اصل کوتاہی
Al-Risala, June 1997, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۲ میں ارشاد ہوا ہے ــــ اے لوگو، اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تم کو پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ تاکہ تم دوزخ سے بچ جاؤ۔ جس نے زمین کو تمہارے لیے بچھونا بنایا اور آسمان کو چھت بنایا۔ اور اتارا آسمان سے پانی اور اس سے پیدا کیے پھل، تمہاری غذا کے لیے۔ پس تم کسی کو اللہ کے برابر نہ ٹھہراؤ حالانکہ تم جانتے ہو (البقرہ ۲۲-۲۱) انسان اور انسان کے سوا جو کچھ زمین و آسمان میں ہے سب کا پیدا کرنے والا صرف خدا ہے۔ اس نے پوری کائنات کو نہایت حکمت کے ساتھ قائم کیا ہے۔ وہ ہر آن ان کی نگہبانی کر رہا ہے۔ لیے انسان کے لیے صحیح رویہ صرف یہ ہے کہ وہ خدا کو بغیر کسی شرکت کے خالق، مالک اور رازق تسلیم کرلے، وہ اس کو اپنا سب کچھ بنالے۔
مگر خدا چونکہ نظر نہیں آتا اس لیے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی نظر آنے والی چیز کو اہم سمجھ کر اس کو خدائی مقام پر بٹھا لیتا ہے۔ وہ ایک مخلوق کو جزئی یا کلی طور پر خالق کے برابر ٹھہرالیتا ہے۔ کبھی اس کو خدا کا نام دے کر اور کبھی خدا کا نام دیے بغیر۔
یہی انسان کی اصل کوتاہی ہے۔ پیغمبر کی دعوت یہ ہوتی ہے کہ آدمی صرف ایک خدا کو بڑائی کا اس کے علاوہ جس جس کو اس نے خدائی عظمت کے مقام پر بٹھا رکھا ہے اس کو عظمت کے مقام سے اتار دے۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو اپنے آپ پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اس کو ہر لمحہ مختلف چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جس کے سہارے وہ زمین پر اپنا وجود قائم رکھ سکے۔ انسان کو ایک ایسی زمین چاہیے جس کے اندر کشش ہو تاکہ وہ اس کے اوپر ٹھہر سکے۔ انسان کو ایک ایسی فضا چاہیے جس میں ہر لمحہ اس کے لیے آکسیجن کی سپلائی کا انتظام ہو۔ اس کو ایک ایسا سورج چاہیے جو مسلسل اس کو روشنی اور حرارت پہنچا اس کی یہ ضرورت ہے کہ اس کی دنیا میں پانی کی نہایت وافر مقدار موجود ہو کیوں کہ پانی کے بغیر کسی قسم کی زندگی ممکن نہیں۔ اس کو مختلف قسم کی غذا درکار ہے جو اس کو مسلسل طاقت دیتی رہے۔ اس طرح کی بے شمار چیزیں خدا نے دنیا میں بھر پور مقدار میں فراہم کر دی ہیں۔ یہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ انسان صرف ایک خدا کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔