں۔ ہمارے ملک کاکرپشن بہت گمبھیر ہے۔ انھوں نے مسکرا کر کہا کہ کم از کم اس معاملہ میں اسلامی شریعت کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تک کچھ لوگوں کو کڑی سزا نہ دی جائے حالات میں سدھار ہونے والا نہیں۔

واپسی میں جہاز کے اندر ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران میں نے بتایا کہ میرا پونہ کا سفر ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے ہوا تھا۔ انھوں نے کہا کہ آج کل ہر روز جگہ جگہ کانفرنسیں ہو رہی ہیں، کیا ان کا کوئی فائدہ بھی ہے۔ میں نے کہا کہ ہر چیز کا ایک براہ راست فائدہ ہوتا ہے اور ایک بالواسطہ فائدہ ۔ میں جانتا ہوں کہ ان کانفرنسوں کا براہ راست فائدہ نسبتاً کم ہے مگر ان کا بالواسطہ فائدہ بہت زیادہ ہے۔ اور اسی کے لیے میں ملک کے اندر اور ملک کے باہر ہونے والی کانفرنسوں میں شریک ان کانفرنسوں میں مختلف علاقوں اور مختلف ملکوں کے لوگ آتے ہیں۔ عام حالات میں اگر آپ ان سے ملنا چاہیں تو یہ ایک بے حد مشکل کام ہوگا۔ مگر کانفرنس میں یہ مختلف قسم کے لوگ ایک جگہ مل ان سے ملاقات اور انٹرایکشن کی صورت میں جو فائدہ ہوتا ہے وہ بے حد اہم ہے۔

کتابوں کے مطالعہ سے یا اور کسی ذریعہ سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح کے انٹریکشن سے انسانی تجربات میں اور عمومی طور پر انسانیت کو سمجھنے میں، بہت مدد ملتی ہے۔

اس کے علاوہ ان کانفرنسوں کے دوران تعمیری موضوعات کا جو چرچا ہوتا ہے اس سے ان کے حق میں ایک عمومی فضا بنتی ہے جو کسی اور طرح نہیں بن سکتی۔

یکم دسمبر ۱۹۹۶ء کی شام کو دہلی واپسی ہوئی تو مغرب بعد کا وقت ہو چکا تھا۔ میرا یہ سفر خلاف معمول کافی اس سے پہلے میں صرف ایک دن کے لیے پونہ آیا تھا۔ مگر اس بار پورے آٹھ دن پونہ میں گزرے۔ میں نے سوچا کہ یہی زندگی کا معاملہ بھی ہے۔ کچھ لوگ دنیا میں بہت تھوڑا وقت گزار کر مر جاتے ہیں۔ اور کچھ لوگ وہ ہیں جو زیادہ لمبی عمر پاتے ہیں۔ تاہم اس معاملہ میں اصل اہمیت مدت کی نہیں ہے۔ اصل اہمیت یہ ہے کہ آدمی نے کیا پایا اور کیا سیکھا۔ کبھی زندگی کا ایک لمحہ اتنا قیمتی ہوتا ہے کہ وہ صدیوں پر بھاری ہو جاتا اس کے مقابلہ میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان دنیا میں اگر سو سال تک جیتا ہے۔ مگر اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ جیسا آیا تھا ویساہی واپس چلا گیا۔

پونہ سے واپسی کے بعد جو خطوط ملے ان میں سے ایک خط میری لڑکی امِ السلام کا بھی تھا۔ نے پونہ کے پروگرام کے بارے میں اخبار میں پڑھا۔ اس کے بعد اس نے ایک خط لکھا جس کا ایک حصہ یہ تھا :

پونہ کے سمینار کا پروگرام مرہٹی اخبار میں آیا۔ اس میں شمع جلاتے وقت آپ کا فوٹو ہے سب مگر سب سے زیادہ کمزور اور دبلے آپ دکھائی دے رہے ہیں۔ مجھے بہت دکھ ہوا۔ بار بار دل میں یاد آتی رہی کہ سب لوگ کیسے صحت مند ہیں اور میرے ابا کی ایسی حالت۔ اللہ تعالیٰ سے خوب خوب دعا کی آپ کی صحت کے لیے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں۔

میری لڑکی کو مجھے دبلا دیکھ کر تعجب ہوا۔ مگر مجھے اس پر تعجب ہے کہ لوگ موٹے کیوں ہیں۔ لوگوں کو اس حقیقت کا احساس ہو جائے کہ ہر لمحہ وہ ایک ناقابل بیان قسم کے سنگین حادثہ کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں جس کا نام موت اور قیامت ہے تو لوگوں کا سکون ان سے چھن جائے ۔ قہقہے کی آوازیں بلند نہ فربہ جسم کے مناظر کہیں دکھائی نہ دیں۔

پونہ کے سفر سے واپسی کے بعد جناب عبد الصمد شیخ صاحب کا ایک خط موصول ہوا جو انھیں

کے الفاظ میں یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

آپ پونہ میں ۲۳ نومبر کی شام میں آئے۔ سب سے پہلے یعنی اتوار کے دن ۲۴ نومبر کو حاجی یونس میمن کے گھر پہلی مجلس عصر سے عشاء کی نماز تک ہوتی رہی۔ امت محمدی کے کردار کے بارے میں آپ نے جو نئی بات بتائی وہ یہ تھی کہ اس امت کے لیے دہرا اجر کیوں ہے؟ اس لیے کہ اس کی ذمہ داری بھی ڈبل ہے۔ خود عمل کرنا اور دوسروں تک پیغام پہنچانا۔

۲۸ نومبر کی رات میں بعد نماز عشاء تنظیم والدین اردو مدارس ضلع پونہ کی جانب سے ایک پروگرام ہوا۔ جس میں پہلے ڈاکٹر فریدہ خانم نے اور پھر آپ نے گفتگوفرمائی۔ جس میں مولانا سید نور صاحب نے تلاوت کی جو سورہ بقرہ کی آخری آیات تھیں جس پر آپ نے تقریر کی۔ اس میں اہم بات یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے خود ایک دعا مسلمانوں کو سکھائی کہ ہم پر پہلے جیسے لوگوں والا بوجھ نہ ڈال۔ آپ نے اس میں جو بات کہی وہ یہ تھی کہ سیکولرزم نے تاریخ میں پہلی بار اہل توحید کو یہ موقع دیا کہ بغیر کسی خطرے کے اپنے عقائد کی آزادانہ تبلیغ کریں۔ ۲۹ نومبر کی رات، عشاء بعد جناب عبدالغفار عبدالرحمن صاحب کے مکان پر جو نیوایراسوسائٹی گول ٹیکڑی پونہ میں ہے۔ جہاں پر تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے تھے تقریر کی۔ اس میں یہ بات بہت ہی نئی تھی کہ یہود انسان کی رستی پر رہیں گے (آل عمران (۱۱۲) تشریح میں یہ کہا گیا تھا کہ رستی سے مراد کسی کی گارنٹی پر رہیں گے جیسے امریکہ کی۔ اور آج مسلمان بھی اسی طرح کسی نہ کسی کی گارنٹی پر زندہ ہیں۔ یہ چند باتیں جو مجھے یاد تھیں لکھ رہا ہوں۔ ایک بات جو آپ نے خلیفہ کے تعلق سے امام ابن تیمیہ کے حوالہ سے کہی تھی کہ ابن تیمیہ کا فتویٰ ہے کہ خلیفہ اللہ کہنا نا جائز ہے وہ بہت اہم تھی (فتاوی ابن تیمیہ (۴۷۲/۴) ایک بات آپ نے اور کہی وہ یہ کہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے نبی کریم کی پیشین گوئی ہے کہ وہ لوگ جو یہاں دین توحید کے لیے کوشش کریں گے ان کا ثواب بہت زیادہ ہو گا۔ یہ بات بھی لوگوں کو بہت اہم

جنوری ۱۹۹۷ء کے الرسالہ میں صفحہ ۴۱ پر زکوٰۃ کا مسئلہ کے تحت مدوں کے بارے میں جو تفصیل پیش کی گئی ہے وہ پہلی بار شاید آپ نے ہی پیش کی ہے۔ خاص کر اسلام کی اشاعتی مہم کے بارے میں۔ (عبد الصمد شیخ، پونہ، ۲۴ دسمبر (۱۹۹۷)

Printed page